قومی و بین الاقوامی ایشوز

دل جلے گا تو اجالا ہوگا

ماں

لوگ مسلسل شمعیں کیوں جلا رہے ہیں ماں؟

یہ سب مل کر ان سفاک درندوں کے ٹھکانے کیوں نہیں پھونک دیتے۔ جنہوں نے ہماری زندگیوں کے چراغ گل کئے۔ ماں

یہ لوگ ان کو رنگاہ‘ ننگِ انسانیت وحشیوں کی آنکھیں کیوں نہیں نکال دیتے۔ جنہوں نے معصوم بچوں کی چمکتی آنکھوں پر وار کئے۔ یہ ملک بچوں کے لئے محفوظ کیوں نہیں ہے؟

انسان تو جانوروں کے بچوں پر بھی رحم کھاتے ہیں۔ تو پھر یہ جنگلی جانور کون تھے جنہوں نے فرشتوں جیسے جسموں کو چاک کیا۔ یہ کن کی اولادیں تھیں۔ یہ زہریلے سانپ کہاں سے آئے تھے۔ 16 دسمبر کی اداس صبح کو انسانوں کا روپ دھارن کرکے کون سی مخلوق آئی تھی؟ وہ صبح کتنی گمبھیر چپ گپ اور پراسرار لگ رہی تھی۔ سردی شدید تھی۔ تو نے مجھے یونیفارم پہنا کر تیار کیا تھا۔ ماں! اس روز میرا سکول جانے کو جی بھی نہیں کررہاتھا۔ کچھ کھانے کو بھی جی نہیں کررہا تھا مگر میں تیرے ڈر سے تیار ہوگیا تھا۔ تو بڑی اصولوں والی تھی نا! بغیر وجہ کے چھٹی کرنے پر خفا ہوتی تھی۔ جب تو نے میرے ماتھے پر بوسہ دیا اور مجھے خدا حافظ کہا تھا تو یکایک میرا جی چاہا میں تجھ سے لپٹ جاؤں۔ تیرے محبت بھرے سینے میں چھپ جاؤں۔ تیری مامتا کی خوشبو کے اندر سما جاؤں ۔ تیرے بازوؤں میں گم ہو جاؤں۔ چھوٹا سا دودھ پیتا بچہ بن کر تیرے آنچل کے سائے میں آجاؤں۔ نہ جانے کیوں ماں۔۔۔ اس روز میں نے کئی بار تجھے مڑ مڑ کر دیکھا تھا۔ پرتو تو اپنے کام میں مگن رہی ماں۔۔۔ جب میں سکول کے گیٹ سے اندر داخل ہو رہا تھا۔ تو مجھے اپنے پاؤں کے تلے زمیں کانپتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ میں نے پوچھا بھی۔۔۔ دھرتی ماں تو کیوں کانپ رہی ہے سردی تو ہمیں لگ رہی ہے۔ اس صبح مجھے اپنے دوستوں کے چہرے اترے ہوئے لگے تھے۔ میں جس کی طرف دیکھتا تھا وہ مجھے مرجھایا ہوا لگتا تھا۔ ماں میں نے یونہی کئی بار ہنسنے کی کوشش کی مگر میں کسی کے ساتھ ہنس نہ سکا۔ میں کسی کے ساتھ بول نہ سکا۔ کسی کے آگے اپنے دل کی گرہ کھول نہ سکا۔ کلاس شروع ہوئی تو میرا جی چاہا میں بھاگ کر گھر چلا جاؤں۔۔۔ گھر کے لئے میرے اندر تڑپ سی پیدا ہو رہی تھی۔ ماں! میں تیری صورت دیکھنا چاہتا تھا۔ ماں تیری صورت دیکھنے سے ہر بلا ٹل جاتی تھی۔۔۔ تجھے دیکھنے سے ساری مشکلیں حل ہو جاتی تھیں۔ تجھے دیکھنے کی چاہ دل میں پیدا ہو رہی تھی ماں۔۔۔ کاش ماں! میں سکول کے سارے اصول توڑ کر تیرے پاس اپنے گھر آجاتا۔۔۔ اگر مجھے معلوم ہوتاکہ خدا کی اس زمین پر ابلیس کے کارندے انسانیت کے سارے اصول توڑ کر دیواریں پھلانگتے آئیں گے اور شیطانی کھیل شروع کردیں گے۔۔۔ ۔

ماں ہم سب کھڑے ہوگئے تھے کیونکہ ہمیں احترامِ آدمیت کی تربیت دی گئی تھی‘ قسم ہے تیری ماں

ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ کہ وہ نامراد اور بد کردار لوگ معصوم بچوں پر وحشیانہ گولیاں برسائیں گے۔ ہمارے یونیفارم لہو لہان کر دیں گے۔ ہمیں ناکردہ گناہوں کی سزا دیں گے۔۔۔۔

ماں! ہم سب جینا چاہتے تھے۔ بڑے ہونا چاہتے تھے۔ ملک و ملت کا نام روشن کرنا چاہتے تھے۔ ہمارے اندر والدین نے خواب بوئے تھے۔ وردیوں والے خواب۔۔۔ پرچموں والے خواب۔۔۔ فتح مبین والے خواب۔۔۔

ماں کچی آنکھوں کے خواب خون کی ندیوں میں بہہ گئے۔۔۔

ماں یہ زمیں دیکھتی رہی اور آسمان چپ رہا۔۔۔۔۔۔

کیا تم رو دھو کر ان کو معاف کردو گے ماں۔۔۔۔۔۔

کیا تم شمعیں روشن کرنے کے بعد بھی ہماری یادوں کو مدفون کردو گی ماں۔۔۔۔۔۔؟

تمہیں تمہارے لہو لہان بستوں کی قسم۔۔۔

ہماری روتی کُرلاتی کتابوں کی قسم۔۔۔

ہماری چکنا چور قلموں کی قسم۔۔۔

ہمارے ٹکڑے ٹکڑے انگلیوں کی قسم۔۔۔

یہ منظر کبھی بھول نہ جانا۔۔ جب تک تم لوگ پاکستان کے وجود کو ان ناپاک ‘ مکروہ اور درندہ صفت لوگوں سے پاک نہیں کرلیتے۔ ہماری روحیں یونہی بیزار پھریں گی اپنے گھروں کا طواف کرتی رہیں گی۔

اﷲ کے آگے فریاد کرتی رہیں گی۔۔۔

پاکستان کے سارے بچوں کی قسم ماں

پاکستان کے سارے بچوں کا مستقبل محفوظ بنا دو

ماں

میرے فوجیوں سے کہہ دو! قسم ہے ان کو لہو لہان بچوں کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کی جب تک وہ اسلام کو بدنام کرنے والے ٹولے ملیا میٹ نہ کردیں۔ آرام سے نہ بیٹھیں۔۔۔

ورنہ ہم پاکستان کے جھنڈے سے لپٹ لپٹ کر قائداعظم کو اپنی فریاد سناتے رہیں گے۔

ماں

نیا سال طلوع ہو رہا ہے۔ تو مجھے یاد کرے گی۔ تو کہا کرتی تھی۔ میرا راجہ دولہا بنے گا۔ ماں اگر یہ خوشی تجھے نصیب نہیں ہوئی تو دعا کر پاکستان کی ساری ماؤں کو یہ خوشی نصیب ہو۔۔۔۔

ماں دعا کر ہاتھ اٹھا کے‘ سارا چمن اجڑ جائے۔۔۔ کسی کی کوکھ نہ اُجڑے۔۔۔

کسی کالا ل نہ بچھڑے‘ کسی کو وچھوڑے‘ کا ایسا درد نہ ملے کہ جس کا داغ قیامت تک بھی نہ جائے۔ قیامت سے پہلے اس پاک ملک میں پھر کبھی قیامت بر پا نہ ہو ۔

ہمارا لہو رائیگاں نہ جائے پیاری ماں

یہ تحریر 99مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP