متفرقات

ذرا پھر لندن

اس بار۔۔۔یہ لیجئیے ابھی ایئر پورٹ سے نکلتے ہی خُنک خوشگوار ہوا کا پہلا ہی جھونکا لگا نہیں کہ ’’بار‘‘ زبان پر آگیا۔۔۔ ’’ بار ‘‘کے حوالے سے یہ بھی سنتے چلیں کہ کلکتہ میں ایک صاحبِ ذوق نے اُس مقام پر جہاں مرزا غالب نے چند روز قیام کیا تھا۔ ’’غالب بار‘‘ کے نام سے ایک بادہ خانہ کھولا ہے اور استقبالیہ پر مرزا غالب کا یہ مصرعہ ثبت کیا ہے ۔۔
’’ہمیں کیا بُرا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا‘‘


مرزا غالب کے ساتھ نہ جانے کیوں شاعرِ عوام حبیب جالب یاد آگئے کہ ہمارے لندن میں نصف صدی سے مقیم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ بیرسٹر صبغت اللہ قادری نے جالب صاحب کے قیامِ لندن کے دوران اُن کی طرح طرح کی فرمائشوں سے تنگ آ کر اپنے ایک دوست شیر شاہ قریشی کے حوالے کر دیا کہ جن کی ساؤتھ ویسٹ لندن میں شاپ تھی۔ ہمار ے عوامی شاعر نے جن کی ساری زندگی ’’دیسی ٹیکنالوجی ‘‘کے سنگ گزری تھی۔۔۔ الماری میں دھری سیکڑوں بادہ صحرائیوں کو حیرانی سے دیکھتے ہوئے کہا ’’سمجھ نہیں آرہا کس کی گردن پکڑوں‘‘۔ سو جالب صاحب ہر دوسرے تیسرے دن شیر شاہ قریشی کی ’’گردن‘‘ پکڑنے پہنچ جاتے۔ شیر شاہ قریشی واقعی شیر کا دل گردہ رکھتے تھے بلکہ ’اللہ انہیں حیاتی دے‘ رکھتے ہیں۔ جالب صاحب کی فرمائشیں پوری کرتے ایک دن شیر شاہ قریشی کہنے لگے: ’’ جالب صاحب ہم آپ کی خدمت اتنے دنوں سے کررہے ہیں اور تاحیات کرتے رہیں گے لیکن ہماری درخواست پرایک شعر ہماری دکان پر بھی لکھ دیں۔ جالب صاحب نے اُسی وقت قلم پکڑا اور شیر شاہ قریشی کے بادہ خانے کے داخلی دروازے کے ماتھے پر یہ شعر لکھ دیا

 

چلے گی اور چلے گی دکانِ بادہ فروش
مکان بِک کے بِکے گی دکانِ بادہ فروش

 

یہ لیجئے جیسے جیسے عمر بڑھ رہی ہے ’’بھٹکنے‘‘ کی عادت پختہ ہوتی جا رہی ہے۔ جس طرح کی کراچی میں شب وروز ہنگامہ آرائی برپا رہتی ہے۔۔ اُس میں کراچی چھوڑنا مشکل بلکہ ناممکن لگ رہا تھا مگر لندن میں میرے مستقل میزبان مشتاق لاشاری نے جب زور دے کر یہ مژدہ بھی سنایا کہ مرحوم معراج محمد خان کے لئے لندن میں ہونے والے ریفرنس میں اُستادانِ محترم بیرسٹر صبغت اللہ قادری اور ایمبیسڈر واجد شمس الحسن بھی خواہش رکھتے ہیں کہ میری آمد یقینی ہو۔۔۔ یہ تو خیر پہلے سے ہی طے تھاکہ ائیر پورٹ سے سیدھے بی بی سی کلب جانا ہے جہاں دوستوں نے ہماری پہلی شام کا اہتمام کیا ہوا ہے۔بی بی سی مشہورِ زمانہ بش ہاوس میں ہوتا تھا ۔کیا بات تھی اُس پرانے طرز کی امارت کی۔ بی بی سی کی نئی جائے پناہ دیکھ کر کیسے نابغہ روز گار سینئر صحافی یاد آگئے ۔محمد غیور ،اطہر علی،وقار احمد ،رضا علی عابدی اور آصف جیلانی۔۔


وہ جن کے دم سے تیری بزم میں تھے ہنگامے 
گئے تو کیا تیری بزمِ خیال سے بھی گئے


جہاں بی بی سی کلب میں داخل ہوتے ہی سینئر جرنلسٹ اطہر کاظمی نے کھُلی بانہوں سے استقبال کیا وہیں واجد بھائی یعنی سابقہ ہائی کمشنر لندن واجد شمس الحسن کو دیکھ کر زیادہ خوشی ہوئی۔۔۔ کہ اِدھر اُن کی صحت کے بارے میں تشویشناک خبریں مل رہی تھیں۔ واجد بھائی کی صحت مندی کا اندازہ ہم اُن کی جملے بازی سے لگاتے ہیں۔ کہ اُن کی شخصیت کا یہ سب سے بڑا خاصہ ہے۔۔۔چھوٹتے ہی کہنے لگے۔۔ کیابھائیوں کے ’’کراچی۔۔ لندن ‘‘ تعلق کا سُراغ لگانے آئے ہو؟ اب یہ تو برسوں پہلے طے ہو ہی چکا تھا کہ واجد بھائی سمیت سارے سینئرز کے آگے محض سر جھکا کر سُنا جاتا ہے بولا نہیں جاتا۔۔۔ کیسے یقین دلاتا کہ کراچی کے بھائیوں کے شوروغوغا سے بھاگ کر آیا ہوں ‘‘۔منفرد لہجے کے شاعر ن م راشد کی زبان میں یہ تو کہہ نہیں سکتا کہ


زندگی سے بھاگ کر آیا ہوں میں
اے میری ہم رقص مجھ کو تھام لے


ایک زمانے میں اور یہ بات‘اسی بلکہ نوے کی دہائی کی تھی کہ ہم تیسری دنیا کے پسماندہ لوگ اپنے گھر بار کو چھوڑ کر اس خواہش کے ساتھ لندن آتے تھے کہ ایئرپورٹ سے نکلتے ہی کسی کلب کا رُخ کریں گے اور کسی اپسرا کو ایسا گھیریں گے کہ ٹھکانہ بھی مل جائے اور کھانا پینا بھی۔ہم توخیر سے اُس زمانے میں لندن کیا۔۔۔ پاس پلّے سے سکھر نہیں جاسکتے تھے مگر سنتے تھے کہ کئی دوستوں نے مرادیں پائیں اور ٹھاٹ سے مزے کر رہے ہیں۔ یہ لیجئے ہر خط میں اپنے بھٹکنے کا ذکر کرتا ہوں لیکن اب یہ عادت اتنی پُختہ ہوگئی ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی در آتی ہے۔ بش ہاؤس کے باہر شام نے اترنا شروع کردیا ہے۔ پیر مِغاں بیرسٹر صبغت اللہ قادری آواز لگارہے ہیں کہ وقتِ جذبات وخرابات کا وقت آپہنچا ہے اب مزید بے ادبی نہیں ہوسکتی ۔۔ہائے ہائے شاعرِ انقلاب جوش ملیح آبادی یاد آگئے۔۔۔


ادب کر اُس خراباتی کا جس کو جوش کہتے ہیں
کہ یہ اپنی صدی کا حافظ و خیام ہے ساقی


مرحوم معراج محمد خان کے لئے تقریب ۔۔۔ایک کمیونٹی ہال میں ہوئی جسے بڑی محنت سے پاکستانیوں نے اپنے سرمایہ سے بنایا ہے جبکہ ہندوستانیوں نے ایک نہیں کئی کمیونٹی سینٹرزبنائے ہوئے ہیں انہیں اُن کی حکومت کی بھی بھر پور حمایت حاصل ہوتی ہے ۔ پاکستانی کمیونٹی سینٹر لندن کے حساب سے خاصے وسیع رقبے پر پھیلا ہواہے۔ ایک خوبصورت مسجد اور پھر پارکنگ اور ساتھ میں ہال جہاں سو لوگوں کے بیٹھنے کا انتظام ہے۔ شکر ہے کہ بھٹو کے جا نشین اور آخری وقت میں ایک انقلابی تنظیم قومی محاذ کے سربراہ کا انتقال تو گوشہِ گمنامی میں ہوا مگر بعد مرنے کے ہماری قومی روایت کے مطابق ان کے بڑے تعزیتی جلسے ہورہے ہیں۔ ابھی لندن میں تیسرا دن گزراہے بیشتر وقت پرہیز گاریوں میں ہی گزرا اور یہ لیجئے کراچی سے بلاوا آرہا ہے کہ پا۔۔۔نا۔۔۔ لیجئیے یہ میں کیا بے سمت نکل پڑا یوں بھی خطوں میں سیاسی باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔ اس کے لئے کیا اسکرینیں کم ہیں؟ سو بستر لپیٹنا شروع کردیاہے ۔چلتے چلتے یہ بتاتا چلوں لندن میں پارکوں، پبوں اور فٹ پاتھوں کی سیر کے بعد سب سے دلچسپ مشغلہ
tabolide 
ہوتے ہیں معروف معنوں میں انہیں چیتھڑا بھی کہہ سکتے ہیں جو ہر ٹیوب اسٹیشن کے باہر سینکڑوں کی تعداد میں دھرا ہوتا ہے اور یہ بالکل مفت ملتا ہے اس لئیے منٹوں میں اُٹھ جاتا ہے ۔۔۔ ایسی ایسی رنگین تصویریں اور چیختے چلاتے اسکینڈل ہوتے ہیں کہ انسان دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے۔یہ
tabolides 
صرف بڑے بڑے لوگوں کے بارے میں انکشافات کرتے ہیں۔ جی تو چاہ رہا ہے کہ ایک آدھ بطور نمونہ مع رنگین تصویر آپ کے ذوقِ مطالعہ کے لئیے پیش کر دوں مگر خوفِ خلقِ خدا اور مدیرِ اعلیٰ کے احترام میں گریز کرتے ہوئے اجازت کا طالب ہوں۔


مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 96مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP