متفرقات

رمضان برائے طعام یا انعام

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اور اس کے ساتھ ہی اخبارات و رسائل اور ٹی وی پروگراموں میں کھانے پینے کی نت نئی ترکیبوں اور دیس دیس کے رنگا رنگ کھانوں کی تفصیلات کی بھرمار ہو گئی ہے۔ آپس کی گفتگو کا موضوع رمضان کی فضیلت‘ آداب‘ احکام اور حکمت کی بجائے افطاری میں کیا بنایا جائے؟ ہو کر رہ جاتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے رمضان عبادت اور مغفرت کا مہینہ نہیں بلکہ خاص کھانے پینے کا مہینہ ہے۔ نوبت بایں جا رسیدکہ بڑے بڑے ہوٹلوں میں افطاری ہی نہیں بلکہ سحری کی بھی پیشگی بکنگ کروائی جاتی ہے۔ افطار کے وقت دسترخوان ایک سرے سے دوسرے سرے تک لذیز کھانوں سے سجے ہوتے ہیں۔ سائرن کی آواز سنائی دیتے ہی لوگ ان پر ایسے ٹوٹ پڑتے ہیں جیسے کبھی کھانا میسر ہی نہیں۔ پیٹ میں اتنا کچھ ٹھونسنے کے بعد وہ اس قابل بھی نہیں رہتا کہ خشوع و خضوع سے نماز ادا کر سکے۔ اس کی بسیارخوری سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ روزے سے سارے دن کی بھوک کا بدلہ چکا رہا ہو۔ روزے کا مقصد خالی پیٹ رہنا اور خواہشِ نفس کو قابو میں رکھنا ہے تاکہ نفس میں تقویٰ پیدا ہو۔ روزے کی روح نفس کے ان میلانات کو کمزور کرنا ہے جو گناہوں کی طرف کھینچتے ہیں اور یہ کھانا کم کئے بغیر کمزور نہیں ہو سکتے۔ اگر رات کو اتنا ہی کھا لیا جتنا عام دنوں میں دوپہر اور رات کو کھانا تھا تو روزہ کا پورا فائدہ حاصل نہ ہو گا۔ بسیارخوری کئی معنوں میں مضر ہے سب سے پہلے تو یہ اﷲ کی نافرمانی ہے کیونکہ اﷲتعالیٰ فرماتا ہے۔

’’کھاؤ پیؤ اور حد سے تجاوز نہ کرو۔ اﷲ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (الاعراف آیت نمبر 31) پھر یہ نبی کی سنت کی بھی خلاف ورزی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا ہے کہ ’’ابن آدم کو چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں۔ سو اگر اسے ضرور ہی کھانا ہو تو پیٹ کاایک حصہ کھانے کے لئے اور دوسرا پینے کے لئے اور تیسرا سانس لینے کے لئے خالی رکھو۔‘‘ آپﷺ خود بہت سادگی سے روزہ افطار کرتے تھے۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ’’رسول اﷲﷺ نماز سے قبل رطبات (تازہ پکی ہوئی کھجور) سے روزہ افطار فرماتے اور اگر وہ میسر نہ ہوتیں تو ثمرات (سوکھی کھجور سے) افطار فرماتے اور اگر وہ بھی میسر نہ ہوتیں تو پانی کے گھونٹ سے۔‘‘ جب انسان کی سوچ کا محور ہی یہی ہو کہ سحری میں کھانا ہے اور افطار میں کیا بنانا ہے۔ تو پھر اس کے پاس اتنی فرصت نہیں ہوتی کہ اُن لوگوں کے بارے میں سوچ سکے جن کو ایک وقت کا کھانا بھی میسر نہیں۔

ایک بزرگ سے پوچھا گیا: روزہ کیوں فرض کیا گیا؟ انہوں نے کہا۔ ’’تاکہ غنی بھوک کا مزہ چکھے اور بھوکے کو بُھلا نہ دے۔‘‘صحابہ کرامؓ اس احساس سے سرشار تھے اور خود بھوکے رہ کر دوسروں کی مدد کرتے تھے۔ یہ حقیقت ہے کہ جو شخص نعمتوں میں پلا بڑھا ہو اور اس نے بھوک پیاس کی تلخی کو نہ چکھا ہو تو اسے کیا خبر کہ بھوکے پر کیا گزرتی ہے۔ روزے سے آدمی کو عملی تجربہ ہوتا ہے اسے دوسروں کی بھوک کا احساس ہوتا ہے اور اﷲ کی دی ہوئی نعمتوں کی قدر ہوتی ہے۔ ایک اور بڑا نقصان جو ہم ہنسی خوشی برداشت کر رہے ہیں وہ یہ کہ اﷲ کو کثرت سے یاد کرنے کی بجائے زیادہ سے زیادہ دنیا میں مگن ہو جاتے ہیں۔ گھر کی خواتین قسم قسم کے کھانوں کی تیاری میں اتنی مصروف اور محو ہوتی ہیں کہ تلاوت‘ ذکر اور دعا کے عظیم فوائد سے محروم ہو جاتی ہیں۔ دن کے اول و آخر میں وقت کا بڑا حصہ کھانے پینے کے معاملات کی نذر کر دیا جاتا ہے۔ جبکہ مردوں کا عصر اور مغرب کے درمیان کا قیمتی وقت گھر سے باہر خرید و فروخت میں صرف ہو جاتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’اپنے رب کا نام صبح و شام یاد کرو۔‘‘ (سورۃ الدھر‘ آیت نمبر:25) لیکن ہمیں اتنی فرصت ہی نہیں۔ افطار پارٹیاں ایک اور علت ہیں لوگ وقت لگا کر تیار ہوتے ہیں اور کسی جگہ جمع ہوتے ہیں۔ پھر ہنستی مذاق ٹھٹھے‘ غیبت‘ چغلی‘ منافقت اور لایعنی باتوں میں وہ قیمتی وقت ضائع ہو جاتا ہے جو دعا کی قبولیت کا ہوتا ہے اور ان بابرکت ساعتوں کو اﷲ کی خوشنودی حاصل کرنے کے بجائے دنیا کے لہو و لعب کی نذر کر دیا جاتا ہے۔ ’’بے شک انسان بڑے خسارے میں ہے۔‘‘ (سورۃ العصر) ان تمام گزارشات کا مطلب یہ نہیں کہ لوگ کھانے پینے کی چیزیں خریدنے اور سحری و افطاری کی تیاری سے بالکل ہی ہاتھ روک لیں۔ بس ذرا میانہ روی اختیار کریں اور سنت نبویﷺ کی پیروی کریں کیونکہ رمضان عبادت کا مہینہ ہے اور اس کا تقاضا ہے کہ مسلمان اپنے اعمال اور عبادات کا خصوصی اہتمام کرے اور اﷲ کے فضل و کرم اور بخشش سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہو۔

یہ تحریر 29مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP