متفرقات

دعا

سردیوں کے یہی دن تھے، ابھی موسم کی پہلی بارش بھی نہیں ہوئی تھی، ٹھنڈ میری ہڈیوں میں ایسے سرایت کر چکی تھی کہ اس کا احساس ہی ختم ہو چکا تھا۔ ایسی حالت میں چادر کی بکل مارے، میں تجھے گود میں لئے ماری ماری ہسپتال میں پھر رہی تھی۔ ایک وارڈ سے دوسرے وارڈ، ایک ڈاکٹر سے دوسرے ڈاکٹر، پر کسی کو سمجھ میں ہی نہ آرہا تھا کہ تجھے کیا بیماری ہے! شائد تجھ غریب کی بیماری کوئی سمجھنا ہی نہیں چاہتا تھا۔ تیرے باپ نے ہسپتال والوں کی بڑی منتیں کیں کہ تجھے داخل کر لیں پر ان کا کہنا تھا کہ جگہ نہیں ہے۔ یہ تو میں ہی جانتی تھی میرے بچے کہ دو دن میں تیرا کیا حال ہو گیا تھا۔۔۔سیب جیسے سرخ گال سوکھ کر پچک گئے تھے، تیری آنکھوں کی ہیرے جیسی چمک ماند پڑ گئی تھی اور تو نے بولنا تو کیا رونا بھی چھوڑ دیا تھا۔ میں بار بار تیری چھاتی پر کان لگا کر تیرے دل کی دھڑکن سنتی اور پھر تجھے چوم کر پاگلوں کی طرح رونا شروع دیتی۔ تھوڑی دیر میں تھک ہار کر میں ہسپتال کے ٹھنڈے فرش پر بیٹھ گئی اور اپنی اکلوتی چادر سے تجھے لپیٹ دیا کہ کہیں میرے لعل کو ٹھنڈ نہ لگ جائے۔ تیرا باپ غریب اب تک ڈاکٹروں کے پیچھے مارا مارا پھررہا تھا۔ با لآخر ایک نیک صورت ڈاکٹر کوہم پر ترس آ ہی گیا، مجھے آج تک اس ڈاکٹر کا نورانی چہرہ یاد ہے، یوں لگ رہا تھا جیسے اس کے چہرے سے شعائیں پھوٹ رہی ہوں۔ اس جیون جوگے نے ٹوٹی لگا کر تجھے اچھی طرح چیک کیا اور پھر خود ہی ہسپتال سے دوائیں لا کر اپنے ہاتھ سے تجھے پلائیں۔ اس کے لمس میں کوئی ایسی طاقت تھی کہ جب اس نے اپنا ہاتھ تیرے ماتھے کو لگایا تو پہلی دفعہ میرے چاند تو نے آنکھیں کھولیں اور میری طرف دیکھا۔ اس وقت اگر کوئی مجھ سے تیری ایک نظر کے بدلے میری زندگی بھی مانگ لیتا تو میں انکار نہ کرتی۔ اس اللہ لوگ نے کچھ پڑھ کر تجھ پر دم کیا اور پھر باقی دوائیوں کا لفافہ تیرے باپ کو دے کریہ کہہ کے چلا گیا کہ میرے رب نے چاہا تو اب تمہارے بچے کو کچھ نہیں ہوگا۔تیرے باپ کے منہ سے شکریے کے لئے لفظ بھی نہ نکل سکے، میں بھی ٹکڑ ٹکر تجھے ہی دیکھے جا رہی تھی، ہوش ہی نہ رہی کہ اللہ کے بھیجے ہوئے اس فرشتے کو کوئی دعا ہی دے دیتی۔ اس کے بعد میرے بچے تیری حالت سنبھلنے لگی، تیری ہنسی واپس آ گئی،تیرے چہرے کی تازگی لوٹ آئی، تو نے اپنے ننھے منھے ہاتھ میرے چہرے پر رکھ دئیے جیسے تجھے یقین نہ ہو کہ تو اپنی ماں کی گود میں ہے۔تیری کلکاریاں دیکھ کر خوشی سے میرے آنسو نکل پڑے، میں نے تیرے باپ کی طرف دیکھا، وہ بھی منہ چھپائے رو رہا تھا، میں نے زندگی میں پہلی بار اسے روتے دیکھا تھا۔ اس نورانی شکل والے ڈاکٹر کی دی ہوئی دوائی نے جادو کا اثر کیا، دودن کے اندر اندر تیرے چہرے کی رونق واپس آ گئی، چاند جیسی چمک عود آئی ۔

میرے لعل مجھے اب بھی یاد ہے جب میں اور تیرا باپ تجھے سکول داخل کروانے گئے تھے تو ہماری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ اس روز ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ تجھے شہر کے بہترین سکول میں داخل کروائیں گے۔ ہمارے پاس اتنے پیسے تونہیں تھے لیکن ہم نے اپنی تمام جمع پونجی لگا کر تجھے سب سے اونچے سکول میں بھیجا۔ جس روز میری انگلی پکڑ کر تو پہلے دن سکول گیا تو میرے جگر کے ٹکڑے تو سب سے جدا نظر آ رہا تھا۔ اس دن میں چھٹی ہونے تک سکول کے باہر بنچ پر بیٹھی رہی اور جب تو باہر نکلا تو بے اختیار منہ سے دعا نکلی کہ مولیٰ میرے بچے کو کسی کی نظر نہ لگے۔ میں دل ہی دل میں درود شریف پڑھ کر تجھ پر پھونکتی رہی اور پھر دیر تک دیوانہ وار تیرا منہ چومتی رہی۔ مجھے وہ دن بھی یاد ہے میرے جگر گوشے جب تو نے پہلی مرتبہ سائیکل لینے کی ضد کی تھی اوررو رو کر اپنا برا حال کر لیا۔ پھرزندگی میں پہلی مرتبہ تیرے باپ کی اجازت کے بغیر میں نے کوئی کام کیا اور اپنے دو بندے بیچ ڈالے تاکہ تیری سائیکل کے پیسوں کا بندو بست ہو سکے۔ اس کے بعد تین دن تک تیرے باپ نے مجھ سے بات نہیں کی، وہ بندے اس نے شادی کی رات مجھے منہ دکھائی میں دئیے تھے ۔

میرے لعل، میں وہ دن بھی کبھی نہیں بھول سکتی جب ہم نے تجھے کالج میں داخل کروایا تھا۔اس روز تو تیری شان ہی نرالی تھی، تو نے اپنی باہیں میرے گلے میں ڈال کے میرا ماتھا چوما تھا اور مجھے خدا حافظ کہا تھا۔ تیرے ہونٹوں کے نشان میرے ماتھے پر آج بھی ثبت ہیں۔لیکن پھرپتہ نہیں کیا ہوا، کالج کی پڑھائی نے تجھے ہم سے دور کرنا شروع کر دیا۔ توکئی کئی گھنٹے کمرہ بند کر کے پڑھتا اورمیں تجھے اس نیت سے کچھ نہ کہتی کہ تیری پڑھائی میں کوئی حرج نہ ہو۔ تیرے باپ کی عمر ڈھلنی شروع ہو گئی تھی مگر اس ڈھلتی عمرکے باوجود اس نے مزید محنت شروع کر دی تاکہ تجھے پڑھائی میں کوئی تنگی نہ ہو۔لیکن جب کالج کا نتیجہ آیا تو پتہ چلا کہ تو پاس نہ ہو سکاہے ۔اس خبر نے توجیسے تیرے باپ کا خون ہی نچوڑ لیا۔ خود میں بھی اس روز مرجھا سی گئی، یوں لگا جیسے ہماری امیدوں کا چراغ کہیں گل ہو گیاہے۔ اس رات تو دیر تک گھر نہ لوٹا اورمیں دروازے میں بیٹھی تیری راہ تکتی رہی۔ رات کے پچھلے پہر جب دروازہ کھٹکا تو جیسے میری جان میں آئی۔ دروازے پر تو کھڑا تھا مگر ایسے کہ ایک لمحے کو میں بھی تجھے پہچان نہ سکی۔ تو اپنے حواسوں میں نہیں تھا، تیرے باپ نے سہارا دے کر تجھے بستر پر لٹایا اور کوئی بات نہ کی۔ اس رات میں اور تیرا باپ بہت روئے۔

اس کے بعد تو نے آگے پڑھنے سے انکار کر دیا اور رٹ پکڑ لی کہ توملک سے باہر جائے گا۔ ہم نے تیری بڑی منتیں کیں، تیرے پاؤں پکڑے کہ تو اپنا ارادہ بدل لے مگر تیرے دماغ سے باہر جانے کی دھن نہ نکلی اور پھر ایک دن وہ بھی آیا جب ہم نے تیری ضد کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے۔ میں نے اپنا بچا کھچا زیور بیچ ڈالا اور تیرے باپ نے لوگوں سے مانگ تانگ کر پیسوں کا بندو بست کیا تاکہ تجھے باہر بھجوایا جا سکے۔ جس روز تو نے یہ ملک چھوڑ کر جانا تھا، اس روز میں نے اپنے رب سے گڑ گڑا کر دعائیں مانگیں کہ اے مالک میرے بچے کی حفاظت فرمائیں، اسے کبھی زمانے کی تپتی ہوا نہ لگے، اس پر کسی بد کا سایہ نہ پڑے، اسے کوئی تکلیف چھو کر بھی نہ گزرے۔مجھے جتنی دعائیں یاد تھیں، میں نے وہ سب ،میرے بچے، تیرے لئے مانگ لیں۔ جانے سے پہلے میں نے تجھ سے وعدہ بھی لیا کہ چھے مہینے بعد واپسی کا ایک چکر ضرور لگائے گا تاکہ ماں کی آنکھوں کو کچھ سکون مل سکے، دل کو کچھ ٹھنڈ پڑ سکے ۔ پھر میرے چاند میں نے تجھے اللہ کے سپرد کردیا۔ تیرے جانے کے بعد تو جیسے میری دنیا ہی ویران ہو گئی، تیرے باپ نے میری بہت ہمت بندھائی مگر میری حالت میں کوئی فرق نہ آیا۔ چھے ماہ گزر گئے، سال گزر گیا، دو سال گزر گئے، پر تو نہ آیا۔اس دوران دو چار مرتبہ صرف تیرا فون یا چٹھی آئی جس میں سوائے رسمی خیر خیریت کے اور کوئی بات نہ ہوتی۔ لیکن اب تو میرے جگر گوشے، میں تیری آواز سننے کو ہی ترس گئی ہوں، کتنے ہی سالوں سے تیرا کوئی فون، خط اور اطلاع نہیں آئی۔ تیرا باپ تو جیسے ہڈیوں کا ڈھانچہ ہو کے رہ گیا ہے اور میرے لعل، تجھے کیابتاؤں کہ تیری اس ماں کا کیا حال ہے ۔۔۔تجھے کیا معلوم کہ ہم نے تیرے لئے کتنی راتیں جاگ کر گزاریں، اپنی آنکھوں میں تیرے لئے کتنے خواب بنے ،تیرے لئے دنیا کی کن کن نعمتوں کی دعا کی ۔۔۔کبھی رب سے اپنے لئے کچھ نہیں مانگا ،اس کے محبوب کے صدقے جب بھی مانگا، میرے بچے، تیرے لئے ہی مانگا مگر میرا رب شائد ہم جیسے گناہ گاروں کی کم ہی سنتا ہے۔ لیکن میں اب بھی اپنے رب کی رحمت سے مایوس نہیں۔ کیونکہ سردیوں کے یہی دن تھے، ابھی موسم کی پہلی بارش بھی نہیں ہوئی تھی اور ٹھنڈ میری ہڈیوں میں ایسے سرایت کر چکی تھی کہ اس کا احساس ہی ختم ہو چکا تھا، جب میرے مولیٰ نے میری سنی تھی اور ایک فرشتے کو میرے پاس بھیجا تھا جس نے تجھے نئی زندگی دی تھی۔ آج میں رب سے اپنی زندگی کے بدلے تیرے زندگی کی دعا مانگتی ہوں

یہ تحریر 160مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP