متفرقات

دل کو منائیں دل کی نہ مانیں

دل کی من مانیوں پر دھیان نہ دیں صحت پر دھیان دیں

  • بہت زور کی بھوک لگی ہے لیکن کھانا کھانے کو دل نہیں کرتا۔
  •  
  • میرا دل نہیں مانتا کہ میں اس سے بات کروں۔
  •  
  • آج دل بہت اداس ہے۔
  •  
  • دل خوشی سے جھوم اٹھا۔
  •  
  • دل کرتا ہے بارش میں خوب گھوموں۔
  •  
  • دل یہ کرتا ہے‘ دل وہ کرتا ہے۔
  •  

دل انسانی جسم کا بہت اہم عضو ہے۔ جسم کے باقی اعضا دماغ‘ جگر اور گردے ان کی اہمیت اپنی جگہ لیکن گردے اور جگر فیل یا ناکارہ ہونے کی صورت میں کوالٹی آف لائف کو فرق پڑتا ہے۔ لیکن دل تو مہلت ہی نہیں دیتا۔ دل کی ساخت دل ایک پمپ کی طرح ہے‘ اس کی لمبائی انسانی ہتھیلی اور موٹائی انسانی ہاتھ کی مٹھی کے برابر ہوتی ہے۔ ایک پمپ کی طرح اس کے اندر Valves ہوتے ہیں جو کھلتے اور بند ہوتے ہیں۔ خون کے اندر آنے اور باہر جانے کے لئے پائپ ہوتے ہیں۔ دل جب پھیلتا ہے تو اس میں خون بھر جاتا ہے اور جب سکڑتا ہے تو یہ خون آگے کی طرف بڑھتا ہے۔ یوں یہ خون بڑی چھوٹی اور بہت چھوٹی شریانوں کے ذریعے جسم کے تمام حصوں تک بھیجتا ہے۔ دل ایک منٹ میں تقریباً 70-72 مرتبہ دھڑکتا ہے۔ شریانوں میں تنگی کے باعث جب دل کو حسبِ ضرورت آکسیجن نہیں ملتی تو انسان درد سے کراہ اٹھتا ہے۔ اسے انجائنا کہتے ہیں۔ اگر رکاوٹ فوری اور مکمل ہو تو دل کا دوہ بھی پڑ سکتا ہے اور موت واقع ہوتی ہے۔ دل کے بارے میں چشم کشا حقائق

  • پوری دنیا میں تقریباً ڈیڑھ کروڑ سے زائد لوگ ہر سال دل کی بیماریوں کے باعث مر جاتے ہیں۔ جن میں دو تہائی کی عمر
  • 70سال سے کم ہوتی ہے۔
  • پاکستان میں تقریباً 60ہزار سے زائد لوگ ہر سال دل کی بیماریوں کے باعث مرتے ہیں۔ دل کے دورے سے مرنے والوں میں تیس فیصد لوگ ایسے ہیں جن کو زندگی میں پہلی بار دل کا دورہ پڑا اور جانبر نہ ہو سکے۔
  • انسانی دل ایک دن میں اتنا خون پمپ کرتا ہے کہ گھر کی پانی کی ٹینکی باآسانی بھری جا سکتی ہے۔ دل کا کام نہ رکنے والا عمل
  • ہے اس لئے اس کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ دل کی بیماریاںپیدائشی طور پر دل کی بیماری مثلاً دل میں سوراخ ہونا۔ n دل کی رگوں کی بیماری nانجائنا nدل کا دورہ n دل کا بڑھ جانا وغیرہ وغیرہ۔
  • دل کی بیماریوں کی وجوہات
  • سگریٹ نوشی بلند فشار خون
  •  
  • کام کی زیادتی کولیسٹرول کی زیادتی موٹاپا
  •  
  • ذیابیطس
  •  
  • موروثیت
  •  
  • شراب نوشی
  •  
  • پریشان ہونا
  •  
  • پانی کی کمی۔
  •  

بلڈ پریشیر ذیابیطس کولیسٹرول کی زیادتی وہ عوامل ہیں جن کے باعث د ل کی بیماریوں کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔ کولیسٹرول: ہمارے جسم کے خلیے اور ہارمونزکو بنانے میں کولیسٹرول کا بہت اہم کردار ہے۔ ہمارا جسم کولیسٹرول بناتا ہے اور مختلف قسم کی غذائیں جو ہم کھاتے ہیں‘ ان کے ذریعے بھی کولیسٹرول ملتا ہے۔ کولیسٹرول کی ایک خاص ضرورت ہوتی ہے۔ اس کی زیادتی کی صورت میں شریانوں (Arteries)میں پلیگ (Plague) جمنا شروع ہو جاتی ہے۔ جس کے باعث خون کی گردش متاثر ہوتی ہے اور دل کو خون پمپ کرنے کے لئے زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔ کولیسٹرول کی اقسام میں اچھا کولیسٹرول اور برا کولیسٹرول شامل ہیں۔ بعض اوقات ٹوٹل کولیسٹرول زیادہ ہوتا ہے لیکن اس میں برا کولیسٹرول کم اور اچھا کولیسٹرول زیادہ ہوتا ہے۔ جبکہ بعض اوقات ٹوٹل کولیسٹرول مناسب ہوتا ہے لیکن برا کولیسٹرول زیادہ اور اچھا کولیسٹرول کم ہوتا ہے۔ اس لئے جب بھی کبھی کولیسٹرول کی جانچ کے لئے ٹیسٹ کروائیں Lipid Profile کروائیں۔ بعض اوقات کولیسٹرول کی زیادتی ہمارے کھانے پینے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ بعض اوقات موروثیت‘ طرز زندگی اوربعض اوقات ہمارا جگر کولیسٹرول زیادہ بنا رہا ہوتا ہے۔ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو کولیسٹرول کو کم کرنے میں بہت معاون ہیں۔ طرزِ زندگی آج ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہمارا طرز زنددگی‘ ہماری غذائی عادات‘ اندیشے اور پریشانیاں ہیں۔ 1400سال پہلے اﷲتعالیٰ نے ہمیں وضو کے ذریعے وہ تمام پریشر پوائنٹ بتائے جو بلڈ پریشر کو کم کرنے میں انتہائی معاون ہیں۔ دل کے لئے نماز میں سجدے کی حالت بہترین ورزش ہے۔ اسلام ہمیں سادہ خوراک کا درس دے کر موٹاپا‘ شوگر اور دل کی بیماریوں سے محفوظ کرنے کا گُر بتاتا ہے۔ ’’جو‘‘ میں اﷲتعالیٰ نے صحت رکھی اور سنت نبوی کے طفیل اﷲ نے اس میں برکت بھی‘ فائبر زیادہ ہونے کے باعث پیٹ بھرنے کا احساس وزن کم کرنے میں معاون اور بی کمپلیکس اچھا ہونے کی وجہ سے بہت سے اعصابی امراض کے لئے مفید ہے۔ دل کی بیماری میں غذا کا کردار دل کی بیماری کا مریض ہر وقت مر جانے کے خوف کے باعث بھوک اور نیند کی کمی کا شکار رہتا ہے۔ اﷲ پر توکل کیجئے موت کے وقت سے پہلے آپ نہیں مر سکتے۔ اس لئے مر مر کے جینے کا کیا فائدہ۔ خوراک میں معمولی ردوبدل نہ صرف دل کے مریض کو مرض کے خلاف لڑنے کی طاقت فراہم کرتی ہے بلکہ آپ کی بیماری کم کرنے میں بھی معاون و مددگار ہے۔

 

 

دل کے مریضوں کے لئے مناسب خوراک
چپاتی‘ چاول‘ وغیرہ کھائے جا سکتے ہیں۔ بس اس بات کا دھیان رہے کہ آٹے میں سے چھان علیحدہ نہیں کرنا چاہئے اور چاول Unpolished Brown استعمال کرنے چاہیں۔ اس کے علاوہ مکئی اور جوار وغیرہ بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔
انڈے اور سرخ گوشت جس میں گائے اور بھینس کا گوشت شامل ہے کم سے کم استعمال کریں۔ انڈوں کی سفیدی استعمال کی جا سکتی ہے۔ زردی استعمال نہ کریں۔
مچھلی کا استعمال انتہائی مفید ہے۔ مچھلی کی Skinاور Fish Fatsدل کے مریضوں کے لئے انتہائی مفید ہیں۔ ہفتے میں دو سے تین بار استعمال کریں مگر Grillکر کے Deep Fryنہ کریں
مرغی کا گوشت بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن آج کل کا چکن ہارمونز زدہ ہے۔ مرغیوں کو جلد جوان کرنے کے چکر میں ہارمونز کے انجکشن نے ہمیں کئی طرح کے مسائل کا شکار بنا دیا ہے۔
دالوں میں کولیسٹرول بالکل نہیں ہوتا جبکہ چھلکوں سمیت دالیں فائبر کا بہترین ذریعہ ہیں۔ فائبر کولیسٹرول کم کرنے میں انتہائی مفید ہے۔
پھل اور سبزیاں دل کے مریضوں کے لئے انتہائی موزوں ہیں۔ یہ حیاتین کا بہترین ذریعہ اور فائبر سے بھرپور ہیں۔
گھی‘ مکھن اور مارجرین کا استعمال ممنوع ہے جبکہ کینولا آئل ‘ Sunflower آئل‘ Oliveoilمیں کھانا بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کی مقدار بھی کم رکھیں۔
بادام‘ اخروٹ ‘ مونگ پھلی وغیرہ کولیسٹرول کو کم کرنے میں معاون ہیں اگر روزانہ اخروٹ کھائے جائیں تو روز کی کولیسٹرول کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔
نمک کے استعمال میں کمی کر کے بلڈ پریشر پر کنٹرول پایا جا سکتا ہے۔ دنیا میں بہت سے ممالک ایسے ہیں جہاں نمک کی مقدار کم استعمال کی جاتی ہے اس لئے وہاں بلڈ پریشر کے مسائل بھی کم ہیں۔ جاپان میں نمک کا استعمال زیادہ ہے۔ اس لئے وہاں ہائی بلڈ پریشر کے مسائل بھی زیادہ ہیں۔ ایک عام آدمی کی روزانہ کی نمک کی ضرورت 6گرام مقرر کی ہے۔ لیکن اگر کوئی بلڈ پریشر یا گردے کا مریض ہے تو اسے کم مقدار میں نمک استعمال کرنا چاہئے۔ اگر کوئی گرمی اور دھوپ میں کام کر رہا ہے تو اسے زیادہ نمک دیاجا سکتا ہے۔
نمک اور چینی کا استعمال آپ اپنی مرضی کے مطابق کر سکتے ہیں۔ نان‘ بیکری کی اشیاء‘ اچار‘ ڈبہ بند پھل اور غذائیں زیادہ نمک کا ذریعہ ہیں اس لئے انہیں کم استعمال کریں۔
السی میں اومیگا 3‘ریشہ (Fiber)اور Phytoestrgeusکا بہترین ذریعہ ہیں۔ پہلے وقتوں میں ہماری مائیں السی کی پنیاں بنا کر کھلاتی تھیں۔ السی کو گرائنڈ کر لیں آپ اسے جو کے دلیے میں شامل کر کے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ 
جو میں اومیگا 3فیٹی ایسڈ‘ وٹامنز‘ فولیٹ‘ کیلشم‘ پوٹاشیم اور فائبر موجود ہیں۔ سب سے بڑھ کر جو کھانا سنت نبویؐ ہے۔ جو کے دلیے میں کشمش یا Berries شامل کر کے کھایئے‘ ناشتے کے لئے یہ بہترین ہے۔
لوبیا وٹامن بی کمپلیکس کا بہترین ذریعہ ہیں۔ ان میں فولیٹ‘ میگنیشم‘ اومیگا3 فیٹی ایسڈ دل کے لئے بہترین Omega3 Fatty acids کیلشیم اور فائبرز موجود ہیں۔ لوبیا کو بہت اچھی طرح پکا کر اس میں کچھ لوبیا پیس کر شامل کر لیں۔ شوربہ بنالیں یا سلاد کے ساتھ استعمال کریں۔ وزن کم کرنے میں معاون اور دل کے لئے بہترین ہے۔
بادام میں دل کے لئے بہترین کولیسٹرول یعنی اومیگا 3ہیں ۔ وٹامن E شامل ہیں۔ جو جلد کو جوان رکھتا ہے۔ مٹھی بھر بادام روزانہ کھایئے۔
اخروٹ اومیگا3 فیٹی ایسڈ اور وٹامن Eکا بہترین ذریعہ ہے۔ میگنیشم‘ فولیٹ‘ فائبر اور دل کے لئے بہترین ہیں۔ روزانہ دو اخروٹ آپ کو دل کی بیماریوں سے دور رکھتے ہیں۔
زیتون کا تیل دل کے لئے بہترین ہے۔
لہسن کا استعمال ہمارے کھانوں کا ایک لازمی جزو ہے لیکن دل کے مریضوں کے لئے تازہ لہسن کی اہمیت اپنی جگہ‘ دو جوئے لہسن کے روزانہ اپنی خوراک کا حصہ بنائیں کیونکہ تازہ لہسن میں Antioxidantsزیادہ ہوتے ہیں۔
(Green Tea) روزانہ ایک سے دو کپ سبز قہوہ دل کے لئے انتہائی مفید ہے۔ یہ شریانوں کو کھولتا ہے اور خون کی گردش کو بہتر کرتا ہے۔
دارچینی کا استعمال برسوں سے ہماری کھانوں کا حصہ رہا ہے۔ دارچینی ہماری روزانہ کی 38فیصد میگنیز کی ضرورت پوری کرتی ہے۔ یہ آئرن کا اچھا ذریعہ ہے۔ فائیبر کیلشیم وغیرہ شامل ہونے کی وجہ سے کولیسٹرول کو کم کرنے میں انتہائی معاون ہے۔ دارچینی کا استعمال شوگر کے مریضوں کے لئے بھی انتہائی مفید ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دل کی شریانوں کو کھولنے اور وزن کم کرنے میں انتہائی معاون ہے۔ پِسی ہوئی دارچینی کا 1/4چمچ صبح ناشتے پر چھڑک کر استعمال کریں یا قہوہ میں شامل کر کے لیں۔
اﷲتعالیٰ نے شہد میں ہر بیماری کے لئے شفا رکھی ہے۔ دل کے لئے شہد انتہائی مفید ہے۔ اس میں بہترین قسم کے Antioxidants ہیں۔ چھوٹی مکھی کا شہد زیادہ مفید ہے۔ زندگی میں سادگی اپنائیں۔ کھانے پینے کی روٹین ٹھیک کریں۔ مرغن کھانے‘ تلے ہوئے کھانے‘ بازاری کھانے‘ بیکری کی اشیاء‘ مٹھائی ‘ نمکو اور آئس کریم سے پرہیز کریں۔

چند احتیاطیں
 دالیں‘ سبزیاں‘ پھل‘ مچھلی‘ جو کا دلیہ‘ بغیرچھنے آٹے کی روٹی‘ سلاد‘ نمک کا کم استعمال اور چینی کی جگہ شکر کم مقدار میں استعمال کر کے دل کو مضبوط و توانا بنایا جا سکتا ہے۔ دل کے مریض ہمیشہ دودھ بغیر بالائی استعمال کریں۔
ورزش اور چہل قدمی دل کے لئے مفید ہے۔ لیکن ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہ کریں۔ ایک بات یاد رکھیں کہ عمل وہ ہی بہترین ہے جو مقدار میں کم لیکن مسلسل ہو۔ بعض اوقات ہم ایک ہی دن میں اتنی ورزش یا چہل قدمی کر لیتے ہیں کہ دوبارہ کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ آہستہ آہستہ واک کا ٹائم بڑھائیں تاکہ دل کی دھڑکن قابو میں رہے اور آپ کی قوت برداشت بڑھے۔
 واک کرتے وقت کپڑے اور جوتے کھلے کھلے ہونے چاہئیں۔ واک کے لئے صبح کا وقت یا شام کا وقت منتخب کریں۔ کھانے کے فوراً بعد واک نہ کریں۔ بہتر ہے کہ پانچ وقت نماز مسجد میں ادا کریں۔ اس سے واک بھی ہو جائے گی اور روحانی خوشی بھی حاصل ہو گی۔
دل کو مانیں‘ اس کی اہمیت کو تسلیم کریں اور اس کی آواز یعنی دھڑکن پر دھیان دیں۔

یہ تحریر 25مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP