قومی و بین الاقوامی ایشوز

دہشت گردی کا خاتمہ

دہشت گردی ایک بہت گہرا اور کثیر الجہتی ایشو ہے۔ اس لئے اس کے حل کے لئے بھی کوئی ایک مخصوص طریقہ کار یا مخصوص ادارہ ہی ذمہ دار نہیں ہے بلکہ یہ ایک مکمل اور جامع رسپانس مانگتا ہے۔ پاک فوج نے اِس کے ملٹری پرانگ

(prong)

کو بہت استعداد اور کامیابی سے چلایا ہے۔ مگر یہ کافی نہیں ہے۔ سِول پرانگ

(prong)

کو بھی اسی طرح عملی طور پر آگے بڑھنا ہو گا۔ زبانی بیانات کے بعد اب قومی قیادت اور اداروں کو عملی طور پر اپنی استعداد کو بڑھانا اور ثابت کرنا ہو گا۔ اگر یہ نہ ہو سکا تو ہم من حیث القوم دہشت گردی کے عفریت کو مکمل طور پر شکست نہیں دے سکیں گے۔ سب کو آگے بڑھنا ہو گا۔ ہاتھوں میں ہاتھ دینا ہوں گے۔ عمل سے نیت کا ثبوت دینا ہو گا۔یاد رکھئے اس جنگ میں شکست‘ نو آپشن

(No option)

ہے۔

’’فوجی عدالتیں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اکسیر کیوں خیال کی جارہی ہیں‘‘ میں اپنے ایک عزیز سے تبادلۂ خیال کررہا تھا۔ جنہیں فوجی عدالتوں میں مختلف حیثیتوں میں کام کرنے کا اتفاق ہُوا تھا۔وہ بہت ہی تفصیل سے بتا رہے تھے کہ فوجی عدالتیں کس کس انداز سے کام کرتی ہیں۔ زور اس بات پر تھا کہ عام عدالتوں میں جو معاملات اور تفصیلات جج کے روبرو بیان ہوتی ہیں‘ ان پر فوجی عدالتیں وقت صرف نہیں کرتیں۔ بلکہ پہلے سے واقعات کی پوری تحقیق ہوجاتی ہے۔ ایک مقدمہ تیار ہوجاتا ہے۔ پھر یہ طے ہوتا ہے کہ اسے کس سطح کی عدالت میں بھیجا جائے۔ وہ تمام بحث جو عام عدالتوں میں دونوں طرف کے وکیل کرتے ہیں‘ یہ مراحل کئی پہلوؤں سے تفتیش میں طے کرلئے جاتے ہے۔ سرسری سماعت بھی ہوتی ہے۔ فوجی ٹریبونل بھی۔ آخر میں فوجی عدالت۔ وہاں صرف یہ طے ہونا ہوتا ہے کہ متعلقہ جرم کی جو سزا متعین ہے وہ اس مجرم کو دی جائے یا نہیں۔

گفتگو میں بار بار میں اپنی طرف سے یہ سوال کررہا تھا کہ فوج میں اتنے جرائم نہیں ہوتے جتنے عام شہریوں میں ہوتے ہیں۔ اس لئے یہاں مقدمات اچھی بنیادوں پر تیار نہیں ہوتے۔ پھر جرائم کے ارتکاب کی کثرت کے باعث پولیس کے پاس وقت بھی نہیں ہوتا۔ اس لئے ابتدائی رپورٹیں اور استغاثے فوجی عدالتوں کی طرح دو تین دن میں تیار نہیں ہوسکتے۔

میرے سوال کا جواب میرے عزیز نے یہ دیا کہ فوجی بھی عام انسانوں کی طرح ہی نفسیات‘ جذبات رکھتے ہیں لیکن اصل بات ہے ڈسپلن اور اعتبار کی۔ جرائم کم اس لئے ہوتے ہیں کہ وہاں ہر ایک کو پتا ہے کہ وہ قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکے گا۔ دوسری بات ہے اعتبار کی کہ وہاں ملٹری پولیس اور جرائم کی ابتدائی رپورٹ تیار کرنے والے پر بھی ملزم‘ اس کے اہل خانہ ‘اور دوسرے فوجیوں کو یہ اعتبار ہوتا ہے کہ یہاں رشوت‘ سفارش یا نااہلی سے غلط فرد جرم عائد ہوگی نہ ہی کسی کے خلاف جھوٹا کیس قائم ہوگا۔

شمالی وزیرستان میں ضرب عضب کا فیصلہ پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھے گا۔ یہیں سے مملکت نے ایک صراط مستقیم اختیار کی۔ پاکستان کی مسلّح افواج نے تو اس لمحے ہی اس خطرناک رجحان کے لئے واضح رویہ اختیار کرلیا۔ ایک حتمی حکمتِ عملی طے کرلی۔ سیاسی جماعتیں اس وقت بھی گو مگو میں تھیں۔ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کو کہہ رہی تھیں۔ وہ مملکت کے لئے انتہا پسندی کے دوررس خطرات کا ادراک نہیں کررہی تھیں۔ تاآنکہ آرمی پبلک سکول پشاور میں درندگی کی انتہا ہوگئی۔

عام شہری زندگی میں بھی پہلے ایسا اعتبار قائم ہوتا تھا۔ پولیس اور دوسرے محکموں میں قانون کا فوج کی طرح ہی احترام کیا جاتا تھا۔ اس کا نفاذ اور اطلاق یکساں ہوتا تھا۔ شہریوں میں نظم و ضبط بھی اسی طرح تھا۔ ترقی یافتہ ممالک میں اب بھی یہ نظم و ضبط اور قانون کا خوف موجود ہے۔ اسی لئے وہ آگے بڑھ رہے ہیں۔ملک میں اس وقت ہم جس انارکی‘ افراتفری‘ نفسانفسی سے دو چار ہیں۔ وہ قانون کے یکساں نفاذ نہ ہونے کے باعث ہی ہے۔ پہلے سے جو قوانین موجود ہیں‘ ان پر ہی اگر مکمل عملدرآمد ہو تو معاشرہ محفوظ ہوسکتا ہے۔ پاکستانیوں کی محرومیاں دور ہوسکتی ہیں۔ نئے قوانین تشکیل کرنے کی ضرورت ہے نہ ہی آئین میں ترامیم کی۔ انگریز کا 1935ء کا ایکٹ دنیا کے اکثر ممالک میں شہریوں کے جان و مال کو بھی تحفظ دیتا ہے۔ معاشرے میں انارکی آنے سے بھی روکتا ہے۔ جس 21ویں ترمیم کے ذریعے دہشت گردی کے عفریت پر قابو پانے کی بات کی جارہی ہے اس کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔ اگر تمام متعلقہ محکمے اور افسر ان قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروا رہے ہوں جن کے لئے وہ مامور کئے جاتے ہیں‘ عام لوگوں کے خون کی کمائی سے انہیں تنخواہیں اور شاہانہ زندگی اسی لئے میسر آتی ہے۔ لیکن خود بدلتے نہیں ’قانون‘ بدل لیتے ہیں

اگر اس ترمیم پر بھی مکمل عمل نہیں ہُوا تو یہ بھی بے اثر ہوجائے گی۔ پھر کوئی آئندہ حکومت 22ویں ترمیم کی بات کررہی ہوگی۔ ہمیں 1990ء کی دہائی میں ہی سمجھ لینا چاہئے تھا کہ دہشت گردی ‘ انتہا پسندی‘ فرقہ پرستی‘ پاکستانی معاشرے کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ مملکت اور حکومت دونوں کو انتہا پسندی کے خاتمے کو اولین ترجیح قرار دینا چاہئے تھا‘ اس کے لئے پوری قوم کو اعتماد میں لے کر سب سے پہلے اس زہریلے رجحان کو ہر پہلو سے جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنا چاہئے تھا۔ انتہا پسندی صرف مذہب‘ صرف فرقے تک محدود نہیں ہے‘ یہ زبان کے تعصب کے حوالے سے بھی ہے‘ نسلی برتری کے اعتبار سے بھی ہے۔ ہم جس خطے میں رہتے ہیں‘ اس کا خمیر جذبات سے اٹھا ہے۔ ہم ہمیشہ عقل کی بنیاد پر نہیں جذبات کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں۔ جذبات میں جب مذہب کی وابستگی شامل ہوجائے تو یہ اور زیادہ پرجوش اور ہوش و دانش سے دور ہوجاتے ہیں۔ ہم ابھی تک قبائلی معاشرے کی رسوم اور روایات کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ یہ وابستگی ہمیں اور زیادہ جذباتی بنا دیتی ہے۔ قبائلی طرز معاشرت بھی مملکت کے قوانین اور عام عدالتی طریق کار سے متصادم ہے۔ ان کے اپنے جرگے ہیں‘ اپنے قانون ہیں‘ یہاں مملکت کا ڈسپلن نہیں‘ بلکہ قبیلے کا ڈسپلن لاگو ہوتا ہے۔ جاگیرداریوں میں بھی یہی حال ہے۔ مختلف مسالک اور فرقے بھی اپنے آپ کو مملکت کے ڈسپلن سے ماورا خیال کرتے ہیں۔

ہمارے دشمن کے پاس دنیا کے جدید ترین ہتھیار بھی ہیں۔ تازہ ترین مواصلاتی آلات ہیں۔ وہ نئی ٹیکنالوجی میں مہارت رکھتا ہے۔ پھر وہ اپنے مقاصد سے گہری جذباتی عقیدت رکھتا ہے۔ اپنے مشن کے لئے اپنی جان کی قربانی دینا چاہتا ہے۔ ایسے حریف کے مقابلے کے لئے پاکستانی عوام کا ہر لمحے خبردار رہنا ناگزیر ہے۔

پاکستان اس لحاظ سے دنیا کا مشکل ترین ملک ہے کہ یہاں ڈسپلن قائم کرنا آسان نہیں ہے۔ اور خاص طور پر اس وقت جب ملک کے اعلیٰ ترین ادارے پارلیمنٹ میں اکثریت جاگیرداروں‘ قبائلی سرداروں‘ برادریوں کے سربراہوں کی ہے‘ جو اپنے اپنے حلقۂ اثر میں صرف اپنی زبان سے نکلے الفاظ کو ہی آئین اور قانون سمجھتے ہیں۔ اپنے علاقے کے ضلعی افسروں اور پولیس حکام کو مملکت کا نہیں اپنا خادم مانتے ہیں‘ وہاں قانون کا اطلاق کیسے ہوسکتا ہے۔ کیونکہ قانون کے رکھوالے ہی قانون کو خود مسترد کرتے ہیں۔

آج کے لمحۂ موجود میں تاریخ پاکستانیوں کو ان تصادموں‘ مخالفتوں‘ منافقتوں‘ ہلاکتوں‘ خونریزیوں اور دھماکوں سے گزارتے ہوئے ایسے موڑ پر لے آئی ہے جہاں بظاہر یہ نظر آرہا ہے کہ اب قوم انتہا پسندوں کے خلاف ایک ہوگئی ہے۔ بعض اصطلاحات‘ قانونی شقوں سے اختلاف کی آواز بلند ہورہی ہے‘ لیکن اکثریت نے دل سے یہ بات مان لی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری اپنی جنگ ہے۔ ہمارے بعض سیاسی اور مذہبی رہنما پہلے اسے امریکہ کی جنگ قرار دے کر اس سے قطع تعلق اور امریکہ سے اتحاد ختم کرنے پر زور دیتے رہے ہیں۔ حالانکہ ان انتہا پسندوں نے 50 ہزار سے زائد پاکستانیوں بشمول اہم فوجی اور سیاسی شخصیتوں کو بہیمانہ طریقوں سے قتل کیا ہے اور اس کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔

شمالی وزیرستان میں ضرب عضب کے آغاز سے بھی پاکستانیوں کو یہ ذہنی تقویت ملی تھی کہ اب پاکستان کی مملکت انتہا پسندی کے خاتمے کو اولین ترجیح سمجھ رہی ہے۔ ضرب عضب کامیابی سے جاری رہی قوم کو اس معرکے میں کامرانی کی خبریں ملتی رہیں۔ کارروائی ایک محدود علاقے تک تھی لیکن پورا پاکستان جانتا ہے کہ دہشت گرد اور انتہا پسند ملک کے کونے کونے میں موجود ہیں۔ ان میں وہ بھی ہیں جو ہتھیار بردار ہیں۔ خود ہلاکتوں میں حصّہ لیتے ہیں۔ وہ بھی جو خودکش بمباروں کی نئی نسلیں تیار کررہے ہیں۔ جو ان کے ذہنوں میں یہ بات بٹھاتے ہیں کہ یہ لوگ مرتد ہوچکے ہیں۔ اغیار کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ جنت میں جانے کا راستہ یہی ہے کہ ان کا وجود مٹا دیا جائے۔ اگر اس نیک کوشش میں جان بھی جاتی ہے تو یہ سعادت بھی حاصل کی جائے۔ ان میں وہ بھی ہیں جو ان گروہوں کے لئے مہنگے ہتھیار خریدتے ہیں۔ وہ اس طرح بزعم خود جنّت کے لئے سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ ان سب کے اوپر کچھ ’ماسٹر مائنڈ‘ ہیں جن کے رابطے بیرون ملک بین الاقوامی تنظیموں سے ہیں جن کے اپنے طویل المیعاد مقاصد ہیں۔

پاکستانی فوج نے مسلسل کوششوں سے اپنے ہاں جو ڈسپلن قائم کیا ہے۔ جہاں کسی ملک‘ فرقے ‘زبان یا نسلی عصبیت کو فوقیت حاصل نہیں ہوسکی۔ ان کے افسروں نے اپنے پیشہ ورانہ انداز سے ایک معیار اور اعتبار قائم کیا ہے۔ سول محکموں کو بھی پیشہ ورانہ خدمات کا یہ انداز اختیار کرکے اپنی ساکھ بحال کرنی ہوگی۔ قانون کی یکساں حکمرانی ہوگی تو کوئی بھی سیاستدان یا مذہبی تنظیم اپنے دائرے سے تجاوز نہیں کرسکے گی۔

شمالی وزیرستان میں ضرب عضب کا فیصلہ پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھے گا۔ یہیں سے مملکت نے ایک صراط مستقیم اختیار کی۔ پاکستان کی مسلّح افواج نے تو اس لمحے ہی اس خطرناک رجحان کے لئے واضح رویہ اختیار کرلیا۔ ایک حتمی حکمتِ عملی طے کرلی۔ سیاسی جماعتیں اس وقت بھی گو مگو میں تھیں۔ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کو کہہ رہی تھیں۔ وہ مملکت کے لئے انتہا پسندی کے دوررس خطرات کا ادراک نہیں کررہی تھیں۔ تاآنکہ آرمی پبلک سکول پشاور میں درندگی کی انتہا ہوگئی۔ ہمارا مستقبل خون میں نہلا دیا گیا۔ کتنے غنچے مسل دیئے گئے۔ آسمان کی آنکھ نے ایسا ظلم کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔ کون سی آنکھ ہے جو اس بیدردی پر نہیں روئی ہوگی۔ کون سا دل ہے جو بچوں کی اس بے بسی پر نہیں دہلا ہوگا۔ اس اندوہناک المیے نے تو خیبر سے گوادر تک 18 کروڑ پاکستانیوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ طالبان کے نظریاتی حامیوں کے ذہن بھی مضطرب ہوگئے کہ ان بچوں کا کیا قصور تھا۔ انہوں نے اسلام کو کیا نقصان پہنچایا تھا۔ یہ شریعت کے نفاذ میں کہاں رکاوٹ تھے۔ مولانا عبدالمجید سالک نے کہا تھا۔ شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے

ان شہدا کی موت یقیناًاس قوم کو ایک نئی زندگی عنایت کرگئی ہے۔ 134 بچوں سمیت 149 پاکستانیوں کے خون نے ایک واضح لکیر کھینچ دی ہے۔ اب ایک طرف یہ ظالمان انتہا پسند‘ شدت پسند‘ دہشت گرد ہیں۔ دوسری طرف پاکستان کے عوام۔ اب کسی کے دل میں کسی حوالے سے بھی ان دہشت گرد گروہوں کے لئے ہمدردی نہیں رہی ہے۔ اگر کوئی ان کی ہم نوائی کی جرأت کرے گا تو اپنا نام ظالموں‘ جابروں اور انسان دشمنوں میں قلمبند کروائے گا۔ اب پورے پاکستان کی آرزو ہے کہ ضرب عضب کا دائرہ پورے پاکستان میں پھیلا دیا جائے۔ 21ویں آئینی ترمیم اسی آرزو کی تکمیل ہے۔

یہ تو مقام شکر ہے۔ اور لمحۂ تسکین بھی کہ دنیا کی بہترین‘ منظم‘ منضبط اور اپنے فرائض کی انجام دہی کے جذبے سے سرشار پاکستانی فوج مملکت کے لئے سب سے خطرناک اس بے چہرہ دشمن کی سرکوبی کے لئے ایک واضح اور دو ٹوک رائے رکھتی ہے۔موجودہ وفاقی حکومت‘ صوبائی حکومتیں بھی اس وقت انتہا پسندی کو کچلنے کے لئے قومی ایکشن پلان بنا چکی ہیں۔اب وقت کا تقاضا ہے کہ ہر پاکستانی‘ ہر قدم اور ہر لمحہ چوکنا رہے۔ پورا ملک اب حالت جنگ میں ہے۔جنگ بھی ایک ایسے دشمن سے جس کا کوئی چہرہ نہیں‘ کوئی مخصوص وردی نہیں ہے‘ کوئی زبان نہیں‘ کوئی پرچم نہیں ہے‘ کوئی قومیت نہیں ہے‘ وہ کوئی بھی وردی پہن کر آجاتا ہے‘ کوئی بھی حلیہ بنا کر آسکتا ہے‘ کوئی بھی پرچم لے کر آسکتا ہے اور کوئی زبان بھی بول سکتا ہے۔پاکستانی فوج‘ پاکستانی رینجرز‘ پاکستانی پولیس ایف سی‘ لیویز سب اس کے خلاف میدان میں اترے ہوئے ہیں۔ پاکستانی عوام کو اب دوسری دفاعی لائن بننا ہے۔ اس دشمن کا نشانہ پاکستانی فوج بھی ہے‘ پولیس بھی‘ اساتذہ بھی‘ ڈاکٹرز بھی‘ ادیب بھی‘ صحافی بھی‘ اینکر پرسن بھی‘ سیاسی رہنما بھی‘ علمائے دین بھی۔

ہمارے دشمن کے پاس دنیا کے جدید ترین ہتھیار بھی ہیں۔ تازہ ترین مواصلاتی آلات ہیں۔ وہ نئی ٹیکنالوجی میں مہارت رکھتا ہے۔ پھر وہ اپنے مقاصد سے گہری جذباتی عقیدت رکھتا ہے۔ اپنے مشن کے لئے اپنی جان کی قربانی دینا چاہتا ہے۔ ایسے حریف کے مقابلے کے لئے پاکستانی عوام کا ہر لمحے خبردار رہنا ناگزیر ہے۔پہلے دوسرے ممالک کی طرح پاکستانیوں کو بھی سول ڈیفنس( شہری دفاع) کی تربیت دی جاتی تھی۔ رضا کار تیارکئے جاتے تھے، جو کسی ابتلا یا کسی جنگ کی صورت میں شہریوں کی جان و مال کے تحفظ میں مدد دے سکیں۔بعد میں اس انتہائی اہم محکمے کو ختم کردیا اب جو آفات نا گہانی سے نمٹنے کے لئے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے ادارے قائم کئے گئے ہیں ان کا بجٹ تو شاہانہ ہے لیکن ان کا عوام سے کوئی رابطہ نہیں ہے نہ ہی یہ عوام کو کسی قسم کی تربیت دیتے ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف اگر چہ اب ایک ہمہ گیر جوابی کارروائی شروع ہوچکی ہے لیکن میرے خیال میں یہ خطرناک دشمن جتنا منظم اور یہ رجحانات جتنے گہرے اور پہلو دار ہیں‘ قوم کو اب بھی دس پندرہ سال تک ان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہمارے ملک کی کوئی قطعی اور واضح مذہبی پالیسی نہیں ہے۔ مذہب کو حکمرانوں نے اپنے اقتدار کی طوالت کے لئے تو استعمال کیا ہے۔ اس میں سیاسی اور فوجی دونوں حاکم شامل ہیں۔ سیاستدانوں نے بھی مذہبی جماعتوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے انہیں بے حساب فنڈز بھی دیئے اور ان کے مذہبی تجاوزات اور اجارہ داری کو کبھی قانون کے دائرے میں محدود کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ پاکستان میں دنیا بھر کے دوسرے مسلم ملکوں سے زیادہ فرقے اور مسالک ہیں۔ یہ سارے گروہ اپنی اپنی جگہ مالی طور پر مستحکم ہیں۔1979ء میں سوویت یونین سے پنجہ آزمائی کے لئے مذہبی تنظیموں سے مدد لی گئی۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں مذہبی تنظیموں کو بڑے بڑے رفاہی پلاٹ دیئے گئے۔

پاکستان کے علمائے کرام اچھی طرح جانتے ہیں کہ مذہب کے نام پر کچھ لوگوں نے پاکستانیوں کے جذبات کا کس کس طرح استحصال کیا گیا ہے اور انہیں جذباتی طور پر کس طرح تقسیم کردیا گیا ہے۔ ایک ایک محلّے میں الگ الگ مساجد ہیں۔ ان مساجد میں کیسے کیسے اختلافی درس دیئے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کو آپس میں لڑوایا جاتا ہے۔ مہرو محبت اور اخوت کی دعوت دینے کے بجائے کبھی حلئے کے حوالے سے‘ کبھی لباس کی بنیاد پر‘ کبھی وظائف کے اعتبار سے کس طرح ایک دوسرے کے مدّ مقابل لایا جاتا ہے۔ یہ سب رجحانات انتہاؤں کی طرف لے جاتے ہیں۔

انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پہلا سبق تو یہ ہونا چاہئے کہ پاکستانی فوج‘ نیم فوجی دستوں اورپولیس کے علاوہ کسی کے ہاتھ میں اپنی بات منوانے کے لئے ہتھیار نہیں ہونا چاہئے۔جو کوئی بھی اپنے مسلک‘ فرقے یا زبان یا قبیلے کے موقف کو زبردستی مسلط کرنے کے لئے کوئی ہتھیار اٹھاتا ہے اس کے بارے میں حکومت کو مطلع کیا جائے۔

میں تو ایک عرصے سے یہ کہہ رہا ہوں کہ جب مسلّح گروہوں سے پاکستان کے ہر گوشے میں خونریزی کا خطرہ ہے‘ حملے کا خدشہ ہے تو ملک کے ہر شہری کو سکیورٹی کی تربیت دینی چاہئے جیسے سرحدی علاقوں میں شہریوں کو دی جاتی ہے۔ اب تو یہ سرحدیں محلّوں میں کھنچی ہوئی ہیں مسجدوں میں کھنچی ہوئی ہیں‘ میں نے تو کئی با اثر شخصیتوں اور اداروں کو تجویز دی کہ سکیورٹی کو باقاعدہ ایک مضمون اور ڈسپلن کے طور پر تدریس کا لازمی جزو بنایا جائے ۔ سکیورٹی کی تدریس عام پاکستانیوں کی آگاہی اور با خبری کے لئے بھی اور یہ ایک پیشے کے طور پر بھی اپنایا جاسکتا ہے۔

سلامتی کے اس شعور کا اولین مرحلہ تو محلّہ ہونا چاہئے۔ افسوسناک امر ہے کہ ہماری سیاسی حکومتوں نے بلدیاتی اداروں کے انتخابات ہی نہیں کروائے۔ ورنہ ملک کا سب سے بنیادی یونٹ یونین کونسل سکیورٹی کی آگاہی کے لئے پہلا زینہ ہوسکتا ہے۔ اب بھی ملک میں انتشار اور بے یقینی کے خاتمے کے لئے مقامی حکومتوں کے انتخابات کا انعقاد فوری طور پر ہونا چاہئے۔ سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کوششیں تو کررہے ہیں۔ سکیورٹی کے شعور میں پہلا قدم تو یہ ہے کہ شہری کہیں بھی‘ کسی کے پاس بھی ہتھیار دیکھیں تو اس سے ہوشیار بھی رہیں اور قریبی پولیس سٹیشن کو اطلاع بھی دیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ شہریوں کو پولیس پر اعتبار نہیں ہے۔ اور انہیں الٹا خطرہ یہ ہوتا ہے کہ پولیس والے غیر قانونی ہتھیار رکھنے والے ہی کو نشاندہی کرنے والے کا سراغ دے دیں گے۔ اس لئے یہ زیادہ بہتر ہوگا کہ یہ اطلاع قریبی فوجی یونٹ کو دی جائے۔ وزارت داخلہ نے اس سلسلے میں ہنگامی فون نمبر بھی دیئے ہیں۔

سیاسی انتشار اور اخلاقی بحران نے محلّے داری ختم کردی ہے جہاں بزرگ اپنے علاقے میں ذمہ داریوں اور معتبرین کا کردار ادا کرتے تھے۔ نوجوانوں میں غلط رجحانات کی سرکوبی کرتے تھے۔ اب کسی بچے یا نوجوان کو کوئی بزرگ سمجھانے کی کوشش کرتا ہے تو اس بچے کے والدین بُرا مان جاتے ہیں۔ محکمے داری اور آپس میں روابط پیدا کرنے کی شعوری کوششیں ضروری ہیں۔ مساجد اس سلسلے میں بنیادی کردار ادا کرسکتی ہیں۔ محلّے داروں کو‘مقامی حکومتوں کو‘ ایم این اے‘ ایم پی اے‘ سینیٹر حضرات کو دلچسپی لے کر مساجد کو محلّے داری اور غم خواری کا مرکز بنانا چاہئے۔ اختلاف اور نفرت کے رجحانات کو روکنا چاہئے۔ محلّے کے اہم اور ممتاز افراد کو مساجد کے امور میں دلچسپی لینا چاہئے۔ صرف امام اور خطیب پر معاملات نہ چھوڑے جائیں۔سکیورٹی کا شعور پھیلانے کے لئے ایک طرف تو انتہا پسندانہ گفتگو‘ تقاریر پر نظر رکھنی چاہئے۔ ایسے رسالوں‘ کتابوں اور اخبارات کی نشاندہی بھی کرنی چاہئے۔ جن میں دوسرے مسلک‘ فرقے‘ اور مذہب کے خلاف نفرت پھیلائی جارہی ہے۔

مختلف ہتھیاروں کی ہلاکت خیزی اور مار کے بارے میں سکولوں‘ کالجوں یونیورسٹیوں‘ دینی مدارس میں بھی فوج کی طرف سے لیکچر دیئے جائیں‘ اس طرح بموں کی تیاری میں جو گولہ بارود استعمال ہوتا ہے اس کے متعلق عام شہریوں کو مساجد کے ذریعے‘ میڈیا کے وسیلے سے تفصیلات بتائی جائیں۔ اگر عام پاکستانی اس سلسلے میں کچھ جانتے ہوں گے تو وہ ایسی مہلک اشیاء کی بازار سے خریداری یا اس کی نقل و حمل پر نظر رکھ سکیں گے۔ ملک میں جو مسلّح تنظیمیں بھی سرگرم ہیں‘ جنہیں حکومت کالعدم قرار دے چکی ہے‘ ان کی فہرستیں ‘نام‘ پرچموں کی تفصیلات مساجد میں بھی آویزاں ہوں‘ مارکیٹوں میں بھی‘ درسگاہوں میں‘ایئرپورٹوں‘ بس اڈوں اور ریلوے سٹیشنوں پر بھی‘ تاکہ وہ عوام کو اپنے جال میں گرفتار نہ کرسکیں۔ موجودہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کی بنیاد زیادہ تر چونکہ مذہب ہے اور شریعت کا حوالہ‘ اس لئے علماء کرام کو متحرک کرنا ضروری ہے۔ آپس میں مکالمہ ہو اور ایسے علمائے کرام جنہیں اپنے اپنے مسلک کے ماننے والوں میں ایک عزت‘ وقار اور اعتبار حاصل ہے۔ وہ آپس میں تبادلہ خیال کرکے ایسے رجحانات کی نشاندہی کریں۔ جن کا شریعت میں کوئی وجود نہیں ہے۔ پاکستانیوں کے ذہنوں میں اسلام کے عظیم مذہب کا وہی تصور قائم کیا جائے‘ اس کی حدود و قیود بتائی جائیں‘ مذہب اللہ اور بندے کے درمیان کا معاملہ ہے۔ جو علماء یا تنظیموں کے سربراہ مذہب کا سہارا لے کر اپنی طاقت بڑھاتے ہیں اپنے پیروکاروں کو مسلّح کرتے ہیں‘ دوسرے مسلک کے پیروکاروں پر مسلط ہونا چاہتے ہیں ان کے خلاف بھی قانون کو حرکت میں آنا چاہئے۔ وہ مذہب کو بھی نقصان پہنچارہے ہیں اور مملکت کو بھی۔

پاکستانی فوج نے

De-Redicalisation

کا جو پروگرام شروع کر رکھا ہے اس کا دائرہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں پورے ملک میں پھیلائیں۔ اس کے ذریعے انتہا پسندی کے تمام رجحانات کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل‘ اور خاص کرم ہے کہ پاکستان کی 62 فی صد آبادی نوجوان ہے۔ 15 سے 35سال کے درمیان۔ اس کی تربیت‘ تنظیم اور روزگار کے لئے ایک وسیع البنیاد اور طویل المعیاد پروگرام سرکار اور نجی شبعے مل کر بنائیں تو خود کش بمبار تیار کرنے والی تنظیموں‘ لسانی گروہوں‘ نسل پرستوں ‘ علیحدگی پسندوں کو نئی کمک نہیں مل سکے گی۔

انتہا پسندی کے خلاف ایک منظم بیداری‘ آگہی اور شعور کے احیاء میں سکول‘ کالج اور یونیورسٹیاں مؤثر اور بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یونیورسٹیوں میں ایسے سیمینار منعقد کئے جائیں جہاںِ تاریخ اسلام‘ شریعت‘ فقہ اور عالم اسلام میں مختلف رجحانات کے حوالے سے تبادلہ خیال ہو۔ انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں میں سیاسی جماعتوں اور مذہبی تنظیموں کی طلبہ تنظیموں کو بتدریج ختم کیا جائے ۔ یہ تعلیم کی اشاعت میں بھی رکاوٹ ہیں اور اپنی سوچ کو طاقت وراور اسلحے کے زور پر مسلط کرنا بھی ان کا شیوہ بن چکا ہے۔ پاکستان کے آئین کے مطابق ایسی تنظیموں کے قیام کی اجازت ہے جس میں ہر پاکستانی کسی مذہب‘ مسلک‘ زبان‘ نسل کے امتیاز کے بغیر رکنیت حاصل کرسکے۔ بے شمار پاکستانی مذہبی جماعتیں‘ تنظیمیں اور این جی اوز اس آئینی شق سے متصادم ہیں‘ پھر بھی وہ متحرک ہیں۔ اس سے ہی پاکستانی تقسیم ہوتے ہیں۔ میڈیا پاکستان میں اب بہت زیادہ متحرک اور مؤثر ہوچکا ہے‘ لیکن جو بھی شعوری اور غیر شعوری طور پر معاشرے میں تقسیم پیدا کرتا ہے۔ اس کی اپنی تربیت نہیں ہے۔ اس لئے کئی اینکر پرسن‘ رپورٹر‘ انتہا پسندی کے رجحانات کو تقویت پہنچاتے ہیں ان میں سے بہت سے دہشت گردی کا نشانہ بھی بن چکے ہیں۔ پاکستانی فوج نے مسلسل کوششوں سے اپنے ہاں جو ڈسپلن قائم کیا ہے۔ جہاں کسی ملک‘ فرقے ‘زبان یا نسلی عصبیت کو فوقیت حاصل نہیں ہوسکی۔ ان کے افسروں نے اپنے پیشہ ورانہ انداز سے ایک معیار اور اعتبار قائم کیا ہے۔ سول محکموں کو بھی پیشہ ورانہ خدمات کا یہ انداز اختیار کرکے اپنی ساکھ بحال کرنی ہوگی۔ قانون کی یکساں حکمرانی ہوگی تو کوئی بھی سیاستدان یا مذہبی تنظیم اپنے دائرے سے تجاوز نہیں کرسکے گی۔ دیگر امور کے ساتھ ساتھ یہ امر بھی بہت اہمیت کا حامل ہے کہ:

عوام کی جان اور مال کی حفاظت بنیادی طور پر مملکت کی ذ مہ داری ہے جو عام طور پر پولیس کے ذریعے پوری کی جاتی ہے۔ اس کے لئے پولس کو تربیت دینا اور ضروری سازوسامان فراہم کرنا سول انتظامیہ کا فرض ہے۔ تمام ترقی یافتہ ملکوں میں یہی طریقہ رائج ہے فوج کو سول انتظامیہ صرف آفات ناگہانی کے وقت بلاتی ہے اور وہ بھی محدود عرصے کے لئے مگر ہمارے ہاں ایک طویل مدت سے سول انتظامیہ اپنے اس ٖ فرض سے انتہائی غفلت برت رہی ہے ۔ کراچی میں رینجرز کئی سال سے وہ ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں جو بنیادی طور پر پولیس کا کام ہے۔ رینجرز فارغ ہو کر سرحدوں پر جا کر اپنا کام کر سکتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحادی بننے کے بعد امریکہ نے پولیس ٹریننگ کے لئے بھی فنڈز دیئے ہیں مگر کسی صوبے کی پولیس اپنا معیار بلند کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ایک تو ہم اب اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں‘ اس کا تقاضا بھی ہے پھر ہم ایٹمی ملک بھی ہیں‘ اب ہماری حیثیت بڑھ گئی ہے ۔پاکستان کے سیاسی قائدین اور سیاسی جماعتوں کو اس سطح پر سوچنا اور منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔ اپنی گراں قدر ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہئے۔ یہ درست ہے کہ فوج نے اپنی کارکردگی کا معیارآج کے تقاضوں اور ترقی یافتہ قوموں کے برابر رکھا ہے اور عوام بھی ان پر اعتبار کرتے ہیں ۔لیکن انہیں سول امور میں مصروف رکھنے سے ان کی پیشہ ورانہ اہلیت متاثر ہوتی ہے اور وہ ان مقامات پر نہیں جا سکتے جہاں ان کی زیادہ ضرورت ہے۔ منتخب سیاسی حکومت کو ایک اجلاس اس سلسلے میں بھی منعقد کرنا چاہئے کہ قانون کے یکساں نفاذ کے لئے سول محکموں کی جو ذمہ داریاں ہیں وہ پوری کی جارہی ہیں یا نہیں۔ پولیس آفیسرز اہل ہیں یا نہیں؟ کمشنرز‘ ڈپٹی کمشنرز کو اپنے فرائض کا احساس ہے یا نہیں۔سول انتظامیہ کو اپنے ہاں بھی وہی ڈسپلن قائم کرنا چاہئے جو فوج میں قائم رکھا جاتا ہے ۔

ایک اور فوری اور ضروری اقدام یہ ہے کہ سیاسی حکومتیں مقامی حکومتوں کا نظام بحال کریں‘ اس سے بھی دہشت گردی اور لا قانونیت کے خاتمے میں بہت مدد ملے گی یہ آئین کا بھی تقاضا ہے اور وقت کی آواز بھی۔جہاں جہاں فوج اپنا آپریشن مکمل کر لے‘ وہاں پورا نظم و نسق سول انتظامیہ سنبھالے اور قانون کی یکساں حکمرانی نافذ کرے۔یہ جائزہ لیا جائے کہ سوات میں سول محکموں نے پورا کنٹرول لے لیا ہے یا نہیں ۔ دہشت گردی ایک بہت گہرا اور کثیر الجہتی ایشو ہے۔ اس لئے اس کے حل کے لئے بھی کوئی ایک مخصوص طریقہ کار یا مخصوص ادارہ ہی ذمہ دار نہیں ہے بلکہ یہ ایک مکمل اور جامع رسپانس مانگتا ہے۔ پاک فوج نے اِس کے ملٹری پرانگ

کو بہت استعداد اور کامیابی سے چلایا ہے۔ مگر یہ کافی نہیں ہے۔ سِول پرانگ

(prong)

کو بھی اس طرح عملی طور پر آگے بڑھنا ہو گا۔ زبانی بیانات کے بعد اب سِول قیادت اور اداروں کو عملی طور پر اپنی استعداد کو بڑھانا اور ثابت کرنا ہو گا۔ اگر یہ نہ ہو سکا تو ہم من حیث القوم دہشت گردی کے عفریت کو مکمل طور پر شکست نہیں دے سکیں گے۔ سب کو آگے بڑھنا ہو گا۔ ہاتھوں میں ہاتھ دینا ہوں گے۔ عمل سے نیت کا ثبوت دینا ہو گا۔یاد رکھئے اس جنگ میں شکست‘ نو آپشن (No option) ہے۔


[email protected]

یہ تحریر 191مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP