ہمارے غازی وشہداء

راہِ حق کے مسافر

لانس نائیک زاہد شہید کے حوالے سے زحید اصغر کی تحریر

لانس نائیک زاہد اس پاک سرزمین کو روشن کرنے والے چراغوں سے ایک ایسا چراغ تھا جو اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ اس وطن کو بھی اُمید کی کرن سے منور کرگیا۔ وہ اس دھرتی کے امن کے رکھوالوں میں سے ایک ایسا سپاہی تھا جو اپنی مثال آپ تھا۔ مادرِ وطن پر قربان ہونے والا لانس نائیک زاہد (شہید) ایک ہونہار جوان تھا۔ 35 اے کے رجمنٹ کاستائیس سالہ جوان اس وطن پر جس طرح قربان ہوا ،اس کے بارے میں بیان کرنا میرے لئے نہایت کٹھن ہے۔وہ 12 دسمبر1993 کو ضلع فاروڈ کہوٹہ کے گائوں سیڑھیاں میں پیدا ہوا۔ابتدائی تعلیم آبائی گائوں ہی سے حاصل کی۔ میٹرک کا امتحان گورنمنٹ ہائی سکول چڑی کوٹ سے2010 میں پاس کیا۔ بچپن سے ہی بہت سادہ طبیعت تھی اوربہادر تھا۔ پاک فوج میں جانے کا شوق رکھتاتھا۔اس جذبے کو پروان چڑھاتے ہوئے4 اپریل2011 کو اے کے رجمنٹ سنٹر میں چلا گیا۔ چھ ماہ ٹریننگ کے بعد پاکستان کی مایہ ناز یونٹ35 اے کے میں پوسٹنگ ہوگئی اور اس وقت یونٹ شمالی وزیرستان میں تعینات تھی۔ وہاں کے حالات کافی خراب تھے۔ حالات کی سنگینی کے باوجود جوانوں نے حوصلہ نہ چھوڑا۔

اُن کے والدِ محترم کا کہنا ہے کہ میرے اور بھی بیٹے ہیں لیکن مجھے جو عزت اور وقار میرے ا س بیٹے کی وجہ سے نصیب ہواوہ اور کسی سے نہیں ہوا۔ ایسی اولاد والدین کے لئے خوش نصیبی کا باعث ہوتی ہے۔ لیکن میرے اس بیٹے نے میرا سر پاک فوج اور وطن کے آگے بھی سربلند کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ میرے پاس زیادہ الفاظ نہیں کہ میں اس کی زندگی کا باب کھول سکوں بس یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خدا سب کو ایسی اولاد سے نوازے جو و الدین کے لئے باعث افتخار ہو۔ میرا بیٹا ایک اچھے ذہن کا مالک تھا۔ گھر والوں کے ساتھ تو حسنِ سلوک تھا ہی مگر محلے والے بھی اس کی تربیت اور عادات و خصائل کی تعریفیں کرتے ہیں۔ کبھی بھی گھر خالی ہاتھ نہ آتا سب بہن بھائیوں کے لئے کچھ نہ کچھ تحائف لے کرآتا۔ جب بھی بچت کرنے کا کہتا تو ہمیشہ جواب دیتا کہ پیسہ آنے جانے والی چیز ہے۔ محلے والوں کا بھی اپنے جیسا خیال رکھو۔ اس کے اس اخلاق کی وجہ سے لوگ اُسے اچھے الفاظ میں یادکرتے ہیں۔ لانس نائیک زاہد شہیدکودورانِ سروس بہت سے آپریشنوں میں میں حصہ لینے کا موقع ملا جس میں اُس کی کارکردگی بہترین رہی۔30 جنوری 2020 کو لانس نائیک زاہد کو ایک سرچ آپریشن میں جانے کا موقع ملا اوروہ بہت خوشی خوشی آپریشن میں اپنے ساتھیوںکے ساتھ روانہ ہوا۔ 30 جنوری کو دن تین بجے سرچ آپریش جاری تھا کہ ایک پہاڑی پر بیٹھے دہشت گردوں نے فائرنگ کر دی لیکن جوانوں نے بڑی دلیری سے جوابی فائرنگ کرتے ہوئے دہشت گردوں کو پسپا کیا اس فائرنگ کے دوان لانس نائیک زاہد دہشت گردوں کی فائرنگ سے جامِ شہادت نوش کرگیا۔
 یونٹ نے جب اُن کے گھر کال کی اور کہا زاہد بہت زخمی ہوگیا تو گھر والوں  نے پہلی کال مجھے کی، کہا پتہ کرو کہ کتنا زخمی ہے۔ جب میں نے کال کی تو انہوںنے مجھے صاف بتا دیا کہ زاہد شہیدہوگیا۔ایک دفعہ تو میں ذہنی طور پر شاک میں چلا گیا لیکن کچھ دیر بعد میں نے گھر زاہد کے چچا کو بتا دیا۔ ایک خاص بات جو قابلِ ذکر ہے کہ زاہد کے دادا اور4چچا اور بڑا بھائی سب آرمی سے منسلک تھے اور ہیں۔ دادا تو ایک سال پہلے فوت ہو چکے تھے۔ ابو جان کو 7سال ہوئے ریٹائر ہوئے۔ اس کی والدہ 2006 میں وفات پا چکی تھی۔ لیکن وہ جب بھی چھٹی آتا تو اپنی دادی اماں کو مل کر آتا اور جب چھٹی جاتا سب سے پہلے دادی کے پاس جاتا۔ دادی نے شہادت سے ایک ماہ پہلے خواب میں ڈوبتے چاند کو دیکھا تھا وہ کہتی تھی مجھے تب ہی پتہ چل گیا تھا کہ پھر کوئی ستارہ ڈوبنے والا ہے۔ جب چھٹی سے واپس جا رہا تھا تو دادی اماں نے کہا تھاکہ اپنا خیال رکھنا۔ تو جواب دیا کہ اماں جی جب بھی کوئی دکھی یا غمگین خبر ملے تو بہادری، جرأت اور حوصلہ رکھنا اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دینا اور خود کو پہاڑ کی طرح مضبوط رکھنا کیوں کہ آپ ایک فوجی کی بیوی اور فوجی پوتے کی دادی ہیں۔ اس بہادر خاتون نے اپنے پوتے کے ان الفاظ کی لاج خوب نبھائی،پوتے کی شہادت پر نہ واویلا کیا اور نہ شور، بلکہ بہادری کی ایک داستان رقم کی۔ زاہد شہید کے والد کا کہنا ہے کہ ہم آج بھی پورے جذبے کے ساتھ اوراپنی فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں، جب بھی پاکستان اور پاک فوج کو ہماری ضرورت پڑی ہم اپنے خون کا آخری قطرہ تک اُن کی نذر کریں گے۔ ||

یہ تحریر 190مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP