ہمارے غازی وشہداء

دو بہنوں کا اکلوتا شہید بھائی

اے پی ایس پشاور کے سانحے میں شہید ہونے والے مبین شاہ آفریدی

مبین شہید،ڈاکٹر فاروق شاہ آفریدی کا اِکلوتابیٹا تھا،دو بہنوں کا اکلوتابھا ئی مبین شاہ آفریدی16دسمبر کو اے پی ایس پشاور پر دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہوا۔ وہ 28 ستمبر1998 کو پشاور میں پیدا ہوا۔ وہ آرمی پبلک سکول پشاور میں دسویں جماعت کا طالبِ علم تھا۔ وہ قرآن پاک بھی حفظ کر رہا تھا ۔جس قرآنِ پاک سے وہ قرآن حفظ کر رہا تھااُس پر مبین نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا۔ میں مسمی مبین شاہ یہ عہد کرتا ہوں کہ آئندہ سے پانچ وقت کی نماز کو پابندی سے اداکروں گا۔اگر میں نے نمازادا نہیں کی تو سزا کا مستحق ہوں گا۔‘‘ اُسے مذہب سے کافی لگاؤ تھا۔

 

ڈاکٹر فاروق شاہ آفریدی کے لئے16دسمبر کادن قیامتِ صغریٰ سے کم نہیں تھا۔ جب اُن کواِطلاع ملی کہ آرمی پبلک سکول پشاور پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا ہے تو وہ سکول کی طرف دوڑے اورمسلسل اپنے بیٹے کو تلاش کرتے رہے۔ اُن کی اہلیہ اپنی چھوٹی بیٹی کو لینے سکول گئی جو آرمی پبلک سکول جونیئرسیکشن میں تیسری جماعت کی طالبہ تھی۔ وہ اپنے بیٹے کے لئے رو رہی تھی اور مس آمنہ سے کہہ رہی تھی کہ میرے بیٹے کا کچھ پتا نہیں چل رہا، دعا کریں خیریت سے ہو۔ شام کے 5بجے مبین کا جسدِ خاکی سی ایم ایچ ہسپتال پشاور سے ملا اور 17 دسمبر کو سپردِخاک کر دیا گیا۔ فاروق شاہ صا حب کا حوصلہ دیکھ کر یہ بات حقیقت لگی کہ شہید کے والدین روتے نہیں بلکہ اپنے لخت جگر کی قربانی پر فخر کرتے ہیں۔

 

16دسمبر 2014کو مبین شہید کے سکول جاتے وقت آ خری الفاظ یہ تھے کہ مما میں جا رہا ہوں اور اُس کی والدہ ہمیشہ اُس پر آیت الکرسی پڑھتی تھی، اُس دن بھی پڑھی اورتلقین کیا کرتی تھی کہ ذکر کرتے سکول جایا کرواُس دن جب وہ گلی سے روڈ کی جانب مڑا تو ماں کی طرف ہاتھ لہرایا اور مڑ کے اُن کی جانب اُس نے دیکھا وہ سوچتی رہی روز مبین مڑکر نہیں دیکھتا تھا آج کیوں مڑا؟ اُنھیں کیا معلوم تھا کہ وہ اُس دن اُنہیں آخری دفعہ دیکھ رہا تھا۔ والدہ اکثر مبین کو کہتی کہ جب تم حفظ کر لو گے تو میرے مرنے کے بعد بغیر قرآن پاک لئے میری قبر کے پاس بیٹھ کر زبانی سپارہ پڑھ لیا کرو گے مگر کیا خبر تھی کہ وہ پہلے چلا جائے گا۔

 

مبین اپنے تینوں دوستوں کے ہمرا ہ آڈیٹوریم کے دروازے کے پاس کھڑا تھا۔ ےٰسین اور رفیق اس کے قریبی دوست تھے، ہر وقت اکٹھے رہتے۔ دسویں جماعت کا امتحان قریب تھا۔مبین شہیدپوزیشن ہولڈر بچہ تھا۔ والدہ کہتی تھی نویں میں محنت کی، دسویں میں بھی کرو۔ کہتا تھا دسویں کے امتحان میں ایسا رزلٹ آئے گا کہ دنیا یاد رکھے گی اور آج اُسے دنیا یاد کر رہی ہے۔

 

بھائی بہنوں کا مان ہوتے ہیں بڑی بہن کے ساتھ بہت دوستی تھی۔ باتیں شےئر کرنا، یک زبان ہوناالبتہ چھوٹی بہن کے ساتھ نہایت شفقت سے پیش آتے تھے۔ اُس کے ساتھ کھیلنا، بازار کی فرمائشیں پوری کرنا اس کی عادت تھی۔ شہادت کی رات بھی 11 بجے اُس کے لئے بازار سے چیزیں لے کر آیا۔ بقول والدہ کے اُس نے گھر سنبھالا ہوا تھا۔ ہر خوشی غمی میں اُنہیں لے کر جاتا وہ اُن کا دوست بھی تھا، محافظ بھی۔ شہادت سے کچھ دن قبل امی کو انٹرنیٹ سے غزہ کے شہید بچوں کی تصاویر دکھا رہا تھا کہہ رہا تھا، ان معصوموں کا کیا قصور ہے؟اُسے کیا خبر تھی چند روز بعد وہ خود دہشت گردی کا نشانہ بنے گا۔ مبین شاہ شہید کی والدہ کا کہنا تھاکہ اُن کی زندگی کے رنگ چھین لئے گے۔ مبین کی والدہ کا کہنا تھا کہ مبین کھانے میں فرائڈ قیمہ ،پلاؤ، بریانی شوق سے کھاتا تھا۔شہادت کے دن بھی وہ اُس کے لئے پلاؤ بنا رہی تھیں وہ کہتی ہیں کہ آج بھی جب بھی کوئی اچھی چیز بناؤں تو مبین بہت یاد آتا ہے اُس کی تمام چیزیں اُس کی یاد دلاتی ہیں۔

 

ایک برس گزرنے والا ہے مگر زخم ابھی بھی ہرے ہیں۔ درد بھری سسکیاں ابھی بھی کانوں میں گونجتی ہیں۔آنچل ابھی بھی آنسوؤں سے نم ہے۔ ماں کی گود ابھی بھی تڑپ رہی ہے، وہ دردناک مناظر ابھی بھی آنکھوں میں منجمد ہیں۔ معصوم پھولوں کا بے دردی سے قتل کرنے والے دشمن کے لئے نفرت ابھی بھی موجود ہے مگر الحمدﷲ وہ عزم بھی جواں ہے کہ اس ملک سے دہشت گردی کو جڑسے ختم کریں گے۔ حادثات انسان کو بہت کچھ سکھاتے ہیں۔ قوموں کو زندہ کرتے ہیں، قوموں کو متحد کرتے ہیں۔ 16 دسمبر کو کئی ماؤں کی گودیں اُجڑگئی اب یہ مائیں اپنے باقی بچوں کے لئے محفوظ پاکستان چاہتی ہیں۔

[email protected]

 

یہ تحریر 89مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP