قومی و بین الاقوامی ایشوز

ریاست یا سماج

ارتقائی عمل کا آغاز کہاں سے ہوگا

ارتقا زندگی کی علامت ہے۔یکسانیت جمود کا اظہار ہے۔فرد کی طرح ایک سماج بھی ارتقاکے مراحل طے کر تے ہوئے اپنی زندگی کا ثبوت فراہم کر تا ہے۔ یہی ارتقا کی خواہش ہے جو اب تبدیلی کے نعرے میں ظہور پذیر ہوئی ہے۔کوئی سماج زیادہ عرصہ ایک حالت میں رہ سکتا اور نہ ہی مثالی ہو سکتاہے۔ یہ دونوں باتیں اسے ہمیشہ ارتقا کی طرف مائل رکھتی ہیں۔ ارتقا کا یہ فطری جذبہ جب سو چ بچار کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے توایک نئے سماج کا خواب سامنے آتا ہے اور پھر اس کے حصول کی آرزو میں جماعتیں بنتی ہیں اوراجتماعی جدو جہد کی کئی صورتیں متشکل ہوتی ہیں۔اس اصول کے تحت پاکستان میں بھی تبدیلی کی جدو جہد ہر دور میں ہوتی رہی ہے اور لوگ مختلف سطحوں پر کام کرتے رہے ہیں۔ ایسی تمام کو ششیں لوگوں8 کو مطمئن نہیں کر سکیں۔یہ کہنا تو شاید درست نہ ہو کہ ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوا لیکن یہ بات یقیناً درست ہے کہ یہ کوششیں جس مقصد کے لئے کی گئیں وہ اپنی آ خری صورت میں سامنے نہیں آیا۔مثال کے طور پر ایک کوشش کی آخری منزل یہ قرار پائی کہ پاکستان کے ہر شہری کو روٹی، کپڑا اور مکان ملے۔ہم جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہو سکا۔اسی طرح ایک کوشش یہ ہوئی کہ پاکستان میں اسلامی انقلاب آجائے۔ہمیں معلوم ہے کہ یہ بھی نہیں ہو سکا کہ جس انقلاب کا خاکہ پیش کیا گیا وہ عملی حقیقت میں ڈھل گیا ہو۔ایسا کیوں ہے؟ تہذیبی ارتقا کے ساتھ انسان نے اجتماعیت کی دو صورتیں دریافت کیں۔ ایک سماج اور دوسری ریاست۔ریاست نسبتاً جدید ادارہ ہے۔سماج زیادہ فطری اور قدیم ہے۔ریاست کے اجزائے ترکیبی میں چند باتیں لازماً شامل ہیں۔جیسے اس کی ایک سرحد ہو‘وہ خاص آ بادی پر مشتمل ہو‘اس کا علاقہ ہو، وغیرہ۔دورِ جدید میں ایک عالمی نظم کے تحت ریاستوں کے وجود کو تسلیم کیا گیا ہے جس میں سرحدوں وغیرہ کا تعین کر دیا گیا اوران کا احترام ایک دوسرے پر لازم کر دیا گیا ہے۔ماضی قدیم میں ایسا نہیں تھا۔اُس دور میں ریاست کسی حق کی بنیاد پر نہیں،طاقت کی بنا پر قائم رہتی تھی یا اس میں تو سیع ہو تی تھی۔طاقت ور چھوٹی اورکمزور ریاستوں پر قبضہ کر لیتے ۔یوں دنیا کو طاقت وروں نے اپنے زیر تسلط حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔دوسری جنگِ عظیم تک یہی صورتِ حال رہی۔اس کے بعد مو جودہ عالمی نظم وجود میں آیا۔
جب ریاست وجود میں آئی تو اس کے نظم کو برقرار رکھنے کے لئے ایک قانون کی ضرورت محسوس ہوئی۔ایک ریاست میں لازم نہیں تھا کہ سب رہنے والے ایک نظامِ اقدار کے حامل ہوں۔انہیں ایک ساتھ رکھنے کے لئے ایک اتھارٹی کی ضرورت تھی۔ابتدا میں یہ کام بادشاہ اور ان کے فرامین کرتے تھے۔بعد میں جب آئینی حکومتیں قائم ہوئیں تو یہ حق آئین کو حاصل ہو گیا جو ایک نظم کو مجتمع رکھتا ہے۔
اس کے بر خلاف معاشرہ قدیم ہے اور فطری انسانی ضرورت کے تحت اسی دن وجود میں آ گیا تھاجب انسان ایک سے دو ہوئے اور انہیں ایک دوسرے کے ساتھ سماجی اختلاط کی ضرورت پیش آئی۔سب سے پہلے خاندان بنا۔پھر ایک سے دو خاندان بنے اور یوں خاندانوں کے اجتماع نے سماج کی صورت اختیار کر لی۔ سماج پھیلا تو انسانی ضروریات میں اضافہ ہوا۔اسی سے پیشے وجود میں آئے۔اس انسانی نظم کو برقرار رکھنے اورسماجی ضرویات کی تکمیل کے لئے کچھ قواعد وضوابط کی ضرورت محسوس ہوئی۔اس سے سماجی رسم و رواج اورایک نظامِ اقدار وجود میں آئے۔ نسلی تسلسل کے ساتھ ساتھ،معاشی اور بعض دوسری ضرویات کے تحت انسان نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور یوں معاشروں کی تعداد میں اضافہ ہو تا گیا۔ تہذیبی ارتقا کے ساتھ مذاہب اور دوسرے تصوراتِ زندگی نے جنم لیا اور یوں کئی نظام ہائے اقدار وجود میں آئے۔ اب ایک سماج کے اجتماعی نظم کو برقرار رکھنے کے لئے ایک نظامِ اقدار ضروری قرار پایا۔اس سے انحراف کو سماجی نظم کے لئے خطرہ سمجھتے ہوئے،اس کی مزاحمت کی گئی۔یوں نسل در نسل،یہ نظامِ اقدارمستحکم ہو تا گیا۔ دوسری طر ف جب ریاست وجود میں آئی تو اس کے نظم کو برقرار رکھنے کے لئے ایک قانون کی ضرورت محسوس ہوئی۔ایک ریاست میں لازم نہیں تھا کہ سب رہنے والے ایک نظامِ اقدار کے حامل ہوں۔انہیں ایک ساتھ رکھنے کے لئے ایک اتھارٹی کی ضرورت تھی۔ابتدا میں یہ کام بادشاہ اور ان کے فرامین کرتے تھے۔بعد میں جب آئینی حکومتیں قائم ہوئیں تو یہ حق آئین کو حاصل ہو گیا جو ایک نظم کو مجتمع رکھتا ہے۔آئین اصلاً ایک مجموعہ قوانین کا نام ہے جو ایک ریاست میں افراد اور طبقات کے حقو ق وفرائض کا تعین کر تا ہے۔ریاست ایک قانون کے تحت چلتی ہے۔یہ قانون کسی فردِ واحد کاضامن ہو سکتا جیسے بادشاہتوں میں ہوتاہے یا کسی آئین میں درج ہو سکتا جسے کسی منتخب پارلیمان کی منظوری حاصل ہو۔ علمِ سیاسیات کے ماہرین متفق ہیں کہ سماج ریاست پر مقدم اور زیادہ فطری ہے۔ ایک سماج ریاست کو جنم دے سکتا ہے لیکن ریاست کبھی سماج نہیں بنا سکتی۔جیسے برِ صغیر کے مسلم سماج نے ایک ریاست پاکستان کو جنم دیا۔ اس اعتبار سے پاکستان ایک سماج بھی ہے اور ریاست بھی۔ریاست پاکستان 14۔ اگست 1947ء کو وجود میں آئی لیکن یہاں کا سماج پہلے سے مو جود تھاجو بحیثیتِ مجموعی مسلم نظامِ اقدار کا امین تھا۔تاہم مقامی تہذیبی تنوع کے باعث اس میں یہ صلاحیت بھی مو جود تھی کہ دوسرے مقامی تہذیبی رنگوں کو بھی قبول کر لے۔یوں دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ اسے اجنبیت کا احساس نہیں ہو تا تھا۔ پاکستان میں آج تک تبدیلی اور اصلاح کی جو کوششیں ہوئیں ان میں ریاست کو اجتماعیت کی اساس مان کر حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے۔اس طرح زیادہ اصرار قانون سازی پر رہا،جیسے کسی نے نظامِ اسلام کی بات کی تو اسلامی قوانین کے نفاذ کا مطالبہ کر دیا۔یہ مطالبات درست ہونے کے باوجود اگر نتیجہ خیز نہیں رہے تو اس کا سبب سماج کو نظر انداز کر نا تھا۔قانون خلا میں نافذ نہیں ہوتے۔ وہ انسانوں کو مخاطب بنا تے ہیں اور انسان کسی نظامِ اقدار کے تحت پروان چڑھتے ہیں۔خیرو شر کا پہلا سبق ماں کی گود اور گھر کے افراد سے ملتا ہے۔یوں اگر ایک فرد جس نے کبھی مدرسے کا رخ نہ کیا ہو‘ یہ جانتا ہے کہ والدین کا احترام اور بچوں سے شفقت کا بر تاؤ کر نا چاہئے۔اس بات کا تعلق کسی قانون سے نہیں،ہمارے نظامِ اقدار کے ساتھ ہے۔پاکستان میں ہونے والی اصلاحی کوششوں میں سماج کی اس اہمیت کو نظر انداز کیا گیا ہے جس کے باعث ریاست کی سطح پر اٹھائے جانے والے بہت سے اچھے اقدامات نتیجہ خیز نہیں ہو سکے۔ آج ضرورت ہے کہ ہم تبدیلی کی خواہش کو اس حقیقت سے ہم آہنگ کر دیں۔جب تک ہم اپنے نظامِ اقدار کو بہتر بنانے پر اصرار نہیں کریں گے،کوئی سیاسی تبدیلی ہمیں مطمئن نہیں کر سکے گی۔ پاکستان کے آئین میں سیاسی تبدیلی کا ایک طریقہ ء کار لکھ دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق تبدیلی آتی رہے گی۔یہ اس وقت نتیجہ خیز ہو سکے گی جب ہم سماجی تبدیلی کا اہتما م کریں گے۔سماجی تبدیلی میں سماجی ادارے اہم کرادار ادا کرتے ہیں۔ ان اداروں میں کچھ قدیم ہیں اور کچھ جدید۔جیسے مسجد، عبادت گاہ، مدرسہ،چوپال وغیرہ قدیم روایتی ادارے ہیں۔میڈیاکو ہم جدید اداروں کی فہرست میں شامل کر سکتے ہیں۔اگر یہ ادارے بروئے کار آئیں تو ہمارا نظامِ اقدار مضبوط ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد ملک میں آنے والی سیاسی تبدیلیاں ہمیں زیادہ متاثر نہیں کریں گی۔ مغرب نے سب سے پہلے اپنے نظامِ اقدار کو مضبوط کیا۔ اس کے بعد اس کا عکس ریاستی اداروں میں دکھائی دیا۔ وہاں حکومتیں تبدیل ہو جا تی ہیں لیکن سماج اور ریاست میں کوئی ہیجان بر پا نہیں ہو تا۔ ہماری تاریخ یہ ہے کہ اس خطے میں کبھی کوئی بڑا مذہبی فساد برپا نہیں ہوا۔ہمیشہ بین المسالک اور بین المذاہب ہم آہنگی رہی ہے۔سندھ سے لے کر قبائلی علاقوں تک،مذہبی اقلیتوں نے کبھی خود کو غیر محفوظ نہیں سمجھا۔ آج اگر ہم اپنی ان اقدار کا احیا کر سکیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اس طرح کے سماجی مسائل پر قابو نہ پا سکیں۔اس کے لئے ضروری ہے کہ اصلاحی کوششوں کا ہدف ریاست کے ساتھ ساتھ سماج کو بنا یا جائے۔


[email protected]

یہ تحریر 60مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP