قومی و بین الاقوامی ایشوز

دو ہزار سولہ کا بلوچستان

بلوچستان کی ترقی اور امن و امان کے حوالے سے بلوچستان کے نئے منتخب وزیراعلیٰ سردار ثناء اﷲ زہری سے فہیم خان کی گفتگو

دو قومی نظریے کے تحت بننے والے پاکستان کے دیگر صوبوں کی طرح بلوچستان نے بھی بھر پور تائید کی ۔رقبے کے لحاظ سے بلوچستان سب سے بڑا صوبہ ہے جس کی سرحدیں دو اہم ممالک سے ملنے کے ساتھ

ساتھ تینوں صوبوں سے بھی ملتی ہے۔ بانئ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت سے اچھی طرح واقف تھے۔ وہ جب بلوچستان کے لوگوں سے ملے تو نہ صرف ان کا شاندار استقبال کیا گیا بلکہ ان کوخراج پیش کرنے کے لئے سونے میں بھی تولاگیا۔ بانئ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی کی بلوچستان سے محبت کا ثبوت یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنے زندگی کے آخری ایام بلوچستان میں گزارے۔ اس دوران بلوچستان کے خان، نواب، سردار اور عوام قائد اعظم کے شانہ بشانہ رہے۔

 

گزشتہ کچھ عشروں سے بیرونی قوتوں اور ملک دشمن عناصر کی سازشوں کی بناء پر بلوچستان بدامنی کا شکار ہے۔ عسکری اورسول قیادت نے ایک صفحے پر رہتے ہوئے امن وامان کی صورتحال کی بہتری کے لئے مثبت اقدامات کئے اور بلوچستان کے غیور عوام نے اپنے ملک پاکستان سے حب الوطنی کا ثبوت دیتے ہوئے عسکر ی و سول قیادت سے بھرپور تعاون کیا۔ امن وامان کے حوالے سے لوگوں میں اعتماد کی فضا قائم ہوئی تاہم اس امن کے استحکام کے لئے مزید بہت کچھ کرنا باقی ہے تاکہ سال 2016 میں بلوچستان اور پاکستان ایک پرامن اور ترقی کی منازل طے کر سکیں۔ اسی ترقی کے خواب کو پورا کرنے کے لئے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نہ صرف خصوصی توجہ دے رہے ہیں بلکہ اس سلسلے میں گوادر اور مکران ڈویژن کا کئی دفعہ دورہ بھی کرچکے ہیں۔

 

پچھلے دنوں انہوں نے نو منتخب وزیر اعلیٰ نواب ثناء اﷲ زہری کے ہمراہ گوادر اور مکران ڈویژن کا دورہ کیا اور وہاں کے مقامی لوگوں کے مسائل کے بارے میں آگاہی حاصل کی اور گوادر انٹرنیشنل ائرپورٹ او ر پاک چین راہداری سے متعلق تحفظ کے اقدامات کو مزید بہتر بنانے کے لئے احکامات جاری کئے۔ اس قسم کے اقدامات سے گوادر بشمول بلوچستان کے عوام میں تحفظ کا احساس اوراعتماد مزید بڑھا۔

 

2016کے بلوچستان میں ترقی کی منازل طے کرنے اور بلوچستان کے معاشی وسماجی مسائل کے حل کے بارے میں جاننے کے لئے راقم نے بلوچستان کے نو منتخب وزیر اعلیٰ بلوچستان ثناء اﷲ زہری کے ساتھ ایک ملاقات کی جس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے بتایا کہ 2016کے آغاز سے ہی وہ وفاقی حکومت اور عسکری قیادت کے تعاون سے پرامن اور ترقی یافتہ بلوچستان کے لئے کوشاں ہیں۔ امن وامان کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ہماری فورسزاور عوام کی بے انتہاقربانیوں کی بناء پر دہشت گردی کے واقعات پر کافی حد تک قابو پالیا گیا ہے۔ جس سے لوگوں میں حکومت اور عسکری ذرائع پر اعتماد میں اضافہ ہوا ہے او ر خوف کی فضا کم ہوئی ہے۔ امن وامان کی بہتری کسی بھی خطے کی ترقی کے لئے لازم وملزو م ہے ۔

 

اس وقت پاک چین راہداری ایک اہم منصوبہ ہے جس کی تکمیل سے پاکستان کے دیگر صوبوں کے علاوہ بلوچستان میں بھی ترقی کی راہیں کھلیں گی۔ اس منصوبے کی تکمیل کے لئے سول وعسکری قیادت دن رات مصروف عمل ہے۔ ہم بلوچستان سے گزرنے والی راہداری کو 2016کے اختتام پرمکمل کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ اس راہداری سے منسلک دیگر منصوبوں مثلاً انڈسٹریل زون کی جلد از جلد تکمیل بھی ہمارے مشن کاحصہ ہے اس کے علاوہ ریکوڈک منصوبہ بھی بلوچستان کی ترقی کے لئے سنگ میل ثابت ہوگا۔

تعلیم کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ کسی بھی علاقے کی ترقی کے لئے تعلیم کا حصول لازمی ہے اسی لئے دہشت گرد اپنی کارروائیوں میں تعلیمی شعبوں کو نشانہ بناکر قوم کو تعلیم سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن ہمارا عزم ہے کہ2016میں بلوچستان کے نہ صرف شہروں میں بلکہ دورافتادہ علاقوں میں نئی یونیورسٹیز ،کیڈٹ کالجزاورفنی تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں گے تاکہ بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں بھی نوجوانوں کو معیاری تعلیم مل سکے اورعلم کی شمع چار سو پھیل سکے ۔اس سلسلے میں تعلیمی اقدامات کے لئے بجٹ میں 26% حصہ مختص کیا گیا ہے۔ اس وقت بھی عسکری اداروں اور بلوچستان گورنمنٹ کے تعاون سے گوادر انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کے طلباء کو معیاری فنی تعلیم مہیا کررہا ہے۔ اس کے علاوہ بلوچستان انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن بھی بلوچستان کے طلباء کے لئے ایک معیاری فنی تعلیمی ادارہ ہے ۔

 

بلوچستان میں صحت کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ اگلے ماہ پنجاب حکومت کے تعاون سے ایک بڑے اور جدید سہولیات سے آراستہ، کارڈیالوجی ہسپتال کی بنیاد رکھی جائے گی جو 2016میں ہی مکمل ہوجائے گا۔ اس وقت بلوچستان کے دوردراز علاقوں کے مریض ڈائیلاسیس ، سی ٹی سکین وغیرہ کے لئے دوسرے صوبوں میں جاتے ہیں۔ 2016میں ہی تمام ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر میں ہیلتھ کے حوالے سے جدید مشینری جن میں سی ٹی سکین، ڈائیلاسیس ، ڈینٹل سرجری وغیرہ شامل ہیں، کی سہولیات مہیا کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے جو یقیناًایک خوش آئندامر ہے۔صحت کے اقدامات کی مد میں بجٹ کا تقریباً 20% مختص کیا گیا ہے۔ دوردراز علاقوں میں ڈاکٹر ز اورسرجن کی موجودگی کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ جن کے تحفظ کے لئے سول اور عسکری ذرائع ہردم تیار ہیں۔ اس وقت ہم کوئٹہ میں صفائی ستھرائی کے لئے جدید مشینری کے لئے کروڑوں روپے مہیا کرچکے ہیں۔ اس کے علاوہ پورے بلوچستان میں صاف پانی کے حصول کے لئے فوری اقدامات کا حکم دے دیاگیا ہے۔

 

کھیلوں کی اہمیت کے حوالے سے نوجوانوں کے لئے کھیلوں کی سرگرمیاں مثبت پہلو رکھتی ہیں جس سے نوجوان بے راہ روی، منشیات اور دہشت گرد عناصر سے دُور رہتے ہیں۔ اس لئے مارچ 2016سے پورے بلوچستان میں سپورٹس فیسٹیول کا انعقاد کیا جائے گا۔ جس میں تمام ڈسٹرکٹ کی سطح پرکھیلوں کے مقابلے منعقد کئے جائیں گے۔ ان کھیلوں میں ہم دیگر صوبوں کے کھلاڑیوں کو بھی دعوت دے رہے ہیں۔ بلوچستان کے سب سے بڑے اسٹیڈیم (ایوب اسٹیڈیم)میں فلڈ لائٹ کا انتظام نہیں تھا جس کی وجہ سے نائٹ کرکٹ میچ نہیں ہوسکتے تھے۔ رواں ماہ میں فلڈ لائٹ کے انتظام کے لئے 20کروڑ روپے ریلیز کئے جا چکے ہیں تاکہ بلوچستان میں بھی معیاری سہولیات میسر آسکیں۔ کرکٹ کے حوالے سے پاکستان سپر لیگ کاانعقاد کیا جارہا ہے۔جس سے یقیناًبلوچستان میں کھیلوں کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا اور نوجوانوں میں ایک نیا ولولہ پیدا ہوگا۔ بلوچستان کی کرکٹ ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے نام سے اس لیگ میں حصہ لے رہی ہے جس کی افتتاحی تقریب میں میں خود نوجوان کرکٹروں کی حوصلہ افزائی کے خصوصی طورپر شریک ہوا۔

 

 

بلوچستان میں فنون لطیفہ و ادب کی سرگرمیوں کے انعقاد کے سلسلے میں بھی وزیر اعلیٰ بلوچستان بہت پر عزم ہیں اور اس سلسلے میں 23مارچ کو ایک آل پاکستان مشاعرہ اور اسی طرح کے دیگر ادبی پروگرامزمرتب کئے جارہے ہیں تاکہ بلوچستان کا سوفٹ امیج اجاگر ہوسکے۔آخر میں انہوں نے نوجوانوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ تعلیم پر خصوصی توجہ دیں اورملک کے مفاد میں دن رات محنت کریں ملک دشمن عناصر سے نہ خوف زدہ ہوں نہ ان کاآلہ کار بنیں۔ ہمارے ملک اور صوبے کی حفاظت کے لئے پاک فورسز موجود ہیں۔ ہمیں اپنے صوبے کی اور اپنے ملک کی ترقی کے لئے محنت کرنی ہے ہم بلوچستان سے ہیں اور بلوچستان پاکستان سے ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان اور عسکری قیادت کے اقدامات اور عزم کودیکھ کر کہاجاسکتا ہے کہ اب وقت آگیا ہے قائد اعظم کاپاکستان اور بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کا خواب پوراہوسکے اور2016کا بلوچستان پاکستان کی ترقی کا روشن مینار ثابت ہو گا۔


[email protected]

یہ تحریر 63مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP