قومی و بین الاقوامی ایشوز

دفاعی بجٹ کے بارے میں پھیلائے ہوئے مغالطے

ہندوستان میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ واضح ہوتا جا رہا تھا کہ مسلمانوں کے لئے ایک جداگانہ وطن کا حصول ناگزیر ہو گیا ہے جو فرقہ وارانہ مسئلے حل کرنے کا ایک منطقی اور پُرامن راستہ تھا‘ مگر برہمن قیادت نے تحریک پاکستان کی قدم قدم پر شدید مخالفت کی اور انگریزوں کے ساتھ سازباز کر کے تشدد کی آگ بھڑکائی تاکہ مسلم قیادت اپنے مطالبے سے دستبردار ہو جائے۔ حضرت قائداعظم قانون اور سیاسی جدوجہد کے دائرے میں رہتے ہوئے بڑی ثابت قدمی اور بلند نگاہی سے پاکستان کی منزل کی جانب آگے بڑھتے گئے۔ آخرکار برطانوی حکومت اور انڈین کانگرس کو آل انڈیا مسلم لیگ کا مطالبہ تسلیم کرنا پڑا اور پاکستان وجود میں آ گیا۔ بابائے قوم محمد علی جناح مستقبل کا ایک واضح وژن رکھتے تھے۔ انھوں نے اخبار نویسوں کو انٹرویو دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ اب ہم امریکہ اور کینیڈا کی طرح دوستانہ ماحول میں رہیں گے اور بیرونی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے ہم دونوں ملک مشترکہ دفاع کا نظام وضع کر سکتے ہیں۔ وہ پُرامن بقائے باہمی کے بہت بڑے مبلغ اور آرزومند تھے جبکہ برہمن قیادت کے منصوبے دوبارہ پاکستان کو بھارت کے اندر ضم کرنے کے تھے اور بھارت کے پہلے وزیراعظم پنڈت نہرو نے کسی لاگ لپٹ کے بغیر اعلان کر دیا تھا کہ پاکستان چھ ماہ سے زائد قائم نہیں رہ سکے گا اور ہمارے اندر شامل ہونے کے لئے منت سماجت کرنے پرمجبور ہو جائے گا۔

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان قائم رہا اور اقتصادی ترقی میں بھارت سے آگے نکل گیا۔ بھارت حکومت نے ایک طرف ریاست جوناگڑھ پر قبضہ کر لیا جس کے مسلم حکمران نے پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے کا اعلان کیا تھا تو دوسری طرف ریاست کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں اپنی فوجیں اتار دیں جس میں مسلمانوں کی بھاری اکثریت آباد تھی اور اس کے تمام جغرافیائی راستے پاکستان کی طرف آتے تھے۔ اسی ریاستی دہشت گردی کے علاوہ بھارت اپنی فوجیں پاکستانی سرحدوں پر لے آیا اور دھمکی دی کہ اگر پاکستان نے اپنے روپے کی قدر کم نہ کی تو اس پر چڑھائی کر دی جائے گی۔ تب پاکستان کے وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خاں نے کراچی میں اپنی رہائش گاہ کی بالکونی سے مکا لہراتے ہوئے کہا تھا کہ ہم اپنی آزادی اور سلامتی کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔ بھارت کی طرف سے جارحیت کی بار بار دھمکیوں کے جواب میں پاکستان کو امریکہ سے دفاعی معاہدہ کرنا اور سیٹو اور سینٹو کے معاہدوں میں شامل ہونا پڑا جن کا بنیادی مقصد شرق وسطیٰ اور جنوب مشرقی ایشیا میں کمیونزم کے خلاف گھیرا تنگ کرنا تھا۔ 1965ء کی جنگ نے پاک امریکی تعلقات میں گہرے شگاف ڈال دیے اور امریکہ نے پاکستان کو سوویت یونین کے حلقہ اثر میں دے دیا جس کے نتیجے میں معاہدہ تاشقند وجود میں آیا۔ یوں پاکستان جو برصغیر میں امن قائم کرنے کے لئے وجود میں آیا تھا‘ اسے بھارت کی معاندانہ پالیسی نے دفاعی معاملات کو غیرمعمولی اہمیت دینے کا راستہ دکھایا۔ 1971ء کے بعد اس کے حوصلے بہت بڑھ گئے تھے کہ اس کی جارحیت کے سبب مشرقی پاکستان الگ ہو گیا تھا۔ ہم اس وقت سے مسلسل دباؤ میں ہیں۔ بھارت اپنے دفاعی بجٹ میں بڑی تیزی سے اضافہ کئے جا رہا ہے اور اپنی آرٹلری‘ آرمرڈ‘ ائیرفورس اور نیوی کو پاکستان کے ساتھ طاقت آزمائی کے لئے جدید خطوط پر استوار کئے جا رہا ہے۔ اور اب تو نریندر مودی ہوشربا اکثریت سے بھارت کے وزیراعظم بنے ہیں جو آٹھ سال کی عمر سے آر ایس ایس سے منسلک چلے آ رہے ہیں اور انتخابی مہم کے دوران وہ پاکستان کو سبق سکھانے کی باتیں کرتے آ رہے ہیں۔

نائن الیون کے بعد پاکستان کی مغربی سرحد بھی غیرمحفوظ ہوتی گئی ہے۔ ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد امریکی اور نیٹو افواج افغانستان میں داخل ہوئیں اور فاٹا میدان کار زار بن گیا۔ غیرملکی باشندے جنھوں نے افغانستان پر سوویت یونین کے غاصبانہ قبضے کے خلاف جہاد میں حصہ لیا تھا‘ وہ ہمارے قبائلی علاقوں میں آ بسے۔ شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان میں حکومت پاکستان نے وہاں کے قبائلی سرداروں سے امن معاہدے کئے‘مگر تحریک طالبان پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد ایک نیا منظر نامہ تشکیل پانے لگا جس کے باعث پاکستان کی مسلح افواج کو داخلی بدامنی کا سامنا ہے۔ مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کا عفریت عام شہریوں اور قومی سلامتی کے نگہبانوں کو نگلتا جا رہا ہے۔ ہماری عسکرسی قیادت اس ناسور کو ختم کرنے کا پختہ عزم رکھتی ہے اور عوام کے دل جیتنے کے لئے پس ماندہ علاقوں میں انفراسٹرکچر تعمیر کرنے کا عظیم الشان پروگرام رکھتی ہے۔ ہماری مسلح افواج کو متلاطم حالات سے نبردآزما ہوتے ہوئے بارہ سال گزر چکے ہیں۔ انھیں سلالہ حادثے سے بھی گزرنا پڑا ہے اور وہ بڑی پامردی سے خارجی اور داخلی چیلنجوں کے ساتھ عوام کی حمایت سے نبردآزما ہیں اور بے مثال قربانیاں دے رہی ہیں۔ اُن کا دنیا کی چھٹی بڑی فورس میں شمار ہوتا ہے۔ پاکستان کے دشمن ہماری انتہائی منظم اور پیشہ ورانہ اعتبار سے بے مثال فوجی قوت سے خوفزدہ ہیں۔ اُن کی درپردہ کوشش یہ رہی ہے کہ فوج اور عوام کے درمیان غلط فہمیاں پھیلا کر پاکستان کا دفاع کمزور کیا جائے اور فوج کو مسلسل دباؤ میں رکھا جا رہا ہے۔بدقسمتی سے ہمارے اندر ایسے عناصر موجود ہیں جو یہ دانستہ یا نادانستہ پروپیگنڈہ کرتے رہتے ہیں کہ پاکستان ایک سیکیورٹی اسٹیٹ بن گیا ہے اور اس کے سالانہ بجٹ کا ستر‘ اسی فیصد فوج پر خرچ ہو جاتا ہے اور جس کے باعث عوام کی فلاح و بہبود اور ترقیاتی منصوبوں کے لئے وسائل دسیتاب نہیں ہوتے۔ یہ ایک ایسا مغالطہ ہے جو پورے تسلسل اور بڑی مہارت سے پھیلایا جاتا رہا ہے اور عام ذہنوں میں طرح طرح کے شکوک و شبہات پیدا کر سکتاہے۔ سالہاسال کے بجٹ اعداد و شمار سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ سب سے بڑی رقم وفاقی مالیاتی وصولیوں میں سے صوبائی حکومتوں کے لئے مختص کی جاتی ہے۔ دوسری بڑی رقم غیرملکی قرضوں کی ادائیگی پر اٹھتی ہے۔ تیسری بڑی رقم پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ کے لئے مختص کی جاتی ہے جو حکومت کی تحویل میں چلنے والے اداروں کے خسارے میں چلی جاتی ہے۔ اس کے بعد فوجی اخراجات کی باری آتی ہے اور یہ اخراجات کل قومی بجٹ کا سترہ یا اٹھارہ فی صد کے لگ بھگ ہوتے ہیں جبکہ تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ فوج بجٹ کا اسی فیصد ہڑپ کر جاتی ہے۔ اس پروپیگنڈے کے منفی اثرات ختم کرنا ضروری ہیں۔ اس مقصد کے لئے میڈیا کو مستند حقائق بار بار عوام کے سامنے لانا چاہئے اور اسی بات پر زور دینا چاہیے کہ اپنا دفاع ناقابل تسخیر بنانے کے لئے فوج کو زیادہ سے زیادہ وسائل فراہم کئے جائیں۔ آج صورت حال یہ ہے کہ دفاعی بجٹ میں جو دس فیصد اضافہ ہوتا ہے‘ وہ افراط زر کی نذر ہو جاتا ہے اور دفاعی اداروں کو جو وسائل میسر آتے ہیں‘ ان میں وہ محض اپنے آپ کو سنبھالے (Sustain)رکھنے کی سرتوڑ کوشش میں لگے رہتے ہیں۔

بجٹ اعداد و شمار کے تقابلی مطالعے سے یہ حقیقت بھی آشکار ہے کہ جی ڈی پی کے تناسب ہمارے ہاں سے دفاعی اخراجات میں کمی آ رہی ہے۔ 2001-2ء کے بجٹ میں دفاعی رقوم جی ڈی پی کے 4.7فیصد تھیں جو 2013-14ء گھٹ کر صرف 2.27فیصد رہ گئی ہیں‘ جبکہ انڈیا‘ امریکہ‘ برطانیہ‘ سعوی عرب‘ شام‘ ایران‘ ترکمانستان کی شرح کہیں زیادہ ہے۔ یہ امر باعث فخر ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کم وسائل میں عظیم کارنامے سرانجام دے رہی ہیں۔ ایک عالم اس امر کا معترف ہے کہ پاک فوج دنیا کی چھٹی بڑی طاقت ہے‘ مگر وہ عمومی طور پر اپنی سپاہ پر دنیا میں سب سے کم خرچ کرتی ہے۔ امریکہ میں ایک فوجی پر سالانہ چار لاکھ ڈالر اُٹھتے ہیں۔ بھارت 25ہزار ڈالر خرچ کرتا ہے جبکہ پاکستان صرف دس ہزار خرچ کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاک فوج نے اقوام متحدہ کے پیس مشن میں سب سے زیادہ ایوارڈ حاصل کئے ہیں۔ اس امر کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ دفاعی بجٹ کا 8فیصد آرمی پر خرچ کیا جاتا ہے جبکہ بقیہ 8فیصد ائیرفورس اور نیوی کے حصے میں آتا ہے۔ ہمارے منصوبہ سازوں اور نقادوں کو یہ بنیادی حقیقت پیش نظر رکھنی چاہیے کہ بھارت کا دفاعی بجٹ پاکستان سے سات گنا زیادہ ہے اور اس میں ہر سال اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کا دفاعی بجٹ اس اعتبار سے منجمد چلا آ رہا ہے کہ جو بھی اضافہ ہوتا ہے‘ وہ مہنگائی کی نذر ہو جاتا ہے۔ گزشتہ سال سیلز ٹیکس میں ایک فیصد اضافے سے فوجی پروکیورمنٹ پر منفی اثرات مرتب ہوئے جبکہ فوج نے اپنے محدود وسائل میں سے ہے ایک خطیر حصہ فاٹا میں بڑی بڑی سڑکیں تعمیر کرانے اور بلوچستان میں تعلیمی اداروں کے علاوہ ہسپتال قائم کرنے پر اور صحرائے تھر میں بنیادی ضرورتیں فراہم کرنے پر خرچ کر دیا۔ پاک فوج صحیح معنوں میں ایک نیشنل آرمی ہے‘ جو چاروں صوبوں کو سماجی اور تعلیمی اعتبار سے ایک سطح پر لانے میں قابل فخر کردار بجا لا رہی ہے۔ اس بلند حوصلہ اور ایثار کیش فورس کے خلاف چہ میگوئیاں کرنے اور بے پر کی اُڑانے والے قوم کے لئے کبھی قابل اعتماد نہیں ہو سکتے ۔ ہماری بردبار سیاسی اور عسکری قیادتیں ملکی سلامتی اور سماجی ترقی کی محافظ ہیں۔

یہ تحریر 72مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP