قومی و بین الاقوامی ایشوز

دفاعی بجٹ ۔ چند معروضیات

ایک پاکستانی کی حیثیت سے مجھے تو یہ اطمینان بھی ہے اور تسکین بھی کہ ملک میں ایک منظم ادارہ موجود ہے۔ جو مختلف علاقوں‘ صوبوں اور قبیلوں میں فکری اتار چڑھاؤ کا جائزہ لے رہا ہے۔ علاقے کی سیاسی‘ معاشی‘ علمی‘ عسکری صورت حال سے آگاہ رہتا ہے اور ان کے مطابق اپنے آپ کو منظم بھی رکھتا ہے۔ اس کی روشنی میں ہی جوانوں اور افسران کو مطلوبہ تربیت بھی دے رہا ہے۔ میں یہ یقین کرنے میں حق بجانب ہوں کہ اگر کسی فورم میں امریکہ‘ برطانیہ‘ چین‘ روس‘ جرمنی‘ ترکی کے فوجی جوان یا افسروں کے ساتھ پاکستانی بری‘ بحری اور فضائی افواج کے افسر ہوں گے تو وہ کسی طرح بھی ان سے کم نہیں ہوں گے۔ ان کا علمی شعور‘ فوجی تربیت‘ جدید ترین اسلحے سے آگاہی‘ نئی عسکری حکمت عملیوں سے واقفیت ‘ ان سب کے برابر ہوگی۔

یہ بجٹ کا مہینہ ہے۔

انہی دنوں میں شب برأت بھی آئے گی جب قدرت اپنا بجٹ تیار کرتی ہے۔

رمضان کے مبارک ایام بھی اسی مہینے میں آئیں گے۔

میری طرف سے آپ کو ان تمام اہم دنوں کی مبارکباد۔

بجٹ کے آتے آتے ایک فیشن یہ بھی بن چکا ہے کہ بعض سیاسی حلقوں کی طرف سے مطالبات سامنے آتے ہیں۔ فوجی بجٹ میں کمی کی جائے۔ قوم کا سب سے زیادہ پیسہ فوج کھا جاتی ہے۔ فوج سے ہمیں ملتا کیا ہے۔ ایک نعرہ یہ بھی لگتا ہے کہ فوجی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے۔ اس کے ایک ایک شعبے پر بحث کی جائے۔ اس بحث مباحثے‘ نعروں اور مطالبوں کا ایک ماضی ضرور ہے۔ پاکستان میں سیاسی اور فوجی حکومتیں آتی جاتی رہی ہیں۔ برابر برابر کا عرصہ ہی ہوگیا ہوگا۔

ہم بھی ایک زمانے میں انہی مطالبہ کرنے والوں کے ساتھ ہوتے تھے۔ میرے خیال میں ایسا لکھتے بھی رہے ہوں گے۔ مارشل لا کسی طرح بھی کسی ملک کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتا۔ لیکن اگر پاکستان کی تاریخ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو 1953۔ 1958۔ 1969۔ 1977۔ 1999 ہر بار ہی ایسے اسباب‘ محرکات اور عوامل پیدا ہوئے۔ ایسا خلاء پیدا ہوا جس میں فوجی حکمرانوں کو ملک کا نظم و نسق سنبھالنے کا موقع مکمل ملتا رہا ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی مارشل لا ء یا فوجی حکومت کو آخر میں اپنے مقاصد کے حصول اور اہداف میں کامیابی کے بغیر ہی جانا پڑا۔ اس میں ماضی میں جانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔ سابق بیوروکریٹس کی آپ بیتیاں بھی بازار میں دستیاب ہیں اور ریٹائرڈ جنرلوں کی خود نوشت سوانح بھی۔ بیورو کریٹ ہوں یا جنرل‘ دونوں اپنی ذات کو صاف بچاتے ہیں۔ خود کو بہت ہی زیادہ دیانت دار‘ اصول پرست ثابت کرتے ہیں۔ اگر ان ساری داستانوں کو درست مان لیا جائے تو پھر تاریخ ہم سے سوال کرتی ہے کہ ملک آج اگر وہاں نہیں ہے جہاں ہونا چاہئے تھاتو ان خرابیوں اور بربادیوں کا ذمہ دار کون ہے۔

میں پاکستان کا ہم عمر ہوں۔ بلکہ پانچ سال بڑا ہوں۔ میرا بچپن‘ لڑکپن‘ جوانی‘ ادھیڑ عمری اور اب بڑھاپا۔ پاکستان کا درد اپنے دل میں سموئے۔ سیاسی اور فوجی قائدین کو بہت قریب سے جلوت‘ خلوت یعنی محفلوں اور تنہائی میں دیکھتے گزر رہا ہے۔ میں سب کی قدر کرتا ہوں۔ کیونکہ سب ہی پاکستانی تھے اور ہیں۔ میں کسی کو بھی وطن دشمن یا غدار نہیں سمجھتا۔ نہ ہی ان میں سے کوئی تھا۔ سب اپنے اپنے طور پر پاکستان کی خدمت کرنا چاہتے تھے۔ لیکن کسی کے سامنے بصیرت تھی‘ کسی کے نہیں۔

دفاعی بجٹ کے زیادہ ہونے یا اس میں کمی کرنے کے نعروں کے بجائے ہمارے دانشوروں اور سول سوسائٹی اور اینکر پرسنز کو اس بات پر زور دینا چاہئے کہ سول حکومت کے جن محکموں کو جو بجٹ ملتا ہے۔‘وہ اس کا جائز اور مکمل استعمال کریں۔ سول تعلیمی ادارے‘ اسپتال‘ زراعت‘ بجلی اور دوسرے شعبے بھی فوجی اداروں کی طرح منظم‘ مکمل اور جدید ترین تقاضوں کے مطابق ہوں۔

غلطیاں سیاسی حکمرانوں اور فوجی حکمرانوں دونوں نے کیں۔ لیکن فوجی حکمران چونکہ ایک منظم ادارے کی نمائندگی کرتے تھے‘ اس لئے ان کے ہاں اپنے غلطیوں سے سبق سیکھنے کا ایک ماحول تھا۔ اور فوج میں اپنی جنگی فتوحات اور شکستوں کا جائزہ لینے کا ایک باقاعدہ نظام موجود ہے۔ میرا تعلق کبھی فوج سے نہیں رہا۔ لیکن جو رشتے دار دوست احباب اس انتہائی منظم اور مقدس ادارے سے وابستہ رہے ہیں‘ ان سے تبادأہ خیال ہوتا رہتا ہے۔ ملک اور دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے‘ انحطاط اور زوال کے رجحانات‘ان کے اثرات‘ ظاہر ہے کہ مسلح افواج پر بھی پڑتے ہیں۔ لیکن ساری دنیا کی فوجوں کی طرح پاکستان کی مسلح افواج نے بھی حالات‘ نفسیات‘ واقعات کا اجتماعی جائزہ لینے اور نئے نئے اصلاحاتی پروگرام جاری کرنے کا عمل اختیار کیا ہے۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں‘ اس کا برملا اظہار بھی کرتا رہا ہوں‘ اپنے کالموں میں‘ ٹی وی ٹاک شوز میں‘ میں نے اپنے ذاتی جریدے ماہنامہ ’اطراف‘ میں سرورق کی کہانی بھی شائع کی تھی۔ غلطیاں دونوں سے ہوئیں۔ فوج نے سبق سیکھا ۔ سیاستدانوں نے نہیں۔

میں جب غور کرتا ہوں تو بڑی سیاسی جماعتوں‘ سیاستدانوں کے انداز فکر‘ حکمت عملی‘ طرز گفتگو میں زمانے کی تبدیلیوں کا کوئی اثر نہیں دیکھتا‘ نائن الیون‘ جس نے بھی کیا‘ کروایا‘ اس نے دنیا میں طرز فکر تبدیل کردی ہے۔ عالمی سطح پر آبادیاں تقسیم ہوگئی ہیں۔ امریکہ نے اپنے آپ کو واحد سپر طاقت قرار دے دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی‘ سیکورٹی کونسل‘ نیٹو‘ سب اس کے تابع ہوچکے ہیں۔ یورپ کی روشن خیالی‘ نشاۃ ثانیہ‘ یورپی یونین‘ جیسے سارے اثاثے امریکہ کے سامنے ہیچ ہوچکے ہیں۔ چھوٹے ملکوں میں بہت کچھ سوچا جارہا ہے۔ ایشیا میں سوچ کی نئی لہریں ابھر رہی ہیں۔ لیکن ہمارے سیاستدان کچھ 1977کے ہیر پھیر سے نہیں نکلے۔کچھ کی سوئیاں 1999 میں اٹکی ہوئی ہیں۔ ان کے بیانات دیکھیں تو پتہ ہی نہیں چلتا کہ دنیا میں کوئی نائن الیون ہوا ہے۔ اسامہ بن لادن کو پاکستان کی سرزمین میں ڈھونڈا گیا۔ ہلاک کردیا گیا۔ صدام حسین کو کس طرح رسوا کیا گیا۔ پھانسی دی گئی۔ معمر قذافی کے ساتھ کیسا غیر انسانی سلوک کیا گیا۔ مصر‘ تیونس‘ بحرین میں کیا ہورہا ہے۔ بھارت میں توسیع پسندی کے عزائم میں کتنا اضافہ ہورہاہے۔ چین کی ترقی کرتی معیشت کی کس طرح مزاحمت کی جارہی ہے۔

قومی سیاسی جماعتوں کے قائدین کی تقریریں سن لیں۔ ٹاک شوز میں ان کے فرمودات ملاحظہ کریں۔ ان میں سے کسی کے ہاں بھی کوئی آفاقی بصیرت‘ علاقائی ادراک نظر نہیں آتا۔ آج کی دنیا میں ہم کٹ کے نہیں رہ سکتے۔ ہر لمحے دنیا میں کہیں بھی کچھ ہورہا ہے‘ اچھا یا برا‘ اس سے دنیا کا ہر خطہ متاثر ہورہا ہے۔ عالمگیریت ایک حقیقی رجحان ہے جو آپ کے رہن سہن‘ بول چال‘ فکر و نظر‘ معیشت‘ تعلیم اور سماجی رویّوں پر اثر انداز ہورہا ہے۔ جہاں ایک طرف میں قومی سیاسی جماعتوں کے مرکزی دفاتر‘ بیانات‘ منشور میں یہ عالمگیر تناظر دیکھتا ہوں اور نہ ہی مستقبل کے لئے کوئی منصوبہ بندی‘ نہ ہی ماضی میں کی گئی غلطیوں کا اعتراف اور ان کی روشنی میں اپنی اصلاح۔ وہاں فوج میں‘ ان کے ارتقائی ڈھانچے‘ ان کے انداز فکر‘ کور کمانڈرز کی میٹنگوں کے موضوعات‘ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اور دوسرے فوجی اداروں میں تربیت‘ مباحث کے امور‘ پاکستان میں کیا سیاسی‘ سماجی‘ عالمی تبدیلیاں ہورہی ہیں۔ دنیا میں کیا فکری تحریکیں چل رہی ہیں۔ سیاسی فلسفے کیا ہیں۔ عسکری حکمت عملی کیا ہے۔ مجھے تو کبھی این ڈی یو‘ یا کسی اور فوجی ادارے میں جانے کا موقع نہیں ملا ہے۔ لیکن جانے والوں سے تبادأہ خیال میں جو سنا ہے اس سے انداز ہ بھی ہوتا ہے اور فخر بھی کہ وہ جدید ترین دنیا سے پیچھے نہیں ہیں۔

ہمیں اس وقت انتہائی خطرناک صورتحال کا سامنا ہے۔ بھارت کا رویہ وہی ہے نئے وزیراعظم نریندر امودی کے آنے کے بعد تو اور جارحانہ ہوگیا ہے اور اب کئی مہینوں سے ملک کے مختلف حصوں میں ’’را‘‘ کی موجودگی کے ثبوت مل رہے ہیں۔ دہشت گردی اور سبوتاژ کی وارداتوں میں ’’را‘‘ کے ملوث ہونے کی تصدیق فوجی حلقے بھی کررہے ہیں اور سیاسی حکومتیں بھی۔ اس مخدوش صورت حال میں مکمل تیاریوں کے لئے یقیناًآپ کو امن و امان کے قیام کے لئے بھی بجٹ بڑھانا ہوگا ۔

ایک پاکستانی کی حیثیت سے مجھے تو یہ اطمینان بھی ہے اور تسکین بھی کہ ملک میں ایک منظم ادارہ موجود ہے۔ جو مختلف علاقوں‘ صوبوں اور قبیلوں میں فکری اتار چڑھاؤ کا جائزہ لے رہا ہے۔ علاقے کی سیاسی‘ معاشی‘ علمی‘ عسکری صورت حال سے آگاہ رہتا ہے اور ان کے مطابق اپنے آپ کو منظم بھی رکھتا ہے۔ اس کی روشنی میں ہی جوانوں اور افسران کو مطلوبہ تربیت بھی دے رہا ہے۔ میں یہ یقین کرنے میں حق بجانب ہوں کہ اگر کسی فورم میں امریکہ‘ برطانیہ‘ چین‘ روس‘ جرمنی‘ ترکی کے فوجی جوان یا افسروں کے ساتھ پاکستانی بری‘ بحری اور فضائی افواج کے افسر ہوں گے تو وہ کسی طرح بھی ان سے کم نہیں ہوں گے۔ ان کا علمی شعور‘ فوجی تربیت‘ جدید ترین اسلحے سے آگاہی‘ نئی عسکری حکمت عملیوں سے واقفیت ‘ ان سب کے برابر ہوگی۔ دوسرے شعبوں میں چاہے وہ تعلیم ہو‘ صحت‘ سیاست‘ پارلیمان‘ وہاں ہم یہ بات اعتماد سے نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ یہاں تربیت اور اکتساب علم کی اہمیت نہیں ہے۔

پاکستان جس خطرناک محل وقوع پر موجود ہے۔ فرض تو یہ سیاسی قیادتوں کا تھا کہ اس اہم اور حساس جغرافیائی پوزیشن کو اپنے ملک اور عوام کے لئے وسائل اور فیوض کا سرچشمہ بنالیتے یہ دنیا کا حساس ترین مرکز ہے۔ یہاں سے بہت سے راستے اہم ترین ممالک کو جاتے ہیں۔ لیکن بہت کم سیاسی ادوار میں اس کے لئے مطلوبہ اقدامات کئے گئے۔ اب یہ اہمیت‘ نزاکت میں بدل گئی ہے۔ پھر ملک کے اندر جس قسم کی سرزمین ہے۔ خطرناک گھاٹیاں‘ آسمان کو چھوتے پہاڑ‘ میدان‘ ان سب کے لئے ایک بہت زیادہ منظم‘ تربیت یافتہ سکیورٹی فورس کی ضرورت رہتی ہے۔ پھر افغانستان میں اب تک تاریخ کے مختلف ادوار میں جو کچھ ہوتا رہا‘ یہ زیادہ تر بھارت کے زیراثر رہا ہے۔ پاکستان کو اقوام متحدہ میں رکنیت حاصل کرنے میں رکاوٹیں ڈالتا رہا ہے۔ امریکہ اور یورپ نے مختلف اسباب اور واقعات کی بنا پر یہاں مستقل فوجی موجودگی کو ضروری سمجھا ہے۔ اس سے پہلے سرد جنگ کے دور میں روس نے اپنا مرکز بنائے رکھا۔ چین ہمارا دوست ہے۔ لیکن مغرب اس کی بڑھتی ہوئی اقتصادی طاقت سے خوف زدہ ہے اور کوئی نہ کوئی سازشیں کرتا رہتا ہے۔ انتہا پسند جہادی تنظیمیں بھی پاکستان سے ملحقہ چینی علاقوں میں سرگرمیاں جاری رکھتی ہیں۔ پھر ہماری مشرقی سرحد‘ جہاں بھارت اپنی توسیع پسندی اور پاکستان سے ازلی دشمنی کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہے‘ طویل سرحد ہے جس پر بھارت کی فوجیں خفیہ ادارے اپنی حرکتیں جاری رکھتے ہیں۔ کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ‘ 7لاکھ فوج کی تعیناتی‘ کشمیریوں پر گھناؤنے مظالم‘ یہ ساری علاقائی صورت حال اور دنیا کے حساس ترین مرکز میں ہماری موجودگی‘ انتہائی سخت‘ منظم‘ سکیورٹی کا تقاضا کرتی ہے۔ پاکستان کے آغاز سے ہی بھارت کے معاندانہ رویے‘ حیدرآباد دکن اور جونا گڑھ پر قبضے‘ مشرقی پاکستان‘ بلوچستان میں مداخلت‘ سندھ میں علیحدگی پسندی کو تقویت دینے کے سلسلے جاری رہے۔ اس لئے ہمیں اپنے فوجی اخراجات پر توجہ دینا پڑی۔ ابتدا میں فوج کا بجٹ دوسرے شعبوں سے زیادہ ہوتا تھا۔ اس پر تحقیق کی جاسکتی ہے لیکن ہماری مختلف حکومتوں نے دوسرے ملکوں سے قرضے لینے کی جو روایات جاری رکھیں۔ یہ قرضے کبھی مطلوبہ اور متعلقہ منصوبوں پر پوری طرح خرچ نہیں ہوئے‘ یہ قرضے بڑھتے چلے گئے۔ عوام کی ضروریات پوری نہیں ہوئی ہیں۔ بجلی کی پیداوار ضرورت کے مطابق نہیں ہے۔ تعلیم کی شرح خاطر خواہ نہیں ہے۔ علاج معالجے کی سہولتیں معیاری نہیں ہیں۔ لیکن قرضوں کا بوجھ بڑھتا جارہا ہے۔ اب تو کئی عشروں سے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی‘ ہمارے بجٹ کا سب سے زیادہ حصہ کھارہا ہے۔ یہ ہمارے حکمرانوں کی نااہلی کا نتیجہ ہے۔ اب دفاعی بجٹ کے اعداد و شمار‘ قرضوں کی ادائیگی کے اعداد و شمار سے بہت کم ہیں جبکہ ملک کی سلامتی کو درپیش اندرونی اور بیرونی خطرات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

ہمیں اس وقت انتہائی خطرناک صورتحال کا سامنا ہے۔ بھارت کا رویہ وہی ہے نئے وزیراعظم نریندر امودی کے آنے کے بعد تو اور جارحانہ ہوگیا ہے اور اب کئی مہینوں سے ملک کے مختلف حصوں میں ’’را‘‘ کی موجودگی کے ثبوت مل رہے ہیں۔ دہشت گردی اور سبوتاژ کی وارداتوں میں ’’را‘‘ کے ملوث ہونے کی تصدیق فوجی حلقے بھی کررہے ہیں اور سیاسی حکومتیں بھی۔ اس مخدوش صورت حال میں مکمل تیاریوں کے لئے یقیناًآپ کو امن و امان کے قیام کے لئے بھی بجٹ بڑھانا ہوگا اور تینوں افواج کے لئے بھی بجٹ میں اضافہ کرنا ہوگا۔

اپنے مشاہدے کی ایک اور صورت بھی آپ کے سامنے رکھنا چاہوں گا کہ پارلیمنٹ بھی اس کی تصدیق کرسکتی ہے کہ فوج کو اپنے مختلف شعبوں کے لئے جو بجٹ بھی ملا ہے‘ اس کا بڑی حد تک صحیح استعمال ہوا ہے۔ اس لئے فوجی ادارے مضبوط ہوئے ہیں۔ وہاں ایک نظم و ضبط اور آگے بڑھنے کے مظاہر ملتے ہیں۔ ہم ایٹمی طاقت بننے میں بھی اس لئے کامیاب ہوگئے کہ اس کا مالیاتی کنٹرول فوج کے پاس رہا۔ اگر یہ کسی اور کے ہاتھ میں ہوتا تو کتنی بڑی رقوم ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل ہوجاتیں اور ہم ایٹمی تجربہ بھی نہ کرپاتے۔ دفاعی بجٹ کے زیادہ ہونے یا اس میں کمی کرنے کے نعروں کے بجائے ہمارے دانشوروں اور سول سوسائٹی اور اینکر پرسنز کو اس بات پر زور دینا چاہئے کہ سول حکومت کے جن محکموں کو جو بجٹ ملتا ہے۔‘وہ اس کا جائز اور مکمل استعمال کریں۔ سول تعلیمی ادارے‘ اسپتال‘ زراعت‘ بجلی اور دوسرے شعبے بھی فوجی اداروں کی طرح منظم‘ مکمل اور جدید ترین تقاضوں کے مطابق ہوں۔ سیاسی جماعتیں اپنے لیڈروں اور کارکنوں کی تعلیم اور تربیت کے ملک اور بیرون ملک اہتمام کریں۔ عالمگیریت کے دور میں سیاسی لیڈروں کی سیاسی‘ معاشی‘ علمی اور سائنسی سوچ‘ امریکہ‘ برطانیہ‘ چین‘ روس اور ترکی کے لیڈروں کے برابر ہونی چاہئے۔

مضمون نگار نامورصحافی‘ تجزیہ نگار‘ شاعر‘ ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 67مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP