فکاھیہ کالم

ذکر اُن کی ''سائنسی ''خدمات کا   

 دہلی پر جب بہادر شاہ ظفر کی ''حکمرانی ''تھی توعالم پناہ کی سرپرستی میں آئے دن مشاعرے ہوا کرتے تھے،شام ڈھلے دربار میں شمعیں فروزاں ہو جاتیں، چاندنی بچھا دی جاتی ، پان اور الائچی کا اہتمام ہوتا، غالب، داغ،مومن، شیفتہ ، آزردہ اور ذوق جیسے اساتذہ وہاں حاضر ہوتے۔ بادشاہ سلامت کے روبرو اپنی غزلیں کہتے اور داد سمیٹتے ۔ابراہیم ذوق چونکہ بہادر شاہ ظفر کے استاد تھے سو اس مناسبت سے ان کی تکریم زیادہ تھی ، غالب کا خیال تھا کہ استاد ذوق بادشاہ کے محل تک رسائی میں رکاوٹ ڈالتا ہے اسی  غالب کو لال قلعے میں مشاعرے کے لئے نہیں بلایا جاتا، غالب کی انا کو بھلا یہ کیسے گوارا ہوتا، سوایک دن استاد ذوق کی سواری غالب کے محلے سے گزری تو غالب نے یہ مصرع کہا ''ہوا ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا''۔استاد ذوق اِس چوٹ کو سہہ نہ سکا ،اُس نے بادشاہ سے شکایت کی، اب کی بار غالب کو مشاعرے میں مدعو کیا گیا تو وہاں بادشاہ نے غالب سے فرمائش کی کہ وہ شعر پڑھا جائے جس پر غالب نے شعر یوں مکمل کیا''ہوا ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا، وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے'' اور مشاعرہ لوٹ لیا۔ اس کے بعد لال قلعے کا کوئی مشاعرہ غالب کے بغیر نہیں ہوا۔اُن دنوں مشاعرے صرف لال قلعے میں ہی نہیں ہوا کرتے تھے بلکہ ہندوستان میں ہر جگہ ہوتے تھے،اس فن میں ہندوستانیو ں کا کوئی ثانی نہیں تھاکیونکہ شاعری کی سرپرستی نہ صرف بادشاہ کرتا تھا بلکہ راجے ،مہاراجے ، نواب ، رؤسا اور بڑے لوگ کرتے تھے ، شاعری ایک پُرکشش کام تھا ،اچھے شاعر کی رسائی بادشاہ کے محل تک تھی، اس کی عزت تھی ،نام مقام تھا،اس زمانے میں شاید ہی کوئی دوسرا ایساشعبہ ہو جس کی اتنی حوصلہ افزائی کی جاتی ہو۔بہادر شاہ ظفر کے محل میں کلام پیش کرنے والے شعراء کے نام ہمیں زبانی یاد ہیں مگر لال قلعے کے کسی سائنس دان، فلسفی ، ریاضی دان یا ماہر فلکیات کے بارے میں ہم نہیں جانتے کیونکہ ایسا کوئی تھا ہی نہیں۔ شاعری کی سرپرستی کی گئی تو ایک سے ایک اعلیٰ شاعر پیدا ہو گیا، علم طبِیعیّات کی سرپرستی کی جاتی تو شاید کوئی ایک آدھ ماہر طبِیعیّات بھی دربار میں مل جاتا۔
اودھ میں واجد علی شاہ کے دربار میں چلتے ہیں ، یہ نواب اپنی مثال آپ تھا، ہنددستانی تاریخ میں شاید ہی کوئی دوسرا نواب ایسا ہو جس میں اس قدر ٹیلنٹ ہو۔لکھنؤ کے نواب موسیقی کے دلدادہ تھے ، انہوں نے کلاسیکی موسیقی کی خوب سرپرستی کی مگر نواب واجد علی شاہ نے تو کمال ہی کردیا،نواب صاحب ایک اعلیٰ پائے کے کمپوزر تھے ،کتھک ڈانس کے ماہر تھے، شاعر تھے ، کئی غزلیں، ٹھمریاں ، نظمیں انہوں نے تخلیق کیں اورموسیقی کی تعلیم باقاعدہ اساتذہ سے حاصل کی۔تھیٹر کی سرپرستی میں تو نواب صاحب نے کمال ہی کردیا، موصوف کے زمانے میں شاہی خرچ پر سیکڑوں لڑکیوں کو رقص اور موسیقی کی تربیت دی جاتی، واجد ولی شاہ کے دربار میں لکھاریوں ، شاعروں، موسیقاروں اور شعر و ادب کے دلدادہ لوگوں کا جمگھٹا لگا رہتا۔ وہ سب نواب صاحب کے زیر کفالت تھے،غالب کا وظیفہ بھی واجد علی شاہ نے اسی زمانے میں مقرر کیا تھا۔نواب صاحب کو کچھ عجیب و غریب شوق بھی تھے ،مثلاً کبھی کبھی ان کا دل کرتا کہ وہ حاملہ عورت بن جائیں ، ایسے میں پورا محل انہیں کسی حاملہ عورت کی طرح ہی ٹریٹ کرتا، نواب صاحب درد سے کراہتے اور کنیزیں پریشانی کا اظہار کرتیں۔جب انگریزوں نے ریاستوں پر قبضہ شروع کیا تو نواب صاحب کی فوج نے لڑائی کئے بغیر ہی ہتھیار ڈال دیے اور اودھ کا تاج انگریز ریزیڈنٹ کے سر پر رکھ دیا۔ واجد علی شاہ کی ماں سے یہ سب برداشت نہیں ہوا ، وہ بعد میں ملکہ وکٹوریاسے ملنے لندن گئی تاکہ ملکہ کے سامنے اپنا مقدمہ رکھ سکے کہ اس کے بیٹے کے ساتھ انگریزی ریذیڈنٹ نے اچھا سلوک نہیں کیا، یہ ایک علیحدہ سے دلچسپ روداد ہے ، پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے ۔
ہمارا مقدمہ مگر کچھ اور ہے ۔بہادر شاہ ظفر ہو، نواب واجد علی شاہ ہویا ہندوستان کا کوئی بھی اور بادشا ہ یا نواب، انہوں نے جس فن کی سرپرستی کی اس فن کے ماہر اس وقت کے معاشروں میں پیدا ہو گئے ، ہندوستانی شاعری، موسیقی ، رقص ، یہ وہ شعبے ہیں جن کی سرپرستی اعلیٰ ترین سطح پر ہوئی ، لوگو ں کے وظیفے لگائے گئے ، انہیں سرکاری خرچ پر تربیت کی سہولت دی گئی ،انہیں عزت دی گئی اور یوں معاشرے میں ان کاموں کے لئے ایک incentiveپیدا ہو گیاجس کے نتیجے میں معاشرے کا ٹیلنٹ ان شعبوں میں ابھر کر سامنے آگیا۔آج بھی بر صغیر کی شاعری کی روایت ایسی تابندہ ہے کہ ایک سے ایک اعلی ٰ شاعر یہاں پیدا ہوتا ہے ،باقی شعبوں میں بھلے ہم زوال پذیر ہو گئے ہوں مگر شاعری میں اب بھی دم باقی ہے ، یہی حال موسیقی کا ہے ، کیسی کیسی شاہکار موسیقی یہاں ترتیب دی گئی ،ایک سے بڑھ کر ایک موسیقی کا استاد برصغیر پاک و ہند میں پیدا ہوا ۔مگران بادشاہوں ، نوابوں ، مہا راجوں نے سائنس ، طب ، ریاضی یا فلسفے کی سرپرستی نہیں کی ،اگر کی ہوتی تو شاید انہی معاشروں میں سے کوئی نہ کوئی ماہر ان شعبوں کا بھی پیدا ہو جاتا۔چلیں بادشاہوں کی بات پرانی ہوئی اسے چھوڑ دیتے ہیں ، آج کے دور میں واپس آتے ہیں ،آج کی دنیا میں جہاں جہاں سائنس ، ہنریاتخلیق کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے وہاں وہاں ٹیلنٹ ابھر کر سامنے آجاتا ہے ۔مثلاً آج کے پاکستان میں بظاہر جامعات کی بہتات ہے، ان جامعات میں تحقیق کے لئے (کم یا زیادہ) فنڈ بھی مختص کئے جاتے ہیں مگر اس کے باوجود ہمارے ہاں کوئی تخلیق ہوتی ہے نا تحقیق۔فنڈز کی کمی کا رونا اس لئے درست نہیں کیونکہ جو امداد تحقیق کے لئے ملتی ہے اس کے بارے میں چپڑاسی سے لے کر وائس چانسلر تک سب جانتے ہیں کہ وہ ''کٹ پیسٹ پی ایچ ڈی ''میں لگ جاتی ہے ، اس سے آگے کچھ نہیں۔ایک وجہ اور بھی ہے کہ معاشرے میں تحقیقی یا تخلیقی کام کرنے کے لئے کوئی incentive موجود نہیں ، نئی تخلیق کے لئے نئے تجربے کرنے پڑتے ہیں ، تجربوں کا نتیجہ کبھی نکلتا ہے کبھی نہیں نکلتا ، یہ سالہا سال کا عمل ہے جبکہ ہم کسی کو یہ رعایت دینے کے لئے تیار نہیں،ایک ایسے ملک میں جہاں کالج کا پرنسپل آڈٹ کے ڈر سے سائنسی آلات کو اپنے طلبا سے چھپا کر تالے میںرکھتاہو کہ کل کو اس سے یہ باز پرس نہ ہو جائے کہ سائنسی کٹ میں سے فلاں چیز کم کیوں ہے ، ایسے ماحول میں کیا خاک تخلیق ہوگی؟ 

ایک دہشت زدہ ماحول میں جہاں ماہر طبِیعیّات نے اس بات کا حساب دینا ہو کہ جو آلات تم نے خریدے وہ پیپرا رولز کے مطابق نہیں تھے ،وہاں اس سے کسی ایجاد کی توقع رکھنا حماقت ہے۔دوسری طرف اس گئے گزرے وقت میں ہم کوئی نہ کوئی کرکٹر ضرور پیدا کر لیتے ہیں کیونکہ کرکٹ کی سرپرستی قدرے بہتر انداز میں ہو رہی ہے مگرکوئی سائنس دان ، فلسفی ، ماہر فلکیات یا کیمیا دان پیدا نہیں کر پاتے کیونکہ معاشرے میں اس کے لئے کوئی incentiveموجود نہیں۔ د نیا کی ہر قوم میں ذہین اور ٹیلنٹڈ لوگ برابر پیدا ہوتے ہیں ، معاشرہ ان میں سے جتنوں کی قدر کرتا ہے ان کا ٹیلنٹ سامنے آ جاتا ہے ، بہاد ر شاہ ظفر نے شاعری کی سرپرستی کی ، غالب اور ذوق کا ٹیلنٹ سامنے آ گیاجبکہ اسّی کی دہائی میں بھی جس''ٹیلنٹ ''کی سرپرستی ہوئی بعد میں اسی ''ٹیلنٹ'' کو ختم کرنے کے لئے جنگ بھی لڑنی پڑی ۔زمانے کے رنگ ہی نرالے ہیں!


مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ کار ہیں۔
 [email protected]
 

یہ تحریر 50مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP