قومی و بین الاقوامی ایشوز

ستمبر زندہ ہے

میرے خیال میں جنگ تو ایک ہی تھی۔65کی جنگ ستمبر جو بھارت کی جارحیت کے خلاف پاکستان کے بہادر فوجی جوانوں اور افسروں نے لڑی تھی۔ اس کے علاوہ بھی جنگ ہوئی۔ چھوٹی چھوٹی لڑائیاں کیا ہوئیں۔ یہ سب 65 کی جنگ ستمبر کی ایکسٹینشن ہیں۔ اس جنگ میں ہمارے فوجی جوانوں اور افسروں نے جرأت اور جذبہ شہادت کے کارنامے دکھائے اس کی مثال نہیں ملتی۔ بہادری اور شوقِ شہادت ہمارے فوجی لوگوں میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ اس عظیم جنگ کے دوران ہم گورنمنٹ کالج لاہور میں تھے۔ اٹھتی ہوئی جوانی کی دہلیز پر کھڑے ہوئے ہم نے ایسے ایسے مناظر دیکھے کہ یہ بات باربار ثابت ہوتی رہی کہ ہمارے دشمن جس قدر زندگی سے پیار کرتے ہیں‘ ہم اس سے کہیں زیادہ شہادت سے پیار کرتے ہیں۔ تب ہم نوجوان میجر عزیز بھٹی شہید کو اپنا آئیڈیل سمجھتے تھے۔اب پتہ چلا کہ وہ ہمارے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ جنگِ دسمبر1971 کے ایک نشانِ حیدر میجر شبیر شریف جنرل راحیل شریف کے بھائی ہیں۔ دونوں اور دوسرے فوجی جوانوں اور فوجی افسروں نے دادِ شجاعت دیتے ہوئے شہادت پائی‘ دنیا بھر میں پاکستانی فوجی افسروں کی شہادتیں فوجی جوانوں سے کم نہیں ہیں۔ میجر شبیر شریف کے ایک دوست تھے انہوں نے خود کشی کرلی۔ حرام

موت کے تصور سے ہی میجر صاحب کانپ اٹھے۔ انہوں نے علماء سے بات کی کہ اس کا کوئی حل ہے جو آخرت میں اس کی معافی کا سبب بن جائے۔ انہیں بتایا گیا کہ اگر اس قبر کے ساتھ کسی شہید کی قبر ہو تو پھر بخشش ہو سکتی ہے۔ میجرشبیر شریف نے وصیت کردی کہ اگر میں شہید ہوجاؤں تو میری قبر میرے دوست کی قبرکے ساتھ بنائے جائے۔ آج بھی یہ قبر اپنے دوست کی قبر کے ساتھ موجود ہے جہاں ہزاروں لوگ فاتحہ خوانی اور دعا کرتے ہیں۔ یہ بات ثابت ہوئی کہ میجر شبیر شریف کو دل میں پتہ تھا کہ میں شہید کیا جاؤں گا۔ انہوں نے بہادری کے کئی ریکارڈ قائم کئے اور سینکڑوں دشمنوں کو واصل جہنم کرنے کے بعد زخموں سے چور ہو کر شہید ہوئے۔ اس نوجوان کے دل میں وطن سے لازوال محبت تھی اور جذبۂ شہادت کی بے مثال اُمنگ کے علاوہ ایک بہترین انسان کے طورپر انہوں نے انسانوں سے محبت کو اپنا وتیرہ بنایا۔ دوستوں کی زندگی کے بعد بھی دوستی نبھانے کا ہنر آزمایا اور سرخرو ہوئے۔ جنرل راحیل شریف نشانِ حیدر پانے والے شہیدوں کے گھر کے چشم و چراغ ہیں۔ وہ اپنے وطن‘ اپنے ادارے اور اپنی فیملی کے وقار کا پورا احساس رکھتے ہیں۔ وہ اس وقار کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔ آپریشن ضربِ عضب اس کی زندہ مثال ہے۔ دہشت گردوں کا تقریباً قلع قمع کردیا گیا ہے۔ وطن

میں کہیں بھی دہشت گردی کی قابلِ ذکر کارروائی نہیں ہو رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے۔ سیلاب کی تباہ کاریوں میں امدادی سرگرمیوں کے لئے بھی سب سے بڑا کردار فوجی جوانوں کا ہے۔ وہی لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچا رہے ہیں۔ جن لوگوں کے ذمے محروم اور مظلوم لوگوں کے لئے کوئی نظام وضع کرنا تھا کہ مشکلات ہمارے ملک سے ختم ہوں‘ وہ کہاں ہیں؟ بھارت کی طرف سے اطلاع کے بغیر پانی چھوڑا گیا ہے۔ یہ بھی جنگ کی طرح کی کارروائی ہے۔ وطن میں ہر محاذ پر پاک فوج کے جوان اور افسر الرٹ ہیں اور ہم وطنوں کو مصیبت میں ریلیف دینے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ آج بھی جنگِ ستمبر کا جذبہ زندہ ہے۔ فضاؤں میں وہی ترانے گونجتے ہیں جو1965 میں گونجتے تھے جس سے دل تڑپتے تھے۔ دل آج بھی تڑپ رہے ہیں۔ وطن پر کوئی آزمائش کا وقت آیا تو پوری قوم اور افواجِ پاکستان یکجان ہو کر مقابلے کے لئے میدان میں آگئے۔ یومِ دفاع منانے میں پاک فوج کے جوان اور افسر آگے آگے ہوتے ہیں۔ شہیدوں کی قبروں پر میلہ سا لگ جاتا ہے۔ چراغ جلتے ہیں۔ دلوں میں بھی چراغ جلتے ہیں۔ یہ وہی روشنی ہے جو1965 کی جنگ ستمبر کی یادوں کے راستے سے اب تک آرہی ہے۔یہ یومِ دفاع جس جذبے اور ولولے سے افواجِ پاکستان مناتی ہے حکومت سمیت ملک کے سبھی طبقات کو بھی اس میں پوری طرح شریک ہونا چاہئے۔ دفاع میں فلاح بھی ہے۔ ہم فلاحی امور میں سرگرم ہو سکیں گے‘ ہمارا دفاع مضبوط ہوگا۔ ہمارے آقا و مولا رحمت للعالمین‘ محسنِ انسانیت‘ رسولِ کریم‘ سپہ سالارِاعظم‘ حضرت محمدﷺ نے بھی تمام جنگیں اپنے دفاع میں لڑی تھیں۔ حتیٰ کہ میں فتح مکہ کو بھی ایک دفاعی جنگ سمجھتا ہوں۔ دنیا کی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ہے کہ خون کا ایک قطرہ زمیں پر نہ گرا ہو اور فتح ہوگئی ہو۔ یہ بات فتح سے بھی بڑی  ہے کہ دشمنوں نے یہ سوچ لیا‘ ہم حق پر نہیں ہیں‘ وہ سچے ہیں اور ہماری بہتری اس میں ہے کہ ہم رسولِ کریمﷺ کے آگے اپنا سر جھکا دیں۔ انہوں نے ہتھیار ڈالنے کا موقع بھی اپنے آپ کو نہ دیا۔ انہوں نے ہتھیار سنبھالے ہی نہ تھے۔ لڑنے سے پہلے لڑائی میں حضورﷺ کی فتح کو تسلیم کرلیا۔ وطن کے دشمن سے لڑنا سب سے بڑا جہاد ہے اور اگر دشمن بُت پرست ہے تو اور بھی بڑا جہاد ہے۔ بھارت ہمارا دشمن ہے۔ ہماری ساری جنگیں بھارت سے ہوئی ہیں۔ وہ دشمن ہے اور دشمن کو دوست بنانے کی خواہش بہت بڑی ہے۔ ہم اس خواہش کا احترام کرتے ہیں مگر دشمن سے غافل نہیں رہنا چاہئے۔ہماری افواج تمام صورتِ پر کڑی نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ اب اچانک پانی چھوڑ کر اُس سیلاب کو ہمارے لئے سیلِ آب بنانے کی کوشش اعلانِ جنگ نہیں تو کیا ہے؟ ان کا جب جی چاہتا ہے پانی بند کردیتے ہیں جب جی چاہتا ہے پانی چھوڑ دیتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں ہمارے ہاں تباہی کے منظر بکھرجاتے ہیں۔ دریا ہمارے‘ پانی ہمارا مگر اُن کا کنٹرول بھارت کے پاس ہے۔ حضرت قائدِاعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ کہا تھا۔ تو یہ اُن کے گہرے وژن اور آفاقی دانائی کا ثبوت ہے۔ اس کے بغیر ہماری زندگی پر کئی سوالیہ نشان ہیں۔ مسٹر گاندھی کے مرنے پر صحافیوں نے کچھ کہنے کے لئے اصرار کیا تو قائداعظم نے کہا کہ ایک ہندو لیڈر قتل ہوگیا۔ ایک چینی لیڈر سے پوچھا گیا کہ آپ کی ترقی کا راز کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اپنے دشمن کویاد رکھنا‘ جاپان دشمنی میں چینی قوم ایک کمپیٹیشن میں آکر محنت کرکے اس مقام پر پہنچی ہے۔ ہم دوست دشمن کی پہچان میں غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ دشمن کبھی دوست نہیں ہوسکتا جب تک اس کا دل نہ بدل جائے۔ ہمارے حالات نہیں بدل سکتے جب تک ہمارے خیالات نہیں بدلتے۔ میرا دادا اپنے علم و فضل اور کردار و عمل کی وجہ سے علاقے کے سردار تھے۔ انہوں نے ایک دفعہ مجھے کہا کہ دوست کی قدر کرو اور دشمن سے غافل نہ رہو۔ پاک فوج دنیا کی بہترین فوجوں میں سے ہے۔ کوئی دشمن بلکہ ایک ہی دشمن ہماری طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ ساری دنیا ہماری افواج کی جرأتوں اور شہادتوں سے واقف ہے۔ دنیا کی سب قوتیں اور ہمسایہ ریاستیں جانتی ہیں کہ انہوں نے کوئی حرکت کی تو اُں کا مقابلہ اس قوم سے ہوگا جو جاں نثاری‘ جانفشانی‘ جہاں داری‘ جہاں بانی میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ جو موت کو زندگی سے افضل اور برتر سمجھتی ہے۔ درد مندی ‘ جرأت مندی کے علاوہ ہنرمندی میں بھی کمال رکھتی ہے۔ ہماری خفیہ ایجنسیاں بھی بہت اہل ہیں۔ ہمارے سپاہی اہل ہیں اور اہلِ دل بھی ہیں۔ ایک عالمی سروے کے مطابق دنیا بھر میں ہماری آئی ایس آئی کا شمار بہترین خفیہ ایجنسیوں میں ہوتا ہے۔ پاک فوج اور آئی ایس آئی اس لئے بنائی گئی کہ یہ ملک کی سالمیت کو یقینی بنائیں۔ پاکستان اور اس کی قوم نے عزت ووقار کے ساتھ جینا ہے۔ اﷲ اور اس کے رسولؐ کے نام پر بننے والے اس ملک پر افواجِ پاکستان کی بہترین قربانیوں کی بدولت کوئی آنچ نہیں آسکتی۔ میں پاکستان کو خطۂ عشقِ محمدﷺ کہتا ہوں۔ سقوطِ مشرقی پاکستان ایک عالمی سازش تھی یہ جنگ نہ تھی۔ درمیان میں ایک ہزار میل کا فاصلہ تھا جو دشمن کے علاقے پر مشتمل تھا۔ کوئی کُمک‘ کوئی فوجی امداد اُن کو نہ پہنچ سکتی تھی۔ بھارت کو روس اور امریکہ دونوں کی حمایت حاصل تھی۔ اندرونی خلفشار نے ہمیں اس مقام تک پہنچایا۔ پھر بھی اگر بھارتی افواج ڈھاکہ میں داخل نہ ہوتیں تو کبھی بھی بنگلہ دیش نہ بنتا۔ اب ہم نے ایٹمی دھماکے خدانخواستہ چین اور سعودی عرب کے خلاف تو نہ کئے تھے۔ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں کئے گئے تھے۔ اب سارے دشمن ہمارے اس ایٹم بم کے لئے بے چین ہیں۔ لیکن جذبو ں سے سرشار یہ قوم اپنی افواج کے ساتھ مل کر اپنے اثاثہ جات کی حفاظت کرنا بخوبی جانتی ہے۔ قوم آج کے دور میں درپیش چیلنجوں سے بھی نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور وہ دِن دور نہیں جب پاکستان ان چیلنجوں سے نبرد آزما ہوتے ہوئے ایک مضبوط اور توانا ریاست کے طور پر اُبھرے گا۔

یہ تحریر 23مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP