اداریہ

سالِ نو عزمِ نو

قومیں اپنے نظریے اور مقصدیت کے بل بوتے پر پروان چڑھتی ہیں۔ قوم کا ہر ہر فرد اپنے حصے کی شمع جلاتا ہے تو راہیں روشن ہوتی ہیں اور منزلیں نکھرتی چلی جاتی ہیں۔ وطن ِ عزیز تحفۂ خداوندی ہے اسے قدرت نے ہر نعمت سے مالامال کر رکھا ہے۔ بطورِ پاکستانی ہم سب کو اس وطن کے ہرانگ کو اس انداز میں سنوارنا ہے کہ ملک اپنے قدموں پر جم کر کھڑا دکھائی دے۔ نئے سال کا آغاز ہے اور قوم کے لیے نئے سال کا عزم وہ اُمید ہے جس کی بنیاد پر ہم سب نے اس ملک کو ان شاء اﷲ مضبوط سے مضبوط تر بنانا ہے اور اس کے وقار میں اضافے کے لیے اپناکردار ادا کرناہے۔بانیِ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح نے اکتوبر 1947 میں اپنے خطاب میںکہا کہ ''اپنا فرض بجالاتے رہو اور خدا پر بھروسہ رکھو، دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کرسکتی۔یہ قائم رہنے کے لیے بنا ہے ۔ ہمارے اقدامات اور کارنامے دنیا پر ثابت کررہے ہیں کہ ہم سچائی پرہیں۔''یقینا ہمارے اقدامات اور کارنامے آج بھی دنیا کے سامنے روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں۔ ہماری قوم اور افواج نے جس طرح گزشتہ دودہائیوں سے جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کارہائے نمایاں سرانجام دیے، وہ دنیا کے سامنے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف  اس جنگ میں سُرخ رُو رہا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیوں کے بعد آپریشن رد الفساد جیسے آپریشن شروع کیے گئے۔ جن کے ذریعے پاکستان کے مختلف علاقوں میں پھیلے ہوئے شدت پسندوں اور ان کے سہولت کاروں کو کیفرِ کردار تک پہنچایاگیا۔ اب بھی اکا دُکا واقعات  رونما ہوتے ہیں جن پر ریاست اور افواجِ پاکستان کی جانب سے شدید ردِ عمل سامنے آتا ہے۔ حال ہی میں سی ٹی ڈی کیمپلیکس بنوں میں دہشت گردی کا ایک واقعہ پیش آیا جس پر ہمارے جوانوں اور افسروں نے اپنی جانوں کی پروا ،نہ کرتے ہوئے ہوئے متعدد دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا۔ یہ اس امرکی غمازی کرتا ہے کہ آئندہ بھی اگر کبھی ایسا کوئی واقعہ رونما ہوا تو افواجِ پاکستان  اسی طرح مؤثر ردِ عمل کا مظاہرہ کریں گی۔
پاک فوج کے بہادر جوان اور افسر جس لگن اور قومی جذبے سے خدمات سرانجام دیتے ہیں وہ بے مثال ہے۔ جنرل سید عاصم منیر نے چیف آف آرمی سٹاف کا منصب سنبھالتے ہی  پہلا دورہ لائن آف کنٹرول کا کیا اور اس امر کا اعادہ کیا کہ ملکی دفاع کو ہر حال میں یقینی بنایاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی غلط فہمی کی بنیاد پر کی گئی مہم جوئی پر قوم کی حمایت سے ہماری مسلح افواج پوری قوت سے جواب دیں گی۔ ان کا دوسرا دورہ مغربی سرحدوں کی جانب تھا۔وہاں انہوں نے پاک افغان بارڈر پر لگائی گئی باڑ اور چیک پوسٹوں کا جائزہ بھی لیا۔ انہوں نے بانیِ پاکستان قائداعظم کے مزار پر حاضری بھی دی اور صوبہ بلوچستان میں تعینات سپاہ کے پاس بھی پہنچے۔
بلاشبہ افواجِ پاکستان ملک کے دیگر اداروں کی طرح اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے کماحقہ' آگاہ ہیں اور اُسی جانفشانی کے ساتھ خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ ملکی سرحدوں کی حفاظت کی خاطر افواج آج بھی اپنی جانوں کے نذرانے پیش کررہی ہیں۔ ملک دشمن عناصر پاکستان کی سالمیت  کے ہمیشہ سے درپے ہیں لیکن اُنہیں ہر بار منہ کی کھانا پڑی ہے۔ ہمارے سپوت مشرقی ،مغربی ، شمالی ، جنوبی ، فضائی اور بحری سرحدوں کی حفاظت کے لیے پُراعتماد اور ہر دم تیار ہیں۔ یہ دشمن پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں جو قوم کے نام ایک پیغام ہے کہ اُن کے ہوتے ہوئے اس ملک کی سرحدوں اور باسیوں کی جانب دشمن میلی نظر سے نہیں دیکھ سکتا۔
پاکستان ہمیشہ سلامت رہے۔ ||



 

یہ تحریر 57مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP