اداریہ

دہشت گردی کے خاتمے کا عزم

دہشت گردی اب کوئی علاقائی مسئلہ نہیں رہا بلکہ اب اسے ایک بین الاقوامی خطرے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک جس دہشت گردی کو صرف جنوبی ایشیا سے تعبیر کیا جارہا تھا اب وہ فرانس‘آسٹریلیا اور دیگر مغربی ممالک کے لئے بھی ایک بڑے مسئلے کے طور پر سامنے آچکا ہے۔ نائن الیون کے بعد جس طرح سے نیٹو افواج افغانستان میںآئیں اور مغربی سرحدوں کی جانب افواجِ پاکستان نے جس انداز سے اپنی سرزمین پر ملکی اور غیر ملکی شدت پسندوں کا مقابلہ کیا اُس کا ادراک اور اعتراف بین الاقوامی سطح پر کیا جاتا ہے۔ دنیا بخوبی جانتی ہے کہ پاکستانی قوم اور افواجِ پاکستان کس طرح ایک طویل عرصے سے دہشت گردی کے عفریت کے سامنے ڈٹی ہوئی ہیں۔ پاکستان کی انہی کاوشوں کی بدولت خطے میں دہشت گردی کے خطرات یقیناً کم ہوئے ہیں‘یہی وجہ تھی کہ 2014 میں شروع ہونے والے آپریشن ضرب عضب کی بدولت 2015 کا سال دہشت گردی کے حوالے سے کم سانحات لے کر آیا۔

 

دہشت گردی کے واقعات پر جس قدر قابو پایا گیا ہے، وہ بلاشبہ پوری پاکستانی قوم اور افواجِ پاکستان کی اُن کاوشوں کا ثمرہے جو انہوں نے دہشت گردی کے عفریت کے خاتمے کے لئے سر انجام دی ہیں۔ یقیناً دہشت گردوں اور ان کی سرپرستی کرنے والوں کو پاکستانی قوم کی دہشت گردی کے خلاف کامیابیاں ایک آنکھ نہیں بھاتیں اور وہ ہر لحظہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ باچا خان یونیورسٹی چارسدہ پر حملہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ لیکن چار سدہ حملے کے دوران دہشت گردوں کو جہاں مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں ناکامی ہوئی وہاں نہ صرف یہ کہ ان سب دہشت گردوں کو ماردیا گیا بلکہ اُن کے سہولت کاروں کو پکڑ کر عوام کے سامنے بھی لایا گیا ہے جو اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح پاکستانی قوم دہشت گردی کو اُس کی جڑوں سے اکھاڑ پھینکنا چاہتی ہے۔ دہشت گرد بہر کیف حملہ آور ہونے کی سعی کرتے ہیں لیکن سکیورٹی اداروں اور عوام کی جانب سے اُنہیں جس بروقت اور جارحانہ ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ پاکستانی قوم کی جانب سے ایک واضح پیغام ہے کہ وہ اب شدت پسندی کو اس دھرتی میں پنپنے نہیں دے گی۔ افواجِ پاکستان نے دہشت گردی‘ شدت پسندی اور اندرونی سطح پر ملک میں امن و امان کے قیام کے لئے جو کاوشیں کی ہیں وہ اُن کے اُس عزم کی عکاسی کرتی ہیں جو وہ وطن کی مضبوطی اور سالمیت کے لئے رکھتی ہیں۔ بلاشبہ وطنِ عزیز سے دہشت گردی کے واقعات میں کمی صرف اسی صورت میں ممکن ہوئی ہے کہ افواجِ پاکستان نے دہشت گردوں کا اُن کی کمین گاہوں تک پیچھا کیا اور دہشت گردی کے اُس نیٹ ورک کو نشانہ بنایا جس کی بدولت دہشت گرد یہ کارروائیاں باآسانی کرتے چلے آ رہے تھے۔ یہ کامیابیاں اس بات کی علامت ہیں کہ افواجِ پاکستان دہشت گردی کا خاتمہ کر کے ہی دم لیں گی اور اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گی جب تک وطنِ عزیز امن و خوشحالی کا گہوارہ نہیں بن جاتا۔

پا ک فوج زندہ باد

پاکستان پائندہ باد

یہ تحریر 81مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP