قومی و بین الاقوامی ایشوز

زیرو ویسٹ مینجمنٹ

 ویسٹ یعنی کچرا انسانی زندگی کا اسی طرح حصہ ہے جس طرح دوسری روز مرہ کی اشیاء ہوں ۔اگر کچرے کو درست انداز سے تلف نہ کیا جائے تو یہ ماحولیاتی آلودگی کا سبب بن کر انسانی صحت کو نقصان پہنچاتا ہے ۔ ترقی پذیر یا غیر ترقی یافتہ ممالک میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد گندگی کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتی ہے ۔ اگر ہم انڈس تہذیب کا جائزہ لیں جس کا مرکز موہن جو دڑو کا علاقہ تھا، تو جو آثار ان کھنڈرات سے برآمد ہوئے ہیں اس میں ایسے شہر ہیں جہاں سیورج کا بہترین نظام بنایا گیا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ قدیم ہی سے انسان کو صحت اورصفائی کے درمیان کا تال میل سمجھ آگیا تھا۔  آج دنیا اس نہج پر پہنچ گئی ہے جہاں کچرے کو دیکھنے اور اسے تلف کرنے کے طریقہ کار بھی سائنسی اصولوں کے تحت طے کیے جاتے ہیں کیونکہ تھوڑی سی غفلت موسمی تبدیلی پر بری طرح اثرانداز ہوسکتی ہے۔    
زیرو ویسٹ تین امور پر مشتمل انتظامی سرگرمی کا نام ہے جس کے تحت کچرے کویا تو دوبارہ استعمال (Reuse) کے قابل بنایا جاتا ہے یا کچرے کی پیدا وار کو کم (Reduce)  کیا جاتا ہے یا کچرے کی مدد سے نئی اشیاء بنائی جاتی ہیں یعنی (Recycling) ۔ اس ترکیب کو 3R سٹریٹیجی کہا جاتا ہے۔ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد کچرے کے مضر اثرات کم یا ختم کر کے اسے انسانی صحت اورماحولیات کے لیے مفید بنانا ہے۔ موسمی تبدیلی کی وجہ سے اس شعبے پر دنیا بھر میں سنجیدگی سے کام ہو رہا ہے۔ صحت کے جن اصولوں پر مغربی ممالک کاربند ہیں ان میں Preventive healthcare یعنی بیماری پیدا کرنے والے اسباب کو روکنے پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے جس میں کچرے کو درست انداز میں تلف کرنا بھی شامل ہے۔اگر کہا جائے کہ کچرے کو ٹھکانے لگانے کا عمل دنیا بھر میں ایک انڈسٹری کی شکل اختیار کر گیا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ 
 کیا زیرو ویسٹ کا ہدف حاصل کیا جاسکتا ہے؟ 
1978 میں سیول(Seoul) میں واقع دریائے ہن(Han River) کے ایک جزیرے کو کچرا زیر زمین دبانے کے لیے منتخب کیا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ خوبصورت جزیرہ کچرا کنڈی میں بدل گیا۔ 1991میں سیؤل انتظامیہ نے نئی ماحولیاتی پالیسی بنائی اور زیر زمین کچرا تلف کرنے کے عمل کو ترک کرنے کا فیصلہ کیا۔ یوں  پانچ سال کے عرصے میں اس آلودہ جزیرے کودنیا کے بہترین سرسبز باغ میں تبدیل کر دیا گیا۔ چونکہ زیر زمین کچرا ابھی موجود تھا اس لیے خدشہ تھا کہ اس سے پیدا ہونے والی میتھین گیس انسانی، نباتاتی اور حیوانی جانوں کے لیے خطرے کا باعث ہو سکتی ہے۔ چناچہ میتھین گیس کو نکالنے کا انتظام کیا گیا اور 106 کنویں بنائے گئے جن سے برآمد شدہ گیس گھروں اور دفاتر کو استعمال کے لیے فراہم کی جانے لگی۔
 ان تمام سرگرمیوں کے پیچھے سیول انتظامیہ کا ہدف  اپنے شہر کو زیرو ویسٹ شہر بنانا تھاجس میں وہ کامیاب ہوئے۔ سیول میں کچرے کو تلف نہیں کیا جاتا بلکہ اس سے فائدہ اٹھا یاجاتا ہے۔ اس حکمت عملی کو گردشی اکانومی کا نام دیا جاتا ہے جس کا بنیادی تصور یہ ہے کہ دنیا میں کوئی بھی چیز بیکار نہیں بلکہ ہر بیکار چیز کو دوبارہ قابل استعمال بنا کر معیشت کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔
 گردشی معیشت میں صرف مصنوعات کو ری سائیکل کے ذریعے از سر نو بنانا ہی مقصود نہیں ہوتا بلکہ اس عمل کو سماجی ذہن کا حصہ بنانے کے لیے ہر ادارے کی شمولیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ تعلیم، آگاہی ، قانون سازی ، مصنوعات کی تیاری کے مراحل، مصنوعات کو استعمال کرنے کے عوامل اور ماحولیاتی تدبر جیسے امور مل کر گردشی معیشت کو قابل عمل بناتے ہیں۔ کسی بھی منصوبے کی کامیابی اس شہر کے لوگوں کی شمولیت اور آمادگی کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر زیرو ویسٹ کی پالیسی کو اپنانا ہے تو سب سے پہلے ہمیں کچرے سے متعلق اپنا زاویہ نظر تبدیل کرتے ہوئے اسے  وسائل کے طور پر دیکھنا شروع کرنا ہوگا۔ سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ تقریباً 90 فیصد کچرا قابل استعمال ہوتا ہے۔ 
ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق ایشیاکے شہری علاقے روزانہ 760,000 ٹن کچرا پیدا کرتے ہیں۔2025 میں اس کا حجم بڑھ کر 1.8 ملین ٹن ہونے کا امکان ہے۔ پاکستان میں ہر سال 48.5 ملین ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے جس کی شرح میں ہر سال 2 فیصد اضافہ ہورہا ہے۔ اس کچرے کو تلف کرنے کے لیے زیادہ تر روائتی landfill یعنی زیر زمین کچرا دبانے کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔  کچھ جگہوں پر کچرا جلانے والی مشینیں بھی نصب ہیں جن میں ہسپتالوں کا فضلہ تلف کیا جاتا ہے۔ کچرے کا ایک بڑا حصہ انتظامات کی کمی کی وجہ سے کئی کئی مہینے سڑکوں پر پڑا رہ کر ماحول کو تعفن زدہ کرنے کا باعث بھی بنتا ہے۔ بعض مقامات پر کچرے کو جلانے کی روایت بھی عام ہے۔ کراچی میں آخری دو طریقہ کار تو عام ہیں۔پچھلے دنوں ملتان میں جب صفائی مہم کا آغاز کیا گیا تو شہر کی انتظامیہ نے یہ کہہ کر ہاتھ اٹھا لیا کہ ان کے پاس صرف 800 ٹن کچرا اٹھانے کی سہولت ہے جبکہ ملتان میں کچرا ہر سال 1,000 ٹن پیدا ہوتا ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ یہ 200 ٹن کچرا جس کے لیے ملتان کی انتظامیہ کے پاس وسائل نہیں ہیں سڑکوں سے ہوتے ہوئے گٹر اور سیوریج لائنز کو بلاک کرنے کا سبب بنتا ہوگا جس سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ اور لوگوں کی صحت خراب ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہونگے۔ 
کراچی کا حال تو خیر اس سے بھی دگرگوں ہے۔ پاکستان کی یہ معاشی شہ رگ ہر سال 13,500 ٹن کچراپیدا کرتی ہے جس کا 40 فیصد حصہ سڑکوں پر جمع رہتا ہے۔ کچرا تلف کرنے میں جن وسائل کی ضرورت پڑتی ہے ان پر ایک ا ندازے کے مطابق کسی بھی شہر کے بجٹ کا 20 فیصد حصہ صرف ہوتا ہے جو معمولی رقم نہیں ،اسی لیے شاید ترقی پذیر یا غیر ترقی یافتہ ممالک میں غربت اور گندگی ساتھ ساتھ نظر آتی ہیں۔ اسی طرح آبادی میں اضافہ ، شہری زندگی کا پھیلاو ٔاور معاشی و سماجی پسماندگی بھی کچرے میں اضافے کاباعث ہیں۔ 
2005 میں یورپی کمیشن نے ویسٹ یعنی کچرے کے حوالے سے ایک حکمت عملی مرتب کی جس میں لکھا گیا یورپی یونین کے لیے طویل المدتی ہدف اسے ری سائیکلنگ سوسائٹی بناناہے، دنیا بھر میں جتنا بھی پیکیجنگ مٹیریل بنایا جاتا ہے اس کا 80 سے 90 فیصد ری سائیکل ہونے کے قابل ہوتا ہے یعنی اس سے استعمال کی دوسری چیزیں بنائی جا سکتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق کچرے کو جلانے سے بہتر ہے کہ اسے ری سائیکل کیا جائے کیونکہ کچرا جلانے والی ٹیکنالوجی ایک تو مہنگی ہے اور دوسرا ہر مٹیریل جلانے کے لائق نہیں ہوتا، اس سے مزید ماحولیاتی آلودگی بڑھنے کا خدشہ رہتا ہے۔ 
 زیرو ویسٹ مینجمنٹ میں حکومت کیا کردار ادا کر سکتی ہے۔ 
کسی بھی زیرو ویسٹ مینجمنٹ کے اہداف کی کامیابی کا دارومدار اس ملک یا شہر کی حکومت اور شہریوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔عوامی مہم( پبلک کمپین)، نصابی کتب اور والدین کی تریبت کے ذریعے بچوں میں ایسی عادات پیدا کرنے کی ضرورت ہے جس سے وہ اپنے ارد گرد کا ماحول نہ صرف صاف رکھیں بلکہ کچرے کو محفوظ اوردرست انداز سے تلف کرنے کے طریقہ کار سے بھی واقف ہوں۔  اس ضمن میں پہلا اصول یہ ہے کہ ہم نے کچرے سے نفرت نہیں کرنی بلکہ اسے قابل استعمال بنا کر ماحول اور اپنی صحت کے لیے مفید بنانا ہے۔ حکومت کی  کوشش ہونی چاہیے کہ وہ ایسے سینٹرز بنائے جہاں لوگ ری سائیکل ہونے والی چیزوں کو جمع کروا سکیں  جیسا کہ مغربی ممالک میں ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں اور پاکستان میں  بعض شوگرملز والے کچرے سے بجلی بنا رہے ہیں۔ اٹھاروی ترمیم کے بعد صوبائی حکومتوں کو پابند کیا گیا تھا کہ ایسے انتظامات کریں کہ صوبے خود بجلی بنائیں۔ ایسے میں کراچی انتظامیہ اگر چاہے تو کچرے کے ذریعے کافی حد تک بجلی کی پیداوار حاصل کر سکتی ہے۔ اسی طرح کچن گارڈننگ کے ذریعے بہت حد تک گرین اکانومی کو فروغ دیا جا سکتا ہے جو کہ گردشی اکانومی کی ہی ایک شاخ ہے۔
ری سائیکلینگ کے ضمن میں حکومت کو قانون سازی کے ذریعے اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ کوئی بھی غیر محفوظ یا آلودہ کچرا کھانے پینے کی اشیا کے لیے استعمال ہونے والی مصنوعات میں استعمال نہ ہو۔ پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے بہت سے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ۔اس ضمن میں اگر کمی ہے تو شہروں اور دیہاتوں میں صفائی اور کچرے کو تلف کرنے کے حوالے سے سائنسی بنیادوں پر واضع حکمت عملی مرتب کرنے اور شہریوں کی تربیت کی۔ صرف  درخت لگانے  سے بات نہیں بنے گی بلکہ گرین اکانومی کو مجموعی طور پر دیکھنا ہوگا۔ ایسا  نہ ہو کہ ایک پالیسی کے تحت  تو ہم ماحول کو صاف رکھنے کی کوشش کر رہے ہوں لیکن کسی اورشعبے میں کمزوری کے باعث آلودگی کو پنپنے کا موقع فراہم کر رہے ہوں۔ ||



 

یہ تحریر 192مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP