صحت

ذیابیطس کے ساتھ صحت مند زندگی

عام صحت کے لئے خون میں شوگر (گلوکوز) کی مقدار ایک معین سطح پر ہوتی ہے۔ خون میں شوگر کی سطح کو مناسب رکھنے کے لئے لُبلُبے یا پینکریاز نامی غدود سے پیدا کردہ انسولین ضروری ہوتی ہے۔ جب کسی وجہ سے یہ غدود کم انسولین بناتی ہے یا پھر انسولین صحیح طور پر اثر نہیں کرتی تو خون میں گلوکوز کی سطح صحیح طور پر کنٹرول میں نہیں رہتی۔ کھانے کے ساتھ یہ سطح زیادہ ہو جاتی ہے۔ اس عرصے میں جب خون گردوں سے گزرتا ہے تویہ زائد گلوکوز پیشاب کے ذریعے خارج ہوتا ہے اور اسی طرح شوگر کی بیماری کا آغاز ہوتا ہے۔


ذیابیطس کی تشخیص ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو طرح طرح کے کئی صحت مندانہ کھانوں سے بدستور لطف اندوز ہونے کے معاملے میں محتاط ہونا چاہئے۔ شروع میں یہ چیلنج سا لگے گا لیکن آپ کی غذا کے انتخاب اور آپ کے کھانے کی عادتیں آپ کے لئے اپنی ذیابیطس پر قابو پانے اور لمبی مدت کے لئے صحت کے سلسلے میں ضروری ہے۔


ذیابیطس میں خوراک کا اصول
ذیابیطس میں ایسی خوراک استعمال کرنی چاہئے جس سے خون میں گلوکوز کی سطح یک دم بہت زیادہ نہ ہو جو متعلقہ غدود یعنی پینکریاز سے سنبھالی نہ جا سکے۔
غذائیں جن سے پرہیز ضروری ہے
گڑ‘ چینی‘ بیکری کی اشیاء (کیک‘ پیسٹری‘ بسکٹ) آم‘ انگور‘ کھجور‘ تازہ پھلوں کا رس‘ گنا‘ آئسکریم‘ مشروبات‘ (کولڈڈرنکس‘ ڈبے کا جوس) کشمش‘ انجیر‘ پڈنگ‘ جیلی‘ چاکلیٹ‘ بند ڈبوں والے پھل‘ خشک دودھ اور میٹھی ٹافیاں وغیرہ۔
ان کے علاوہ شہد‘ شکرقندی‘ کیلا‘ خربوزہ‘ تربوزہ‘ انجیر‘ آڑو‘ چقندر‘ مائیونیز‘ سٹرابیری‘ لیچی‘ ٹماٹر اور چاول وغیرہ۔
غذائیں جو حسب ضرورت استعمال کر سکتے ہیں
کھیرا‘ گاجر‘ سفید مولی‘ پالک‘ بھنڈیاں‘ چکوترا‘ کینو‘ چیری‘ جامن‘ فالسے‘ ناشپاتی‘ سیب‘ امرود‘ دودھ اور دودھ سے بنی تمام اشیاء (بغیرملائی کے)‘ دالیں‘ سفید چنے‘ بھنے ہوئے چنے‘ تازہ سلاد‘ جو‘ مکئی‘ پاپ کورن‘ بادام‘ اخروٹ اور پستے وغیرہ۔
ضروری ہدایات
اپنی خوراک کو بجائے 3دفعہ کھانے کے چار یا چھ دفعہ کھائیں۔ تھوڑی تھوڑی مقدار میں خوارک لیں۔ کھانا پکانے کے لئے سبزیوں والا تیل استعمال کریں۔ مثلاً کینولا آئل‘ سورج مکھی کا تیل‘ زیتون کا تیل وغیرہ
پیاس کو بجھانے کے لئے برف کے ٹکڑے یا ٹھنڈے پانی کی کلیاں کریں۔ ہر کھانے کے ساتھ تازہ سبزیوں کا سلاد استعمال کریں۔ روزانہ چہل قدمی اور ہلکی پھلکی ورزش کو اپنے دن بھر کے پروگرام میں شامل کریں۔
وزن ضرورت سے زیادہ ہے تو کھانوں میں چربی‘ آئل‘ گھی‘ مکھن‘ مارجرین‘ مٹھائیاں‘ نمکو‘ خشک میوہ اور بیکری کی کی بنی ہوئی اشیاء سے گریز کریں۔

[email protected]

یہ تحریر 65مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP