قومی و بین الاقوامی ایشوز

دہشت گردی کے خلاف قومی منصوبہ بندی

دہشت گردی کو ختم کرنے میں فوج کا کردار بہت اہم ہے اور فوج کی قربانیاں بھی بے شمار ہیں مگر فوج اکیلے یہ کام نہیں کرسکتی، نہ ہی تمام تر ذمہ داری کا بوجھ فوج کے کندھوں پر ڈالنا چاہئے، اس سے فوج کی دفاعی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔ مسئلہ کے حل میں اگر 20 فیصد کردار فوج کا ہے تو 80 فیصد ذمہ داری سویلین انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ جب تک ملک میں مؤثر نظام حکومت نہیں ہوگا، جس میں ہر شعبہ اپنا فعال کردار ادا کرے اس وقت تک دہشت گردی سے چھٹکارا ممکن نہیں۔

پاکستان تین دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار ہے، اور یہ ناسور آہستہ آہستہ نہایت مہلک صورت اختیار کرگیا ہے۔ عرصہ دراز تک ہماری قوم بے حسی کا ثبوت دے کر خواب غفلت میں مبتلا رہی ۔ جی ایچ کیو سے لے کر فروٹ منڈیوں تک ، اور صدر وزیراعظم سے لے کر عام شہریوں تک دہشت گردی کا شکار بنے۔ یہاں تک کہ ساٹھ ہزار افراد اس دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے، مگر اس لعنت سے چھٹکار ا پانے کے لئے کوئی سنجیدہ حکمت عملی اختیار نہیں کی گئی۔ 16 دسمبر پہلے بھی ہماری تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا،کیونکہ بھارت کی جارحیت سے اسی دن وطن عزیز پاکستان دولخت ہوا تھا۔ پھر اسی 16 دسمبر 2014 ء کو ہماری قوم کے لخت جگر، نونہال خون میں نہلا دیئے گئے۔اس بہیمانہ کارروائی کے خلاف ہونے والی تحقیقات میں جو شواہد ملے ہیں ، ان میں پڑوسی ملک بھارت کے خفیہ اداروں کے ملوث ہونے کے اشارے بھی ملتے ہیں۔ اس سانحہ نے پوری قوم کو بظاہر متحد کرکے نئے عزم کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جامع منصوبہ بندی کی جانب پیش رفت پر آمادہ کیا۔ ضرب عضب جو جون 2014 ء سے دہشت گردوں کے خلاف منظم انداز میں جاری ہے ، اس کو بھی زیادہ مؤثر کیا گیا اور دہشت گردوں کی کمیں گاہوں کو تباہ کرکے ان کی کمر توڑ دی گئی۔ اسی دوران یکے بعد دیگرے راولپنڈی کی مسجد میں جاری محفل میلاد پر، شکار پور میں نماز جمعہ پر، لاہور میں پولیس لائنز کے باہر اور اسلام آباد کی مسجد میں نمازیوں کو تسلسل کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔ دہشت گردی کو ختم کرنے میں فوج کا کردار بہت اہم ہے اور فوج کی قربانیاں بھی بے شمار ہیں مگر فوج اکیلے یہ کام نہیں کرسکتی، نہ ہی تمام تر ذمہ داری کا بوجھ فوج کے کندھوں پر ڈالنا چاہئے، اس سے فوج کی دفاعی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔ مسئلہ کے حل میں اگر 20 فیصد کردار فوج کا ہے تو 80 فیصد ذمہ داری سویلین انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ جب تک ملک میں مؤثر نظام حکومت نہیں ہوگا، جس میں ہر شعبہ اپنا فعال کردار ادا کرے اس وقت تک دہشت گردی سے چھٹکارا ممکن نہیں۔

دہشت گردی اور دہشت گردوں کے کئی رنگ و روپ ہیں۔ سب سے پہلے ان تمام کو سمجھنے ،ان کی درست تشخیص کرنے کی ضرورت ہے اور پھر ایک جامع ، ہمہ جہت اور دیرپا پالیسی کے ذریعے بتدریج اس عفریت پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ آج کل جس دہشت گردی کا ذکر زیادہ ہوتا ہے اور جو مغربی ممالک میں زیادہ بدنام یا مشہور ہوچکی ہے‘ وہ انتہاپسندانہ مذہبی نقطہ نظر سے منسلک ہے‘ جس میں اسلام کے نام کو استعمال کرکے اسلام کے تصور کو مسخ کیا جارہاہے ۔ اس میں طاقت، بندوق کے زور پر اپنے نظریات کو دوسروں پر ٹھونسا جارہا ہے۔ اس دہشت گردی سے منسلک طالبان، القاعدہ، داعش، جنداللہ، لشکر جھنگوی کی شکل میں موجود ہیں۔صدر اوبامہ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جنگ اسلام سے نہیں ، انتہاپسندی اور دہشت گردی سے ہے ۔پھر کیا وجہ ہے کہ صہیونیت، یا یہودی انتہاپسندی اور دہشت گردی، نیوکان یا عیسائی انتہاپسندی اور دہشت گردی، اور بھارت کی آر ایس ایس کی ہندو مذہبی انتہاپسندی اور دہشت گردی کا مغرب میں ذکر نہیں کیا جاتا؟ اس کے علاوہ سیکولر اور آزاد خیال انتہاپسندی، جس میں آزادی اظہار کے نام پر دوسرے مذاہب کی جلیل القدر ہستیوں کی شان میں گستاخی کرکے انتشار پھیلایا جاتا ہے‘ اس کا شمار بھی سیکولر دہشت گردی میں کرنا چاہئے۔ دوسری بین الاقوامی دہشت گردی وہ ہے جو چند بڑی طاقتیں دوسرے ملکوں کو غیر مستحکم کرنے، وسائل پر قبضے اور مرضی و منشاء کے مطابق حکومتیں ترتیب دینے کے لئے کر رہی ہیں، یہی بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے حصول کے لئے پہلے سے موجود دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی اور انہیں مالی امداد بھی فراہم کرتی ہیں۔ دہشت گردی کی یہ صورت شام میں جاری بیرونی مداخلت پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور فاٹا میں ہونے والی بیرونی مداخلت کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ دہشت گردی کی تیسری قسم فرقہ وارانہ ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ہمارے برادر ملک جن کے ساتھ ہمارے بہت اچھے تعلقات ہیں ، افسوس یہ ہے کہ محض فرقہ کی بنیاد پر ان کے آپس میں تعلقات اچھے نہیں ہیں۔ ہمارے عوام کے ان ملکوں سے بہت قریبی تعلقات ہیں ۔چنانچہ ان کی آپس کی چپقلش، کدورت کے اثرات پاکستان کے اندرونی حالات پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس کے بعد ملک میں جاری سیاسی دہشت گردی ہے ۔ مختلف سیاسی پارٹیوں نے اپنے عسکری ونگ بنائے ہوئے ہیں ، اس حقیقت کو ملک کی اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے میں بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ سیاسی دہشت گردی بھی ملک میں عدم استحکام کی ذمہ دار ہے۔ اس کے علاوہ بڑے شہروں میں جرائم پیشہ منظم گروہ برسر پیکار ہیں۔ بینکوں، شہری آبادیوں میں ڈاکے، اغواء برائے تاوان اور دوسرے جرائم انہی پیشہ ور گروہوں کے ذریعے انجام پاتے ہیں۔ ان جرائم پیشہ گروہوں اور گلی ، محلوں و شاہراؤں پر ہونے والی وارداتوں سے بھی عوام میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس پایا جاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ پاکستان کے عوام کو بیک وقت دہشت گردی کی ان تمام اقسام کا سامنا ہے۔ کہیں فرقے کی بنیاد پر ان کا خون بہایا جارہا ہے ، تو کہیں روپے پیسے کے لالچ میں ان کے جسموں میں گولیاں اتاری جاتیں ہیں۔ کہیں بڑی طاقتوں کے مفادات کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں تو کہیں سیاسی مفادات ان کی جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ پاکستان اور اس کے عوام کو جن مسائل اور چیلنجز کا سامنا ہے‘ وہ پیدا ہی اسی لئے ہوئے ہیں کہ ہمارا نظام حکومت بہت کمزور رہا ہے ۔ ہم ایک کمزور یا سافٹ ریاست ہیں۔ ہمارانتظامیہ و پولیس کا نظام بھی اتنا کمزور ہے کہ جرائم کو روکنا یا ان کا پتہ لگانا تو درکنار بعض اوقات جرائم کی پشت پناہی اور سرپرستی میں بھی یہ خود ملوث پائے جاتے ہیں۔ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ملک میں امن و امان کا قیام اور عوام کے جان و مال کا تحفظ کرنا ہے ، جس میں ناکامی کا سامنا ہے۔ افسوس کی بات تو یہ بھی ہے کہ اول تو آبادی کے تناسب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نفری پہلے سے ہی بہت کم ہے ۔ اس پر طرہ یہ کہ ان کو بنیادی ذمہ داریوں سے ہٹا کر صرف اہم شخصیات کے ذاتی تحفظ اور پروٹوکول پر مامور کردیا جاتا ہے اور عوام کو دہشت گردوں کے لئے نرم شکار کے طور پر بے آسرا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ہم آزاد عدلیہ کی بات کرتے ہیں ، آزادی صحافت کا مطالبہ کرتے ہیں مگر آزاد پولیس کی بات نہیں کرتے ۔ سیاسی بنیادوں پر انتظامی اداروں و پولیس میں ہونے والی بھرتیاں قیام امن میں رکاوٹ ہیں۔ پولیس کو سیاسی اثرورسوخ سے آزاد کرکے ایک پیشہ ورانہ تنظیم بنانے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح انتظامیہ اور بیوروکریسی کے افسران کو آئینی تحفظ فراہم کیا جانا بھی ضروری ہے، کیونکہ وہ ریاست پاکستان کے ملازم ہیں، حکومت وقت کے غلام نہیں ۔ البتہ حکومت کے جائز احکامات پر عملدرآمد ان کی ذمہ داری ہے۔

بیروزگار ، تعلیم یافتہ افرادی قوت میں سے کئی جرائم کا راستہ اختیار کرتے ہیں اور کہیں نہ کہیں جاکر دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا حصہ بن رہے ہیں ۔ اس لئے حکومت کو تعلیم کے نظام کو مو¿ثر بنانے کے لئے منصوبہ بندی کرنا پڑے گی ، ورنہ دہشت گردوں کو افرادی کمک معاشرے سے ہی میسر آتی رہے گی اور یہ ناسور کبھی ختم نہیں ہو پائے گا۔ تعلیم کے ساتھ صحت عامہ کے نظام کو عوام تک پہنچانے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر ہر علاقے میں ہسپتال ، ڈسپنسریاں قائم کرنا ہوں گی۔ ہماری بڑھتی ہوئی آباد ی کے لئے اگر مستقبل میں امن و امان کو قائم رکھنا ہے تو اقتصادی ترقی کے لئے جامع منصوبہ بندی کرنا پڑے گی۔

ہماری فوج اور فوج کے ذیلی ادارے جیسے ایف سی، رینجرز، لیویز پاک سرحدوں کی حفاظت بھی کرسکتے ہیں اور مجرموں کا داخلہ بھی بند کرسکتے ہیں، اسی طرح منظم دستے ریاست کے خلاف سرکشی، بغاوت کرنے والے عناصر کی سرکوبی بھی کرسکتے ہیں، مگر سیاسی ، فرقہ وارانہ منظم اور غیر منظم جرائم پیشہ افراد کا محاسبہ کرنے کے لئے انتظامیہ اور پولیس کو ہی کام کرنا پڑے گا۔ المیہ یہ بھی ہے کہ ہمیں اتنی خبر بھی نہیں کہ ہمارے ملک کی آبادی کتنی ہے۔ کتنے غیرملکی باشندے آباد ہیں، کیونکہ ہمارے ملک میں مردم شماری کرانے کی آئینی ذمہ داری کو بھی پورا نہیں کیا گیا۔ جب تک یہ حقائق اور اعداد اداروں کے علم میں ہی نہیں ہوں گے تو اس سے متعلق منصوبہ بندی کیسے کی جاسکتی ہے۔ اس حوالے سے ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں فوراً مردم شماری کراکے مکمل اعداد و شمار یکجا کئے جائیں۔ کمپوٹرائزڈ نظام کے ذریعے انہی اعداد کی روشنی میں ریکارڈ تیار کیا جائے۔ ہر تھانے کی حدود میں موجود افراد کا شعبہ جاتی تقسیم کے مطابق ریکارڈ تھانے میں موجود ہونا چاہئے۔ مشکوک اور چھوٹے بڑے جرائم میں ملوث افراد ایک مخصوص کیٹگری میں ہونے چاہئے۔ اس کے علاوہ خفیہ پولیس اور سراغ رسانی کے نظام کو فعال اور ہمہ گیر بنانے کی ضرورت ہے۔ جس طرح نادرا کی مدد سے موبائل سمز کی تصدیق کا عمل جاری ہے ، اسی طرز پر انتظامی اداروں کو تصدیقی ڈیوائس فراہم کرکے افراد کی نقل و حرکت کو باآسانی مانیٹر کیا جاسکتا ہے۔ مختلف شہروں میں داخلے کے وقت مسافروں کی ویڈیو بنانے کے بجائے شناختی آلات کی مدد سے کمپوٹرائزڈ تصدیق کرنے سے انتظامی اداروں ، پولیس کو فوراً یہ خبر ہوسکتی ہے کہ کس کیٹگری سے منسلک کون سا شخص اس وقت شہری حدود میں داخل ہوچکا ہے اور اس کو کیسے مانیٹر کرنا چاہئے۔ اس کے علاوہ ہمارے ہی نظام میں موجود اگر کچھ کالی بھیڑیں دہشت گردوں کی مدد اور ان کی مجرمانہ کارروائیوں میں شریک ہیں تو ان کو بھی منظرعام پر لاکر نشان عبرت بنانا چاہئے۔انتظامیہ، پولیس کو مؤثر بنانے کے ساتھ ساتھ عدلیہ کے نظام کو بھی وقت کی ضرورت سے ہم آہنگ کرنا پڑے گا۔ مجرموں کے مقدمات کی پیروی میں تاخیر نظام کو غیرموثر بنادیتی ہے ۔ یہ فوری نوعیت کے اقدامات آج سے بہت پہلے ہونے چاہئے تھے، ان میں مزید تاخیر کی گنجائش نہیں ہے ۔

ساٹھ ہزار جانیں قربان کرنے کے بعد ہم نے دہشت گردی کو مل کر ختم کرنے کا عزم کیا ہے، مگر یہ فوری حل ہونے والا مسئلہ نہیں ہے ۔ اس کے لئے ہمیں فوری، میانہ مدتی اور طویل المدتی انتظامات یکسوئی سے کرنا ہوں گے۔ فوری طور پر ضرب عضب مو¿ثر اقدام ہے، فوج اور فوج کے ذیلی اداروں کو جہاں جہاں دہشت گرد موجود ہیں، ضرب عضب کو وہاں تک لے کے جانا ہوگا، اس سے دہشت گردوں کے بڑھتے قدم رکیں گے، منتشر ہونے کی وجہ سے ان کے آئندہ منصوبے ، عزائم کامیاب نہیں ہوں گے اور ان کا قلع قمع ہوگا۔ میانہ مدتی انتظام میں انتظامیہ ، پولیس، انٹیلی جنس اور عدالتی نظام کو اصلاحات کے ذریعے جدید اور مو¿ثر بنانا ہوگا،

یہاں دہشت گردی کے بنیادی اسباب کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ ہمارا نظام حکومت اتنا غیر مؤثر ہوچکا ہے کہ عوام کو بنیادی ضروریات کی فراہمی تو درکنار ان کی بنیادی ضروریات کو سمجھنے کی بھی تکلیف گوارا نہیں کی گئی اور نہ اس سے متعلق کوئی منصوبہ بندی انجام پائی۔ عوام کو قدم، قدم پر ناکامیوں اور مایوسیوں کا سامنا ہے۔ مایوسی‘ نفرت، انتہاپسندی اور دہشت گردی کو جنم دینے کا باعث بن رہی ہے۔ حالانکہ ہمارے ملک کا ایک بہت بڑا اثاثہ جوان افرادی قوت ہے۔ ہماری 65 فیصد آبادی کی عمر تیس سال سے کم ہے۔ یہ جوان افرادی قوت تعمیر ی بھی ہوسکتی ہے اور تخریبی قوت بھی بن سکتی ہے۔ جس کے متعلق طویل المدت پلان پر یکسوئی سے عملدرآمد کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام نامکمل ہونے کے ساتھ ساتھ اکثریت کے لئے سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ سات ملین کے قریب بچے جن کو پرائمری سکول میں ہونا چاہئے تھا، وہ گلیوں اور سڑکوں پر موجود ہیں۔تین کروڑ سے زائد سکول اور کالجز نہ ہونے کے باعث جہالت کے اندھیروں میں گم ہیں اور دہشت گردوں کے لئے خام مال بن چکے ہیں ۔ جو خوش نصیب یونیورسٹی ڈگری لینے میں کامیاب ہو بھی جائیں، ان کی اکثریت روزگار کی تلاش میں در بدر کی ٹھوکریں کھاتی ہے۔ ان میں سے بعض خوش نصیب دیار غیر جانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور کئی نوکریاں ، روزگار دستیاب نہ ہونے کے باعث نشہ کی لعنت اپناتے ہیں۔جس کے باعث ملک ان کی تعلیمی قابلیت سے استفادہ کرنے سے محروم رہتا ہے۔ بیروزگار ، تعلیم یافتہ افرادی قوت میں سے کئی جرائم کا راستہ اختیار کرتے ہیں اور کہیں نہ کہیں جاکر دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا حصہ بن رہے ہیں ۔ اس لئے حکومت کو تعلیم کے نظام کو مؤثر بنانے کے لئے منصوبہ بندی کرنا پڑے گی ، ورنہ دہشت گردوں کو افرادی کمک معاشرے سے ہی میسر آتی رہے گی اور یہ ناسور کبھی ختم نہیں ہو پائے گا۔ تعلیم کے ساتھ صحت عامہ کے نظام کو عوام تک پہنچانے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر ہر علاقے میں ہسپتال ، ڈسپنسریاں قائم کرنا ہوں گی۔ ہماری بڑھتی ہوئی آباد ی کے لئے اگر مستقبل میں امن و امان کو قائم رکھنا ہے تو اقتصادی ترقی کے لئے جامع منصوبہ بندی کرنا پڑے گی۔ بجلی ، گیس ، کے بحران نظر آتے ہیں، ان کو حل کرنے کی باتیں بھی کی جاتی ہیں۔ دعوے ہم سرمایہ داروں کے لئے خوشگوار ماحول پیدا کرنے کی کرتے ہیں ، مگر حقیقت یہ کہ ہمارے سرمایہ دار اپنی صنعتیں یہاں سے دوسرے ممالک میں منتقل کررہے ہیں۔ اگر آبادی کو روزگار فراہم کرنا ہے تو صنعت کی جانب تیزی سے بڑھنا ہوگا۔ کہنے کو ہم زرعی ملک ہیں ، ہماری 60 فیصد آباد کسی نہ کسی حوالے سے زراعت سے جڑی ہے ، مگر آنے والے وقت میں زراعت کو پانی کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ملک میں آبی ذخائر محفوظ کرنے کے لئے ہم نے ڈیم نہیں بنائے، اور اسی چیز کو بہانہ بناکر کہ پاکستان پانی سمندر میں پھینک کر ضائع کر رہا ہے ، بھارت نے ہمارے دریاؤں پر ڈیم بنالئے ہیں۔

آزادی صحافت بہت بڑی نعمت ہے ۔ حکومت کو اس پر قدغن نہیں لگانا چاہئے، لیکن صحافت کو خود ذمہ داری کا ثبوت دینا چاہئے۔

ساٹھ ہزار جانیں قربان کرنے کے بعد ہم نے دہشت گردی کو مل کر ختم کرنے کا عزم کیا ہے، مگر یہ فوری حل ہونے والا مسئلہ نہیں ہے ۔ اس کے لئے ہمیں فوری، میانہ مدتی اور طویل المدتی انتظامات یکسوئی سے کرنا ہوں گے۔ فوری طور پر ضرب عضب مؤثر اقدام ہے، فوج اور فوج کے ذیلی اداروں کو جہاں جہاں دہشت گرد موجود ہیں، ضرب عضب کو وہاں تک لے کے جانا ہوگا، اس سے دہشت گردوں کے بڑھتے قدم رکیں گے، منتشر ہونے کی وجہ سے ان کے آئندہ منصوبے ، عزائم کامیاب نہیں ہوں گے اور ان کا قلع قمع ہوگا۔ میانہ مدتی انتظام میں انتظامیہ ، پولیس، انٹیلی جنس اور عدالتی نظام کو اصلاحات کے ذریعے جدید اور مؤثر بنانا ہوگا، اس سے دہشت گردی سے منسلک ہر شخص کے گرد گھیرا تنگ ہوگا، عوام کا اداروں پر اعتماد بحال ہوگا اور امن کی فضا قائم ہوگی۔ہمارے ملک میں ذرائع ابلاغ کو بہت فروغ حاصل ہوا ہے۔ آزادی صحافت بہت بڑی نعمت ہے ۔ حکومت کو اس پر قدغن نہیں لگانا چاہئے، لیکن صحافت کو خود ذمہ داری کا ثبوت دینا چاہئے۔ اگر وہ جذبہ قومیت سے سرشار ہیں تو انہیں دہشت گردوں کی تشہیر سے خود اجتناب کرنا چاہئے۔ طویل المدتی انتظامات میں تعلیم ، صحت، روزگارکی فراہمی، زراعت، صنعت کی ترقی سے ملک میں خوشحالی آئے گی۔ انتہاپسندانہ سوچ کا خاتمہ ہوگا، دہشت گردوں کو معاشرے میں دہشت گردی کے لئے خام مال میسر نہیں آئے گا۔ جو لازماً دہشت گردی کی لعنت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھٹکارے کا باعث بنے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردی سے پاک ہوکر ہی پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کیا جاسکتا ہے۔

[email protected]

یہ تحریر 44مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP