قومی و بین الاقوامی ایشوز

دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے

اخبارا ت اور میگزین میں ’’آپ کے مسائل کا حل‘‘ یا ’’آنٹی سے پوچھیں‘‘ یا ’’آپ کی الجھنیں ‘‘ ٹائپ کے سلسلے مجھے بے حد دلچسپ لگتے ہیں۔ان سلسلوں میں دنیا اور آخرت کی گتھیوں سمیت ہر مسئلے کا حل اس قدر فصاحت و بلاغت کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے کہ پڑھنے والا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔گیس کا چولہا ٹھیک کرنے سے لے کر ڈراؤنے خوابوں کے علاج تک اورفلسطین کے مسلمانوں کی حالت زار سے لے کر خراب ازدواجی زندگی تک کوئی موضوع ایسا نہیں جو ان حکیموں ،جوتشیوں،ڈاکٹروں،نجومیوں، سائیکو لوجسٹس، روحانی عالموں یا پھر ’’آنٹی‘‘ کی دسترس سے باہر ہو !’’آنٹی‘‘ وہ کردار ہے جو چند جدید طرز کے میگزین اور ڈائجسٹوں نے تخلیق کیا ہوا ہے اور اس آنٹی کے پاس ہر درد کی دوا موجود ہے۔مثال کے طور پر ان رسالوں میں ’’آنٹی ‘‘سے پوچھے جانے والے سوال اور ان کے جواب کچھ اس قسم کے ہوتے ہیں : سوال:’’ڈئیر آنٹی ! پچھلے سال میرے بہنوئی نے مجھ سے ایک لاکھ روپے قرض لیا تھا جو میں نے اپنے شوہر کی مرضی کے خلاف اپنی بہن اور اس کے خاوند کو دے دیا۔اب ہمیں پیسوں کی ضرورت ہے مگر وہ لوگ قرض واپس نہیں کر رہے۔بار بار تقاضا کرتے ہوئے شرم آتی ہے اور ساتھ ہی یہ خیال بھی آتا ہے کہ کہیں میری بہن کا گھر خراب نہ ہو جائے۔پلیز،بتائیں میں کیا کروں ،بہت پریشان ہوں ؟اور ہاں ،میرے بالوں کا رنگ ایش براؤن ہے ،انہیں برگنڈی کرنے کے لئے کون سا ہئیر کلر مناسب رہے گا ؟۔۔۔ایک بے بس سالی!‘‘ جواب:’’پیاری بے بس سالی! پریشانی کی کوئی بات نہیں ،آج کل بازار میں انواع و اقسام کے ہئیر کلر دستیاب ہیں جو بالوں میں ہر طرح کا رنگ بھر دیتے ہیں۔تم اپنی جیب کو دیکھتے ہوئے ان میں سے کوئی بھی ہئیر کلر پسند کر سکتی ہو مگر یاد رہے کہ جتنا گڑ ڈالو گی، اتنا میٹھا ہوگا(خیال رکھنا کہیں گڑکوکلر میں مکس کر کے نہ ڈال دینا ورنہ میری کوئی ذمہ داری نہیں)۔جہاں تک تمہاری بہن اور بہنوئی کا تعلق ہے تو میرا خیال ہے کہ کسی دن دو چار مسٹنڈے لے جا کر اپنے بہنوئی کی چھترول کروا دو،سارا معاملہ فٹ ہو جائے گا۔پیسے بھی مل جائیں گے اور تمہاری بہن کا گھر بھی اجڑنے سے بچ جائے گا۔‘‘ سوال :’’آنٹی!میری عمر اٹھائیس سال ہے اور میں ایک بنک میں مینجر ہوں۔پچھلے دنوں ہمارے بنک میں ایک خاتون سیونگ اکاؤنٹ کھلوانے آئی ،وہ اس قدر خوبصورت تھی کہ میں اسے دیکھتے ہی دل دے بیٹھا۔اب کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کروں ،میرا دل پہلے بھی کئی دفعہ ٹوٹ چکا ہے اور گمان ہے کہ اس مرتبہ بھی ایساہی ہوگا۔وہ میرے دل و دماغ پر چھا گئی ہے ،کل جب میں نے فریج کھولا تو مجھے لگا جیسے وہ فریج میں بیٹھی مجھے گھور رہی ہو۔خدا کے لئے مجھے بتائیں میں کیا کروں ۔۔۔فقط ایک ٹوٹا ہوا دل۔‘‘ جواب:’’ڈئیر ٹوٹے ہوئے دل! پہلے تم اپنا دل جوڑواورپھر غور سے میری بات سنو۔جو خاتون تمہارے بنک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانے آئی ہے ،وہ یقیناًکوئی سمجھ دار عورت ہے۔غور کرنے کی بات یہ ہے کیا اس نے ماہانہ منافع سکیم والا اکاؤنٹ کھلوایا ہے یا پھر کوئی لانگ ٹرم سیونگ کرنے کا ارادہ ہے ؟ اگر تو ماہانہ منافع لینے کا پروگرام ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ کسی نکھٹو خاوند کی کفایت شعار بیوی ہے اوردوسری صورت بھی اس سے مختلف نہیں۔لہٰذا ہر دو صورتوں میں اس سے دور رہو۔اور ہاں اپنا فریج کسی اچھے مکینک کو چیک کرواؤ ،ہو سکتا ہے کہ رات کو اس کا دروازہ خود بخود کھل جاتا ہو اور کوئی بدروح وغیرہ اس میں آ کر بیٹھ جاتی ہو۔ویسے سردیوں کا موسم ہے ،ایسے ہونا تو نہیں چاہئے لیکن پھر بھی احتیا ط لازم ہے۔‘‘ سوال:’’آنٹی !میں دنیا کا بد نصیب ترین آدمی ہوں ،پیدائش سے لے کر اب تک مجھے غم ہی غم ملے ہیں۔پانچ سال کی عمر میں جب میں پہلی دفعہ سکول گیا تو میرا بستہ گم ہوگیا۔جس دن میں کالج داخل ہوا ،اسی دن پرنسپل کی ساس فوت ہو گئی۔جس دن میری نوکری کا پہلا دن تھا ،اس دن بسوں نے ہڑتال کر دی اور مجھے سالم رکشہ لے کر جانا پڑا۔ ان غموں کی وجہ سے میں کوئی بھی کام صحیح طریقے سے نہیں کر پاتا۔میرا باس بھی ہر وقت مجھ سے ناراض رہتا ہے اور میرے بیوی بچے بھی مجھے پرلے درجے کا ناکارہ شخص سمجھتے ہیں۔سوچتا ہوں دوسری شادی کر لوں۔کیا مجھے اس کی اجازت ہے ؟فقط ،غم کا ریگستان !‘‘ جواب:’’اے غم کے ریگستان! پریشان نہ ہو میرے بچے ،دنیا میں کوئی ایسا دکھ نہیں جس کا مداوا آنٹی نہ کر سکے۔روزانہ رات کو املتاس کی جڑ پانی میں بھگو کر رکھو اور صبح اس میں ایک چمچ سرخ مرچ، پودینہ اور دو عدد الائچی کے دانے ڈال کر ناک بند کر کے پی جایا کرو ،انشا اللہ اپنے سارے غم بھول جاؤ گے۔جہاں تک دوسری شادی کا تعلق ہے تومیرے پاس چند اچھے رشتے ہیں ،مگر وہ شادی کے بعد لڑکی کے نام دس مرلے کا پلاٹ چاہتے ہیں۔تم اپنی انکم بتاؤ تو میں بات آگے بڑھاؤں !‘‘ مسائل کا حل بتانے کے اس مقابلے میں پامسٹ ،جوتشی ،علم الاعداد ، نجومی اور روحانی علوم کے ماہر بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ان کے پاس بھی دنیا کے بڑے سے بڑے مسئلے کا حل موجود ہے مگرآزمائش شرط ہے۔ اسی طرح حکیموں سے سوالات کی اپنی ایک خاص نوعیت ہوتی ہے اور ’’بفضل تعالیٰ‘‘ ہمارے حکماء کے پاس ہر بیماری کا علاج موجودہے۔پچھلے دنوں میں ایف ایم ریڈیو پر پروگرام سن رہا تھا جس میں ایک حکیم صاحب اپنی سیکریٹری کے ذریعے مختلف مریضوں کو بیماریوں کا علاج بتا رہے تھے۔قبلہ حکیم صاحب نے پیسنٹھ فیصد بیماریوں کی وجہ جگر کی گرمی بتائی جبکہ بقیہ پینتیس فیصد کے بارے میں ان کا فرمانا تھا کہ علاج ریڈیو پر نہیں بتایا جا سکتا۔نوٹ کرنے کی بات یہ تھی کہ دنیا کی کوئی ایسی موذی بیماری نہیں تھی جس کا ذکر اس ریڈیو پروگرام میں نہ کیا گیا ہو اور جس کے علاج کاحکیم صاحب نے دعویٰ نہ کیا ہو۔ آج کل کے دور کی ایک دلچسپ پیش رفت یہ ہے کہ اب ہمارے انفرادی اور اجتماعی مسائل کا حل صرف’’ آنٹی ‘‘ اور اس نوع کے دیگر ’’حضرات‘‘ ہی نہیں بتاتے بلکہ اب اس دوڑ میں کالم نگار،صحافی اور اینکرپرسن وغیرہ بھی شامل ہو گئے ہیں۔ یہ لوگ اپنے پروگراموں اور کالموں میں بڑے سے بڑے معاشی ،سماجی اور سیاسی مسائل کا حل چٹکیوں میں تجویز کر دیتے ہیں اور ان تمام جید خواتین و حضرات کی تحریر اور گفتگو سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سارے جہاں کا درد انہی کے جگر میں ہے اور سوسائٹی کے باقی تما م لوگ محض ’’شامل واجا‘‘ ہیں۔’’آنٹی‘‘ کی طرح ،ان خود ساختہ عالموں کے پاس بھی مسائل کا بڑا دلچسپ حل ہوتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی ان سے پوچھے کہ دہشت گردی کا کیا حل ہے تو جواب آئے گا کہ امریکہ سے اتحاد ختم کر دیا جائے ،فلسطین کو آزاد کروایا جائے اور اسرائیل کو نیست و ناباد کر دیا جائے ،دہشت گردی خود بخود ختم ہو جائے گی۔اس کے ساتھ ہی یہ امت مسلمہ کے اتحاد کا نوحہ پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر آج مسلمان ممالک متحد ہو جائیں تو کسی سپر پاور کی جرأت نہیں کہ مسلمانوں کے خلاف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ سکے۔سبحان اللہ ،یعنی مسئلے کا وہ حل بتاتے ہیں جو صدیوں سے ممکن نہیں ہو سکا۔اسی طرح ان کے پاس کرپشن ختم کرنے کا یہ حل موجود ہے کہ تمام محکموں میں ایماندار افسر تعینات کئے جائیں ،کرپشن خود بخود ختم ہو جائے گی۔بہت خوب،مگر کیایہ ایماندار افسر آسمان سے اتریں گے یا درختوں سے توڑے جائیں گے ؟دنیا میں سمجھ دار لوگ مسائل کا حل ضرور بتاتے ہیں لیکن کسی بھی مسئلے کا حل سن کر سر دھننے کے بجائے پہلے یہ سوچ لینا چاہئے کہ آیا یہ حل قابل عمل بھی ہے یا نہیں ؟اگر کوئی حل قابل عمل ہی نہیں تو پھر وہ حل ہی نہیں یعنی If you can\'t afford a solution then it\'s not a solution۔۔۔یقین نہیں آتا تو ’’آنٹی سے پوچھ لیں!‘‘

یہ تحریر 33مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP