قومی و بین الاقوامی ایشوز

را کے ’بہروپیئے‘ اور باخبر بلوچ

ڈاکٹر سنگھ ،ایک نام ہے یا ہیو لہ ہے یا پھر فرد مجہول جِس کا کوئی اَتا پتا نہیں مِلتا اُس کا داخلہ حکومت کینیڈا نے اپنے ملک میں بند کر کے اُس کے وجود کا ثبوت مہیا کرنے کی کو شش کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ شخص شمالی امریکہ اور یورپ کے مختلف ممالک میں گھو متا رہتا ہے۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اِس کے وا لدین کا اتا پتا بھی اِس کی اپنی ذات کی طرح مجہول ہے۔ اِس کے مرزبوم کے بارے میں کسی کو کوئی پتا تھا ہی نہیں اب اِس کے مُلک کے بارے میں بھی متضاد آراء ہیں۔ کوئی اِسے کینیڈین نیشنل بتاتا ہے تو کوئی امریکن، کوئی اِسے بر طانوی شہری بتاتا ہے تو کوئی انڈین۔ لیکن حتمی طور اِس کے بارے میں ابھی تک کوئی کچھ بھی نہیں بتا سکا۔

 

ہاں ایک بات کے بارے میں سب متفق ہیں کہ کینیڈا میں مقیم سکھ نوجوانوں کو بھارت کے خلاف انگیخت کرنے اور اُن کی ہمدردیاں حاصل کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا یہی وجہ ہے کہ جن بڑی بڑی سکھ تنظیموں میں داخل ہو کر اِس نے وہاں کے اندرونی حا لات کا جا ئزہ لیا، وہ تمام تنظیمیں کینیڈا میں غیر قا نونی قرار دے دی گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ کینیڈا میں مقیم اکثر سکھوں کا خیال ہے کہ ڈا کٹر سنگھ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ’’را‘‘ کے ساتھ کام کر تا ہے۔ اور بھارت کی اُن کاوشوں میں جن کے ذریعے بیرون ملک سکھ قوم کو سیاسی یا سماجی طور پر نقصان پہنچا ہے، اُن میں ڈاکٹر سنگھ کا ہا تھ ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ایئر انڈیا کے اُس طیارے کی فضا میں تباہی سے قبل ڈا کٹر سنگھ کو سٹیٹ بینک آف انڈیا نے دو ملین امریکی ڈالر ز بطور قرضہ روانہ کئے بعد میں بھارت نے اِس کیس میں سکھ تنظیم ببر خالصہ اور کشمیری مجاہدین کو ملوث کرنے کی کو شش کی تھی۔ بھارت کی رُسوائے زمانہ انٹیلی جنس تنظیم ’’را‘‘ کا بڑا مشہور طریقہ کار ہے کہ وہ ٹارگٹ تنظیموں کے متوازی تنظیمیں بنا تی ہے اور اِن تنظیموں کے ذریعے مجر مانہ کار روائیاں کرکے اپنی ٹار گٹ تنظیموں کی رسوائی اور بندش کے لئے دیگر ممالک کی ہمدردیاں بٹور کر اُن تنظیموں کے کام میں روڑے اٹکاتی ہے۔ کینیڈا اور شمالی امریکہ میں خالصتان افیئرز سنٹر نامی تنظیم بھی اِسی مقصد کے لئے بنائی گئی اور ڈا کٹر سنگھ اِس کے کر تا دھرتا ہیں۔

 

مو صوف کے ساتھ نہ تو میرا کو ئی ذاتی عناد ہے اور نہ ہی میری کو ئی پُرانی شناسائی ہے۔ چند دن قبل ’’ انڈین ڈیفنس ریویو ‘‘ نظروں سے گزرا۔ مو صوف نے بلو چستان میں جا ری جدو جہد کو ہائی جیک کر کے بھارت کے مفاد میں استعمال کرنے کے بارے میں خا مہ فر صائی فر مائی۔ مضمون کیا ہے یا وہ گو ئیوں اور خوش کن خواہشات کا پلندہ ہے چنا نچہ خواہش پیدا ہوئی کہ موصوف کا اتا پتا معلوم کیا جائے تو یہ معلومات انٹر نیٹ سے ملیں۔ کینیڈا کے سکھوں نے اِس کے بارے میں بڑی بڑی دلچسپ با تیں لکھی ہو ئی ہیں۔ بعد میں جب میں نے ’’انڈین ڈیفنس ریویو‘‘ کے پُرانے پر چے دیکھے جو انٹر نیٹ پر مو جود ہیں تو موصوف کی کا وشوں کا محور مر کز یا تو پا کستان کو یا پھر سکھوں کو پا یا، دو نوں ’’را‘‘ کے ہدف بھی ہیں، میں نے سو چا کہ قبل اِس کے محولہ با لا مضمون کا تجز یاتی مطالعہ کیا جائے، اِس کی ذاتِ شریف اور حدود اربعہ بھی نذر قارئین کیا جائے تا کہ نفس مضمون کے مطالعے کے دوران یہ احساس ذہن و دِل کو مطمئن کرتا رہے کہ ہم ہندوؤں کی مکاری کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ کِسی بلوچ دوست کی کدو کاش نہیں۔ ہاں تو میں ڈا کٹر سنگھ کی بات کر رہاتھا، پتا نہیں مو صوف ڈا کٹر ہیں یا وید یا پھر حکمت کا کو ئی کورس کر کے ڈا کٹر بن گئے۔ ویسے ڈا کٹر بننے کا خبط ہمارے ملک میں بھی کچھ کم نہیں ہے۔ اچھے بھلے لوگ بیٹھے بٹھائے ڈا کٹر بن جا تے ہیں۔ پھر ڈگری کی تو ثیق نہ ہو نے پر ڈاکٹری چھچھوندر کی طرح گلے میں پھنس کر رہ جا تی ہے۔ ڈا کٹر سنگھ کی ڈگری کے بارے میں بھی انٹر نیٹ پر سکھ برا دری کی طرف سے کا فی دلچسپ سوالات اُ ٹھائے گئے ہیں لیکن اچھے انٹیلی جنس آپریٹر کی طرح ڈا کٹر صاحب ہیں کہ چُپ کا روزہ رکھ کر اپنا کا م کئے جا رہے ہیں۔

 

عُرفی تو مہ اندیش زِغوغائے رقیباں

آوازِ سگاں کم نہ کُنَد رزقِ گدا را

اللہ تعالیٰ کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے میرے دوست کے سُسر مرحوم کو وہ ایک مکمل قبائلی بلوچ تھے بعض الفاظ کا تلفظ بہت ہی خوبصورت بلوچی انداز میں کیا کرتے تھے۔ مر حوم ڈا کٹر کا تلفظ ’’ہلاکدار‘‘ کیا کرتے تھے۔ میرے خیال میں موجودہ حالات میں یہ تلفظ کو ئی بُرا متبا دِل بھی نہیں ہے اور خاص طور پر ڈا کٹر سنگھ کی مو جو دگی میں۔ خیر یہ توتھے جُملہ ہائے معترضہ با بت جناب ڈا کٹر سنگھ صاحب علیہٖ مَا عَلَیہ۔ مو صوف کا محو لہ ما قبل مضمون جِس کا عنوان تھا۔

’’How to Make Proxy War Succeed in Balochistan ‘‘

 

جس کا مفہوم بنتا ہے کہ ’’ بلو چستان کی’’ حرب الدجاج‘‘ میں کیسے کا میابی حاصل کی جا ئے‘‘ چکرا گئے نہ آپ یہ’’ حر ب الدجاج‘‘ کیا ہو تا ہے۔ جناب یہ مرغوں کی لڑائی کو کہا

جا تا ہے۔ یہ اصطلاح میں نے ایجاد کی ہے۔ کیو نکہ ’’ پرا کسی وار‘‘ میں بھی تو دو قوتیں کِسی تیسرے ملک میں اپنے اپنے زیر اثر گروہوں کو لڑاتی ہیں تاکہ اُس ملک میں اپنے اپنے مفا دات کا تحفظ کیا جا سکے۔ سو چنا یہ ہے کہ بلوچستان میں وہ کون سے مُرغے ہیں جن کو یہ’’ را‘‘ کے ایجنٹ ڈا کٹر سنگھ لڑا نا چاہتے ہیں اور بھارت بہادر کے بلوچستان میں وہ کون سے مفا دات ہیں جن کے تحفظ کے لئے وہ اِن لڑنے والے مُرغوں کی سر پر ستی کر نا چاہتے ہیں۔ میرے خیال میں تو ڈاکٹر صاحب کافی سست اور کاہل ثابت ہو رہے ہیں اِن کی آقاءِ ولی نعمت ’’را‘‘ صا حبہ تو قندھار سے یہ کام بُہت پہلے ہی سر انجام دے رہی ہیں۔ کیا ڈاکٹر صا حب شاہ بے خبراں ہیں یا پھر اپنی آقاءِ ولی نعمت کے کرتوتوں پر پردہ ڈالنا چا ہتے ہیں۔ قندھار کے آئی جی کی سرپرستی میں اسلحہ اور گولہ بارود بلوچستان میں پہلے ہی بھجوا یا جا رہا ہے۔ کیا یہ سب کچھ چچا لا ل بجھکڑ کی شادی خانہ آبادی پر پُھلجھڑیاں چھوڑ نے کے لئے کیا جا رہا ہے۔ محترم ڈاکٹر صاحب آپ بلو چستان میں ’’ حرب الدجاج‘‘ تو پہلے چھیڑ چُکے ہیں۔ تمہیں اور تمہاری آقاءِ ولی نِعمت کا کیا جا رہا ہے، تباہی تو میرے گھر میں آرہی ہے، دلہنیں تو ہماری اُجڑ رہی ہیں، گھر تو ہمارے تباہ ہو رہے ہیں، جوان اور گھبرو بیٹوں کے لاشے تو ہمارے بوڑھے کندھے اُٹھارہے ہیں۔ ڈاکٹر بلکہ ہلاکدار صاحب آپ اپنا پاندان بڑھا لیجئے ہمیں آپ کی

محبت اور دوستی کی کو ئی ضرورت نہیں کیو نکہ۔

ہوئے تم دوست جس کے اُس کا دشمن آسماں کیوں ہو

سائنسدانوں نے ذرے کال دل چیرا اور ایٹمی توانائی حاصل کی۔ یہ تونائی تعمیروتخریب ہر دو مقاصد کے لئے استعمال ہو رہی ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر سنگھ کی دریافت موشگافی یا بال کی کھال اتارنا ہے۔ موصوف اپنی ویدک صلاحیتوں کو کام میں لاتے ہوئے سیاسی اور تذویراتی تجزیے کرتے رہتے ہیں اور ان کی پالنہار یا سرپرست ’’را‘‘ ان کی تجزیاتی رپورٹوں کو بھارت کے اندر اور باہر کے اخبارات اور جرائد میں شائع کراتی رہتی ہے۔ اس معاملے میں ’’ڈیفنس ریویو آف انڈیا‘‘ پیش پیش ہے۔ اس جریدے کے ایک شمارے میں ’’بلوچستان میں جاری جنگ متبادلہ کو کیسے کامیاب بنایا جائے‘‘ کے عنوان سے اس کاتب مجہول کا مضمون شائع ہوا ہے۔ اس نے ’’پراکسی وار‘‘ کا ترجمہ ’’جنگ متبادلہ‘‘ اس لئے کیا ہے کہ کشمیر میں جاری جدوجہد آزادی کو بھارت کشمیریوں کی اپنی جدوجہد ماننے کو تیار نہیں۔ وہ اسے پاکستان کی طرف سے دراندازی کہتا رہتا ہے اور اس کے بدلے میں ریاست کے سات لڑنے والے بلوچ علیحدگی پسندوں کی شورش کو مدد فراہم کر کے پاکستان سے بدلہ لینا اپنا حق اور بدلہ تصور کرتا ہے۔ جناب ڈاکٹرسنگھ اِس کوشش کو بار آور کرنے کے لئے کچھ تجاویز دیتے ہیں، جن کا لُبِ لُباب یہ ہے.

 

پاکستان نے بھارت کو اُس کی اندرونی شورشوں میں اُلجھا کر بھارتی معیشت کو کافی نقصان پہنچا یا ہے۔ بھارت کی جی ڈی پی میں حقیقی بڑھوتری چھ فیصد ہونی چاہئے تھی۔ لیکن ایسے نہیں ہو رہا ہے۔کیونکہ پاکستان کی طرف سے کی جانے والی تخریبی کاوشوں کی وجہ سے بھارت کی معیشت کو کافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ لہٰذا عام بھارتی کی رائے یہ ہے کہ پاکستان کو اِن منفی ہتھکنڈوں سے روکنے کے لئے یا تو پُراَمن ذرائع سے مجبور کِیا جائے یا پھر طاقت کا استعمال کر کے پاکستان کا ہمیشہ کے لئے تیاپانچہ کر دیا جائے۔حیران کُن بات یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب یا حکیمِ ہند صاحب اِس بات سے بے خبر لگتے ہیں کہ بھارت اور وہاں کی ہندو مہاسبائی قیادت قیام پاکستان سے لے کر آج تک ٹکڑے ٹکڑے کر کے پاکستان کو صفحہءِ ہستی سے نابود کرنے کی پالیسی پر ہی تو قائم اور دائم ہیں۔ حیدرآباد دکن، جونا گڑھ، کشمیر اور آخر میں پاکستان کے مشرقی بازو کو بالجبر توڑ کر بنگلہ دیش کی تشکیل وغیرہ کیا یہ پُرامن طریقہءِ واردات ہے؟ پاکستان کے حِصے کے فوجی اَثاثے دبا کر بھارت پاکستان کو خیرسگالی کے پیغامات ارسال کر رہا ہے۔ اپنے ہی ملک میں تخریبی کارروائیاں کروا کے اُنہیں پاکستان کے سر تھونپ دینا اور بیرونی ملک اور بین الاقوامی ذرائع نشرواشاعت میں اپنے اثرورسوخ کو استعمال کر کے پاکستان کو بدنام کر کے پُر امن بقائے باہمی کے کون سے اصول پر عمل کیا جا رہا ہے۔ افغانستان میں موجود کونسل خانوں کے ذریعے بلوچستان میں فرقہ وارانہ فسادات کروا کر کون سی پاکستان دوستی کا حق ادا کیا جا رہا ہے؟ میں حیران ہوں کہ ڈاکٹر صاحب پہلے کِسی ایسے احسان کا تذکرہ تو کرتے جو پاکستان کے ساتھ اِ ن کے ’’ان داتاؤں‘‘ نے کیا ہو۔ یہ کل کی ہی بات ہے کہ پاکستان نے بھارت کی طرف دوستی اور پُر امن بقائے باہمی کا ہاتھ بڑھایا، پھر دوستی بَس اور سمجھوتہ ایکسپریس چلنے لگی اور ایک دِن سمجھوتہ ایکسپریس کو آگ لگا کر بھارت کی سرکار اور اُس کی ایجنسیوں نے پاکستان دوستی کا حق ادا کر دیا۔ بھارت کی طرف سے سیکڑوں تخریب کاروں نے پاکستان کے چپے چپے میں کشت و خون کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ جن میں سے کچھ پکڑے جا چُکے ہیں اور اُنہوں نے کھلم کھلا اِس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ہمیں بھارت کی رسوائے زمانہ سرکاری ایجنسی ’’را‘‘نے اِس کام کے لئے معاوضہ دیا ہے سُر جیت سنگھ کی رہائی اور اُس کی بھارت جا کر ہرزہ سَرائی کو ہم ابھی نہیں بھول پائے۔ ڈاکٹر سنگھ صاحب! بنیے کا بیٹا کچھ دیکھ کر ہی گرتا ہے۔ تمہاری سرکار اور تمہارادِل ہم بلوچوں سے مُحبت نہیں بلکہ پاکستان دشمنی سے لبالب بھرا ہے۔ تم نے ہماری محبت میں نہیں بلکہ پاکستان کی دشمنی میں ہماری رگوں میں نفرت کا زہر بھرا ہے۔ تمہارے پستانوں سے ہماری محبت میں دودھ نہیں بہہ رہا بلکہ ہمارے سواحِل اور وسائل کو دیکھ کر تمھاری رالیں ٹپک رہی ہیں۔ پاکستان کی حکومت سے ہم بلوچ اپنی بات منوا بھی لیں گے یہ ہمارا وطن ہے اور توقع ہے کہ وہ ہماری مان بھی لیں گے لیکن اگر تمہارے ہمارے آنگن میں آن براجمان ہوئے تو تمہیں کون یہاں سے نکالے گا؟ ہمارے وسائل کو لوٹنے والے تمہارے دستِ ستمگر کو کون روکے گا؟ پچھلے ستر سال سے کشمیر کے مسلمان تمہاری چیرہ دستیوں سے نالاں تمہارے ساتھ برسرِپیکار ہیں۔ کیا اُنہیں اب تک کچھ مِلا ہے کہ تمہارے دوستی اور اِس زہریلی محبت سے ہمیں کچھ مِلے گا۔ نہیں ہرگز نہیں۔ بلوچ اتنے نادان نہیں۔ ہم اپنے مساءِل اور اُن کے حل اور طریقہءِ کار سے بخوبی آگاہ ہیں۔ آپ اپنی ہمدردی، محبتوں اور مشوروں کی پٹاری کے سانپوں کو اپنی پٹاری میں ہی رہنے دیں۔ اِس کا ڈھکنا بند ہی رکھیں تو بہتر ہے۔ کیونکہ تمہاری محبت میں زہر کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔

ہلاکت خیز ہے اُلفت میری ہر سانس خونی ہے

اِسی باعث یہ محفل دِل کی قبروں سے بھی سونی ہے

اُسے رنگیں زہریلی خوشی کے ہار دیتا ہوں

میں جِس سے پیار کرتا ہوں اُسی کو مار دیتا ہوں

’’را‘‘ کے ایجنٹ کی حکمت و دانائی سے میں بھی کچھ اس طرح متأثر ہوئی ہوں کہ جی چاہتا ہے کہ اُن کے چَرن چھولوں اور پھر اُن کی شاگردی اختیار کر لوں۔ محترم فرماتے ہیں چونکہ ’’بھارت کے آٹھ صد مضبوط و توانا اُمور خارجہ کے ماہرِ آفیسران ماسوائے نا کامی کے پا کستان کے معاملے میں کچھ بھی حاصل نہیں کر پائے۔ لہٰذا بھارت کی سفارت کاری کو کچھ کا میاب نہیں کہا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ حقیقی سفارت کاری دستی بموں اور گولیوں میں چھپی ہوتی ہے نہ کہ پھولوں اور پھلواریوں میں‘‘۔ مو صوف کے بقول’’دنیا خون، پسینے، سردی، گرمی اور آنسوؤں کو دیکھتی ہے جو سرحدوں کے آس پاس بہائے جاتے ہیں، نہ کہ پارلیمان کے ائرکنڈیشنڈ بنگلوں اور اُن میں ہو نے والی سرد و گرم بحث کی طرف توجہ دیتی ہے۔ لہٰذا اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں عام بھارتیوں کی طرح سوچنا ہو گا جس کی رو زانہ آمدنی دو ڈالر سے زیادہ نہیں ہے اور جِس کی خون پسینے کی کمائی اُس کا نہ توپیٹ بھر سکتی ہے اور نہ ہی سردی، گرمی سے پناہ مہیا کر سکتی ہے۔ اُن کا دُشمن وہ ہے جو بھارت کے وسائل کو آئے روز کی جنگوں،دہشت گردی کے واقعات اور قتل وغارت گری میں ملوث کر کے ضائع کرا دیتا ہے۔ پاکستان کے لئے یہ بہت آسان ہے کہ معاشی لحاظ سے اُبھرتے بھارت کے راستے میں کانٹے بو کر اُس کوکُھوٹاکرے۔ لیکن سو چنا یہ ہے کہ کیاپا کستان بھی یہ سب کچھ بر داشت کر سکتا ہے ؟ہر گز نہیں۔ ہمیں پاکستان میں یہی کچھ دو ہرا نا ہے اِس طرح کہ پاکستان اپنے گھٹنوں پر آن گرے اور اِس مقصد کے لئے بلوچستان کی سر زمین انتہائی موزوں ہے‘‘۔ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے لال بُجھکڑ تُو اور تیری ان داتا اپنا اُدھار ہمارے بلوچ بھائیوں کے خون، ہماری بلوچ بہنوں کے سُہاگ ہماری بلوچ ماؤں کی آس اور ہمارے بلوچ بزرگوں کی اُمیدوں کے قتل سے چُکانا چاہتے ہو۔ مانا کہ تم چانکیہ کے وارث ہو۔ تمہیں بھی ما ننا پڑے گا کہ یہ بلوچ قوم محمدِؐعربی کے احکام و فرامین کی وارث ہے۔ اور مو من کی فراست سے تمہیں ڈر نا ہو گا۔ تمہارا چانکیہ کہتا ہے کہ ہمسائے کے ہمسائے سے بنا کر رکھو اور ہمسائے کی زندگی اجیرن کئے رکھو، جب کہ محمدِؑ عربی کا فر مان ہے کہ تمام مسلمان جَسد واحد ہیں۔ ایک کو تکلیف پہنچے گی تو دو سر اتڑپ اُٹھے گا۔ کل کی بات ہے کہ ہمارے گھر میں آسمان سے مصیبت اُتری۔ یہ ہمارے اپنے ہی تھے جو میری مدد کو آئے۔ تمہارا تو کہیں دور دور بھی پتا نہیں چلا۔ ہم جانتے ہیں کہ تمہاری خونخوار نظریں ہمارے ساحل اور وسائل پر ہیں نہ کہ ہماری مُحبت میں تمہاری شر یانیں پھڑک رہی ہیں۔ تم میں ہمت ہے تو اپنا قرض پاکستان اور اہل پاکستان سے اُن کے سامنے آکر لو۔ ہماجانتے ہیں کہ یہ بزدلوں کی طرح پُشت سے اور چھپ چھپ کر وار کرنا بُنیؤں کی پُرانی فطرت ہے۔ تم اپنی فطرت نہیں بدل سکتے اور ہم اپنی خُو نہیں چُھوڑ سکتے۔ہم بلوچ اب تمہاری چال کو سمجھ گئے ہیں۔ مزید تمہاری باتوں میں آنے والے نہیں ہیں۔ بڑھالو پاندان اپنا ایسی محبت سے ہم باز آئے


[email protected]

یہ تحریر 43مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP