متفرقات

روشنی ٹوٹتے ہوئے تارے کی

راولپنڈی اس وقت خالی پڑا تھا۔ لیکن ابا کسی ایسے گھر میں رہنے پر تیار نہ تھے جس میں گھر چھوڑ کر چلے جانے والوں کا سامان بھرا ہوا ہو۔ اس لئے ہم لوگ کوئی چھ مہینے ایک ہوٹل میں رہے۔ ہوٹل میں بھی ہم واحد ہی مہمان تھے۔ فوجیوں سے مڈبھیڑ ہوتی اور میں رک کر زور شور سے انہیں سلیوٹ کرتی۔ جواب میں وہ بھی سلیوٹ کرتے۔ اس وقت میری خوشی کا عالم قابل دید ہوتا۔ اس سڑک سے گزرنے والا ہر فوجی میرا دوست تھا۔ مجھے دیکھتے ہی یا تو وہ مجھے سلیوٹ کرتے یا میں انہیں سلیوٹ کرتی۔ یہ اپنی فوج سے میرا پہلا پیار تھا اور چار پانچ سال کی عمر کا پیار ہمیشہ کے لئے ہوتا ہے۔

زندگی کے راستوں میں اتنے موڑ آتے ہیں کہ انسان چکرا جاتا ہے‘ لیکن یہ راستہ تقدیر کا راستہ ہے‘ جہاں لوگ ملتے بھی ہیں بچھڑ بھی جاتے ہیں۔ نہ اس راستے کو بدلنا ہمارے اختیار میں ہے نہ کسی سے ملنا یا کسی سے جدا ہو جانا ہمارے بس میں ہے۔ یہ بالکل اسی طرح کا سفر ہے جیسے ہم کسی تیز رفتار ٹرین میں بیٹھے ہوں اور مناظر ہمارے سامنے سے گزر رہے ہوں۔ گزرنے والے منظر کی طرح ہماری آنکھوں میں قید رہ جاتے ہیں۔ ہم چاہیں بھی تو انہیں روک نہیں سکتے۔
ایسے ہی ایک راستے پر مجھے ایک ننھی سی بچی ملی تھی‘ چمکتے ہوئے چہرے والی‘ آنکھوں میں کوٹ کوٹ کر شوخیاں بھری ہوئی‘ لبوں پر مسکراہٹ‘ دل کو موہ لینے والی معصوم باتیں‘ بے چینی‘ بے قراری۔۔۔ جیسے اک لمحے میں وہ کئی جگہوں پر جانا چاہتی ہو۔ اس کا نام سعدیہ اکرم خان تھا۔ کرنل اکرم خان کی بیٹی ۔۔۔۔ اس نے فوج سے میرا رشتہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جوڑ دیا۔
پتہ نہیں کونسا جذبہ ہوتا ہے جو ہر بچے کو فوجیوں سے متاثر کرتا ہے۔ چاہے وہ لڑکی ہو یا لڑکا‘ فوج کی کشش دونوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ میرے والد کا تعلق بھی فوج سے تھا گو کہ وہ سویلین سائیڈ پر تھے۔ تقسیم ہند کے بعد چونکہ انہوں نے پاکستان کو او پی ٹی کیا تھا‘ اسی لئے ہم لوگ پنڈی آ گئے۔ راولپنڈی اس وقت خالی پڑا تھا۔ لیکن ابا کسی ایسے گھر میں رہنے پر تیار نہ تھے جس میں گھر چھوڑ کر چلے جانے والوں کا سامان بھرا ہوا ہو۔ اس لئے ہم لوگ کوئی چھ مہینے ایک ہوٹل میں رہے۔ ہوٹل میں بھی ہم واحد ہی مہمان تھے۔ فوجیوں سے مڈبھیڑ ہوتی اور میں رک کر زور شور سے انہیں سلیوٹ کرتی۔ جواب میں وہ بھی سلیوٹ کرتے۔ اس وقت میری خوشی کا عالم قابل دید ہوتا۔ اس سڑک سے گزرنے والا ہر فوجی میرا دوست تھا۔ مجھے دیکھتے ہی یا تو وہ مجھے سلیوٹ کرتے یا میں انہیں سلیوٹ کرتی۔ یہ اپنی فوج سے میرا پہلا پیار تھا اور چار پانچ سال کی عمر کا پیار ہمیشہ کے لئے ہوتا ہے۔
بڑی ہو گئی تو دور ہوتی گئی۔ تعلیم‘ پھر ڈرامے لکھنے شروع کئے جو پسند کئے جانے لگے۔ غالباً ان کی شہرت فوج تک پہنچ گئی۔ تبھی تو ایک دن پی ایم اے کاکول سے دعوت نامہ آیا کہ مجھے پاسنگ آؤٹ پریڈ دیکھنے کے لئے بلایا گیا ہے۔ شاید ہی کوئی اس خوشی کا اندازہ کر سکتا ہے جو اس وقت مجھے ہوئی۔ اپنی دوست عاتکہ بشیر کے ساتھ راولپنڈی گئی۔ بریگیڈیر احسان صدیقی صاحب ہمارے میزبان تھے۔ ہمیں پنڈی کلب میں ٹھہرایا گیا ( جو اَب نہیں رہا) پتہ چلا کہ اس کلب میں کرنل محمد خان بھی ٹھہرے ہوئے ہیں جن کی تحریروں کی میں دلدادہ تھی۔ میں نے صدیقی صاحب کو شاید یہ بات بتا دی تھی۔ شام کو کرنل محمد خان مجھ سے ملنے میرے کمرے میں آئے۔ ان سے ملنے کا بھلا میں کیسے تصور کر سکتی تھی۔ وہ بہت دیر تک بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ ایک بات کا مجھے شک ہے بلکہ یقین ہے کہ وہ یہ سمجھ کر آئے ہوں گے کہ کوئی بردبار سی خاتون ہوں گی‘ جو ادبی قسم کی باتیں کرتی ہو گی۔ افسوس ان دنوں ہم دوسری قسم کے انسان تھے۔ جس طرح یونیورسٹی سے نکل کے شوخ و چنچل لڑکیاں خود کو سمجھتی ہیں‘ کہ وہ ساتویں آسمان کو چھو سکتی ہیں‘ بادلوں کے پار جا سکتی ہیں‘دامن میں ستاروں کو سمیٹ سکتی ہیں‘ اب ایسی لڑکی سے انہوں نے کس طرح ایک گھنٹے باتیں کی ہوں گی‘ مجھے قطعی معلوم نہیں۔ بعد میں پھر وہ ملے ہی نہیں۔ کاش ایک بار مل جاتے تو پوچھ لیتی اور معذرت بھی کر لیتی۔
صدیقی صاحب نے ہمیں صبح پانچ بجے جگا دیا اور آرڈر تھا کہ چھ بجے یہاں سے ایبٹ آباد کی طرف روانہ ہو جائیں گے۔ اُٹھے‘ تیار ہوئے اور روانہ ہو گئے۔ ناشتے وغیرہ کا کہیں کوئی ذکر نہیں تھا۔ ہم حیران ہوئے مگر فوجی حدود میں تھے اس لئے صبر کرنے میں ہی اپنی عافیت جانی۔ نومبر کا مہینہ تھا۔ سخت سردی تھی اور چائے کے بغیر ہماری جسمانی کیفیت وہی ہوتی ہے جو بغیر پیٹرول کے گاڑی کی ہوتی ہے۔ بہرحال ایبٹ آباد پہنچنے پر ہماری گاڑی فرنٹیئر کور کی بلڈنگ کے سامنے رکی۔ ہم سب اترے‘ وہاں کور کمانڈر بمعہ اپنی فیملی کے ملنے آئے۔ خوب تصویریں بنائی گئیں۔ اس دوران صدیقی صاحب بار بار گھڑی دیکھ رہے تھے۔ ہم نے اخلاقاً اس لئے نہیں دیکھی کہ کہیں ان کو شبہ نہ ہو جائے کہ ہم ناشتے کے بارے میں سوچ رہے ہیں‘ لیکن اس وقت ایک میس ویٹر اندر آیا اور اس نے ناشتے کا اعلان کیا۔ میرا تو دل اچھل کر باہر نکل جاتا‘ اگر میں مضبوطی سے اسے پکڑ نہ لیتی۔ اس دن کا ناشتہ ہمیشہ یاد رہے گا۔ ناشتہ کر کے ہم کاکول کے ٹریننگ ایریا میں آگئے۔ میں وہ مناظر کبھی نہیں بھول سکتی۔ موسم کی خوبصورتی‘ ماحول کی خوبصورتی‘ نظم و ضبط کا وہ عالم کہ لگتا تھا جیسے درختوں کے پتے بھی تھم سے گئے ہیں۔ ہوا کی رفتار فوجی کمانڈ کے مطابق ہو گئی تھی۔ فوجی پریڈ شروع ہوئی‘ نوجوانوں کے دمکتے ہوئے چہرے‘ خوبصورت وردیاں اور قدموں کی یکسانیت جیسے سب اک ڈور میں بندھے ہوں۔ (کاش ہماری قوم بھی اسی طرح ایک ڈور میں بندھ سکتی) یقین کریں اس دوران میں سانس لینا تک بھول چکی تھی۔ خاص کر جب وہ سفید گھوڑا ہلکے قدموں سے چلتا ہوا درمیان میں آیا اور رک گیا تو شاید سب ہی نے سانس روک لی ہو گی۔ گھوڑے مجھے بچپن سے پسند تھے۔ لیکن اس روز تو عشق ہی ہو گیا اس سفید گھوڑے سے مگر اس ظالم نے مڑ کر بھی نہ دیکھا ہماری طرف۔ افسوس مگر غالباً عشق واقعی اندھا ہی ہوتا ہے۔ کیا کر سکتے تھے‘ مجبوری تھی۔
وقت گزر رہا تھا۔ میں ٹی وی ڈرامے لکھ رہی تھی۔ کچھ شہرت بھی مل رہی تھی۔ اس بار پی ایم اے کاکول کے کمانڈنٹ راحت لطیف صاحب کی طرف سے دعوت نامہ ملاکہ آپ جو کچھ لکھ رہی ہیں ساری قوم اس سے بہت متاثر ہو رہی ہے کیوں نہ آپ افواج پاکستان کے لئے بھی اپنے مخصوص انداز میں کچھ لکھیں۔ ہم شکر گزار ہوں گے۔ آپ آیئے ‘ یہاں ٹھہر کر یہاں کا ماحول دیکھئے۔ نوجوان جو ٹریننگ حاصل کر رہے ہیں‘ ان سے ملئے‘ ان کا جذبہ دیکھئے‘ ہمت و جرأت کے واقعات آپ کو سنائیں جائیں گے‘ دکھائے جائیں گے‘ ان سے آپ کو انسپائیریشن ملے گی۔
ہمیں تو جیسے جنت کا ٹکٹ مل گیا۔ ہم نے فوراً اپنی سہیلیوں عاتکہ بشیر ‘ ثریا رؤف اور فرزانہ کو راضی کیا۔ فی الفور جواب دیا کہ ہم آ رہے ہیں۔ ٹکٹ آ گئے اور ہم کاکول پہنچ گئے۔ جب ہماری گاڑی کاکول کی خوبصورت سڑک پر کمانڈنٹ آفس کی طرف جا رہی تھی تو دونوں طرف سے آتے جاتے نوجوان سلیوٹ کر رہے تھے۔ سلیوٹ وہ ان افسران کو کر رہے ہوں گے جو ہمیں لینے آئے تھے۔ لیکن ہم اس طرح سلیوٹ لے رہے تھے جیسے ہمیں ہی سلیوٹ کیا جا رہا ہے۔ اور کسی کو اندازہ بھی نہیں ہو گا کہ یہ سلیوٹ ہمارے لئے تمغہ امتیاز سے بھی بڑھ کر تھا۔ بچپن یاد آ رہا تھا اور ایک مصرع بھی 
’’اے جذبہ دل گر تو چاہے ہر چیز مقابل آ جائے‘‘
کمانڈنٹ صاحب نے بے حد خلوص سے ملاقات بھی کی۔ مدعا بھی بیان کیا اور ہمیں اپنے کچھ افسران کے ساتھ آس پاس کا سارا علاقہ بھی دکھایا۔ زندگی میں پہلی اور آخری بار خیال آیا کہ اگر مرد ہوتی تو ضرور فوج میں ہوتی۔ پھر سوچا کہ پوچھنا تو چاہئے کہ کیا خواتین بھی فوج میں آ سکتی ہیں مگر یہ سوال اس لئے نہیں کیا کہ تاریخ پڑھی ہوئی تھی اور معلوم تھا کہ فوجوں کے ساتھ کچھ خواتین بھی میدان جنگ تک جاتی تھیں۔ ہم نے سختی سے منہ بند کر لیا۔
ہمارے ٹھہرنے کا بندوبست کاکول اکیڈمی سے ملحق پی ٹی سکول اور ماؤنٹین وار فیئر کے تربیتی مرکز کے گیسٹ ہاؤس میں ہوا۔ کیا خوبصورت جگہ تھی‘ دور دور تک سبزہ زار‘ درمیان میں گیسٹ ہاؤس دوسری طرف میس اور دفاتر۔ سب سے پہلے ہماری ملاقات کرنل اکرم سے ہوئی جو وہاں کے کمانڈنٹ تھے اور جن کے آفس کو دیکھ کر یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ کسی فوجی دفتر میں بیٹھے ہیں۔ باہر لان میں پھول‘ برآمدے میں پھولوں کی باسکٹیں لٹک رہی تھی۔ فرش پر گملے رکھے تھے۔ ہر رنگ کا پھول تھا۔ اتنی خوبصورتی سے سجے ہوئے اور اتنی تعداد میں پھول ہم نے ذرا کم ہی دیکھے تھے۔ یقین آ گیا کہ ہماری فوج گولیاں ہی نہیں چلاتی‘ پھول بھی اُگاتی ہے اور جو لوگ پھولوں کی زبان جانتے ہیں وہ بارود کی زبان میں بہت کم بات کرتے ہیں۔ زندگی کی بات کرتے ہیں‘ موت کی بات مجبوراً کرتے ہیں کیونکہ فوج کا کام تو حفاظت کرنا ہے‘ خیال کرنا ہے‘ احساس اپنائیت اور امن کا پیغام دینا ہے‘ وہ جان بچاتی ہے‘ جان لینا نہیں چاہتی۔ یہ ساری بات مجھے اس وقت سمجھ میں آئی کہ جب میں کرنل اکرم کے آفس میں بیٹھی ہوئی ان کے خوبصورت آفس کو دیکھ رہی تھی اور جو خود انتہائی نرم لہجے میں گفتگو کر رہے تھے۔ رات کو انہوں نے اپنے گھر ہمارے لئے کھانا ارینج کیا تھا۔ تب ہماری ملاقات ان کی بہت ہی خوبصورت بیگم شہناز سے ہوئی جو بہت اچھی پینٹر بھی ہیں اور جن کی کچھ خوبصورت پینٹنگز وہاں کے میس میں لگی ہوئی تھیں۔ اس وقت ایک چار سالہ بچی ہنستی مسکرتی ہماری طرف آئی‘ ہم سب سے ہاتھ ملایا‘ اپنا نام سعدیہ بتایا‘ ہمارے نام پوچھے بغیر۔ شاید کوئی کوئی گھڑی ایسی بھی ہوتی ہے جب دو رُوحیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں اور ایک دوسرے کو پہچان لیتی ہیں۔ ایک عہدسا ہوتا ہے ہمیشہ کے لئے‘ مجھے یہ چمکتے ہوئے چہرے والی بچی جس کی آنکھوں سے شرارت ٹپک رہی تھی‘ بہت ہی پیاری لگی۔ برسوں کے فرق کے باوجود اس وقت اچانک جو پیار مجھے اس پر آیا وہ آج تک اسی طرح قائم ہے۔ کل اگر وہ کسی اور دنیا میں ملے گی تو مجھے یقین ہے کہ میں اسے پہچان لوں گی اور وہ بھی مجھے پہچان لے گی۔
اگلے دو دنوں میں کاکول اکیڈمی کا چپہ چپہ ہمیں دکھایا گیا۔ ساتھ میں کمنٹری بھی جاری تھی۔ ہم پوری کوشش کر رہے تھے کہ جو کچھ بتایا جا رہا ہے ہمیں سب یاد بھی رہے۔ ویسے تو ہماری یادداشت کچھ ایسی خاص نہیں ہے‘ مگر وہ ساری باتیں ہمیں اب تک یاد ہیں۔ ہاں البتہ جب لنچ کا وقت آیا تو ہم بہت زیادہ محتاط ہو گئے۔ کیونکہ کرنل اشفاق احمد کی کتاب جنٹلمین بسم اﷲ اور جنٹلمین الحمدﷲ پڑھ چکے تھے۔ اسی لئے ایک ایک لفظ پر عمل کیا اور بیٹھ کر سلیقے سے بے آواز کھانا کھایا اور شاید کمانڈنٹ صاحب کے ختم کرنے سے پہلے ہی ہم الحمدﷲ پڑھ چکے تھے۔ رزق دینے والا تو اﷲ ہے۔ اگر یہاں کچھ کمی رہ بھی گئی تو کہیں اور سے رزق مل جائے گا۔
دوسرے دن ہم سعدیہ اور شہناز سے ملنے گئے۔ کچھ خواتین ملنے آئی تھیں۔ ان سے ملاقات کی‘ پھر ان لوگوں نے ہمیں آس پاس کے سارے خوبصورت علاقے دکھائے۔ جب واپس آئے تو پتہ چلا کہ بہت دیر ہو چکی ہے۔ ڈانٹ ننھی سی جان سعدیہ کو پڑی‘ اب ظاہر ہے کرنل اکرم ہم کو تو نہیں ڈانٹ سکتے تھے۔ البتہ یہ بات سعدیہ کے ذریعے ہم تک پہنچا دی گئی کہ فوج میں وقت کی کتنی اہمیت ہوتی ہے۔ صبح شام ہم کلمہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ ڈسپلن بھی پڑھا کرتے تھے۔
کرنل اکرم سے تقریباً روز ہی ملاقات ہوتی تھی۔ فوجیوں کے بارے میں ہمارا تصور تھا کہ وہ چٹانوں کی طرح سخت ہوتے ہوں گے۔ لیکن ہمیں یہ یاد نہیں رہا تھا کہ کچھ چٹانوں سے چشمے بھی نکلتے ہیں‘ آس پاس پھول بھی کھلتے ہیں۔ فوجی دورہ تو ہم نے آٹھ دس دن میں مکمل کر لیا۔ کچھ لکھنے کا وعدہ بھی کیا تھا جو نامساعد حالات کی وجہ سے پورا نہ کر سکی اور آج تک شرمندہ ہوتی ہوں۔ لیکن اس وقت اس عمر میں میرا اکیڈمی میں دو تین ماہ رک کر پوری ٹریننگ کو اوبزرو کرنا‘ نوجوانوں سے اور ذمہ دار افسروں سے مل کر معلومات حاصل کرنا ذرا مشکل تھا لیکن شکر ہے کہ یہ کام بعد میں میرے دوست شعیب منصور نے نہایت حسن و خوبی سے ’’الفا ‘براوو‘ چارلی‘‘ لکھ کر پورا کر دیا۔
ہوا یہ کہ جب بھی ہمیں اپنی دوستوں کے ساتھ گھومنے جانا ہوتا تو ہم بریگیڈیئر (اب کرنل اکرم بریگیڈیئر ہو چکے تھے) کو فون کرتے کہ ہم سوات جا رہے ہیں‘ دو تین دن ایبٹ آباد ٹھہریں گے۔ ہمارے ٹھہرنے کا انتظام کروا دیجئے اور ہم ہمیشہ پی ٹی اور ماؤنٹین وار فیئر کے ریسٹ ہاؤس میں ٹھہرے۔ مگر پہلی بار ان کے گھر میں ہی ٹھہرے تھے۔ عاتکہ اور ثریا ساتھ تھیں۔ ہم جہاں جہاں گھر سے جاتے‘ سعدیہ ہمارے ساتھ ہوتی۔ اتنی پیار ی بچی کو دیکھ کر میرا بڑا دل چاہتا کہ اسے کسی سیریل میں لے لوں۔ لیکن بریگیڈیئر اکرم کا جواب مجھے معلوم تھا۔ پاکستانی فوج کے درمیان رہ کر اس نے تربیت حاصل کی تھی اور وہ ننھی سی بچی برق رفتاری کے ساتھ تمام علوم و فنون میں اعلیٰ کامیابیاں حاصل کر رہی تھی۔ خدا نے اسے بھرپور ذہنی اور جسمانی صلاحیتیں عطا کی تھیں۔ میں نے اس کی پریپ سے لے کر میٹرک تک کی رپورٹیں دیکھی ہیں‘ اس نے جیسے اپنے آپ سے عہد کیا ہوا تھا کہ وہ ہر مضمون میں اول آئے گی۔ کلاس چہارم میں تھی جب اس نے ایک نظم لکھی تھی۔
’’بلند و بالا پہاڑ
آسمان میں تیرے طیور
اونچے اونچے اشجار
زمین پر بسنے والی بارش کے موتی
بادلوں کا نظارہ
فرطِ مسرت سے مجھے لبریز کرتے ہیں
سبز گھاس سے ڈھکے ہوئے قطعات
کتنے حسین خواب ہیں‘‘
جب سعدیہ نے اپنی نظم شرماتے شرماتے مجھے سنائی تو مجھے ایسا لگا تھا کہ اگر میں لکھتی تو کچھ ایسا ہی لکھتی۔ بچپن میں پہاڑ‘ دریا‘ بارش‘ بادل‘ پھول‘ ہریالی ان سب سے مجھے بہت پیار تھا۔ شاید یہی اک پل بن گیا تھا ہم دونوں کے بیچ۔ مگر اس نے بہت چھوٹی عمر میں وہ کارنامے کر ڈالے جو میں کبھی نہ کر سکی۔ تصور بھی نہیں کر سکتی وہ سب کچھ کرنے کا جو وہ کر گئی۔ 
بریگیڈیئر اکرم وہ ہستی ہیں جنہوں نے 20سال تک ایک ہی جگہ رہ کر اپنی فوج اور ملک کا نام روشن کیا۔ پی ٹی سکول کو انہوں نے ماؤنٹین وار فیئر کا تربیتی مرکز بھی بنا لیا۔ اکرم صاحب کو پہاڑوں سے بے حد دلچسپی ہے۔ کوہ پیمائی سے عشق کی حد تک محبت تھی۔برف پوش ڈھلانوں پر پھلسنا ان کی زندگی کا معمول بن گیا۔ سعدیہ بھی ان کے ساتھ قدم قدم چلنے لگی۔ ان کی بڑی بچی بسمہ شرمیلی سی ہے او ر خوشبہ بھی بہت چھوٹی تھی۔ لیکن سعدیہ باپ پر گئی تھی۔ ماں کا آرٹسٹک سینس اور گھریلو خوبصورتی بھی اس کے حصے میں آئی تھی۔ لیکن باپ کی طرح نڈر‘ حوصلہ مند‘ پہاڑوں اور وادیوں کی بیٹی تھی۔ اکرم صاحب نے اسے بیٹوں کی طرح ہی پالا تھا۔ کوہ پیمائی‘ ہوابازی‘ کشتی رانی‘ گھڑسواری سکیٹنگ‘ آئس سکیٹنگ غرض دنیا کا ہر فن اس نے چھوٹی سی عمر سے سیکھ لیا تھا۔ خدا نے اسے بڑی خصوصیت سے بنایا تھا۔ بے حد ہمدرد‘ پیار کرنے والی‘ سب کا خیال رکھنا‘ مدد کرنا‘ بے لوث خدمت‘ انسان دوست تھی ۔ ماں باپ کی طرح ساحرانہ مقناطیست اس میں بھی کمال کی تھی۔ 
بریگیڈیئر صاحب کو جب بھی دیکھا‘ کسی نہ کسی کام میں مصروف اور کام بھی اتنا مشکل کہ ہمارا تصور بھی لڑکھڑا جائے۔ کوہ پیمائی کے لئے باہر سے جو ٹیمیں K-2 فتح کرنے آتی تھیں‘ وہ بریگیڈیئر اکرم کی نگرانی میں ہوتیں۔ ہمیں انہوں نے کوہ پیمائی کی بہت سی فلمیں دکھائیں۔ لوگوں کوطوفانوں میں پھنستے دکھایا۔ زندگی گنواتے دکھایا۔ یا پھر طوفانوں پر فتح حاصل کرتے دکھایا۔ یہ فلمیں دکھاتے وقت اکرم صاحب کے چہرے پر بڑی چمک ہوتی تھی جو ہمیشہ ہمارے فوجیوں کے چہروں پر جیت کے وقت ہوتی ہے۔ 
گرم ہوا سے اڑنے والے غباروں کی وجہ سے انہیں دنیا بھر میں شہرت ملی۔ باہر سے جو لوگ ہمارے ملک میں اس مہم جوئی کے لئے آتے‘ اکرم صاحب کو ہی رابطہ افسر مقرر کیا جاتا تھا۔ 1981-82 میں اکرم صاحب غبارہ بازی کی تربیت کے لئے فرانس اور امریکہ گئے۔ پھر جب بھی جہاں بھی کسی ماہر فن کی ضرورت ہوتی‘ انہیں بلایا جاتا تھا۔
اس طرح اپنے ملک پر جب بھی کڑا وقت پڑا‘ اکرم صاحب خطروں کی پروا کئے بغیر وہاں فوری طور پر پہنچتے۔ 1985 کے موسم سرما میں مغربی ہمالہ میں واقع فولن گاؤں شدید برفانی طوفان کی زد میں آ کر ڈوب گیا تھا۔ آفت زدہ آبادی کی مدد کو پہنچنے والے کارواں کی قیادت اکرم صاحب ہی کر رہے تھے۔ اس طرح جولائی 1987 میں چار نوجوان کوہ پیما گیشربروم چوٹی کو سر کرنے کے لئے جب 22500 فٹ کی بلندی تک پہنچے تو طوفان کی لپیٹ میں آ گئے۔ وہ عارضی کیمپ میں رک گئے۔ ایک ساتھی بیمار پڑ گیا اندازہ لگایا گیا کہ اگر اسے فوری طور پر نیچے نہیں لے جایا گیا تو وہ زندہ نہیں بچے گا۔ موسم بدستور خراب تھا۔ ایسی حالت میں ان لوگوں کی تلاش اور بازیافت کا فریضہ اکرم صاحب کے سپرد ہوا‘ انتہائی مشکل اور پرخطر معاملہ تھا۔ مگر اﷲ کی مدد سے وہ کامیاب رہے۔ کوہ پیمائی کے دلدادہ کچھ صاحب عزم لوگوں نے ایڈوانچرفاؤنڈیشن کے نام سے ایک تنظیم قائم کی اکرم صاحب اس کے صدر بنائے گئے۔ 2005 میں جب آزادکشمیر اور صوبہ خیبر پختونخوا کے ملحقہ علاقوں میں خوفناک زلزلے کی تباہ کاری ہوئی تو بریگیڈیئر اکرم آگے آگے تھے۔ دو سال تک ریلیف کے کاموں میں ہر جگہ رہے۔ امداد وہاں تک پہنچاتے جہاں دوسرے لوگ نہیں پہنچ پاتے۔
لاہور میں اٹلی کے اعزازی کونسل جنرل نے انہی اپنے نمائندہ مقرر کیا۔اٹالئین موبائل چلڈرن ہاسپٹل 2005 میں پاکستان پہنچنے کے 72 گھنٹے کے اندر زلزلہ زدہ علاقوں میں کام کرنے لگا۔ انہیں خدمات کے اعتراف میں بریگیڈیئر اکرم خان کو جمہوریہ اٹلی نے 2009 میں نائیٹ لارڈ کے خطاب سے نوازا جو بہت بڑا اعزاز ہے۔ شاید ایسے ہی بہت سے اعزاز ہماری سعدیہ بھی لیتی‘ اگر اسے کہیں اور جانے کی جلدی نہ ہوتی۔
نہ جانے کیوں آج اتنے برسوں بعد یہ سب لکھنے کو دل چاہا‘ پہلے بھی لکھنا چاہا تھا مگر قلم رک رک جاتا تھا۔ بھلا اس بچی کی کہانی کس طرح‘ کس دل سے لکھوں اور ختم کیسے کروں‘ یہی سوچ کر رک جاتی تھی لیکن آج مجھے اس کا حق ادا کرنا ہے۔ اسی پیار کا حق جو ایک ننھی بچی اپنے بڑوں کو دیتی ہے۔ سعدیہ میں عجب سا سحر تھا۔ میں شکر کرتی ہوں کہ میری سعدیہ سے ملاقات ہو گئی‘ ہوتی رہی‘ حالانکہ میں نے اس کے لئے کچھ نہیں کیا۔ آج سوچ رہی ہوں تو شدید دکھ ہو رہا ہے کہ اس پیار کے عوض میں نے اسے اپنی کوئی نشانی تو دی ہوتی۔ یا پھر اس کی کوئی چیز اس سے لے لی ہوتی‘ جو آج بھی میرے پاس ہوتی۔ اب تو چند تصویروں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ بچپن میں سعدیہ بہت بولتی تھی۔ ہم میس میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ سعدیہ ہم سے ملنے آئی ہوئی تھی۔ اس وقت بیٹ مین نے اطلاع دی کہ لنچ آپ کے کمرے میں لگایا جائے یا برآمدے میں۔(موسم بہت خوبصورت تھا) ہم نے یونہی پوچھ لیا کہ لنچ میں کیا ہے آج۔ اس نے فخریہ بتایا کہ آج بھنڈی بنی ہے۔ بھنڈی ؟ میں دم بخود رہ گئی۔ اتنے خوبصورت موسم میں بھنڈی۔ میں نے اس سے التجا کی کہ سنو میں بھنڈی بالکل نہیں کھاتی۔ تم مجھے ایک آملیٹ بنا دینا۔ وہ سر ہلاتا ہوا چلا گیا۔
شام کو اکرم صاحب کے گھر سے شہناز نے بات کی کہ آپ لوگ رات کا کھانا ہمارے ساتھ کھائیے گا۔ ہم خوش ہو گئے۔
رات کھانے پر کئی طرح کی چیزیں تھیں۔ میں نے ویسے ہی کہا کہ شہناز آپ نے بہت تکلف کر لیا۔ شہناز ہنسنے لگیں۔ آپ تو ویسے بھی بھوکی ہوں گی۔ بھنڈی آپ کب کھاتی ہیں۔ مجھے پسینہ آ گیا۔ سعدیہ کی طرف دیکھا تو وہ سر جھکائے شرارت سے ہنس رہی تھی۔ سب مسکرا رہے تھے صرف میرے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ سعدیہ بڑی ہوئی تو کم گو ہو گئی۔ یا پھر اس کے سامنے اتنے سارے مقاصد تھے کہ باتوں یا شرارتوں کے لئے وقت نہیں تھا۔ دس سال کی عمر سے اس نے ایڈونچر فاؤنڈیشن پاکستان کی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ 1987 میں انٹرنیشنل ینگ گروپ پاکستان کے کلچر کو سمجھنے اور یہاں کی سوشل اکٹوویٹیز میں حصہ لینے آیا تو سعدیہ اس میں بھی شریک ہوئی حالانکہ عمر کے حساب سے وہ بہت چھوٹی تھی۔ مگر اعزازی طور پر شریک رہی۔ اس پروگرام کے پیٹرن ان شیف انگلستان کے پرنس فلپ تھے۔ اس پروگرام کے تحت ان نوجوانوں نے ہمارے ملک کے شمالی حصوں کو دیکھا بھی اور وہاں کام بھی کیا۔ اسی گروپ نے دوردراز علاقوں کے لئے ایک ڈسپنسری بنوائی اور علاقوں کو ملانے کے لئے ایک سڑک بھی بنوائی۔
سعدیہ ان ساری سرگرمیوں میں جوش و خروش سے حصہ لیتی رہی۔ اس زمانے میں اسے سکائینگ کا شوق ہوا۔ اکرم صاحب نے اس کی ہمت افزائی کی۔ پہلے اس نے نلتر ایئر فورس سکائینگ سکول سے ٹریننگ لی۔ بعد میں وہ ناروے اور آسٹریا اسی میں مہارت حاصل کرنے گئی۔ آسٹریا میں اس نے ایک مقابلے میں حصہ لیا اور دوسرے درجے کا انعام حاصل کیا۔ مجھے اس وقت اس پر بے حد فخر ہوا جس نے پاکستانی عورت کا سر اس طرح بلند کیا تھا۔ بعد میں 2002میں اسکیٹنگ فیڈریشن آف پاکستان کی جانب سے اسے چیمپئن شپ میں اول پوزیشن ملی۔
اس زمانے میں اسے شوق ہوا کہ واٹر سکیٹنگ بھی سیکھنی چاہئے۔ یہاں چونکہ کوئی ایسی سہولت نہیں تھی لیکن اکرم صاحب پی ٹی سکول کے نوجوانوں کے لئے خان پور جھیل پر یہ انتظام کر رہے تھے اور نوجوان وہاں سیکھ رہے تھے۔ سعدیہ فوراً وہاں جانے کو تیار ہو گئی اور جلد ہی اسے پاکستان کی پہلی خاتون ڈائریکٹر کا انعام ملا۔ اس پر اسے 1991میں سالانہ ٹیلنٹ ایوارڈ بھی دیا گیا۔
تعلیم کے میدان میں بھی اس نے کمال کی ترقی حاصل کی۔ جی آئی کے انسٹیٹیوٹ سے اس نے کمپیوٹر سسٹم انجینئرنگ کی بیچلر کی ڈگری لی۔ اس کے فوراً بعد سعدیہ نے یو این کے انفارمشن سینٹر میں آئی ٹی اسسٹنٹ کے طور پر جوائن کر لیا۔ یہاں پر رہ کر اسے مسٹر کوفی عنان اور مسٹر ابراہیمی سے ملاقات کا موقع ملا۔ساتھ ہی اس نے نیسٹ سے ایم بی اے کرنے کا ارادہ کیا۔ اسے پتہ چلا کہ وہاں شام کی کلاسز ہو رہی ہیں۔ اس نے فوراً داخلہ لے لیا اور 2002میں وہ شاندار طور پر کامیاب ہوئی اور ٹاپ کیا۔
سعدیہ بڑی ہو گئی۔ لیکن مجھ سے اس طرح ملتی جیسے بچپن میں ملتی تھی۔ میرے ڈراموں سے اسے دلچسپی تھی۔ ان کے بارے میں سوالات کرتی۔ خود میرے بارے میں ڈھیر سارے سوال کرتی۔ میں نہیں کہہ سکتی آخر تم بڑی کب ہو گی؟ ارے اتنی بڑی تو ہو گئی ہوں۔ ہاں تم تو مجھ سے بھی بہت بڑی ہو گئی ہو۔ تم نے وہ کچھ کر لیا ہے جو میں کبھی نہیں کر سکتی تھی۔ کیونکہ ڈرپوک ہوں۔ اس بات پر بڑی ہنسی آئی۔

شاید کوئی کوئی گھڑی ایسی بھی ہوتی ہے جب دو رُوحیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں اور ایک دوسرے کو پہچان لیتی ہیں۔ ایک عہدسا ہوتا ہے ہمیشہ کے لئے‘ مجھے یہ چمکتے ہوئے چہرے والی بچی جس کی آنکھوں سے شرارت ٹپک رہی تھی‘ بہت ہی پیاری لگی۔ برسوں کے فرق کے باوجود اس وقت اچانک جو پیار مجھے اس پر آیا وہ آج تک اسی طرح قائم ہے۔ کل اگر وہ کسی اور دنیا میں ملے گی تو مجھے یقین ہے کہ میں اسے پہچان لوں گی اور وہ بھی مجھے پہچان لے گی۔


ہم لوگ ایک سیریل کی شوٹنگ کرنے سوات گئے تھے۔ جاتے وقت سعدیہ سے ملے تو میرا بڑا جی چاہا کہ اسے ساتھ لے چلوں ۔ یہ ہمیں سوات کا چپہ چپہ دکھا دے گی مگر اکرم صاحب سے اجازت لینے کی ہمت نہیں پڑی۔ پھر ان دنوں وہ اپنی پڑھائی میں بھی بہت مصروف تھی۔ واپس اسلام آباد آئے تو اکرم صاحب نے ہی ریسٹ ہاؤس کا انتظام کیا تھا جہاں ہم سب ٹھہرے۔ ابھی سب چین سے بیٹھے بھی نہیں تھے کہ ایک گاڑی آکر رکی۔ سعدیہ اتری اور نوکر نے کئی دیگچیاں پلیٹیں وغیرہ اتار کر ڈائننگ روم میں کھانا لگا دیا۔ ہم نے سعدیہ سے کہا کہ تم نے اتنی محنت کیوں کی۔ کھانا تو یہاں مل ہی جاتا۔ اس نے ہنس کر کہا میرا جی چاہا تھا۔ آپ ہمارے شہر میں آئیں او رکھانا بھی نہ کھلاؤں۔
اس دن کے بعد میں تم سے کبھی نہیں مل سکی۔ میں بھی مصروف رہی تم بھی بہت مصروف تھیں۔ گاہے بگاہے تمہاری خبریں ملتی رہتی تھیں۔ تمہارے ہر کارنامے پر مجھے بے انتہا خوشی ہوتی۔ کئی بار میں نے اس سے کہا سعدیہ میں ایک بار تم کو اپنے کسی ڈرامے میں ضرور لوں گی۔ وہ ہنس کر چپ ہو جاتی۔ جس لڑکی نے کائنات کو فتح کر لیا ہو‘ ہوا‘ پانی ‘ خشکی‘ ہر جگہ اس کے نقش قدم ہوں۔ ڈرامہ اس کے لئے کیا چیز تھا۔ لیکن میری خاطر اس نے کبھی انکار نہیں کیا۔ شاید وہ مجھے ہرٹ نہیں کرنا چاہتی تھی۔ لیکن پھر کیا ہوا؟ ہرٹ تو ہوئی ناں میں۔تم اچانک ہی بغیر مجھے بتائے‘ بغیر مجھ سے ملے چلی گئیں۔ 13اپریل 2002کو کسی فوجی افسر نے مجھے فون کیا۔ میں پہچان نہیں سکی۔ شاید انہوں نے نام بھی نہیں بتایا تھا۔ صرف اتنا بتایا کہ بریگیڈیئر اکرم خان کی بیٹی سعدیہ خان کا‘ کار ایکسیڈنٹ ہوا ہے اور وہ دنیا چھوڑ کر چلی گئی ہیں۔ مجھے یقین نہیں آیا۔ میں نے فون رکھ دیا۔ کسی اور افسر نے دوبارہ فون کر کے مجھے یہی اطلاع دی۔ جس بچی سے آپ 20سال تک پیار کرتی رہی ہوں اس کے بارے میں یہ جملہ سننا آسان نہیں ہے‘ بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ ایک دو دن بعد جب میں نے تصدیق کر لی‘ تب اکرم صاحب کو فون کیا‘ بڑی ہمت کی تھی میں نے۔ ان سے کیا کہا یہ تو مجھے یاد نہیں لیکن انہوں نے بڑے صبر سے‘ بڑے ٹھہراؤ سے‘ مجھے پورے حادثے کی تفصیل بتائی۔ میرے آنسو بہہ رہے تھے۔ مگر ان کی آواز میں لرزش نہیں تھی۔ اس روز میں سوچتی رہی کہ ہمارے پاکستانی فوجی اتنے مضبوط‘ اتنے فولادی کیسے بن جاتے ہیں۔ بہت بعد میں جب میں ان کے گھر اسلام آباد گئی تو شہناز جو کسی سے نہیں مل رہی تھیں‘ اپنے کمرے سے نکل کر مجھ سے ملنے آئیں۔ ان سے بھی میں سعدیہ کی بات نہیں کر سکی۔ کیسے کرتی۔ اس ماں کو کیسے تسلی دیتی جس کی بیٹی پورے چاند کی طرح روشن تھی اور جسے اچانک گہن لگ گیا۔ اکرم صاحب نے مجھے اپنے ایک دوست کے بارے میں بتایا جن کا بڑا سا باغ تھا۔ سعدیہ اپنے جانے سے دو دن پہلے اکرم صاحب کے ساتھ ان کے گھر گئی تھی۔ پھولوں سے اسے اپنی امی اور ابو کی طرح ویسے بھی بہت لگاؤ تھا۔ باغ کو دیکھنے باہر نکل گئی۔ بہار کے دن تھے‘ سیبوں کے درخت شگوفوں سے بھرے ہوئے تھے۔ ایک درخت پھولوں کے بوجھ سے جھکا جا رہا تھا۔ سعدیہ اس کے پاس گئی۔ اس کی ایک شاخ اٹھا کر خوشبو سونگھتی رہی۔ پھولوں کو چھوتی رہی۔ اس دن وہ بہت خوش تھی۔ بعد میں ان صاحب نے بتایا کہ کتنی حیرت انگیر بات ہے کہ جب سعدیہ اچانک چلی گئی اس کے اگلے دن اس درخت کے سارے شگوفے جھڑ گئے۔ وہ شاخ سوکھ گئی جسے سعدیہ نے بڑے پیار سے اپنے ہاتھوں اور گالوں سے لگایا تھا۔ پھر اس درخت پر کبھی نہ کوئی پھول لگا نہ کوئی پھل آیا۔ شاید درخت بھی انسانوں کی طرح غم کو برداشت نہیں کر پاتے۔ کوئی پیار کرنے والا چلاجائے تو مرجھا جاتے ہیں۔
لیکن سعدیہ اتنا مجھے یقین ہے کہ تم جہاں گئی ہو‘ وہاں باغوں کے سارے شگوفے تمہاری ہنسی کی طرح کھلے ہوئے ہوں گے۔تم بہت خوبصورت تھیں۔ موت نے تمہارا کچھ نہیں بگاڑا ہو گا۔ تم ہمیشہ ہمیشہ ویسی ہی رہو گی جیسی تھیں۔ کیونکہ تم نے دونوں ہاتھوں سے وقت کو روک لیا ہے۔ بلکہ وقت خود تمہارے لئے رک گیا ہے۔ ہوا یہ کہ عمر بھر کے سارے کام تم نے 24سال میں مکمل کر لئے۔ دھیرے دھیرے کریں تو ایک عمر لگتی مگر اب کچھ بچا نہیں تھا۔ اس لئے اﷲ نے تمہیں بڑے پیار سے اپنے پاس بلا لیا کیونکہ تم تو بنانے والا شاہکار تھیں۔۔۔ ہو۔۔۔ رہو گی۔۔۔ ہمیشہ 
خداحافظ سعدیہ

 

ہوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر تُو

کہاں گیا ہے مرے شہر کے مسافر تُو

مری مثال کہ اِک نخلِ خشک صحرا ہوں

ترا خیال کہ شاخِ چمن کا طائر تُو

میں جانتا ہوں کہ دنیا تجھے بدل دے گی

میں مانتا ہوں کہ ایسا نہیں بظاہر تُو

ہنسی خوشی سے بچھڑ جا اگر بچھڑنا ہے

یہ ہر مقام پہ کیا سوچتا ہے آخر تُو

فضا اُداس ہے رُت مضمحل ہے میں چُپ ہوں

جو ہو سکے تو چلا آ کسی کی خاطر تُو

فرازؔ تُو نے اُسے مشکلوں میں ڈال دیا

زمانہ صاحبِ زر اور صرف شاعر تُو

احمدفراز


ہم فوجی پاکستان کے ہیں

ہم حاضر ہیں ہم حاضر ہیں
اے ارضِ وطن ہم حاضر ہیں
آواز تو دے آواز تو دے
قربان ہے تجھ پر تن من دھن
جو عزت بیچ کے ملتی ہے
اس راحت سے بیزار ہیں ہم
دشمن کو جا کر بتلا دو
مرنے کے لئے تیار ہیں ہم
ہم شوقِ شہادت دل میں لئے
اترے ہیں جنگ کے میداں میں
اب کشتی غرق نہیں ہو گی
ہم کود پڑے ہیں طوفاں میں
ہم کون ہیں‘ دنیا جانتی ہے
ہم باسی کس استھان کے ہیں
ہم آگ سے کھیلنا جانتے ہیں
ہم فوجی پاکستان کے ہیں
یونس پاکستانی


میرے فوجی جواں جرأتوں کے نشاں

میرے مولا کا پیارا سا انعام ہیں
یہ حمیت کے سورج کا پیغام ہیں
لوح روشن پہ لکھے ہوئے نام ہیں
حوصلہ مند ہیں اور وفا کام ہیں
ولولوں کی چٹاں
میرے فوجی جواں
بجلیوں کی تڑپ ان کی للکار میں
روشنی کا نشاں ہیں شبِ تار میں
ہے بلالی اذاں کے کردار میں
ان کا چرچا ہے اپنوں میں اغیار میں
ہر قدم کامراں
میرے فوجی جواں
شیر حیدر کے جب سر بکف آتے ہیں
دشمنوں کے کلیجے دہل جاتے ہیں
اہلِ ایمان باطل سے ٹکراتے ہیں
صف شکن ہیں زمانے کو اُلٹاتے ہیں
الاماں الاماں
میرے فوجی جواں

جز خدا کے کسی سے بھی ڈرتے نہیں
موت آئے تو مرکے بھی مرتے نہیں
جوش و جذبے کے دریا اترتے نہیں
یہ ڈبو دیں جنہیں وہ ابھرتے نہیں
فاتح کل جواں
میرے فوجی جواں
اپنی بہنوں کے سر پہ ردا یہ جواں
ساری ماؤں کے لب پہ دعا یہ جواں
اندھے رستوں پہ روشن دیا یہ جواں
عزم و ہمت کا اک قافلہ یہ جواں
روشنی کا جہاں
میرے فوجی جواں

کوثر ثمرین

یہ تحریر 125مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP