قومی و بین الاقوامی ایشوز

دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اُردو ادب پر اثرات

پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے جس سے بے شمار جانی و مالی نقصان ہو چکا ہے۔ ہر طرف خوف اور بے یقینی کا عالم ہے۔ کسی کی کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ دہشت گرد کون ہیں۔ کہاں سے آئے ہیں اور کیاچاہتے ہیں؟ عوام کا ایک بڑا طبقہ ان کارروائیوں کی حمایت نہیں کرتا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ادب پر بھی اثرات مرتب ہوئے۔ ادیبوں اور شاعروں نے اپنی تحریروں اور شاعری میں دہشت گرد کارروائیوں کی مذمت کی۔ ڈاکٹر خالد جاوید جان معروف شاعر‘ ادیب اور کالم نگار ہیں۔ انہوں نے اپنے کالموں اور شاعری میں دہشت گردی کے خلاف کھل کر لکھا۔ ملالہ کے بارے میں ڈاکٹر جان نے اپنے کالم میں لکھا: ’’شاید ملالہ کا یہی جرم تھا کہ وہ اپنا پیدائشی حق مانگتی تھی۔ اس زندگی کا جس میں اس کے لئے تعلیم‘ صحت اور ترقی کے یکساں مواقع ملیں۔ چند وحشی اور جاہل افراد نے اسے زندگی سے محروم کرنے کی کوشش کی اور یہ لوگ خود کو طالبان یا طالب علم کہتے ہیں۔ لیکن علم کے دشمن اور طالب علموں کے قاتل ہیں۔ دن رات بے گناہ مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگ رہے ہیں۔‘‘

ڈاکٹر خالد جان نے ملالہ یوسف زئی کے نام نظم بھی لکھی۔ آخری بند ملاحظہ کریں

پھر وہی سنگِ ملامت‘ وہی خار دشنام

رہگزر پیار کی ہے آج بھی کتنی دشوار

پھر وہی دشتِ جنوں اور وہی ہے محمل

وہی مجرم‘ وہی مقتل‘ وہی ہے تختہ دار

اب تلک زہر کا پیالہ ہی پڑا ہے پینا

جو بھی سقراط کی اس راہ صداقت پر چلا

صوفی شاعروں کی روشن تعلیمات ہمیں مل جل کر رہنے اور تفرقوں کوختم کرنے کا درس دیتی ہیں۔ یہ تعلیمات انسانیت کا عظیم ورثہ ہیں۔ آج ہمیں ان سنہری اصولوں کو اختیار کرنے کی جس قدر ضرورت ہے پہلے کبھی نہ تھی۔ رواداری کا مقصد اس دنیا میں جہاں متضاد تصورات رائج ہیں‘ وہاں باہمی اخوت اور برداشت کے جذبے کو اجاگر کرنا ہے تاکہ امن کے ماحول میں انسانی تکریم کا تصور عملی جامہ پہنا سکے اور مخلوق خدا ہر قسم کے خوف اور پریشانیوں سے آزاد ہو کر اپنے خالق کے احسانات و انعامات سے بہرہ ور ہو سکے۔ کشور ناہید گزشتہ نصف صدی سے انتہا پسندی کے خلاف قلمی جہاد کے ساتھ اہل قلم کے حقوق اور محروم طبقوں کے ساتھ خواتین کے حقوق کی جنگ ہر محاذ اور فورم پر بھرپور طریق سے لڑ رہی ہیں۔ کشورناہید نے ایک نظم بعنوان ’’طالبان سے قبلہ رو گفتگو‘‘ لکھی۔ نظم کا آخری بند اس طرح ہے۔

وہ جو بچیوں سے بھی ڈر گئے

وہ یہیں کہیں ہیں قریب میں

انہیں دیکھ لو‘ انہیں جان لو

نہیں ان سے کچھ بھی بعید

شہر زوال میں

رکھو حوصلہ‘ رکھو یہ یقین

کہ جو بچیوں سے بھی ڈر گئے

وہ ہیں کتنے چھوٹے وجود میں

کرو شہر شہر منادیاں

رکھو حوصلہ‘ رکھو یہ یقین

کہ جو بچیوں سے بھی ڈر گئے

وہ ہیں کتنے چھوٹے وجود ہیں

جنوری کے ماہنامہ ہلال میں اصغر ندیم سید کا انٹرویو شائع ہوا۔ ایک سوال کے جواب میں اصغر ندیم سید نے کہا۔ ’’اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ فکر و دانش اور علم کو آگے بڑھایا جائے۔ زندگی کو سمجھنے کے لئے زیادہ سے زیادہ بحث و مباحثہ کیا جائے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا جائے۔ دنیا ایک ہو رہی ہے اور ہم تفرقے کا شکار ہو رہے ہیں۔‘‘ جنوری ہی میں ان جیسے عمدہ خیالات اور سوچ کے حامل ادیب‘ دانشور اور استاد پر بے محابہ گولیاں چلائی گئیں۔ اﷲ کا شکر ہے کہ وہ بچ گئے۔ کشور ناہید نے اس حوالے سے اپنے ایک کالم ’’پستول والے ہاتھ کون پکڑے گا‘‘ میں لکھا۔ ’’یہ وہ اصغر ندیم سید کی نیکیاں تھیں جو اس کے کام آئیں ورنہ ہر روز کٹی پہاڑی سے لے کر لیاری اور بنوں تک میرے جوان‘ لیویز اور فوج کے علاوہ پولیس والے مارے جاتے ہیں۔ ان کے گھروں کا ماتم دیکھا نہیں جاتا۔ ان کے بچوں کا رونا ساری قوم کو رلا دیتا ہے۔ یہ میرے نالائق نوجوانوں کے ہاتھوں میں کس نے ہتھیار پکڑا دیئے ہیں۔ جن کے ہاتھوں میں کتاب ہونی چاہئے تھی ان کے ہاتھوں میں پستول ہے۔‘‘

رانا احتشام ربانی معروف سکالر ’ادیب‘ امن اور انسانیت فورم کے صدر ہیں۔ ان کی کئی کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ اپنی تحریروں کے حوالے سے وہ ملک بھر میں جانے مانے جاتے ہیں۔ پمفلٹ اور کتابوں کی شکل میں شعور اور دانش کی باتیں وہ عام کر رہے ہیں۔ رانا صاحب انسانوں کے درمیان محبت کا پیغام دیتے ہیں۔ رانا احتشام ربانی کی چند تحریریں پیش ہیں۔ ’’میرا فوجی‘ وطن کی سلامتی کے لئے اپنی جان بھی قربان کر دیتا ہے۔ میرا فوجی موسم کی ہر سختی برداشت کرتا ہے اور کسی ناگہانی آفت اور مصیبت کے وقت نامساعد حالات میں بھی قوم کی مدد کرتا ہے۔ میں کیوں نہ اپنے دل سے اس کی عزت کروں‘ سلام کروں‘ فخرکروں اور خراجِ تحسین پیش کروں۔‘‘

خود کش حملہ آوروں کے بارے میں رانا صاحب لکھتے ہیں ’’انسان رب کی بہترین مخلوق ہے۔ دنیا میں انسان کی بطورِ انسان آمد کا خاص مقصد ہے۔ انسانی زندگی گزارنا اور انسانوں کی بہتری بھلائی کے لئے عمل کرنا۔ خود کش حملہ آور اپنے آپ کو معصوم سمجھتا ہوا کسی بھی اچھے اور نیک مقصد کے لئے اپنی جان کو خود اپنے ہاتھوں سے ختم کردیتا ہے۔ اس طرح وہ خود اپنی ذات کی دنیا میں آمد کی نفی کرنے کا مرتکب ہوتا ہے۔ اس سے وہ رب کا گناہگار بن جاتا ہے۔ وہ اپنے ساتھ دوسرے معصوم لوگوں کی جان ختم کرنے کا سبب بھی بنتا ہے۔ ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ اس میں خود کش حملہ آور کی ذات بھی شامل ہے۔‘‘

سعید آسی معروف شاعر‘ ادیب تجزیہ نگار اور کالم نگار ہیں۔ ایک اخبار میں ڈپٹی ایڈیٹر کے عہدے پر فائز ہیں۔ انہوں نے اپنے شعری مجموعے ’’تیرے دکھ بھی میرے دکھ ہیں‘‘ میں ایک نظم لکھی ’’الٰہی خیر ہو‘‘ وہ لکھتے ہیں:

اب تو جینا بھی ہوا دشوار الٰہی خیر ہو

کس قیامت کے ہیں یہ آثار الٰہی خیر ہو

مارنا مرنا لڑانا اور لڑنا بے دریغ

نفرتوں کے اس قدر انبار الٰہی خیر ہو

قوم پر طاری ہوا ہے چھین لینے کا جنون

اور پاگل پن میں ہے سرکار الٰہی خیر ہو

قافلہ ہٹنے لگا ہے اپنی منزل سے پرے

بے خبر ہے قافلہ سالار الٰہی خیر ہو

فیض احمد فیض نے اپنی ایک نظم میں لکھا تھا

ہر شجر مینار خوں‘ ہر پھول خونیں دیدہ ہے

ہر نظر اک تار خوں‘ ہر عکس خوں مالیدہ ہے

موجِ خون جب تک رواں رہتی ہے اس کا سرخ رنگ

جذبۂ شوقِ شہادت‘ درد‘ غیظ و غم کا رنگ

اور تھم جائے تو کجلا کر

فقط نفرت کا‘ شب کا موت کا

ہر اک رنگ کے ماتم کا رنگ

چارہ گر ایسا نہ ہونے دے

کہیں سے لاکوئی سیلاب اشک

آبِ وضو

جن میں ڈھل جائیں تو شاید دھل سکے

میری آنکھوں‘میری گرد آلود آنکھوں کا لہو

فیض احمد فیض نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا:’’دین دنیا میں عوامی فلاح و انقلاب ہی کے لئے آیا تھا۔ جیسا بڑا انقلاب اسلام نے پیدا کیا‘۔اس سے بڑا انقلاب بہت کم دیکھنے میں آیا ہے۔ دین ایک چیز ہے اور دین کے جو اجارہ دار بن جاتے ہیں وہ دوسری۔ جس نظام میں مختلف قسم کے طبقات ہوتے ہیں اور ہر طبقے کا اپنا مفاد ہوتا ہے اس میں دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ دین عوام کی بھلائی کے لئے اور خلقِ خدا کی بہبود کے لئے آیا ہے۔‘‘ ظلم وستم‘ جبر وتشدد اور دہشت گردی کی حمایت کسی بھی دین میں جائز نہیں ہے۔ دین کے صحیح معنے یہی ہیں کہ خلقِ خدا کی بہتری اور بہبود کے لئے ہے۔ ترک وزیرِاعظم طیب اردگان پاکستان کے دورے پر آئے تو انہوں نے کہا ’’یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کا خون بہائے۔ ہم اسلامی بھائیوں کی خونریزی ختم کرانے کے حق میں ہیں۔ مذہب کے نام پر قتل گناہِ کبیرہ ہے۔ دہشت گردوں کا نہ کوئی کلچر‘ نہ تہذیب‘ نہ زبان نہ مذہب اور نہ ملک ہوتا ہے۔‘‘

ترکوں کے ایک شاعر یونس امرے کے ایک قطعہ کا ترجمہ ہے ’’آؤ ہم اکٹھے مل بیٹھیں

ایک دوسرے کے لئے آسانی پیدا کریں

محبت کریں اور کروائیں

تاکہ دنیا میں محبت کے سوا کچھ نہ رہے‘‘ ہمارا ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ اسلام کسی طور پر بھی دہشت گردی یا کسی کی جان لینے کی اجازت نہیں دیتا۔ ہمیں جذباتی پن کو ختم کرکے عقل سے کام لینا چاہئے۔ اپنے غصے پر قابو رکھنا چاہئے۔ صبرو تحمل سے کام لینا چاہئے۔ انتقام سے پرہیز اور معاف کردینے کا رویہ اپنانا چاہئے۔ دوسروں کا برا نہ چاہیں‘ اپنے اندر ایثار و قربانی کا جذبہ پیدا کریں اور گمراہی سے بچیں۔

یہ تحریر 153مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP