متفرقات

ذرا اپنا دامن تو دیکھئے

بھارت میں علیحدگی پسند تحریکیں۔ ان کے محرکات اور اثرات

ہندوتہذیب و تمدن کاسرسری مطالعہ اور طائرانہ جائزہ اس امر کی عکاسی کرنے کے لئے کافی ہے کہ ذات پات اور چھوت چھات پر مبنی ہندو معاشرتی نظام کبھی بھی اپنی پست ذہنیت اور اخلاقی دیوالیہ پن سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکا بلکہ موقع پاتے ہی دوسروں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنا ہندوؤں کی فطرتِ ثانیہ ہے۔ ان کے تنگ وتاریک مکانات، طرزِ بودوباش، تنگ عبادت گاہیں، پتھروں سے بنی مورتیوں کو سجدے کرنے اور کچرے کے ڈھیر پر زندگی بسر کر لینے پر آمادہ طبیعتیں اس بات کی گواہی دیتی نظر آتی ہیں کہ ہندو تہذیب و تمدن کھوکھلے پن کا شکار ہے اور اسی کھوکھلے پن کو چھپانے کی خاطر ہمہ قسم تخریب کاری، مکاری اور چانکیہ سیاست کو نہ صرف جائز سمجھا جاتا ہے بلکہ بڑی شدومد کے ساتھ اس پر عملدرآمد بھی کیا جاتا ہے۔ تختِ ہندوستان پر مسلمانوں کے ہزار سالہ دورِحکمرانی، جو مذہبی رواداری، رعایا پروری، عدل گستری اور اسلامی مساوات کے زریں اصولوں پر استوار تھا، اس بات کا ثبوت ہے کہ انھوں نے ہندوؤں کو کارہائے سلطنت میں بڑی کشادہ دلی کے ساتھ شریک کیا لیکن ہندوؤں نے انگریز راج میں موقع ملتے ہی اپنے پاؤں پھیلا لئے اور بحیثیت قو م مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ ڈالے۔ جس کے نتیجے میں اسلامیانِ ہند بالآخر اپنے لئے ایک علیحدہ مملکت کے حصول پر مجبور ہوگئے اور انھوں نے شبانہ روز جدوجہد کے بعد 1940ء میں مطالبۂ پاکستان کے محض سات سال کے اندر اسلامی مملکتِ خداداد پاکستان کا حصول ممکن کر دکھایا۔ گو پاکستان تو بن گیا لیکن ہندو ذہنیت کا کیا کیا جائے کہ اس نے اپنی تنگ نظری اور تعصب پر مبنی سوچ کے تحت ہمسایہ ریاستوں کے ساتھ ساتھ باقی ماندہ بھارت میں بسنے والی دیگر اقلیتوں پر بھی مصائب کے کوہِ گراں گرا دیئے۔ یہ تماشا بھی چشمِ عالم نے دیکھا کہ بھارت کے جبرو استبداد کے پنجوں تلے کم وبیش 125علیحدگی پسند تحریکیں سر اٹھا کر کھڑی ہوگئیں۔ دنیا کے کسی ملک میں اتنی بڑی تعداد میں اقلیتوں نے کبھی اپنے حق میں آواز بلند نہیں کی جتنی بھارت جیسے اکیلے ملک میں ہوئی۔

یہ علیحدگی پسند تحریکیں تقسیمِ ہند 1947ء کے بعد شروع ہوئیں۔ ان تحریکوں میں سب سے بڑی تحریکِ آزادئ کشمیر کے ساتھ ساتھ شمال مشرقی ہند میں واقع آسام، تریپورہ، میگالیا، میزورام، ناگالینڈ، بوڈولینڈ، ڈریویڈاناڈو ، ناگالم، اروناچل پردیش اور سکھوں کی تحریکِ خالصتان وغیرہ جیسی بڑی بڑی تحریکیں شامل ہیں۔ کم و بیش ہر بڑی علیحدگی پسند تحریک کے پس منظر میں بھارت کی تنگ نظری، تعصب، مکاری، دغابازی، مذہبی عدم رواداری، سماجی اور معاشرتی عدم مساوات، عدم انصاف، ظلم و استبداد اور اقلیتوں کے جملہ حقوق سلب کر لینے کی ظالمانہ پالیسیاں بنیاد بنیں۔ ذیل میں ہر بڑی علیحدگی پسند تحریک کا مختصراً خلاصہ پیش کیا جارہا ہے تاکہ قارئین ہندو طرزِ سیاست اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعویدار ملک کے ریاستی مکروفریب اور سامراجیت کا کچھ کچھ اندازہ کرسکیں۔

تحریکِ آزادئ جموں و کشمیر

ریاست جموں و کشمیر بھارت کے انتہائی شمال میں واقع ہے ۔ اس کی سرحدیں بھارت، پاکستان، افغانستان اور چین جیسے اہم ممالک سے ملتی ہیں۔ 1947ء میں ریاست کے پارہ پارہ ہونے سے قبل ریاست کی کل آبادی کا 80 فیصد مسلمان، ۱۷ فیصد ہندو اور ۳فیصد سکھ اور عیسائی تھے۔

ًریڈکلف ایوارڈ میں جہاں پاکستان کے ساتھ بہت سی اور ناانصافیاں کی گئیں‘ وہاں پاکستان کو دفاعی اور معاشی اعتبار سے کمزور کرنے کے لئے گورداس پور اور بٹالہ کے علاقے بھارت کو دے کر کشمیر تک جانے کا راستہ بھارت کو دے دیا گیا۔ مہاراجہ کشمیر نے ابھی تک ریاست کا الحاق کسی سے بھی نہ کیا تھا لیکن درپردہ اس نے ریاستی عوام کی غالب اکثریتی رائے کے بالکل برعکس بھارت سے سازباز کر رکھی تھی اور بھارت کے ایجنٹ کے طور پر اپنے فرائض انجام دے رہا تھا۔ چنانچہ پونچھ میں مہاراجہ کے خلاف ہنگامے پھوٹ پڑے۔ بھارت کے ایماء پر مہاراجہ نے پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔ ابھی ریاست کے اندر ہنگامے فرو نہ ہوئے تھے کہ پاکستان کے قبائلی اپنے بھائیوں کی مدد کے لئے نکل کھڑے ہوئے اور بزورِ قوتِ بازو، کشمیر کے کچھ علاقے کو حاصل کر لیا۔ مہاراجہ نے پہلے سے کی ہوئی سازباز کے تحت فوراََ بھارت سے فوجی امداد مانگ لی جس پر بھارت نے الحاق کی شرط عائد کر دی۔ مہاراجہ نے حسبِ سازش فوراََ ریاست کا الحاق بھارت سے کرنا منظور کر لیالیکن پاکستان اور کشمیری عوام نے اس ناجائز الحاق کو ماننے سے انکار کر دیا۔ نتیجے کے طور پر یکم جنوری 1949ء کو بھارت سوانگ رچاتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے گیا جہاں بالآخر ایک واضع اور غیر مبہم قرارداد پاس ہوئی کہ مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق‘ آزادانہ استصواب رائے کی بنیاد پر‘ حل کیا جائے گا۔ لیکن بھارت نے اس وقت سے لے کر تاحال اقوام متحدہ کی متعدد قرادادوں اور مطالبوں کے باوجود مسلسل ہٹ دھرمی، بدنیتی اور اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے تحت مسئلہ کشمیر حل نہیں ہونے دیا ہے اور 1989ء میں شروع ہونے والی تحریکِ حریت کی نئی شدت کو پورے ریاستی جبرو استبداد سے کچلنے میں مصروفِ عمل ہے۔ یہ وہ واحد تحریکِ آزادی ہے جس کی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی کہ ہزاروں کشمیری نوجوان شہید کر دیئے گئے ہیں، لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو ظلم وتشدد کا شکار کرکے انہیں معذور اور اپاہج بنا دیا گیا ہے۔ ہزاروں عفت مآب خواتین کی عصمت دری کی گئی ہے۔ لاکھوں بچے یتیم اور بے آسرا کر دیئے گئے ہیں۔ اور یہ سب کچھ اس ملک کی فوج کر رہی ہے جسے جمہوریہ بھارت کہا جاتا ہے لیکن چشمِ اقوام نے پھر یہ بھی نظارہ دیکھا ہے کہ ان ریاستی اور فوجی مظالم کے باوجود کشمیریوں کا جذبۂ حریت کبھی سرد نہیں پڑا بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں مزید تیزی آتی چلی جا رہی ہے ۔ وہ وقت دور نہیں جب بھارت کو عالمی دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑیں گے اور کشمیریوں کو ان کے خوابوں کی تعبیر مل کے رہے گی۔

آسام کی تحریکِ علیحدگی پسندی

شمال مشرقی ہند کی سات ہمسایہ ریاستوں میں سے ایک آسام بھی ہے۔ جہاں علیحدگی پسندی کی تحریک پورے زوروشور کے ساتھ جاری ہے۔ یہ ہمالیہ کے زیریں دامن کا حصہ ہے۔ بھوٹان اور بنگلہ دیش کی سرحدیں ہیں۔ بھارت کا ذات پات پر مبنی نظام یہاں کے لوگوں کو سخت ناپسند ہے۔ وہ انسانی مساوات پر یقین رکھتے ہیں۔بھارت کے ظالمانہ ہتھکنڈوں سے تنگ آکر یہاں کی عوام نے تحریکِ آزادی کا آغاز کیا اور مختلف جنگجو تنظیموں نے‘ جن میں سب سے بڑی یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام (یوایل ایف اے) ہے، مسلح جدوجہد آزادی کا آغاز کیا لیکن بھارت نے اپنے روایتی ظالمانہ اقدامات کے تحت 1990ء میں اس کو کالعدم قرار دے دیا اور ابھی تک ملٹری آپریشنز کے ذریعے وہاں کے عوام کے حقوق سلب کئے جارہے ہیں۔ مسلم متحدہ آزادی ٹائیگر آف آسام (ایم یو ایل ٹی اے) نامی تنظیم جو 1996ء میں قائم ہوئی، وہ آسام اور آس پاس کے علاقوں کے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ ریاست کا مطالبہ کرتی ہے۔

تریپورہ کی تحریک

تریپورہ بھارت کے مشرق میں واقع ایک ریاست ہے جو ایک متنازعہ ریاست کہلاتی ہے۔ ایک حقیقت کے طور پر یہ بات مسلمہ ہے کہ تریپورہ ہمیشہ سے ایک آزاد ریاست رہی ہے اور کبھی بھی برٹش انڈیا کا حصہ نہیں رہی۔ بناء بریں یہاں کے عوام کا مطالبہ ہے کہ اس کا بھارت سے الحاق قطعاََناجائز اور اصولوں کے برعکس ہے اس لئے باقاعدہ قائم شدہ تنظیمیں، جن میں نیشنل لبریشن فرنٹ آف تریپورہ جو مارچ 1989ء میں بنی، تریپورہ کے لئے علیحدگی کی پرزور وکالت کرتی ہیں۔ اسی طرح تریپورہ ٹائیگر فورس جو 1990ء میں قائم ہوئی، وہ بھی اس کی علیحدگی کی پرزور حامی ہے۔

میگالیا کی تحریک

اس ریاست میں بھارت سرکار کا سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ وہ مقامی آبادی کو اقلیت بنانے پر تلی ہوئی ہے اور اس طرح وہ مقامی آبادی کے سبھی حقوق سلب کرنے پر مبنی اقدامات اٹھاتی رہی ہے۔ جس کے باعث وہاں پر شدید ردعمل شروع ہوا۔ اگرچہ بھارت سرکار نے مختلف ہتھکنڈوں سے وہاں کے عوام کو رام کرنے کی پرزور تحریک جو 1960ء سے چلی،سے مجبور ہو کر آسام ری آرگنائزیشن (میگالیا) ایکٹ 1969ء پاس کیا جس کی رو سے اسے ایک خود مختار ریاست کا درجہ مل گیا۔ 1971ء کے ایک ایکٹ کے تحت ریاست کو مکمل خود مختاری کے حقوق مل گئے جس کی اب اپنی ایک قانون ساز اسمبلی بھی ہے۔ یہ ریاست ابھی بھی بھارت سرکار کی مختلف حیلے بہانوں سے کی گئی ریشہ دوانیوں کا شکار رہتی ہے۔

میزو رام کی تحریک

میزورام کا نام تین الفاظ سے استخراج شدہ ہے جس کا مفہوم دامنِ کوہ کے لوگ ہے۔ اس وادی میں 1947ء کی تقسیمِ ہند کے وقت 200 قبائلی سردار تھے۔ ریاست کے اعلیٰ پڑھے لکھے طبقے اس قبائلی نظام کے خلاف تھے۔ ان کی مہم جوئی کے باعث 1954ء میں ایک قانون کے تحت 259 قبائلی سرداروں کے وراثتی حقوق سلب کر لئے گئے۔ لیکن بعد میں مختلف وجوہات کی وجہ سے اختیارات کے ارتکاز کے خلاف بھی مہم چلی اور میزونیشنل فیمائن فرنٹ جو بعد میں میزو نیشنل فرنٹ میں تبدیل ہوا، کے مطالبات کو مانتے ہوئے 1971ء میں میزو ہلز کو یونین ٹیریٹری میں بدل دیا گیا اور اس طرح1972ء میں میزورام قائم ہو گیا۔ تاہم یہاں کے عوام ابھی بھی مطمئن نہ ہو سکے اور بالآخر 1986ء کے میزورام امن معاہدے کے تحت ریاست کو مکمل خودمختاری کا درجہ ملا۔

ناگالینڈ کی تحریک

ناگالینڈ کی ریاست 1974ء کی تقسیم ہند کے بعد ریاست آسام کے ایک حصے کے طور پر قائم تھی لیکن قوم پرستانہ تحریکوں نے تشدد کا رجحان اختیار کیا اور پوری ریاست میں علیحدگی پسندی کا طوفان کھڑا کر دیا۔ 1955ء میں بھارتی فوج نے بے شمار مظالم برپا کئے تاہم ایک معاہدے کے تحت ناگالینڈ کو الگ سے خودمختاری دینے کا اعلان ہوا۔ بعد میں یونین ٹیریٹری قائم کرکے اسے براہِ راست بھارت کے دارالحکومت سے نتھی کر دیا گیا لیکن یہ اقدام بھی قبائل کی ناراضگی کو ختم نہ کر سکا۔ بالآخر جولائی1960ء میں بھارتی وزیر اعظم پنڈت نہرو اور ناگا پیپلز کنونشن کے درمیان مذاکرات ہوئے اور 16نکاتی معاہدے کے تحت بھارت سرکار ناگالینڈ کو کامل خودمختاری دینے پر مجبور ہوگئی۔1962ء میں ناگالینڈ نے خودمختاری حاصل کی لیکن قبائل کی پھر بھی تسلی نہ ہوئی اور وہ اب بھی انڈیا کے آئین کو تسلیم نہیں کرتے اور مکمل آزادی کے خواہاں ہیں۔

بوڈولینڈ کی تحریک

بوڈولینڈ کے عوام کا مطالبہ ہے کہ بوڈولینڈ کو مکمل آزادی دی جائے۔ یہ فی الحال بھارتی آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت انتظامی طور پر خودمختاری کا درجہ رکھنے والی ریاست ہے۔ یہاں کے رہنے والے برہما پتری تہذیب کے اولین باسی کہلاتے ہیں۔ کبھی یہ آسام پر حکمرانی کرتے تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ طاقت میں کمزور پڑتے چلے گئے۔ بھارت سرکار کے ظالمانہ اور غاصبانہ اقدامات کے نتیجے میں یہاں کے عوام پر معاشی اور تعلیمی دروازے بند کردیئے گئے تو یہاں پر بھارت سے آزادی حاصل کرنے کی تحریک چلی ۔یہ تحریک آل بوڈو سٹوڈنٹس یونین جو مارچ 1987ء کو قائم ہوئی، کے تحت زور پکڑ گئی۔ اسی تنظیم نے بعد میں اپنا ایک سیاسی ونگ بوڈو پیپلز ایکشن کمیٹی کے نام سے قائم کیا تاکہ اپنی جدوجہدِ آزادی کو تیز کر سکے۔ 1993ء میں مختلف ریاستی معاملات کے باعث یہاں پرتشدد ہنگامے پھوٹ پڑے اور تقریباََ80 ہزار لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑی۔ بوڈوز کی تحریک آزادی کا جنون پھر بھی سرد نہیں پڑا اور یہ تحریک پورے زوروشور کے ساتھ جاری و ساری ہے۔

ڈریویڈا ناڈو کی تحریک

ابتداء میں ڈریویڈا ناڈو کی آزادی کی تحریک تامل زبان بولنے والے علاقوں تک محدود تھی لیکن بعد ازاں یہ ان دوسری ریاستوں تک پھیل گئی جہاں جہاں ڈریویڈی زبان بولی جاتی ہے‘ ان میں آندھرا پردیش ، کیرالہ اور کرناٹک کی ریاستیں شامل ہیں۔ تحریک کے محرکین سیلون، اڑیسہ اور مہاراشٹریہ کو بھی ڈریویڈاناڈو میں شامل سمجھتے ہیں۔ 1940ء سے 1960ء تک اس تحریئ آزادی کو مکمل عروج حاصل ہوا۔ تاہم 1956ء کے ریاستوں کے تنظیمِ نو کے قانون نے اس تحریک کو خاصا کمزور کیا۔ اگرچہ یہ تحریک جاری ہے تاہم اس میں پہلے جیسا دم خم نہیں۔

ناگالم کی تحریک

1950ء میں ناگا نیشنل کونسل نے بھارت سرکار کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کے ذریعے اس ریاست کے لئے علیحدگی کا پرزور مطالبہ کیا لیکن یہ تحریک1975ء کے شلونگ معاہدے کے بعد بہت سے جنگجوؤں کے ہتھیار ڈالنے کی وجہ سے کمزور پڑگئی۔ اسی دوران بھارت نے اپنی چالبازیوں سے ناگالینڈ ریاست بناکر اس تحریک کو ختم کرنا چاہا تاہم اب بھی ناگالینڈ کے لوگوں کا ایک بڑا حصہ نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ نامی تنظیم کے ذریعے ایک علیحدہ ملک کی تحریک کو جاری وساری رکھے ہوئے ہے۔

اروناچل پردیش کی تحریک

یہ بھارت کی 29 ریاستوں میں سے ایک ریاست ہے۔ یہاں کے قبائل آزاد ۂند کے وقت تک آزاد رہے ہیں۔ اروناچل پردیش ، تبت اور ملحقہ علاقوں سے متعلق بھارت اور چائنا میں شدید تناؤ رہا ہے۔1962ء میں بھارت اور چائنا کے بیچ ایک جنگ بھی ہو چکی ہے۔ 1955ء میں شمال مغربی سرحدی ایجنسی (نیفا) کے نام سے یہ علاقہ موسوم کیاگیا۔ تاہم 20 جنوری 1972ء کو اسے اروناچل پردیش کا نام دے دیا گیا اور اسے یونین ٹیریٹری کا درجہ ملا۔20فروری1987ء کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرلیاگیا۔ لیکن نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ کے لوگ اب بھی یہاں پر مختلف کارروائیوں میں مصروف رہتے ہیں۔

سکھوں کی تحریکِ خالصتان

خالصتان موومنٹ کے ذریعے سکھ اپنے لئے علیحدہ وطن کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ریاست پنجاب میں سکھ روایتی طور پر آباد ہیں۔ انگریز راج سے قبل سکھ یہاں پر82 سال سے حکمرانی کر رہے تھے۔ سکھوں کی تحریکِ آزادی 1970ء سے1980ء تک اپنے بامِ عروج تک پہنچی۔

1980ء میں سکھوں نے مسلح جدوجہد کو زور و شور سے شروع کیا تو اس وقت کی بھارت سرکار نے سکھوں کے خلاف فوجی آپریشن کا آغاز کر دیا۔ حتیّٰ کہ بھارتی فوج سکھوں کے مذہبی مقام گولڈن ٹیمپل میں گھس گئی اور وہاں کے مذہبی تقدس کو بے حد پامال کیا جس سے سکھوں پر بجلی گر گئی اور یہ غم وغصہ یہاں تک پہنچا کہ اس وقت کی بھارتی وزیرِ اعظم مسز اندرا گاندھی اپنے ہی سکھ باڈی گارڈوں کے ہاتھوں قتل ہوگئی۔ اندراگاندھی کے قتل نے سکھوں پر مزید بھارتی مظالم کا دروازہ کھول دیا اور وہ 1984ء میں سکھ نسل کشی پر مبنی اقدامات کے تحت ہزاروں کی تعداد میں قتل کر دیئے گئے۔

جنوری 1982ء میں گولڈن ٹیمپل پر آل انڈیا سکھ سٹوڈنٹس اور دمدمی ٹیکسل جیسے جنگجوؤں نے قبضہ کر لیا۔22جنوری 1986ء کو وہاں پر ایک اجتماع نے خالصتان کی تخلیق کی قراداد پاس کی اور اس کے بعد ایک تحریکِ آزادی کو برپا کیا گیا۔ تاہم ہند سرکار 1990ء میں اس پر کافی حد تک قابو پانے میں کامیاب ہو گئی۔ باوجود اس کے خالصہ راج پارٹی اور (ایس اے ڈی اے) نے اس تحریک کو کسی نہ کسی طور زندہ رکھااور اب بھی یہ تحریک بھارت میں بالعموم اور بھارت سے باہر بالخصوص اپنے لئے حمایت کا سامان کرتی رہتی ہے۔ اور سکھ برادری عالمی سطح پر اپنے مطالبات کی وکالت میں پیش پیش رہتی ہے۔ مصنف ہلال کے لئے مضامین لکھتے ہیں ‘ ان دنوں مقامی یونیورسٹی سے ایم فل کررہے ہیں

[email protected]

یہ تحریر 27مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP