شعر و ادب

دھرتی ماں

میری دھرتی ماں!
تمہیں یاد ہے نا یہ تیرا جاں نثاربیٹا
تیری ممتا کا محافظ۔۔۔ تیری بقا کا ضامن
تیری کوکھ  سے جنم لے کر۔۔۔
تیری خاطر ہر درد ہر تکلیف خوشی سے سہہ کر۔۔
تیرے آنچل میں روشن ستارے سجانے کی۔۔
 تیرے دامن کو امن کے پھولوں سے بھرنے کی خواہش کرتا۔۔۔
تیرے ماتھے پر سجے آزادی کے جھومر کو۔۔
 بچانے کی قسمیں کھایا کرتا تھا۔
یاد ہے ناں ماں۔!
میری دھرتی ماں۔!
 میں نے اب اپنا کیا وعدہ نبھانا ہے۔۔
اور کفن سر پر لپیٹے۔۔
شہادت کا سہرا سجانے کی تمنا لئے۔۔
تیرے اس بیٹے نے آج ۔۔
اپنی محبت کا نذرانہ دینے جانا ہے۔۔
تیرے آنچل کو جگمگ ستاروں سے سجانے۔۔
تیرے دامن میں کھلتے پھولوں پر ابر برسانے۔۔
مجھے دور۔۔۔
بہت دور۔۔ اُفق پار جانا ہے۔۔
ماں!
میری دھرتی ماں!
بس اتنی دعا کرنا۔۔
کہ تیرایہ جانباز بیٹا۔۔
تیری کوکھ  میں چھرا گھونپنے والوں کے سر قلم کرتے کرتے۔۔
تیرے وقار اور سلامتی کو تا قیامت یقینی بنائے۔۔
تیری حرمت و عظمت کی علامت!
 تیرا یہ سبز ہلالی پرچم ۔۔ میرے ہاتھ سے چھوٹنے نہ پائے۔۔
سیاچن!
تیرے بالوں کی سفیدی کی علامت۔۔۔
تیری آزادی اور خود مختاری کی علامت۔۔
ماں!
میری دھرتی ماں!
میںنے سیاچن سے سارے خار چن کر۔۔
 امن کے گلاب اُگانے ہیں۔۔۔
اور اپنی جان دے کر تیری آزادی کا جھومر بچانا ہے۔۔
ماں!
میری دھرتی ماں!
میںنے دور۔۔
بہت دور۔۔۔ اُفق پار جانا ہے۔۔
اور تیرے  آنچل کو ستاروں سے سجانا ہے۔۔
ماں!
میری دھرتی ماں!
مجھے عقیدت ہے تیری۔۔۔
فلک شگاف برف پوش پہاڑی چوٹیوں سے۔۔
تیرے دامن کھلتے پھولوں بھری وادیوں سے۔۔
تیری آغوش میں بچھے سر سبز کھیت کھلیانوں سے۔۔
اور۔۔۔
تیرے پہلو میں خاموش اور ویران۔۔!
تپتے صحرا اور ریگستانوں سے ۔۔!
ماں!
میری دھرتی ماں!
میںنے ان کی سلامتی کے لئے ہر حد سے گزرجانا ہے۔
میںنے اب دور۔۔۔
بہت دور ۔۔۔اُفق پار جانا ہے۔
اور تیرے آنچل کو ستاروں سے سجانا ہے۔
ماں!
میری دھرتی ماں!
 

یہ تحریر 41مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP