اداریہ

ستر واں یومِ آزادی - اداریہ

وطنِ عزیز ’پاکستان‘ کا قیام اَنمٹ کاوشوں اور ہزارہا قربانیوں کے بعد عمل میں آیا۔ برصغیر کے مسلمانوں کے لئے علٰیحدہ مملکت کا قیام شاعر مشرق ‘ علامہ محمداقبالؒ ‘ کا خواب عظیم رہنما ‘قائدِاعظم محمدعلی جناح ‘کی قیادت میں پایۂ تکمیل تک پہنچا۔14 اگست1947 کو برصغیر کے مسلمان اپنے لئے ایک الگ مملکت کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوتا دیکھ رہے تھے۔ قیامِ پاکستان در حقیقت ایک نظریے کی جیت تھی۔ آج بھی پاکستان اُسی نظریے سے مضبوطی سے جُڑا ہوا ہے۔ تکمیلِ پاکستان کی جانب کا سفر بھی اسی نظریے کے ساتھ جُڑے رہنے سے مشروط ہے۔1965 میں جب دشمن نے نوآموز پاکستان کو عددی اعتبار سے کمزور جانتے ہوئے حملہ کردیا تو پاکستان کی غیور عوام اور بہادر افواج نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا اور کھیم کرن اور مونا باؤ سمیت دشمن کے متعدد علاقوں پر قبضہ کرلیا۔ جس سے بین الاقوامی سطح پر بھی ایک پیغام گیا کہ پاکستان کے بیٹے اپنی سرحدوں کی حفاظت اپنی جانوں سے بڑھ کر عزیز رکھتے ہیں اور دشمن کو بھی سبق حاصل ہوا کہ اس قوم کے خلاف کوئی جارحیت کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتی۔ تب سے دشمن پسِ پردہ رہتے ہوئے پاکستان کے خلاف گھناؤنی سازشوں کے جال بچھا کر اپنی خفّت مٹانے کی سعی کررہا ہے۔ جس کا ہماری قوم اور اداروں کو بخوبی ادراک ہے اور وہ بھی ان سازشوں کا قلع قمع کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔


2016میں منایا جانے والا 70 واں یومِ آزادی بھی قوم ایسے ہی حالات میں منا رہی ہے جب ہماری افواجِ پاکستان اورسکیورٹی سے متعلق دیگر ادارے ملک کو گزشتہ 14 برس سے درپیش دہشت گردی کی جنگ میں قابلِ فخر کامیابیاں سمیٹ چکے ہیں۔ تقریباً دو سال قبل شروع کیا گیاآپریشن ضربِ عضب الحمدﷲ کامیابی سے ہمکنار ہوا اور یوں یہ آپریشن قوم کے لئے ایک نئی اُمید اور نئی صبح ثابت ہوا ہے۔ آج الحمدﷲ پاکستان کی مغربی سرحدوں سمیت کہیں بھی کوئی نو گو ایریا نہیں۔ اسلحہ اور بارودی فیکٹریاں ختم ہوگئی ہیں۔ وزیرستان سمیت دیگر علاقے دہشت گردوں سے خالی کروا لئے گئے ہیں۔ بہر کیف عام لوگوں کا روپ دھارے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن اور ان کی پکڑ دھکڑ جاری ہے۔ ضربِ عضب آپریشن کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کی اپنے اپنے گھروں میں واپسی تکمیل کے مراحل میں ہے۔ اپنے گھروں کو واپس جانے والوں کے لئے ان کے علاقوں میں سڑکیں‘ سکول‘ ہسپتال‘ مارکیٹیں تعمیر کروائی گئیں ہیں تاکہ وہ لوگ واپس جائیں تو وہ اپنے کاروبار کریں اور ایک اچھی زندگی گزاریں۔ علامہ اقبالؒ اور قائدِاعظمؒ کا خواب بھی یہی تھا وہ ایسا پاکستان چاہتے تھے جہاں لوگ پُرامن انداز میں اپنی زندگیاں بسرکرتے ہوئے اپنی اپنی سطح پر ملک و قوم کی ترقی میں اپنا ہاتھ بٹائیں نہ کہ دشمنوں کے ہاتھوں استعمال ہو کر اپنے ہی لوگوں اور قومی املاک کی تباہی کا باعث بنیں۔


بانئ پاکستان قائدِاعظم محمدعلی جناح نے21فروری1948 میں ملیر کینٹ میں پاک افواج کے افسروں اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’ہمارے لئے امن کے فروغ اور اقوامِ متحدہ کے نصب العین کی خاطر جدوجہد کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ہم اپنے دفاع کو مضبوط بنا لیں‘‘ اتنا مضبوط کہ کوئی طاقت ہمارے خلاف جارحانہ ارادے رکھنے کی جرأت ہی نہ کرسکے۔ ہم نے پاکستان کی آزادی کی جنگ جیت لی ہے۔ لیکن آزادی کی حفاظت اور ملک کو زیادہ ٹھوس اور مستحکم بنیادوں پر تعمیر کرنے کی دشوار جنگ ابھی جاری ہے اور اگر ہمیں ایک عظیم قوم بن کر زندہ رہنا ہے تو یہ جنگ اُس وقت تک لڑنی پڑے گی کہ ہم فتح سے ہمکنار ہو جائیں۔ قدرت کا اٹل قانون ہے کہ ’وہی زندہ رہے گا جو زندہ رہنے کا سب سے زیادہ اہل ہے۔‘ ہمیں بھی اپنے آپ کو اپنی ’نویافتہ‘ آزادی کا اہل ثابت کرنا ہے۔‘‘


بلاشبہ افواجِ پاکستان قائدِاعظم کے ان فرمودات کی منہ بولتی تصویر ہیں‘ جو الحمدﷲگزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے چیلنجز سے نبرد آزما ہی نہیں بلکہ اُن پر کافی حد تک قابو پانے میں کامیاب ہو چکی ہیں۔ آج ملک کے طول و عرض میں جہاں جہاں خلفشار تھا‘ وہاں لوگ امن اور وطنیت کی بات کررہے ہیں اور پاکستان کو عظیم تر بنانے میں اپنا اپناکردار ادا کررہے ہیں۔
الحمدﷲ ! آج کا پاکستان ایٹمی توانائی کا حامل ‘دفاعی اعتبار سے ایک مضبوط ملک ہے جس کا مستقبل شاندار اورتابناک ہے۔

پاکستان زندہ باد
افواجِ پاکستان پائندہ باد

یہ تحریر 89مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP