سفر در سفر

راجہ پورس اور سکندر یونانی

ہائیڈاسپس کنارے آخری معرکہ

ٹِبہ مونگ رسول (کھیوا)پر چڑھتے ہوئے میری سانس پھول گئی۔تنگ اور ناہموار گلیوں کے بیچوں بیچ میں سکندر یونانی کے نیلی آنکھ والے گھوڑے  بیوک فیلیس کی ٹاپوں کی آواز سن رہا تھا۔اس کی سیاہ رنگت پر خون کی سرخی دیکھ رہا تھا لیکن اس کی پیشانی سے سفید رنگ کا ستارہ اب مٹ چکا تھا۔مقدونیہ کا سپہ سالار اس گھوڑے کی موت پر سوگوار رہا مگر اس سوگ میں مبتلا کرنے والا کوئی اور نہیں، وہ راجہ پورس کا بیٹا اور اس کا لشکر تھا۔اسی گھوڑے کی پشت پر سواری کر کے سکندر نے آدھی دنیا فتح کی تھی۔ آج وہ بوکفالیہ کی گمنام مٹی میں دفن ہے۔ سکندر اپنی زندگی میں جس بڑے جنگجو سے متاثر ہوا وہ راجہ پورس تھا۔مونگ کا ٹبہ سکندر یونانی اور راجہ پورس کے درمیان میدانِ جنگ بنا رہا۔مونگ منڈی بہاؤالدین سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر دریائے جہلم کے کنارے واقع ہے۔دریائے جہلم کے دوسرے کنارے پر سکندر یونانی کے فوجی جلالپور سے تیرہ کلو میٹر کے فاصلے پر آباد تھے۔مونگ کو کچھ مصنفین نکایا بھی کہتے تھے۔


327 قبل مسیح ماہ فروری اورمارچ میں سکندر یونان سے ایک بڑے لشکر کو ساتھ لے کر نکلا ، ایران پہنچا اور دارا کو شکست دی۔ وہ  مصر، عراق اور ایران کو روندتے ہوئے ٹیکسلا پہنچا۔ٹیکسلا اْس دور میں عروس البلاد تھا۔ایک عظیم شہر جو جہلم اور دریائے سندھ کے درمیان آباد تھا۔سکندر نے قربانی کی رسم ادا کی اور جسمانی کرتب دکھائے۔گورنر اور باشندوں نے سکندر یونانی کا استقبال کیا۔سکندر نے مخاطس کے بیٹے فِلپ کو اس علاقے کا گورنر تعینات کیا۔سرکپ شہر کی فصیل کو یونانیوں نے گارے اور لکڑی سے تعمیر کروایا اور خود کچھ عرصہ قیام کرکے جہلم کی طرف روانہ ہوگیا۔جس پہلے مقامی بہادر جنگجو سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا وہ راجہ پورس ہی تھا۔خود راجہ بھی آرین ہی تھا مگر وہ اس خطے کی اپنی جان سے بڑھ کر حفاظت کر رہا تھا۔
راجہ پورس ایک طاقتور حکمران تھا جس کی شہرت کے ڈنکے نہ صرف ہندوستان بلکہ ایران سمیت کئی ممالک میں بجتے تھے۔مہا بھارت میں راجہ پورس کا تذکرہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ عالمی شہرت کاحامل ایک بہادر حکمران تھا۔راجہ پورس کی جسمانی ساخت  اور وجاہت بہت رعب دار تھی .وہ ایک ہیبت ناک آہنی شخصیت کا مالک تھا۔جہلم کے کنارے پڑائو کے دوران سکندر یونانی نے آخری کوشش کی کہ قتل و غارت گری کے بغیر ہی وہ جنگ جیت جائے تو اس نے راجہ پورس کے پاس اپنا سفیر کلیو کیرس اس پیغام کے ساتھ بھیجا کہ پورس میرے زیرِ سایہ حکومت کر لے اور مطیع ہوجائے یا جنگ کے لیے تیار ہوجائے۔راجہ مسکرا کر اسے جنگ کرنے کی بابت بتاتا ہے۔راجہ پورس کے پاس ہاتھیوں کا جدید لشکر ضرور تھا مگر سائز اور جنگی آلات میں سکندر یونانی سے بہت کم تعداد میں تھے۔جنگی چالوں کے ماہر سکندر یونانی نے ہر وہ حکمت عملی اپنائی جس سے حریف کو کمزور کیا جا سکتا ہو۔اس میں سے ایک عمل آدھی رات کو دشمن فوج پر حملہ کرنا بھی شامل تھا۔اسی حکمت عملی نے یہ معرکہ سر کرنے میں مدد فراہم کی۔ راجہ پورس کابھتیجا جونیر پورس تھا جس نے عین جنگ کے دِنوں میں بغاوت کی اور سکندر یونانی سے جا ملا۔
سکندر کے لشکر میں گھڑ سوار، منجنیق، شہسوار، توپ خانے، ہوپلاں، بگھیاں اور فالیکنس جیسے بکتر بند ہتھیار تھے۔فالیکنس ہیلمٹ، چھاتی پر پلیٹ اور کولہوں کے بچائو کے بندوبست کی قدیم یونانی شکل تھی۔



وہ رات بھی کیسی طوفانی رات تھی۔جہاز نما کشتیاں اور بپھری ہوئی موجیں ،لگتا تھا قدرت بھی سکندر یونانی کو فتح یاب کرنے کے موڈ میں تھی۔مسلسل بارش اور کڑکتی بجلی دریائے جہلم میں خوف بھرتی جا رہی تھی۔پانی کا لمبا حاشیہ اور اس پر تیرتے یونانی سنگلاخ جنگجوؤں کے قافلے مہیب درندوں کی ماننداُس پار اترتے ہیں۔یہ ہالی وڈ کی کسی فلم کا منظر لگتا ہے۔ہمارے مقامی تاریخ دان اور کچھ یونانی مصنف کچھ اس طرح کا نقشہ کھینچتے ہیں:
'' راجہ پورس کے بیٹے نے بھرپور مزاحمت کی اور اس کی بہادری کے طوفانی تھپیڑوں نے سکندر کے پائوں اکھیڑ دئیے۔راجہ کا بیٹا دلیری سے اپنے وطن پر قربان ہوگیا۔راجہ پورس نے اس اچانک حملے سے پسپائی اختیار کرنے کی بجائے اپنے ہاتھیوں ،تیر اندازوں،گھڑسواروں ،نیزہ برداروں، رتھ سواروں، بگھیوں اور توپ خانوں میں موجود سپاہیوں کی کچھ اس انداز میں صف بندی کی کہ یونانی فوج ایک دم گھبرا گئی اور  ا سے مطلوبہ اہداف خطرے میں نظر آنے لگے۔راجہ پورس نے سب سے اہم ہتھیار ہاتھیوں کو یونانیوں کی پیادہ سپاہ پر چڑھانے کا حکم دیا۔فیل بانوں نے ایسا ہی کیا۔دیو ہیکل ہاتھی چیختے چنگاڑتے ان حملہ آور سپاہیوں کو کچل کر آگے بڑھنے لگے۔پورس نے اپنی فوج کو پیش قدمی کا حکم دیا۔ اس کے ہاتھیوں نے سکندر کی فوج میں سراسیمگی اور دہشت پھیلا دی۔ سکندر کے سپاہیوں نے آگ لگا کر ہاتھیوں کا راستہ روکنے کی کوشش کی۔ کلہاڑیوں سے پیر کاٹے گئے اور سونڈوں پر تلواروں کے وار کیے تو زخم خوردہ ہاتھی واپس پلٹے اور اپنے ہی سپاہیوں کو کچل کر رکھ دیا۔ایک بھگڈر مچ گئی۔ ایک گھمسان کی جنگ شروع ہوچکی تھی۔دونوں اطراف کی افواج کو شدید نقصان اٹھانا پڑا۔مورخ کیوریٹس کے مطابق سکندر یونانی کی زندگی کی بدترین جنگ تھی جس میں وہ پیدل لڑتا رہا۔ایک طرف سکندر کی آدھی سے زیادہ فوج مار دی گئی تھی اور یہ یونانی فوج کی جیتی ہوئی جنگ، شدید ترین فوجی مایوسی کا شکار ہو گئی تھی۔عددی اعتبار سے تو شاید سکندر یونانی یہ جنگ جیت گیا مگر نفسیاتی طور پر اس کی سپاہ ہار چکی تھی۔اس معرکے کی گونج نے اسے مشرقی ہند کو فتح کرنے کی حسرت کو پورا کرنے سے محروم رکھا۔سکندر نے زخمی اور نڈھال راجہ پورس سے پوچھا کہ تم مجھ سے کس سلوک کی امید رکھتے ہو اور پھر پورس نے وہ تاریخی فقرہ کہا کہ ''جو ایک بادشاہ کو دوسرے بادشاہ سے کرنا چاہیے''۔

پھر سکندر یونانی نے وہی سلوک کیا جو کرنا چاہیے تھا۔ سکندر نے زخمی بادشاہ کے زخموں کا علاج اپنے یونانی حکیموں سے کرانا شروع کیا۔یونان لوٹنے سے پہلے سکندر یونانی نے پورس کو اس کی سلطنت لوٹا دی۔ بعد میں بھی راجہ پورس تیرہ برس تک سلطنت چلاتا رہا۔وہ چاہتا تو سرکاری مورخین سے اپنی قصیدہ گوئی کروا سکتا تھا مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔کچھ یونانی مصنفین کے مطابق سکندر کی پنجاب سے واپسی کے بعد طے شدہ پلان کے مطابق یونانی جرنیل ایوداس نے راجہ پورس کو قتل کر دیا۔

اس ساری پیش کردہ تاریخ پر جمیل الرحمن نے اپنی نظم میں سوالات اُٹھائے ہیں کہ پورس کے ہاتھیوں کی سونڈوں میں خارش کیوں ہوئی تھی؟ کیا اُن پر سنہرے ہودے نہیں کسے گئے؟  کیا اُن کے ماتھوں پر ریشمی جھالریں نہیں سجائی گئیں؟ اُن کی سونڈ میں کھجلی تلواروں کے وار سے ہوئی یا یہ نصابی تاریخ کا جھوٹ ہے۔

اِن تمام حقائق کے باوجود مستنصر حسین تارڑ نے اپنے کچھ آرٹیکلز''محمل تاریخ  اور پورس کے ہاتھوں سکندر اعظم کی شکست'' میں بنیادی سوالات اُٹھائے ہیں جو وہ دلیل سے ثابت کرتے ہیں کہ تاریخ میں کتنا گھپلا کیا گیا ہے چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

'' ہم جیسے عام لوگوں تک وہی تاریخ پہنچتی ہے جو اقتدار کے ایوانوں میں درباری خوشامدیوں سے لکھوائی جاتی ہے۔وہ کیسے تحریر کر سکتے تھے کہ ہندوستان میں داخل ہوتے ہی سکندر کو پورس ایسی بلا کا سامنا کرنا پڑا اور وہ شاید پہلی بار شکست سے دوچار ہوا۔ اس کی شکست کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ جنگ کے فوراً بعد اس کی سپاہ نے بغاوت کر دی اور ہندوستان میں مزید پیش قدمی سے انکار کر دیا۔
سکندر اعظم نے ایک روایت کے مطابق اپنی فوج کے دس ہزار کے قریب سپاہی بغاوت کے جرم میں تہہ تیغ کر دیے لیکن اس بغاوت پر قابو پانے کے باوجود اس نے شاید اپنے سپہ سالاروں کے مشورے سے واپسی کا فیصلہ کر لیا اور وہ روایت کہ جب سکندر نے پورس سے پوچھا کہ تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے تو اس نے کہا کہ جو سلوک بادشاہ بادشاہوں سے کرتے ہیں تو سکندر نے یہ جواب سن کر پورس کو اس کی سلطنت لوٹا دی۔ذرا تصور کیجیے کہ اتنی خونریزی اور قتل و غارت کے بعد اس نے فتح کی ہوئی سلطنت خوش ہو کر واپس کر دی؟ اور ہم روایت کو بھی طوطوں کی طرح رٹتے رہتے ہیں اور سکندر کی عظمت کے گیت گاتے ہیں۔ حضور پورس سے اس کی سلطنت اس نے چھینی کہاں تھی جو واپس کر دیتا۔وہ پہلی بار دشمن کے ہاتھوں زخمی ہوا۔ حیدرآباد پہنچ کر اس نے اپنی فوج کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ ایک حصہ کشتیوں میں سوار ہو کر سمندر کے راستے ایران کی جانب روانہ ہوا اور دوسرا حصہ خشکی کے راستے پسپا ہوتا گیا۔ بابل کے شہر میں پہنچ کر سکندر اپنے زخموں کی تاب نہ لا کر مر گیا۔اگرچہ کچھ تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ رن آف کچھ کی دلدلوں کو عبور کرتے ہوئے وہ ملیریا کا شکار ہوا تھا اور اس بخار سے بابل میں جا کر فوت ہو گیا۔۔
سکندر اعظم بہر طور پنجابی پورس کے مقابلے میں مکمل فتح حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا اور اس لیے اس نے بقول یونانی تاریخ دانوں کے جو سکندر کے ہمراہ تھے، پورس کو اس کی سلطنت واپس کر دی تھی۔ کیا وہ یہ جرأت کر سکتے تھے؟ کہ پوری ایمانداری سے اقرار کرتے کہ سکندر اعظم کو چناب کے کناروں پر اتنی ''پھینٹی'' پڑی تھی کہ اس کی سپاہ نے نہ صرف بغاوت کر دی تھی بلکہ ہندوستان کے اندر جانے سے انکار کر دیا تھا کہ پہلے معرکے میں ہی یہ حشر ہوا ہے تو''اللہ جانے کیا ہو گا آگے'' تو ''چلو چلو یونان واپس چلو'' ۔  چنانچہ سکندر نے ٹیکسلا میں واپسی کا بگل بجایا،آدھی فوج کو کشتیوں میں واپس بھیجا اور بقیہ نصف کے ہمراہ وہ خشکی کے راستے بابل پہنچے اور ایک روایت کے مطابق ملتان کے ملی جاٹوں کے ہاتھوں زخمی ہونے کے بعد وہاں انتقال فرما گئے۔تو ہم شاید دنیا کی واحد قوم ہیں جو حملہ آوروں کی یادگاریں تعمیر کرتے ہیں اور جو اس سرزمین کے جَری لوگ تھے، جنہوں نے ان کا بے جگری سے مقابلہ کیا، انہیں فراموش کر دیتے ہیں، صرف اس لیے کہ پورس ایک ہندو راجپوت تھا۔ پورس کوئی نام نہیں اس کا مطلب ایک راجپوت ہے۔ یوں تاریخ میں متعدد''پورس'' ہوگزرے ہیں۔ میں تو تاریخ کا ایک معمولی طالب علم ہوں لیکن محمد حنیف رامے اور اعتزاز احسن کی تحقیق کے مطابق سکندر اعظم کو پورس کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی، وہ جو مقدونیہ سے ہندوستان فتح کرنے کی نیت سے نکلا تھا (ان دنوں ہندوستان کو فتح کرنے کا بڑا رواج تھا) پہلے معرکے کے بعد اگر وہ فتح یاب ہوا تھا تو واپسی کی راہ کیوں اختیار کرلی تھی؟''

آج سے قریب اڑھائی ہزار سال قبل پنجاب کے اس نامور اور بہادر سپوت کی کوئی یادگار بنانے کی بجائے نالا گھنڈر جلال پور شریف شہر میں جو کہ '' نکالہ ''کے کھنڈرات پر آبادہے، مئی 1997ء  میں اس جگہ سکندر اعظم کی یادگار تعمیر کی گئی۔ بی بی سی کے مورخ میخائل ووڈ کے مطابق سکندر کا گھوڑا اسی جگہ دفن تھا۔اس یادگار کا سنگ بنیاد یونان کے سفیر نے رکھا اور اخراجات بھی خود ہی اُٹھائے۔تاسف ہے کہ مقامی بہادر راجہ پورس کی کوئی نشانی یا یادگار نہیں بنائی گئی۔شاید اس کی بہادری ہمارے تاریخ دانوں اور حکمرانوں کو انسپائر کرنے میں کارگر ثابت نہیں ہوئی۔

حوالہ جات
١۔    پورس دی گریٹ ۔۔۔از دیوکار پانڈے
٢۔    مہاراجہ پورس۔۔۔ از بدھا پرکاش
٣۔    محمل تاریخ  اور پورس کے ہاتھوں سکندر اعظم کی شکست۔۔۔ 
 از مستنصر حسین تارڑ


مضموں نگار، شاعراور سفرانچہ نگاراور دو کتابوں کے مصنف ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 87مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP