متفرقات

دھرتی اور ماں۔۔۔ دو لازوال سائباں

ماں کا رشتہ ہر سماج‘ مذہب‘ معاشرت اور تصور میں عظیم‘ پاکیزہ اور قابلِ احترام ہے۔ ماں کے دل میں اولاد کی محبت کوئی مادی یا دنیاوی اختراع نہیں ہے بلکہ خدا کی ودیعت ہے۔ یہ خدا کی عظمت اور حقیقت کا ثبوت ہے کہ وہ ماں جیسے عظیم رشتے اور لازوال محبت کا تخلیق کار ہے۔ ماں وہ رشتہ ہے جسے اپنی محبت اور قربانی کے لئے کسی علم‘ وقت اور جگہ کا محتاج نہیں ہونا پڑتا۔ آج سے ہزاروں سال پہلے کی ماں بھی اپنے جگر گوشے کو پانی پلانے کے لئے جب دیوانہ وار دوڑتی ہے تو خدا کو اس کی ادا اتنی پسند آتی ہے کہ سعی صفا و مرویٰ زمانہ ابدتک امر ہو گئی ہے۔ ماں چاہے سائبیریا کے برفانی میدانوں میں ہو‘ افریقہ کے دشت و صحرا میں ہو‘ یا مغرب کے تیز رفتار معاشرے میں زیست کے شب و روز گزار رہی ہو۔ ہر جگہ‘ ہر حال اور ہر رویے میں اپنی اولاد کے لئے ایک ایسی محبت کی مثال ہے جس سے نہ صرف نسل انسانی کا وجودی تسلسل قائم ہے بلکہ وہ اس کی پہلی اور نہایت مؤثر درس گاہ ہے۔ عظیم مائیں ہی یقیناًعظیم نسلوں کی امین ہوتی ہیں۔

انسان کے دھرتی‘ مُلک اور زمین سے رشتے بھی ہر اعتبار سے بہت گہرے ہوتے ہیں۔ یہ ان رشتوں کی گہرائی اور سچائی کا ثبوت ہے کہ ان رشتوں کو ماں کے رشتے سے مماثلت دی گئی ہے۔ ابتداء سے ہی انسان اپنی بہتر پہچان کی خواہش رکھتا ہے اور دھرتی کا وجود انسان کی اس جذباتی و نفسیاتی ضرورت کی تکمیل ہے۔ یہ اس مثال سے بھی واضح ہے کہ جن اقوام کے اپنے اپنے جداگانہ اور آزادانہ ملک ہوتے ہیں وہ ان کی بقا کے لئے ہمہ تن مصروف رہتی ہیں اور وہ اقوام جو غلامی کی زندگی گزار رہی ہوں یا جن سے ان کا ملک چھین لیا گیا ہو وہ اپنی آزاد و خودمختار دھرتی کے قیام کے لئے اپنے جسم و جان اور لہو کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتیں۔

ماں کی عظمت۔۔مشاہیر کی نظر میں

ماں کی خدمت اپنے اوپر لازم کر لے کہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے ۔

(حدیثِ نبویﷺ)

دنیا کی سب سے بڑی ہستی ماں اور صرف ماں ہے۔

(مولانا محمدعلی جوہر)

میری محفوظ ترین پناہ گاہ میری ماں کی آغوش ہے۔

(ابنِ جوزی)

جس کی ماں مرجائے وہ کائنات کا مفلس ترین آدمی ہے۔

(گوئٹے)

کتنا بدقسمت ہے وہ جو ماں کے ہوتے ہوئے اس کی محبت حاصل نہ کرسکے ۔

(کارلائیل)

ماں محبت کا عظیم پیکر ہے۔

(راجرسن بیکن)

جس کے دل میں ماں کے لئے محبت ہے وہ زندگی کے کسی بھی موڑ پر شکست نہیں کھا سکتا۔

(بوعلی سینا)

اس بات سے ہر وقت بچنے کی کوشش کرو کہ ماں نفرت کرے یا بد دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔

(پوپ الیگزینڈر)

دھرتی اور ماں کے اس رشتے کو ہمیشہ مقدس اور مقدم جاننا چاہئے۔ نہ صرف لاشعوری بلکہ شعوری کوششوں سے ان رشتوں کو مضبوط کرنا انتہائی اہم ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان رشتوں کی افادیت کم نہیں ہوتی بلکہ مزید گہری ہوتی ہے۔ جس طرح انسان کو ماں کے بڑھاپے ‘ کمزوری اور بیماری میں دن رات خدمت کرنی چاہئے‘ اس طرح اگر دھرتی پہ کڑا وقت آئے تو قربانی سے منہ نہیں موڑنا چاہئے‘ بلکہ آگے بڑھ کر مسائل کے حل کے لئے کاوشیں کرنی چاہئیں۔ جس طرح مشکل حالات میں اچھی اولاد اپنے والدین کو ملعون و مطعون نہیں کرتی‘ اسی طرح اچھی اقوام اور بہتر افراد مشکل حالات میں اپنی دھرتی پر کیچڑ نہیں اچھالتے‘ الزام نہیں دھرتے اور دوسروں کے ہاتھوں کھلونا بن کر اپنی اس ماں کی اذیت میں اضافہ نہیں کرتے بلکہ وہ آگے بڑھتے ہیں۔ اپنی محنت‘ محبت‘ خدمت اور قربانی پیش کرتے ہیں۔ وہ صبر‘ جدوجہد اور ایثار کی نئی داستانیں رقم کرتے ہیں۔ ایسی ہی اقوام امر ہوتی ہیں۔ یہی طریق جاودانی ہے۔ آیئے ہم بھی اس راہ کے مسافر بن جائیں۔ ہماری دھرتی پہ بھی کڑا وقت آن پڑا ہے۔ یہ ہمارے کردار کی آزمائش کا وقت ہے۔

یہ تحریر 31مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP