قومی و بین الاقوامی ایشوز

دہشت گردی کے خلاف جنگ

’’ان کا کہنا تھا کہ ملک اس وقت نازک صورتحال سے گزر رہا ہے ، ہمیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھ مضبوط کرنا ہوں گے ، حکومت‘ فوج اور عوام سب مل کر دہشت گردی کو شکست دیں گے‘‘ ٹی وی خبرنامے میں ایک سیاسی رہنما کا بیان نیوز کاسٹر بڑی شد و مد سے پڑھ رہی تھی کہ اچانک ریسٹورنٹ کی ایک ٹیبل پر کافی کی چسکیاں لیتے نوجوانوں کے گروپ میں سے ایک بولا ’’یار یہ کام تو پولیس اور فوج کا ہے جن کے پاس اسلحہ ہے‘ جن کو لڑنے اوردہشت گردوں کو قابو کرنے کی تربیت ملتی ہے‘ ہم بیچارے خالی ہاتھ بھلا کیسے دہشت گردوں سے لڑ سکتے ہیں‘‘ نوجوان کی یہ بات سن کر میری آنکھوں کے سامنے چند سال پہلے شائع ہونے والی امریکی روزنامے کی وہ سرخی لہرائی جس کا عنوان تھا’’عوام کی مدد سے ہم نے دہشت گردوں کو پچھاڑ دیا‘‘

یہ واقعہ ہے دسمبر 2001 کا جب پیرس سے میامی جانے والی ایک فلائیٹ میں دوران پرواز ایک دہشت گرد نے اسے دھماکا خیز مواد کو اڑانے کی کوشش کی جو اس نے اپنے جوتوں میں چھپا رکھا تھادہشت گرد نے اپنے بیگ سے ماچس نکالی ، ابھی وہ بارودی مواد کے فیوز کو جلانے کے لیے نیچے جھکا ہی تھا کہ ساتھ بیٹھے مسافروں نے بروقت شور مچا دیا اور اسے دبوچ لیا جہاز کو فوراً بوسٹن ائیر پورٹ پر اتارا گیا اور دہشت گرد کو سکیورٹی حکام کے حوالے کیا گیا۔ واقعے سے صاف ظاہر ہے کہ طیارے میں موجود مسافروں اور عملے کے پاس اس دہشت گرد کو قابو کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔

جہاں خطرے کی معمولی سی بھی بو آئے فوراً سکیورٹی حکام کو مطلع کیا جائے ، بس یہی کچھ کرسکتے ہیں ہم عوام ! حکومت نے ایسی ہی صورتحال سے بروقت نبٹنے کے لئے ہیلپ لائن 1717 بھی قائم کردی ہے جس پہ شہری کسی بھی وقت کال کرکے کسی بھی مشکوک شخص، چیز یا سرگرمی کی اطلاع دے سکتے ہیں۔ اسی طرح پاک فوج نے بھی ایک ہیلپ لائن نمبر1135 قائم کر رکھی ہے۔ جہاں عوام الناس مشکوک افراد کے بارے میں اطلاع فراہم کر سکتے ہیں۔

ایسے ہی ہمارے پاس بھی دہشت گردی کا ہاتھ روکنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ وطن عزیز کے سکیورٹی حالات غیر معمولی ہیں اور ملک کی سیاسی و عسکری قیادت غیر معمولی فیصلے بھی لے چکی ہے۔ مگر خطرات صرف فیصلوں سے نہیں ٹلتے ،حالات کچھ ایسے ہیں کہ دہشت گردی کا خطرہ کسی مخصوص رنگ ،نسل ،فرقے یا پیشے کے افراد کو نہیں ، سب کو ہے، ایسے میں ہر شخص کو آنکھیں کھلی رکھنی ہوں گی ، احتیاط حادثوں سے بچاتی ہے ، اور گہرا مشاہدہ ان دیکھی صورتحال بھی دکھا دیتا ہے ۔ جہاں خطرے کی معمولی سی بھی بو آئے فوراً سکیورٹی حکام کو مطلع کیا جائے ، بس یہی کچھ کرسکتے ہیں ہم عوام ! حکومت نے ایسی ہی صورتحال سے بروقت نبٹنے کے لئے ہیلپ لائن 1717 بھی قائم کردی ہے جس پہ شہری کسی بھی وقت کال کرکے کسی بھی مشکوک شخص، چیز یا سرگرمی کی اطلاع دے سکتے ہیں۔ اسی طرح پاک فوج نے بھی ایک ہیلپ لائن نمبر1135 قائم کر رکھی ہے۔ جہاں عوام الناس مشکوک افراد کے بارے میں اطلاع فراہم کر سکتے ہیں۔

نائن الیون کو امریکا کے غرور کی علامت ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد سے اب تک امریکا کسی بھی بہت بڑے دہشت گردی کے حملے کا شکار نہیں ہوا۔ امریکی سٹیٹ حکام کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ نائن الیون کے بعد50 سے زائد دہشت گردی کے بڑے حملوں کو ناکام بنایا گیا۔کچھ ایسا ہی برطانیہ میں بھی ہوا جہاں دہشت گردی کے بڑے حملوں کو واقع ہونے سے کچھ ہی دن پہلے نہایت کامیابی سے ناکام بنادیا گیا۔ان ممالک میں دہشت گردی کا سر کچلنے کے لئے صرف سکیورٹی اداروں کی فعالیت ہی کام نہیں آئی اس کے لئے عوام کے شعور کی بیداری بھی اہم ہے۔

جیسے جیسے دنیا میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے واقعات میں تیزی آئی دنیا بھرکی مختلف یونیورسٹیوں میں ریسرچ شروع ہوگئی کہ آخر کیونکر ان حالات سے بچا جائے اور بحیثیت عوام کیا کیا جائے۔ ان مقالات میں بھرپور زور دیا گیاکہ دہشت گردی کے خلاف عوامی شعورکو بیدار کیا جائے ،آیئے آپ کو کچھ اہم نکات بتاتے ہیں جن کا علم ہم سب اور ہمارے بچوں کو بھی ہونا چاہئے۔ کبھی کبھی عوام کی جانب سے دی جانے والی نہایت غیر اہم معلومات کا سرا دہشت گردوں کے بڑے نیٹ ورک سے بھی مل سکتا ہے‘ اس لیے اپنے ارد گرد چھوٹی سی بھی غیر معمولی بات کو محسوس کریں تو فوراً سکیورٹی حکام کو اطلاع دیں۔ عوام میں اس تاثر کو بھی عام کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ پہلے اپنی حفاظت کریں ،اس کے بعد ہی معلومات کو سکیورٹی حکام سے شئیر کریں، ایسا نہ ہو کہ اطلاع دینے کی جلد بازی میں کہیں وہ ہی زد میں آجائیں۔اپنے دفتر،رہائش ،سکول،بازار ،دوران سفر،دوران شاپنگ اپنے ارد گرد گہری نظر رکھیں۔ مشکوک افراد ،مشکوک اشیاء اور مشکوک گاڑیوں سے دور رہیں اور فوراً سکیورٹی حکام کو اطلاع دیں۔

ہم میں سے ہر کوئی ہنگو کے شہید بہادر بیٹے اعتزاز حسن جیسا جگر تو پیدا نہیں کرسکتا جس نے خودکش کے جسم سے لپٹ کر خود کو ختم کردیا مگر اس بچے کی دلیری نے علم کے کئی چراغوں کو بجھنے سے بچا لیا۔ دعا ہے کہ کسی کے ساتھ ایسی صورتحال پیش ہی نہ آئے ، مگر موجودہ حالات میں ہمیں ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دینا ہوگا ، ہمیں خود کو الرٹ رکھنا ہوگا۔

اپنے پاس اور اپنے گھر کے ہر فرد کے پاس موبائل فون میں ایمرجنسی میں کام آنے والے اہم نمبر فیڈ رکھیں۔ اپنے رہائشی علاقے میں باعتماد افراد کے بھی رابطے کے نمبر محفوظ رکھیں، عموما گھر پہ ہونے والی کسی بھی ایمرجنسی میں فوری مدد ہمسائے ہی کرسکتے ہیں۔ گھر میں‘ گاڑی میں اور دوران سفر فرسٹ ایڈ کا مختصر سامان اپنے ساتھ رکھیں، اس سے آپ دوسروں کو بھی فرسٹ ایڈ دے سکتے ہو۔ آپ جہاں کہیں بھی موجود ہوں علاقے کا نقشہ آپ کے ذہن میں ہونا چاہیئے، کسی بھی غیر معمولی صورتحال میں کسی بلڈنگ ، کسی علاقے سے باہر نکلنے کے ممکنہ راستے آپ کو معلوم ہونے چاہئیں۔

ائیرپورٹس، بس ٹرمینل ، ریلوے سٹیشنز اور بازاروں سمیت کسی بھی اہم جگہ پر غیر ضروری قیام نہ کریں ، سفر انتہائی ضروری ہو تو کریں ‘وہ بھی احتیاط کے ساتھ۔کسی بھی ناگزیر صورتحال میں اپنے آپ حواس پہ قابو پا کر شور مچا دینا ہی کام آتا ہے وگرنہ دیر ہوجائے تو سوائے پچھتاوے کے کچھ نہیں کیا جاسکتا۔

خدا نخواستہ اگر کسی دہشت گردی کے حملے میں پھنس جائیں تو بوکھلاہٹ میں دوڑ لگا دینے کے بجائے زمین پر پیٹ کے بل لیٹ جائیں، بھاگنے کا راستہ محفوظ معلوم ہو تو بھی حالات جانچ کر زمین پہ خود کو گھسیٹ کر ہی باہر نکلنے کو ترجیح دیں۔آرمی پبلک سکول پشاور میں زخمی ہونے والے طلبہ بتاتے ہیں کہ کیسے خود کو مردہ ظاہر کرکے وہ خود کو بچانے میں کامیاب رہے، کسی بچے نے منہ میں اپنی یونیفارم کی ٹائی ٹھونس کر خود کو خاموش رکھا تو کوئی بچہ دنیا سے رخصت ہوجانے والے اپنے ساتھی کے جسم کے نیچے اپنی سانس روکے لیٹا رہا، سکیورٹی ماہرین کی اکثریت اس نتیجے پہ پہنچی ہے کہ دہشت گرد عموماًنمایاں ہوجانے والے اور ان کے مذموم عزائم میں رکاوٹ بننے والے افراد کو فوری نشانہ بناتے ہیں۔

ہم میں سے ہر کوئی ہنگو کے شہید بہادر بیٹے اعتزاز حسن جیسا جگر تو پیدا نہیں کرسکتا جس نے خودکش کے جسم سے لپٹ کر خود کو ختم کردیا مگر اس بچے کی دلیری نے علم کے کئی چراغوں کو بجھنے سے بچا لیا۔ دعا ہے کہ کسی کے ساتھ ایسی صورتحال پیش ہی نہ آئے ، مگر موجودہ حالات میں ہمیں ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دینا ہوگا ، ہمیں خود کو الرٹ رکھنا ہوگا۔

(مضمون نگار نجی ٹی وی چینل میں رپورٹر اور مصنفہ ہیں)

twitter: @IffatHasanRizvi

یہ تحریر 62مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP