قومی و بین الاقوامی ایشوز

سانحہ صفورا گوٹھ اور ہمارے دشمن

پاکستان غیر ملکی سربراہان کے دوروں کے لئے محفوظ نہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں روزانہ درجنوں لوگ شہید ہوجاتے ہیں۔پاکستان دہشت گردوں کو پناہ دے رہا ہے۔ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں کر پا رہا۔ پاکستان کو مزید کچھ کرنا ہوگا۔ ہم پاکستان کو اس کے حصے کا سپورٹ فنڈ نہیں دے سکتے۔ پاکستان کو کشمیر میں دخل اندازی بند کرنی چاہئے۔ بلوچستان آزاد ہونا چاہئے۔‘‘ یہ وہ الفاظ ہیں جو میری عمر کے لڑکے سنتے ہوئے جوانی کی دہلیز تک پہنچے ہیں، ہمارے ہزاروں لوگ مارے گئے‘ ہماری سپاہ ایک عشرے سے زائد عرصے سے حالتِ جنگ میں ہیں اور اس پر بھارت نامی ’’خیر خواہ‘‘ پڑوسی کی عنایتیں بھی خوب بھگت رہے ہیں۔ کہنے کو تو یہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ ہے پر حقیقتاً یہ کبھی عالمی تھی ہی نہیں۔ اگر اس کے ثمرات دیکھیں تو مثبت باتیں ضرور عالمی ہوسکتی ہیں‘ مگر اس کے تمام تر نقصانات پاکستان نے اپنی ذات پر ہی سہے ہیں۔ ہمارے کھیل ہم سے دور کر دیئے گئے۔ ہماری معیشت روند دی گئی۔ نئی سرمایہ کاری آنا تو دُور کی بات‘ جو سرمایا کاری ملک میں ہورہی تھی وہ بھی نہ رہی۔ بجائے اس کے کہ اس مشکل وقت میں ساری دنیا ساتھ کھڑی ہوتی، ہم سے اظہار یکجہتی کرتی، پاکستانی قوم و سپاہ کی قربانیوں کو سراہتی، الٹا امن کے علمبرداروں نے پاکستان کو ہی قصور وار ٹھہرانا شروع کردیا ۔

بھارت میں ممبئی حملوں کے دوران جب پورا شہر مٹھی بھر لوگوں نے یرغمال بنا لیا تو انگلینڈ کرکٹ ٹیم دورہ ملتوی کر کے چلی گئی تھی، کچھ دن بعد واپس آئی اور کہا ’’ ہم مشکل وقت میں بھارت کے ساتھ کھڑے ہیں ‘‘۔ بھارت نے کشمیر میں بے گناہوں کو مارنے اور پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے سوا ایسا کو ن سا کام کیا ہے کہ ان سے اظہار یکجہتی‘ لیکن ’’فرنٹ لائن اتحادی‘‘ کے ساتھ ہمدردی کے دو بول بولتے ہوئے عالمی دنیا کی زبان لڑکھڑا جاتی ہے۔ اس پر پھر بھارتی وزیر دفاع نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردوں کو سپورٹ کرے گا۔ بھارتی حکام کی یہ جھنجھلاہٹ محض اس وجہ سے نہیں کہ پاک چین اقتصادی راہداری کا معاہدہ طے پا گیا ہے بلکہ اس کی ایک اور بڑی وجہ پاکستان کے آرمی چیف کا دورہ افغانستان اور پھر پاکستانی حکومت اور افغان حکومت کے درمیان بڑھتا تعاون بھی ہے اور رہی سہی کسر پاکستان اور افغان انٹیلی جنس ایجنسیز کے درمیان تعاون کے حالیہ معاہدے نے نکال دی‘ جس کے بعد بھارت کو افغانستان میں اپنے گندے کردار کی موت دکھائی دے رہی ہے۔ بھارت کو اپنے وہ ارادے خاک میں ملتے دکھائی دے رہے ہیں‘ جس کی رو سے وہ پاکستان کو مغربی سرحد پر اُلجھائے رکھنا چاہ رہا تھا۔ پاکستان میں دراندازی کا بیان دے کر بھارت نامی بلی نے تھیلے سے منہ باہر نکالا ہے، ورنہ ہم تو شروع سے ہی بھارت کی کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرایئن اور فورتھ جنریشن وار کے تحت پاکستان کو ناکام ریاست قرار دینے کے پاکستان دشمن ممالک کے عزائم سے بخوبی واقف ہیں۔ بھارتی وزیر دفاع کا یہ بیان بھارتی سرکار کے پیٹ میں اُٹھتے مروڑ کا بخوبی پتہ دیتا ہے۔ کیا عالمی دنیا بھارت کے اس شرانگیز کردار کا کوئی نوٹس لے گی ؟ جواب ندارد۔

کیا ہی عجیب بات ہے کہ جب بھی پاکستانی سکیورٹی ادارے اپنے ملک میں جاری دہشت گردی کی لہر کا مؤجب غیر ملکی بالخصوص بھارتی بدنام زمانہ ایجنسی’’را‘‘ کو ٹھہراتے ہیں تو دہشت گردی کی یہ لہر مزید تیز ہوجاتی ہے۔کبھی بلوچستان میں قتل عام شروع ہوجاتا ، کبھی گلگت بلتستان میں فرقہ وارانہ لڑائی تو کبھی خیبر پختون خوا میں طالبان کی دہشت گردی معصوم بچوں کے سینوں میں گولیاں اتارنے لگتی ہے اور کچھ نہیں تو کراچی میں لسانی، سیاسی و مذہبی کالعدم جماعتوں میں سفاکیت کی نئی روح پھونک دی جاتی ہے۔۔

صفورا گوٹھ میں معصوم اسماعیلی کمیونٹی پر ہونے والا دہشت گردی کا واقعہ بھلا کون زندہ ضمیر بھول سکتا ہے۔ یہ واقعہ محض اسماعیلی کمیونٹی پر ہونے والا ایک حملہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے بھی ایک بڑی وجہ پوشیدہ ہے۔ اگر ہم اس ظلم کے بعد’’بالی وڈ‘‘ طرز کے مضحکہ خیز پمفلٹ کو دیکھیں تو بس یہی دشمنوں کی بوکھلاہٹ واضح کرنے کے لئے کافی ہے۔ آپ ملاحظہ کریں کہ صفورا گوٹھ واقعہ کی ذمے داری جند اللہ نے قبول کی لیکن پمفلٹ دا عش کا ملتا ہے۔ اسماعیلوں پر حملوں کی دھمکیاں طالبان دیتے رہے ہیں مگر پمفلٹ میں ایس ایس پی راؤ انوار کو برا بھلا کہا جاتا ہے، جن کا قصور غالباً غیر ملکی ایجنٹس کو منظر عام پر لانا تھا۔ ایک طرف تمام گدھ کارروائی کو اپنے کھاتے میں لکھوانے کی سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہیں تو دوسرف جانب باوثوق ذرائع کے مطابق سکیورٹی اداروں کو صفورا گوٹھ واقعے میں ’’را‘‘ کے ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت بھی ہاتھ لگ گئے ہیں۔ گرفتار ہونے والے چاروں ملزمان کا تعلق القاعدہ سے بتایا جارہا ہے۔ اب القاعدہ کا اس واقعہ میں کردار دیکھ کر مجھے بدنام زمانہ عالمی دہشت گرد کارلوس کا وہ بیان یاد آرہا ہے کہ جس میں اس نے کہا تھا

مجھ سے القاعدہ کی مرکزی قیادت نے رابطہ کیا تھا اور ساتھ مل کر کام کرنے کی پیش کش کی جس کی رو سے جن علاقوں میں میرا اثر ورسوخ تھا‘ وہاں میں القاعدہ کو کاروائی کرنے میں مدد دیتا اور جہاں القاعدہ طاقت رکھتی تھی وہاں میری منشیات کے فروخت کے ساتھ میرے مخالفین کو کچلنے میں القاعدہ میرا ساتھ دیتی۔

آپ کارلوس کے اس بیان کو دیکھیں اس کے بعد شام میں جبہت النصرہ اور القاعدہ کا اتحاد ملاحظہ کریں، عراق میں داعش کے طلوع ہونے میں القاعدہ کا کردار اور پاکستانی طالبان کے ساتھ القاعدہ کے اتحاد پر نظریں دوڑائیں، یا پھر صومالیہ کے بوکو حرام کے ساتھ القاعدہ کی محبت دیکھ لیں۔ جہاں جہاں مسلم ممالک میں شورش نظر آئے گی وہیں آپ کو القاعدہ کسی مقامی انتہاپسند کی پشت پناہی کرتی بھی دکھائی دے گی۔

دشمن کا دشمن دوست کے مصداق پاکستان میں بھی القاعدہ اور’’را‘‘ کا گٹھ جوڑ بہت مضبوط نظر آتا ہے۔ کیوں کہ اگر القاعدہ بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کے ساتھ اتحاد کرتی ہے تو جہاں ایک جانب ’’را‘‘ کو خود کش حملہ آوروں کی کھیپ فراہم ہوجاتی ہے تو دوسری جانب القاعدہ کو پاکستان بالخصوص کراچی کے شہری علاقوں میں محفوظ پناہ گاہیں اور پڑھے لکھے نوجوانوں کی ذہن سازی کرنے کا موقع بھی حاصل ہو جاتا ہے۔ لگے ہاتھوں القاعدہ بھی ان میڈیا کے مارے نوجوانوں کے ساتھ وہی کھیل کھیلتی ہے جو وزیرستان میں جنت اور حوروں کی جعلی دنیا سجا کر قبائلی بچوں کو دہشت گردی پر آمادہ کرنے کے لئے پاکستانی طالبان عرصہ دراز سے کھیلتے چلے آرہے ہیں۔

کچھ مبصرین کے مطابق القاعدہ اب کوئی فورس نہیں رہی ہے یہ ایک مائنڈ سیٹ کا نام بن کر رہ گیا ہے۔ ایسا مائنڈ سیٹ جس میں لوگوں کو اپنی ریاست کے خلاف لڑنا سکھایا جاتا ہے۔ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ انہیں استعمال کرنے والا کون ہوتا ہے۔ لہٰذا اصل کامیابی ان دماغی مفلوج لوگوں کی گرفتاری یا ہلاکت نہیں بلکہ ان کے پیچھے کام کرنے والے مکروہ چہروں کی تلاش ہے جو پاکستانی سکیورٹی کے ادارے کسی حد تک مکمل کر چکے ہیں ۔

ویسے بھی اب بدنام زمانہ ایجنسی کو اتنے بہروپ بدلنے کی ضرورت نہیں۔ پوری پاکستانی قوم جانتی ہے کہ’’را‘‘ والے خیبر پختونخوا میں طالبان ، بلوچستان میں بی ایل اے ، پنجاب میں کچھ این جی اوز اور سندھ میں چند لسانی اور سیاسی جماعتوں کے نام سے کام کر رہے ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردوں کی زبان اور رنگ تو الگ ہوسکتے ہیں پر ان سب کی دم کے نیچے سے ’’را‘‘ ہی برآمد ہوتی آئی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ القاعدہ سے اتحاد کرنے کے بعد ان کی دہشت گردی کی باسی دال کو تڑکا لگا دیا گیا ہے۔

صفورا گوٹھ والے واقعہ سے ملک دشمنوں نے بہت سے مقاصد حاصل کرنے تھے۔ سب سے پہلا مقصد اسے فرقہ وارانہ رنگ دینا جبکہ دیگر مقاصد میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کو روکنا اور ٹھیک اسی روز پاکستان چین اکنامک کو ریڈور پر ہونے والی آل پارٹی کانفرنس کو پس پردہ ڈال کر اسے متنازعہ بنائے رکھنا بھی شامل تھا۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت ’’عالمی طاقتیں‘‘ کیوں سوئی ہوئی ہیں ؟ کیا ’’را‘‘ کے ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھائی جائے گی؟ کیا دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دینے والے ملک کے اندر دہشت گردی کرنے والی تنظیم ’’عالمی دہشت گرد‘‘ نہیں ٹھہرائی جائے گی؟ جواب ندارد ہے۔

بیان کئے گئے حقائق کے پیش نظر محسوس ہو رہا ہے کہ شاید خطے میں بھارت اپنی اجاراداری اور ’’اکھنڈ بھارت‘‘ کا برسوں پرانہ خواب پورا کرنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگانے پر تل چکا ہے۔ بھارت کی تاریخ گواہ ہے کہ اسے پاکستان دنیا کے نقشے پر منظور ہی نہیں۔ جبکہ بھارت کی بولی بولنے والے کچھ آستین کے سانپ پاکستان میں رہ کر پاکستانیوں کو یہ باور کراتے پھرتے ہیں کہ بھارت ہی تمہارا واحد دوست ہے اور بھارت اسی ’’دوستی‘‘ کی آڑ میں ہماری صفوں میں غدار تراشتا رہتا ہے۔

اگر ہم گوادر۔ کاشغر روٹ پر نظر دوڑائیں تو وہ راستہ جو اس راہداری کے لئے پاکستان کا گیٹ وے بنے گا‘ وہاں اسماعیلی کمیونٹی کی اکثریت ہے۔کچھ عرصہ قبل بھی طالبان کی جانب سے گلگت میں رہنے والے اسماعیلی کمیونٹی کے افراد کو دھمکیاں دی گئی تھیں اور اب صفورا گوٹھ واقعہ میں دوبارہ انہیں نشانہ بنا کر اسماعیلی کمیونٹی کو اس راہداری سے نالاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ واضح رہے کہ اسماعیلی کمیونٹی دنیا کے بیشتر ممالک میں سماجی خدمات سرانجام دے رہی ہے۔ اگر یہ کمیونٹی اس راہداری کے خلاف احتجاج کرتی تو اسے پوری دنیا میں توجہ حاصل ہوتی اور پاکستان کی تقدیر بدل دینے والی یہ راہداری ایک متنازعہ صورت اختیار کرلیتی ۔ مگر جس طرح اس مشکل وقت میں اسماعیلی کمیونٹی نے پاکستانی اداروں پر بھروسہ کیا وہ یقیناً تاریخ میں سنہرے الفاظ سے لکھا جائے گا۔

اس وقت پاکستان میں دہشت گردی تیز ہونے کی سب سے بڑی وجہ اس سرمایہ کاری کو روکنا بھی ہے جو پاک چین اقتصادی راہداری کی صورت میں شروع کی جانے والی ہے۔حالیہ دنوں چینی صدر کے دورہ پاکستان میں دونوں ممالک کے درمیان انفراسٹرکچر، توانائی کے منصوبوں اور گوادر پورٹ کے حوالے سے 51 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے ہیں، جن کی مالیّت 46 ارب ڈالر کے قریب ہے ۔ انتہائی اہمیّت کے حامل ان معاہدوں کو عملی شکل دینے کی صورت میں نہ صرف دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات میں گہرائی آئے گی بلکہ اس کے خطے پر بھی دور رس اثرات مرتّب ہوں گے۔ گزشتہ دنوں ہانگ کانگ میں موجود اپنے ایک دیرینہ دوست سے جب پاک چین اقتصادی راہداری پر بات ہوئی تو اس کا کہنا تھا کہ اس راہداری سے ہانگ کانگ اور میکاؤ جیسے ممالک بھی فوری فائدہ اُٹھائیں گے جس کے لئے ایک فاسٹ ٹریک جو مکمل ہونے کو ہے‘ جو ہانگ کانگ سے شینزن اور شینزن سے گوہانزو کو جوڑے گا او ر گوہانزو سے بیجنگ پہلے فاسٹ ٹریک تکمیل ہو چکا ہے اور بیجنگ سے شنگھائی۔ واضح رہے کہ یہ اسی گوادر پورٹ سے نکلنے والی راہداری ہے جس پر کام رکوانے کی سب سے پہلی کوشش پاکستانی طالبان کے پہلے امیر عبداللہ محسود نے کی تھی یعنی دشمن شروع سے ہی پاکستان کے مستقبل میں گوادر پورٹ کی اہمیت سے واقف تھا۔ اگر ہم گوادر ۔کاشغر روٹ پر نظر دوڑائیں تو وہ راستہ جو اس راہداری کے لئے پاکستان کا گیٹ وے بنے گا‘ وہاں اسماعیلی کمیونٹی کی اکثریت ہے۔کچھ عرصہ قبل بھی طالبان کی جانب سے گلگت میں رہنے والے اسماعیلی کمیونٹی کے افراد کو دھمکیاں دی گئی تھیں اور اب صفورا گوٹھ واقعہ میں دوبارہ انہیں نشانہ بنا کر اسماعیلی کمیونٹی کو اس راہداری سے نالاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ اسماعیلی کمیونٹی دنیا کے بیشتر ممالک میں سماجی خدمات سرانجام دے رہی ہے۔ اگر یہ کمیونٹی اس راہداری کے خلاف احتجاج کرتی تو اسے پوری دنیا میں توجہ حاصل ہوتی اور پاکستان کی تقدیر بدل دینے والی یہ راہداری ایک متنازعہ صورت اختیار کرلیتی ۔ مگر جس طرح اس مشکل وقت میں اسماعیلی کمیونٹی نے پاکستانی اداروں پر بھروسہ کیا وہ یقیناً تاریخ میں سنہرے الفاظ سے لکھا جائے گا۔

دشمن کی نیندحرام ہونے کی ایک بڑی وجہ عالمی میڈیا میں چین کے صدر کا کامیاب دورہ پاکستان کا چرچہ بھی ہے۔ ایک طرف معروف امریکی نشریاتی ادارے ’’سی این این‘‘ نے چینی صدر کے اس دورے کو گیم چینجر قرار دیا ہے، تو برطانوی نشریاتی ادارے ’’بی بی سی‘‘ نے اس دورے اور اس دورے کے دوران ہونے والے معاہدوں کو نئی سپر ہائی وے کا نام دے دیا ہے۔ جبکہ بھارتی میڈیا نے اسے پاکستانی سرزمین پر ’’ ڈریگن کی چال‘‘ قرار دے کر اپنے جلے ہوئے دل کی بھڑاس نکالی ہے ۔ اور یہ دل کی جلن صرف بھارتی میڈیا تک ہی محدود نہیں بلکہ ایک عرصے تک پاکستان کو ناکام ریاست قرار دینے کے لئے سازشیں کرنے والی بھارتی حکومت کے لئے بھی اقتصادی راہداری کی کامیابی شدید پریشانی کا باعث ہے، جس کو روکنے کے لئے ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت نے اپنی بدنام زمانہ ایجنسی کو 220 ملین ڈالر تک جاری کر دیئے ہیں۔ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردوں کی کارروائیاں اسی 220 ملین ڈالر کی مرہون منت ہیں۔ بھارت کا گوادر پورٹ کو ناکام قرار دیئے جانے کا خواب ایک حد تک پورا ہونے کے قریب ہی تھا کہ عسکری قیادت کے ضرب عضب آپریشن نے اکثر مہروں کا تیاپانچہ کر کے رکھ دیا اور وہیں دوسری جانب رینجرز کے کراچی آپریشن نے ’’را‘‘ کا دوسرا مضبوط ہاتھ بھی بے نقاب کر کے رکھ دیا۔ جس کے بعد بھارتی خفیہ ایجنسی اپنے نئے اتحادی ’’القاعدہ‘‘ کی مدد سے کراچی یونیورسٹی کے پروفیسرز کے قتل ، پولیس افسران کی ٹارگٹ کلنگ ، سماجی کارکن سبین محمود کے قتل اور امریکی پروفیسر ڈاکٹر ڈیبرا لوبو پر قاتلانہ حملہ کرنے کا شیطانی منصوبہ عمل میں لاتی ہے۔ ان تمام تخریبی کارروائیوں سے جہاں ایک جانب تو یہ منظر پیش کرنے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ لڑائیوں میں شدت آرہی ہے تو دوسری جانب پاکستان کو شدت پسندوں کا گڑھ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی اور تیسری جانب سماجی کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد میڈیا میں بیٹھے ناداں دوستوں کی باتوں سے یہ تاثر بھی پھیلایا گیا کہ جیسے پاکستانی ایجنسی اپنے ہی لوگوں کو اپنے ہاتھوں مار رہی ہے۔ ’’را‘‘ کی بدقسمتی کہ اس بارکھیل جم نہیں پایا اور ایک ایک کر کے تمام ملزم قتل یا پھر گرفتار ہونا شروع ہوگئے اور ہر گرفتار ہونے والا خود کو یا تو القاعدہ سے منسوب بتاتا ہے یا پھر سیاسی چھتری تلے’’ را ‘‘ کی خوراک سے پلنے والا سیاسی کارکن ہونے کا اعتراف کرلیتا ہے ۔

یہ صورتحال ’’را‘‘ کے لئے نا صرف تباہ کن تھی بلکہ اس کے دہشت گردوں کی بھی ایک بڑی تعداد ایجنسیوں کے ہاتھ لگ رہی تھی۔چنانچہ ایک بڑا حملہ کرنے کا سوچا گیا کہ جس سے حساس اداروں کی ساری توجہ شہروں میں موجود ’’را‘‘ کے ایجنٹس سے ہٹ کر وزیرستان کی جانب مبذول ہو جائے۔ ڈوریاں گھمائی گئیں اور صفورا گوٹھ میں اسماعیلی کمیونٹی کی بس کو ظلم وستم کا نشانہ بنا دیا گیا۔ جس میں 46 لوگ اپنی جان کی بازی ہار گئے ۔ اس کے بعد داعش کا پملفٹ پھینک کر یہ دکھانے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان میں دا عش اور طالبان طاقتور ہو رہے ہیں۔ جس سے ایک جانب تو پاکستان میں غیر ملکی سرمایا کاری واپس چلی جاتی اور دوسری جانب اس روٹ کی سکیورٹی پر سوالیہ نشان کھڑا کر کے اسے غیر معینہ مدت کے لئے پس پشت ڈال دیا جانا بھی مقصود تھا۔ جب کہ اس سانحہ والے روز ہی میڈیا میں بیٹھے کچھ ناداں دوست اپنے پروگرام کا آغاز ان الفاظ سے کر رہے تھے

جو کراچی میں سکیورٹی نہ دے سکے وہ اکنامک کوریڈور کو کیا سکیورٹی دے پائیں گے ۔

جبکہ پاکستانی میڈیا میں موجود ’رامو کاکا‘ قسم کے لوگ حالیہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پاکستانی خفیہ ایجنسی کے کھاتے میں ڈالنے کی سرتوڑ کوششیں کرتے دکھائی دیئے ۔

دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ کیا اس طرح کی باتیں بھارتی موقف کو توانا کر رہی تھیں یا پھر پاکستانی معیشت کو؟ عام آدمی تو جانتا ہے لیکن خودساختہ زرخیز دماغوں میں یہ سوال آیا کہ نہیں؟؟ نہیں معلوم۔

اور آخر میں بات ہمارے کچھ اور نادان دوستوں کی ہوجائے جو کہتے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات ہورہے ہیں تو پاکستانی ادارے کہاں محو خواب ہیں ؟ ان حضرات سے یہی درخواست ہے کہ جناب ہم حالت جنگ میں ہیں، اور جنگ میں قربانیوں کے بنا کچھ حاصل نہیں ہوتا، ہمارے مخالف دشمن کوئی معمولی چور ڈاکو تو ہیں نہیں، بلکہ ہم سے کئی گنا بڑے بجٹ کی حامل ایک فوج ہے۔ جس کو افغانستان میں موجود مختلف ایجنسیز کے ٹرینرز بشمول ’را‘ کی مدد بھی حاصل ہے۔ یہ باقاعدہ ایک جنگ ہے جو غیر علانیہ طور پر پاکستان کے خلاف پاکستانی سرحد کے اندر مسلط کردی گئی ہے لہٰذا یہ عجیب بات نہیں کہ دشمن نے وار کیا ہے ، جنگ میں اگر دشمن کم ظرف اور بزدل ہو تو وہ کمزور اور معصوم شہریوں پر ہی سفاکیت دکھاتا ہے جیسے وہ عشروں سے کشمیر اور اب پاکستانی شہریوں پر دکھا رہا ہے ۔

ملک جہانگیر ۔ مصنف معروف تجزیہ نگار اور ہلال کے مستقل لکھاری ہیں

[email protected]

یہ تحریر 11مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP