قومی و بین الاقوامی ایشوز

زندہ قوموں کا مزاج

گرنا‘ گر کر سنبھلنا‘ سنبھل کر اُٹھنا‘ اُٹھ کر دوڑنا‘ دوڑتے دوڑتے زمانے کو اپنی گرفت میں لے لینا۔۔۔ زمانے کو اپنے پیچھے آنے پر مجبور کردینا۔ زندہ قوموں کی منزل عیش و طرب اور افراطِ زر نہیں ہوتی۔ زندہ قوموں کا اثاثہ افراد ہوتے ہیں۔ اوصاف والے‘ انصاف والے‘ صاف ستھرے لین دین والے‘ یقین والے اور ایمان والے۔۔۔ رب کو اپنی شاہ رگ کے قریب محسوس کرنے والے۔ صاحبِ کردار قومیں اپنی تاریخ خود لکھتی ہیں اور اپنے جغرافیے کے سامنے ڈھال بن کرکھڑی ہو جاتی ہیں۔ ایثار ان کا وعدہ ہوتا ہے اور قناعت ان کا ارادہ ہوتا ہے۔ جب کوئی قوم۔۔۔ کہ جو ایسی زمین کی مالک ہوتی ہے جس کی کوکھ کے اندر دنیا بھر کے اعلیٰ خزانے جمع ہوں اور جس کی سطح انواع و اقسام کی نعمتوں‘ اجناس اور راحتوں سے بھری ہوئی ہو‘ لدی ہوئی ہو۔۔۔ اور وہ کاسۂ گدائی لے کر نکلے۔۔۔ تو اس کی زمین شرم سے پانی پانی ہو جاتی ہے۔ اتنا روتی ہے کہ زمین پر سیلاب آجاتا ہے۔ اس کے دفینے پانی میں بہہ جاتے ہیں۔ شرم سے اُبلتا ہوا پانی بستیوں کی بستیاں بہا کر لے جاتا ہے۔ نگر اُجاڑ دیتا ہے۔ شہر ویران کردیتا ہے۔ کھیت کھلیان نوچ لیتا ہے۔۔۔ راستے دبوچ لیتا ہے۔ اورجب افراد کے اندر بے حمیتی اُگنے لگتی ہے‘ خیانت سلگنے لگتی ہے۔۔۔ اور جب ذاتی خواہشات قومی مفادات پر غالب آجاتی ہیں۔۔۔ جب اپنی ذات میں بندے کائنات دیکھنے لگتے ہیں۔۔۔ اور جب تعبیر کا جنون تسخیر کے سوتے خشک کرنے لگتا ہے۔ اور جب سچ کو جھٹلانے اور راہبر کو بھٹکانے کی دھن بجنے لگتی ہے۔ جب قانون مخصوص لوگوں کا نگہبان بن بیٹھتا ہے۔ جب میزان کے پلڑے میں باٹ سکڑنے لگتے ہیں۔۔۔ تب زمین تھر تھرانے لگتی ہے۔ کانپتی ہے‘ گڑگڑ بولنے لگتی ہے۔ اس کا غصہ لاوا بن جاتا ہے۔ لاوا پھٹ پڑتا ہے۔۔۔ بستے شہر ویرانہ بننے لگتے ہیں۔۔۔ ڈھیریاں اٹھاتے اور لگاتے ایسی قوم دنیا کے لئے ایک خبر بن جاتی ہے۔ اورجب غیرت کو پتنگ کی طرح اڑا دیا جاتا ہے‘ شرم و حیا کو سنہری کاغذوں میں لپیٹ کر نذرآتش کردیا جاتا ہے۔۔۔ جھوٹ کی سلیمانی ٹوپی پہن کرکاروبارِزندگی کو چلایا جاتاہے۔۔۔ تو برکت اڑنے لگتی ہے۔۔۔ گھروں سے‘ منڈیوں سے‘ ایوانوں سے‘ دالانوں سے۔ زندہ قوموں کے لوگ اپنے اسلاف کا صرف ذکر ہی نہیں کرتے اُن کے کردار کے اندر جی کر دکھاتے ہیں۔ مرکر دکھاتے ہیں‘ محض نام استعمال نہیں کرتے‘ ناموری کرکے دکھاتے ہیں۔ جن کا ماضی شاندار‘ حال جاندارہوتا ہے‘ اُن کا مستقبل تابدار ہوتا ہے۔۔۔ تو پھر ایک دن۔۔۔ قوم اپنی زمین کے قدموں میں بیٹھ کر معافی مانگتی ہے۔۔۔ برے اعمال کی تلافی کرنے کا وعدہ کرتی ہے۔ اور اپنی ہی زمین سے اپنی شناخت اور حیات مانگتی ہے۔۔۔ کاسہ توڑ دیتی ہے۔ دلاسہ چھوڑ دیتی ہے‘ محبت کو عام کرتی ہے اور انصاف کو دوام دیتی ہے۔تمہارے افعال سے تمہارے اقوال سے تمہاری زمین کی خوشبو نکلنے لگتی ہے۔۔۔ ’’خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ ‘‘ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے خلافت کی ذمہ داری سنبھالتے ہی تمام شاہی گھوڑے اور سواریاں واپس کردیں۔ پولیس اور پہرے دار افسر ہٹا دیئے۔ تمام جاگیریں اور عطایات واپس کردیئے۔ اپنی بیگم کا ایک قیمتی نگینہ جو اُن کے والد نے اُنہیں تحفہ دیا تھا‘ بیت المال میں جمع کرادیا۔ صبح سے شام تک شاہی خاندان کی ناجائز قبضے کی دستاویزات قینچی سے کترتے گئے۔ آپ خلیفہ بننے سے پہلے بڑے ٹھاٹھ کی زندگی بسر کرتے تھے۔ آپ کا ذاتی سامان چالیس اونٹوں پر لاداجاتا تھا۔ مگر خلیفہ بننے کے بعد تمام نوکر اور غلام فارغ کردیئے۔ آپ سے شاہی اصطبل کے گھوڑوں کا خرچہ مانگا گیا۔ آپ نے داروغۂ اصطبل کو ہدایت کی کہ تمام گھوڑے فروخت کردو اور قیمت بیت المال میں جمع کرا دو۔ آپ کے عہدِ حکومت میں غربت و افلاس کا نام مٹ گیا۔ زکوٰۃ اور صدقات لینے والے ڈھونڈنے سے نہ ملتے تھے۔ چرواہے جنگل میں حیران پھرتے تھے اور کہتے تھے کون صالح خلیفہ پیدا ہوگیا ہے۔ جس کے عدل کی بنا پر بھیڑیئے بکریوں کو نہیں چھیڑتے۔۔۔۔۔۔ زندہ قومیں ہمہ وقت صرف اپنے اسلاف کے کارنامے ہی نہیں دوہراتی رہتیں۔۔۔ بلکہ ان کے کردار دہرانے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کا عہد واپس لانے کی کوشش کرتی ہیں۔ دوسری دنیاؤں کی نقل کرنے کی بجائے اپنے آباء کی نقل کرتی ہیں۔۔۔ اگر تم دنیا کو تسخیر کرنے کے لئے نکلے ہو تو۔۔۔ وضع قطع اپنی بنا کر نکلو۔۔۔ اپنے چہرے پہ اپنی صورت سجا کر نکلو۔۔۔ قرض کی زنجیریں توڑ کر‘ طاقت و توانائی کی تدبیریں پہن کر نکلو۔ تمہاری للکار سے رزقِ حلال کی گرج سنائی دینی چاہئے کیونکہ : ؂ ’’خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ ‘‘

اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو

کاخِ امرا کے در و دیوار ہلا دو

گرماؤ غلاموں کا لہو سوزِ یقیں سے

کنجشک فرومایہ کو شاہیں سے لڑا دو

سلطانی جمہور کا آتا ہے زمانہ

جو نقشِ کہن تم کو نظر آئے مٹا دو

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی

اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو

کیوں خالق و مخلوق میں حائل رہیں پردے

پیرانِ کلیسا کو کلیسا سے اٹھا دو

 

حق را بسجودے‘ صنماں را بطوافے

بہتر ہے چراغِ حرم و دیر بجھا دو

میں ناخوش و بیزار ہوں مر مر کی سلوں سے

میرے لئے مٹی کا حرم اور بنا دو

تہذیب نوی کارگہِ شیشہ گراں ہے

آدابِ جنوں شاعرِ مشرق کو سکھا دو

علامہ اقبالؒ

یہ تحریر 45مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP