اداریہ

دنیا کی بہترین سپاہ - اداریہ

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ دنوں پاک فوج کے آفیسرز اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے اس امر کا عادہ کیا کہ پاک فوج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کے تجربات نے ہمیں جنگی لحاظ سے مزید سخت بنا دیا ہے۔ یہ صلاحیت ہماری آپریشنل تیاری کے سلسلے میں انتہائی اہم ہے۔ پاک فوج کے جوان دنیا کی تمام افواج میں سب سے بہترین سپاہی ہیں۔ مجھے اس بہادر اور پیشہ ورانہ فوج کے سربراہ ہونے پر فخر ہے۔


اس میں کوئی شک نہیں کہ پاک فوج کے آفیسرز اور جوان باہم مل کر اپنی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بناتے ہیں۔ افواج پاکستان دنیا کی شاید وہ واحد فوج ہے جس میں افسروں کی شہادت کی اوسط قابلِ مثال ہے۔ ہر9 جوانوں کے ساتھ ایک افسر شہادت کے منصب پر فائز ہوتا ہے جو اس امر کا غماز ہے کہ فوج کے افسران نہ صرف اپنے سولجرز کی رہنمائی کرتے ہیں بلکہ فرنٹ پر رہتے ہوئے دشمن کا مقابلہ بھی کرتے ہیں۔ اس میں وطن کے یہ سپاہی اپنی جان کی بازی ہار جاتے ہیں لیکن ملک کے سبزہلالی پرچم کو سرفراز اور باوقار کر جاتے ہیں۔ فیض نے انہی لوگوں کے لئے کہا تھا۔


جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی کوئی بات نہیں


بلاشبہ سپاہ گری ایک باوقار پیشہ ہے اور سپاہی ہونا ایک اعزاز کی بات ہے۔ اور عظیم ہیں وہ مائیں جو ایسے فرزند جنتی ہیں جو وقت پڑنے پر اپنی مادر وطن پر مر مٹتے ہیں۔ اس قوم کی مائیں اور باپ اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ اُن کے سپوت میدان جنگ میں بہادری سے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ افواج کسی جذبے اور نظریے کے لئے لڑتی ہیں لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ افواج زمانہ امن میں بھی جنگ کے لئے خود کو تیار رکھیں۔ آپریشن ضرب عضب میں افواج پاکستان نے جس طرح سے کامیابی حاصل کی وہ اس امر کی عکاس ہے کہ زمانہ امن میں ہماری افواج کس قدر کٹھن اور جاں گسل عسکری تربیت سے گزرتی ہیں۔


آج الحمدﷲ ضرب عضب کے ثمرات قوم کے سامنے ہیں اور ملک میں دہشت گردی کے واقعات برائے نام رہ گئے ہیں لیکن اس کے باوجود قوم اور اداروں کو اپنے اپنے حصے کا کام اس انداز سے کرنا ہے کہ قوم آئندہ بھی دہشت گردی اور تخریب کاری ایسے خطرات سے خود کو محفوظ رکھ سکے۔ افواج پاکستان دہشت گردی کے خلاف کافی حد تک کامیابیاں سمیٹنے کے باوجود بھی تربیت اور پیشہ ورانہ فرائض سے غافل نہیں ہیں بلکہ اُس کے سولجرز، چاہے وہ مغربی سرحدوں پر تعینات ہوں یا مشرقی سرحدوں پر،سیاچن کی یخ بستہ وادیوں میں فرائض ادا کر رہے ہوں یا تپتے ہوئے ریگستانوں میں ان کی فرض شناسی اور عزم و استقلال میں کبھی لغزش نہیں آتی۔ قوم کوفخر ہونا چاہئے کہ اس کی فوج کے افسر اور جوان پیشہ ورانہ اعتبار سے بے مثال ہیں جو وقت پڑنے پر اپنے دنیاوی رشتوں ناتوں اور اپنے پیاروں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وطن پر قربان ہونے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔اﷲ پاکستان کو ہمیشہ سلامت رکھے۔
افواج پاکستان زندہ باد
پاکستان پائندہ باد

یہ تحریر 194مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP