متفرقات

زوال

سوال کرنے والے نے استاد سے پوچھا: یہ فرمائیے کہ اگر تین بھائی ہوں اور ان میں سے ایک خدا خوفی کرتا ہو‘ دوسرا خدا کو نہ مانتا ہو اور تیسرا بچپن میں ہی فوت ہو جائے تو اگلے جہاں میں ان تینوں کی کیا حیثیت ہو گی؟ استاد نے کچھ دیر توقف کیا مگر کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔ اس سوال نے شاگرد کا مطمع نظر ہی تبدیل کر دیا۔ مسلمانوں کے فلسفے کی تاریخ اس کے بعد وہ نہ رہی جو اس سے پہلے تھی۔ سوال کرنے والے کا نام ابوالحسن علی بن اسماعیل الاشعری تھا اور ان کے استاد کا نام علی محمد بن عبدالوہاب الجبائی تھا۔ جب معتزلہ نے یونانی فلسفیوں کے علوم کے عربی تراجم کا مطالعہ کیا تو انہوں نے یونانی فلسفیانہ استدلال کو اسلام کے بنیادی اصولوں کی تشریح کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا اور محض عقل کو سچائی اور حقیقت تک پہنچنے کا واحد ذریعہ سمجھ لیا۔ معتزلہ نے ہر اصول کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے کے شوق میں خدا کو ’’مجرد‘‘ اور ’’غیرشخصی‘‘ قرار دیا۔ نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ خدا کے اس تصور کو عام مسلمانوں نے یکسر رد کر دیا۔ اس دور کے قدامت پسندوں نے بھی معتزلہ کی اس مذہبی تشریح پر شدید ردعمل کا اظہار کیا اور انہیں کافر تک قرار دیا۔ نویں صدی عیسوی کا یہ دور اسی رد عمل سے عبارت ہے۔

 

یہ وہ وقت تھاجب روایتی اور قدامت پسند مسلمان بشمول محدثین اور فقہا قرآن اور سنت کی مروجہ تعبیر اور تشریح کے قائل تھے۔ اس زمانے میں کسی بھی قسم کے غیر روایتی مذہبی مباحث انہیں ناپسند تھے اور وہ انہیں بدعت کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ ان نظریات میں اس قدر شدت پیدا ہو گئی کہ مذہبی عقائد پر علمی بحث کرنا بھی ممکن نہ رہا۔ مگر اندھے اعتقاد کا یہ رویہ زیادہ دیر تک جاری نہ رہ سکا۔ کیونکہ اسلام کوئی جامد مذہب نہیں تھا جو نئی سوچ اور نئے دور کے سوالات کا جواب نہ دے پاتا۔ سو جوں جوں وقت گزرا انہی قدامت پسند مسلمانوں میں سے ایک گروہ ابھرا جسے یہ ادراک ہوا کہ اسلام کے عقائد کی عقلی تشریح ضروری ہے۔ دینی علوم کے ان ماہرین نے علم الکلام کی مدد سے اپنے عقیدے کا دفاع کیا اور یہ لوگ متکلمین کہلائے۔ ان کے ایک سرکردہ عالم ابوالحسن علی بن اسماعیل الاشعری کو اس قدر مقبولیت حاصل ہوئی کہ ان کے مکتبہ فکر کو ’’الاشعری‘‘ کہا جانے لگا۔ الاشعری بصرہ میں پیدا ہوئے اور جوانی کے ایام سے ہی وہ معتزلہ کے زیراثر رہے اور عظیم سکالر الجبائی کی شاگردی اختیار کی۔

 

چالیس برس کی عمر تک وہ معتزلہ کے نظریات کے زبردست حامی رہے مگر اس کے بعد یکایک ان میں ایک حیرت انگیز تبدیلی رونما ہوئی۔ ایک دن وہ بصرہ کی مسجد میں گئے اور اعلان کیا: ’’آپ میں سے جو لوگ مجھے جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے‘ سب سن لیں کہ میں ابوالحسن علی الاشعری یہ کہا کرتا تھا کہ قرآن کو تخلیق کیا گیا ہے اوریہ کہ انسان کی آنکھ کبھی خدا کو نہیں دیکھ پائے گی اور یہ کہ مخلوق اپنے اعمال خود تخلیق کرتی ہے۔ لوگو! میں شرمندہ ہوں کہ معتزلہ کے ان نظریات کا حامی تھا۔ میں ان خیالات کو ترک کرتا ہوں اور یہ اعلان کرتا ہوں کہ میں فسق و فجور پر مبنی ان نظریات کو بے نقاب کروں گا۔‘‘ الاشعری کے نظریات میں راتوں رات یہ تبدیلی کیوں کر آئی، اس بارے میں متضاد آرا پائی جاتی ہیں تاہم ابو خلکان لکھتا ہے کہ الاشعری کی اپنے استاد الجبائی سے اس بات پر بحث ہوئی کہ کیا خدا کے افعال عقلی بنیاد پر سمجھے جا سکتے ہیں اور کیا خدا اپنی مخلوق کے لئے بہترین راستے کا انتخاب کرنے کا پابند ہے؟ یہ وہی موقع تھا جب الاشعری نے اپنے استاد سے تین بھائیوں کی مثال دے کر سوال کیا اور تسلی بخش جواب نہ پا کر معتزلہ کو ترک کر دیا۔ اس تبدیلی کے بعد الاشعری نے بے شمار کتابیں لکھیں۔ ایک اندازے کے مطابق ان کی تعداد 300کے قریب ہے۔ تاہم ابن عساکر نے 93کتب کے نام دیئے ہیں اور ان میں سے بھی چند ہی آج محفوظ ہیں۔

 

الاشعری کے دور میں معتزلہ اور قدامت پسند علماء دونوں مکاتبِ فکر کے نظریات انتہاپسندانہ تھے۔ ایک خدا کو عقل کی کسوٹی کے علاوہ پرکھنے کو تیار ہی نہیں تھا جبکہ دوسرا مذہبی عقائد پر بحث کو ہی کفر سمجھتا تھا۔ الاشعری نے ایک متعدل پوزیشن لی اور اپنے علمی استدلال کی بنیاد پر دونوں مکتبہ ہائے فکرکے نظریات کا جواب دیا۔ قدامت پسند علما کے نظریات کا جواب الاشعری نے تین دلائل کی مدد سے دیا اور ان کے جامد خیالات کی دھجیاں اڑا دیں۔ الاشعری نے کہا کہ رسول اﷲﷺ نے کبھی یہ نہیں کہا کہ جو لوگ ایمان سے متعلق مسائل پر بحث کریں گے ان کی مذمت کی جائے یا انہیں بدعتی کہا جائے۔ اوریوں بقول الاشعری جو لوگ آج کل یہ کام کر رہے ہیں‘ ایک طرح سے وہ خود بدعت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ دوسرا قدامت پسند علماء کا کہنا تھا کہ ایٹم‘ خلا‘ اجسام‘ حرکت‘ حادثات اور خدا کی صفات پر بحث کرنا بھی بدعتی کے زمرے میں آتا ہے۔ کیونکہ اگر یہ بحث درست ہوتی تو رسول اﷲﷺ ان تمام علوم سے وابستہ مسائل سے ناواقف نہیں تھے۔ اگرچہ انہوں نے کبھی علیحدہ سے ان پر گفتگو نہیں فرمائی تاہم اس ضمن میں عمومی اصول قرآن اور سنت میں بیان کر دیئے گئے ہیں۔ ثبوت کے طور پر الاشعری قرآن کی ان آیات اور رسول اﷲﷺ کی ان احادیث کا حوالہ دیتا ہے کہ جن میں حرکت‘ سکون اور توحید وغیرہ کے مسائل پر بات کی گئی ہے۔

 

تیسری دلیل الاشعری یہ دیتا ہے کہ رسول اﷲﷺان تمام معاملات کی تفصیل سے آگاہی رکھتے تھے مگر آپﷺ کے دور میں کبھی یہ مسائل ظاہر ہی نہیں ہوئے تو ان پر گفتگو کرنے کی چنداں ضرورت بھی پیش نہیں آئی لہٰذا ان کے بارے میں گفتگو کی ممانعت یا اجازت کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ آپﷺ کے بعد جب صحابہ کرامؓ کے دور میں مختلف مذہبی مسائل نے جنم لیا تو ان تمام مسائل پر بحث ہوئی جن سے متعلق رسول اﷲﷺ کے صریح احکامات موجود نہیں تھے۔ اور اسی وجہ سے صحابہؓ کے مابین بھی اختلاف رائے ہوا۔ لہٰذا یہ نتیجہ نکالنا کہ مذہبی عقائد پر بحث دراصل مذہب میں اختراع نکالنے کے مترادف ہے‘ سراسر غلط ہے۔ مسلم فکر کے اس سنہری دور کی تین باتیں غور طلب ہیں۔ پہلی اس زمانے کے دانشور اپنے خیالات میں جامد نہیں تھے۔

 

الاشعری جیسے عالم کو بھی جب احساس ہوا کہ اس کانقطہ نظر درست نہیں تو انہوں اپنے خیالات سے رجوع کر لیا اور اپنی انا کو آڑے نہیں آنے دیا۔ آج کل کے نام نہاد دانشوروں کے منہ سے جو بات نکل جائے وہ اسے حرف آخر سمجھتے ہیں اور غلط ثابت ہونے کی صورت میں معافی مانگنے کی بجائے ڈھٹائی سے اس پر قائم رہنے کو اپنی دانشوری کی معراج سمجھتے ہیں۔ دوسرا اس دور کے علماء کا مطالعہ اور علمی کام اس قدر وسیع تھا کہ شائد ہی آج کل کا کوئی بڑے سے بڑا عالم ان کی ہمسری کا دعویٰ کر سکے۔ جتنی کتابیں یہ علماء لکھ ڈالتے تھے۔ اتنی شائد ہم اپنی پوری زندگی میں پڑھ نہیں سکتے مگر بات اس قطعیت کے ساتھ کرتے ہیں گویا پانچ ہزار سال کی تاریخ گھول کر پی رکھی ہے۔ تیسرا مسلم علماء کے نظریات میں شدید ترین اختلافات کے باوجود ایسا نہیں ہوا کہ کسی نے مخالفانہ خیالات کی پاداش میں خودکش حملے یا ٹارگٹ کلنگ میں قتل کر دیا ہو۔ یہ تمام فکری اور علمی نوعیت کے اختلافات تھے جن پر مسلمان فلسفیوں نے برس ہا برس تک بحث کی۔ افسوس کہ آج عام نوعیت کے سوال اٹھانے پر بھی زباں بندی ہے اور یہی زوال کی وجہ ہے۔ نوٹ: اس کالم میں حقائق فلسفے کے پروفیسر ایم عبدالحی کے مضمون سے حاصل کئے گئے ہیں۔

[email protected]ا

یہ تحریر 63مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP