متفرقات

ذرا آذربائیجان سے

سویت یونین یا معروف معنوں میں اشتراکی روس کا بکھرنا اور ٹوٹنادنیا بھر کے لاکھوں نہیں کروڑوں عوام کے خوابوں کا بکھرنا اور ٹوٹنا تھا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد ابھرنے والا اشتراکی روس دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک سپر پاور بن گیا تھاجس کا مقابلہ بعد کے برسوں میں دوسری بڑی سپر پاور امریکہ سے ہوا۔ اشتراکی روس ساری دنیا کے قوم پرستوں، جمہوریت پسندوں اور آزادی کے متوالوں کی آواز بن کر اگر ایک طرف ابھرا تو دوسری طرف سپرپاور امریکہ استعماریت،سامراجیت اور سرمایہ داری کا منبع بن کر بالادست طبقوں کا سرپرست اعلیٰ بنا۔ ان دو سپرپاوروں یعنی اشتراکی روس اور متحدہ ریاست ہائے امریکہ کے درمیان کم وبیش نصف دہائی تک شدید محاذ آرائی رہی جسے سرد جنگ یا
Cold War Era
کہا جاتا ہے۔ کمیونسٹ دشمنوں کی خوش قسمتی اور کمیونسٹوں کی بدقسمتی کہ 90 کی دہائی میں خود اشتراکی روس میں میخائل گور بوچوف کمیونزم کے لئے خودکش بمبار بن جاتے ہیں۔خود سوویت یونین ہی نہیں دنیا بھر کی اشتراکی ریاستیں تاش کے پتوں کی طرح بکھر جاتی ہیں باقی سب سامنے کی تاریخ ہے۔ آپ سوچتے ہوں گے میں یہ کیا کہانی سنانے لگا۔۔۔ تو اے عزیزو! لندن واپسی کے بعد ابھی دم لیا ہی تھا کہ اسلام آباد سے فون آیا کہ آذربائیجان کے لئے 13 اکتوبر کو تیار رہنا ہے۔ وزیراعظم پاکستان کی ’’میڈیا ‘‘ ٹیم میں آپ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ پہلے تو یقین نہیں آیا۔۔۔ مگر بعد میں جب ایک معتبر نام سے تصدیق ہوئی تو صحیح معنوں میں ’’دل خوش باش ہوا‘‘ کہ ایک عرصے سے خواہش تھی کہ سوویت یونین یعنی اشتراکی روس کے خاتمے کے بعد ذرا اُن ریاستوں کی زیارت کی جائے کہ جہاں۔۔۔ اشتراکی قبضے سے پہلے مسلمانیت کے پھریرے لہراتے تھے اور جو اشتراکی روس کے خاتمے کے بعد پھر سے مشرف بہ اسلام ہو گئے ہیں۔ آذربائیجان سینٹرل ایشیا کی چھ ریاستوں میں سے ایک ہے جو1991 میں آزاد ہوئیں اور جس کا سہرا موجودہ صدر الہام علیوف کے والدِ محترم کو جاتا ہے جو بابائے آذربائیجان کہلائے جاتے ہیں۔ ایک کروڑ آبادی کے ملک آذربائیجان کے شہر ’’باکو‘‘ ایئرپورٹ پر جب جہاز نے لینڈ کیا تو یہی خیا ل تھا کہ ’’بے چارے‘‘ آذربائیجانیوں کا جس طرح 70 برس بدبخت روسیوں نے استحصال کیا ہے اُس کے بعد وہ کسی موہنجوداڑو یا ٹیکسلا سے اگر بدتر نہیں تو ہمارے شہر کراچی سے تو بہتر نہیں ہو گا۔ مگر عزیزو! جیسے جیسے ہمارا قافلہ شہر کی جانب رواں دواں ہوا۔ ہمیں لگا کہ لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ سے نکل کر دریائے ٹیمز سے ہوتے ہوئے آکسفورڈ اسٹریٹ میں داخل ہو رہے ہیں۔ ہئے ہئے دریائے ٹیمز کا نام زبان پر آیا تو شاعرِ بے مثال مصطفٰی زیدی یاد آگئے۔


ساحلِ ٹیمز پہ سنگم کا صنم یاد رہا
مجھ کو لندن میں تیرا دیدہِ نم یاد رہا


آپ کہتے ہوں گے مبالغہ آرائی کی بھی حد ہوتی ہے۔ وزیرِ اعظم کے قافلے میں کیا شامل ہوئے کہ الفاظ آپے سے باہر ہو رہے ہیں جواب میں اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ بھئی’’باکو‘‘ آجاؤ زندگی بھر اپنی بانہوں سے نکلنے نہیں دے گا۔سو عزیزو! باکو کے پنج ستارہ 4سیزن ہوٹل میں پہنچتے ہی یہ خوشخبری ملی کہ ساری شام اور شب ہم فارغ ہیں جب اور جہاں چاہیں گھومیں، پھریں،موج اُڑائیں،ہوٹل کے لاؤنج میں۔ ’’ہم کراچی شہر‘‘کے ماروں نے بے خبری بلکہ بھول پن میں اسلام آباد میں مقیم آذربائیجان کے سفیر سے یہ پوچھ لیا کہ جناب ہم کتنی دیر رات تک سڑکوں پر آوارگی کر سکتے ہیں؟ سفیر صاحب نے بے ساختہ ایسا قہقہہ لگایا کہ ’’شرم سے ڈوبنا‘‘ تو ممکن نہ تھا اس لئے زبان پر چُپ کی مُہر لگا لی اور سفیر صاحب کی آذربائیجان اور اُس کے دارالحکومت باکو کے بارے میں معلومات سے مستفید ہونے لگے۔باکو شہر کی آبادی کوئی 40 لاکھ کے قریب ہے۔ 70 فیصد آبادی اہلِ تشیع ہونے کے سبب آذربائیجان کو شیعہ مسلم ریاست کہا جاتا ہے۔ ترکی اور ایران سے اس کی سرحدیں ملتی ہیں۔ ترکیوں پر آذربائیجانی فدا اور ایرانیوں سے خاصے خفا رہتے ہیں جبکہ حیرت ناک طور پر پاکستانیوں سے حالیہ برسوں سے شدید محبت میں مبتلا ہیں اور اس بات کی شدید خواہش رکھتے ہیں کہ کوئی تین اتحادی ’’سارک‘‘ وجود میں آجائے یعنی آذربائیجان، پاکستان اور ترکی جو اس خطے میں ’’خوشحالی اور امن‘‘ کی نوید بنے۔ سفیر صاحب ہمارے جماہی لینے سے پہلے ہی کہہ اُٹھے ارے یہ میں کیا آپ کو بور کرنے بیٹھ گیا۔ باہر نکلیں اور ذرا بحیرہ قلزم کے ساتھ ساتھ چہل قدمی کریں۔ شام کا پہلا پہر تھا۔ خُنک خوشگوار ہوا کو کھینچتے جب دائیں بائیں نظر پڑی تو اُس کی منظر کشی نہیں ہو سکتی اس لئے شاعرخرابات عبدالحمید عدم کا سہارا لیتا ہوں۔


گلے ملتے ہیں جب آپس میں دو بچھڑے ہوئے ساتھی
عدم ہم بے سہاروں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے


سو اے عزیزو! ہم جو اُٹھتے بیٹھتے ان دنوں ’’ہائے لندن وائے لندن‘‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوتے ہیں محض باکو میں 24گھنٹے گزارنے کے بعد ’’ہائے باکو وائے باکو‘‘ کا ورد کر رہے ہیں کہ کیا شہر ہے کیا اس کی شاہراہیں کیا اس کے لہلہاتے سرسبزو شاداب جھومتے درخت اور پھر ان شاہراہوں اور چوکوں پر مسکراہٹ بکھیرتے خوش رنگ گلاب جیسے چہرے لئے آذربائیجانی۔


مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 59مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP