متفرقات

دہی سازی کی قومی صنعتیں  

نئی نسل کے طالب علموں کے لئے انکل سرگم کی لکھی پرایئویٹ بُک ''ہسٹری آف انڈسٹریز'' کے پہلے باب میں آپ نے جعل سازی کی صنعت کے بارے میں پڑھا۔ جعل سازی کی صنعت کے بعد ہمارے ہاں کی دوسری بڑی صنعت، دہی سازی کی صنعت پائی جاتی ہے ۔جعل سازی کی صنعت کی طرح دہی سازی کی صنعت میںبھی ہم نے بے تحاشہ ترقی کی۔ یہ صنعت بھی قیام ِپاکستان کے فوراً بعد وجود میں آئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک میں جعل سازی کی صنعت کی طرح ہر طرف پھیل گئی۔ دہی سازی کی صنعت میںچلنے والی بہت سی فیکٹریاں مشہور ہوئیں جن میں دھوکہ دہی ، فریب دہی، الزام دہی اور جواب دہی کی فیکٹریاںاور کار خانے سر فہرست پائے جاتے ہیں جن کا ذکر ذیل میں کیا جا رہا ہے۔
دھوکہ دہی فیکٹری: دہی سازی کی قومی صنعت میں سب سے زیادہ چلنے والی فیکٹریاں دھوکہ دہی کی ہی پائی جاتی ہیں۔ان فیکٹریوں کے مالکان زیادہ تر  آڑھتی، دوکاندار اور دو نمبر بزنس مین ہوتے ہیں۔ جن کا کام میڈ ان تائیو ان کو  میڈ ان جاپان بنانا، چا ئے کی پتی میں کالے چنے کا چھلکا ملانا ، مرچوں میں اینٹوں کا برادہ، جان بچانے والے دوا کے کیپسول میںآٹا اور آٹے میں بوراملانا ، عوام دوستی ، حب الوطنی اوراسلامی ایمانداری کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ عوام کی آنکھوں میں دھوکے کی دھول جھونکنے کے اس قومی کاروبارنے نجی شعبے کے ساتھ ساتھ سرکاری شعبے میںبھی بے حد ترقی کی ہے جس میں سرکاری ملازمین کا جعلی بیماری کا جعلی میڈیکل بلوں سے اپنی تنخواہ کے ساتھ ساتھ اضافی رقم بٹورنا، کسی زندہ  رشتے دار کوچھٹی کی درخواست میں تحریری طور پہ مار کرچھٹی لے لینا۔ دفتری دھوکہ دہی میں ماتحت اپنے افسر کی آنکھوں میں دھوکہ دہی کی صنعت کو فروغ دینے میں نمایاںکردار اداکرتے چلے آرہے ہیں۔
  فریب دہی کے کارخانے:  دہی کی صنعت میں فریب دہی کے کارخانوں کو فروغ دینے والوں میں ٹی وی کے نیوزچینلز، فلموں کے پروڈیوسرز، پرایئویٹ ٹی وی چینلز کے پروڈیوسرز اور چند اخبار نویس با اثر شمار کئے جاتے ہیں۔فریب دہی کے یہ کارخانے زیادہ تر کسی فلم، ٹی وی یا ریڈیو کی زمین یا احاطے میں قائم ہوتے ہیں جنہیں سٹوڈیوز بھی کہا جاتا ہے۔ ان کار خانو ں میں ٹی وی کا کام فریب دہی کی فیکٹری کے تیار کردہ نئے  فریب عوام کو دکھانا اور انہیں دھوکے میں رکھناان کا اولین اور آخری پراڈکٹ سمجھا جاتا ہے۔ فریب دہی میں وہ اعلیٰ سرکاری افسر بھی بڑی ایمانداری سے اپنے سرکاری فرائض ادا کرتے ہیں جن میں عوام کو خوشحالی اور ترقی کے پُر فریب سبز باغات دکھانے کے ساتھ ساتھ عوام کو اس فریب میں رکھنا کہ ملک ترقی کی راہ پہ گامزن ہو چکا ہے اور اب عنقریب ہر طرف چین کی بانسری سنائی دے گی ، جیسے فرائض شامل ہوتے ہیں۔ فریب دہی کے یہ کار خانے بھی زیادہ تر سرکاری اور پرائیویٹ کنٹرول میں ہی چلتے ہیں جن میں سرکاری اور پرایئویٹ سیکٹر کے ماہر فریب ساز  منافع میں برابر کے حصے دار ہوتے ہیں۔
  الزام دہی کی فیکٹریاں: جس طرح ہمارے ہاں گرمیوں میں پنکھوں، مشروبات، کولرز اور سردیوں میں اون، کمبل اور ہیٹرز کاکاروبار عروج پہ ہوتا ہے اسی طرح الزم دہی کے کارخانے ہمارے ہاںجمہوریت کے موسم میں خوب بزنس کرتے ہیں چنانچہ جمہوریت کا موسم آتے ہی الزامات کی پروڈکشن کاکام عروج پہ نظر آتا ہے ۔ چونکہ اس کاروبار میں سیاستدانوںکے شیئرز زیادہ ہوتے ہیں اس لئے وہ الزام دہی کا بزنس چمکانے کے لئے اخبارت اور ٹی وی چینلزمیں ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کا گریبان پکڑنا، ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنا الزام دہی کی صنعت کا لازمی جزو سمجھتے ہیں۔جمہوریت کے موسم میں جب کچی اسمبلیاں تھوڑی تھوڑی پک جاتی ہیں تو ان میں الزامات کے پھل پھول لگنے شروع ہو جاتے ہیں۔ جنہیں الزام سازی کے ساتھ ساتھ دست درازی اوردشنام طرازی کی مدد سے ترو تازہ رکھا جاتا ہے۔
جواب دہی کے کارخانے: جواب دہی کے کارخانے میں دو طرح کی  جواب دہی تیار ہوتی ہے۔ایک جواب     دہی ان لوگوں کے لئے تیار کی جاتی ہے جو چھوٹے گریڈ کے، قابل شرم آمدنی والے، بے کس اور بغیر واقفیت والے باشندے کہلاتے ہیں۔ دوسری جواب دہی جو کافی مہنگی ہوتی ہے اور چونکہ اسے مہنگے لوگوں کے لئے مہنگی وکالت کے ذر یعے تیار کیا جاتاہے اس لئے ''اشرف المخلوقات '' کے لئے تیار ہونے والی جواب دہی عام مارکیٹ میں نظر نہیں آتی بلکہ اسے صرف احتساب کی خاص عدالتوں، بند کمروں یا  بڑی بڑی خفیہ میٹنگز کے دوران ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ سستی اور روز مرہ کے استعمال کے لئے تیارہونے والی جواب دہی کے کٹہرے میں وہی کھڑے نظر آتے ہیں جو کسی چھوٹی موٹی غلطی کے مرتکب ہوتے ہیںجبکہ فیکٹری کے مالکوں کو ان کٹہروں میں کھڑا ہونے سے مبرا سمجھا جاتا ہے۔جواب دہی کا سیزن ہمارے ہاں صرف اس وقت آتا ہے جب کوئی مارشل لأ لگتا ہے اور یا پھر کوئی حکومت تبدیل ہوتی ہے۔ لہٰذا عوام بھی یہی دعا کرتے رہتے ہیںکہ کوئی حکومت جلد از جلد تبدیل ہو۔ تاکہ وہ جواب دہی کے ذریعے جان سکیں کہ ان کے ساتھ اب تک کتنی دھوکہ دہی اور کتنی  فریب دہی ہو چکی ہے؟۔
نشان دہی کی سمال انڈسٹری: دہی سازی کی صنعت میں ترقی کا دارومدار جہاں دھوکہ دہی، فریب دہی، الزام دہی اور جواب دہی  کے کارخانوں پہ ہے جنہیں سرکاری اور نجی دھوکہ ساز بڑی کامیابی سے چلاتے ہیں وہاں اس صنعت کی ترقی میں کچھ لوگ رکاوٹ بھی بن جاتے ہیں۔ یہ وہ زہریلے لوگ ہوتے ہیں جو اخبارات میں کالم لکھ لکھ کر دہی کی صنعت  کے خلاف اپنا زہر اگلتے رہتے ہیں۔ ان لوگوں کا سدباب کرنے کے لئے سرکاری اور نجی سطح کی لیبارٹریوں میں تحقیقات جاری رہتی ہیں جن میں یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ ایسے لوگوں کے منہ اور ہاتھ کیسے بند کئے جائیں؟عوام کی خاص توجہ حاصل کرنے والی اور سرکار پہ اثرانداز نہ ہونے والی یہ تنقیدی فیکٹریاں زیا دہ نہ پھلنے پھولنے کی بدولت ''نشان دہی کی چھوٹی صنعت'' کہلاتی ہیں۔


مضمون نگار پاکستان کے مشہور ٹی وی آرٹسٹ اور پروگرام ڈائریکٹر ہیں۔ معروف ٹی وی شو 'کلیاں' ان کی وجہ شہرت بنا۔ آپ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 4مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP