متفرقات

دسمبر کے احساسات

اُسے کہنا دسمبر آ گیا ہے
دسمبر کے گزرتے ہی
برس اک اور ماضی کی گپھا میں ڈوب جائے گا
اسے کہنا دسمبر لوٹ آئے گا
مگر جو خون سو جائے گا جسموں میں‘ نہ جاگے گا
اسے کہنا ہوائیں سرد ہیں
اور زندگی کے کہرے دیواروں میں لرزاں ہیں
اُسے کہنا شگوفے ٹہنیوں میں سو رہے ہیں
اور ان پر برف کی چادر بچھی ہے
اسے کہنا اگر سورج نہ نکلے گا
تو کیسے برف پگھلے گی
اسے کہنا کہ لوٹ آئے

دسمبر کا مہینہ شروع ہوتے ہی عرش صدیقی کی یہ نظم ذہن میں گونجنے لگتی ہے۔ دسمبر سال کا آخری مہینہ ہونے کے سبب جہاں یہ احساس دلاتا ہے کہ موجودہ سال کتنی تیزی سے

گزر گیا وہیں نئے سال کی آمد کی بھی خبر دیتا ہے۔ ہمیشہ ہر برس کے اختتام پر ہم یہی سوچتے ہیں کہ یہ سال کتنی تیزی سے گزر گیا۔ بات تو یہ سچ ہے مگر کچھ باتیں اور واقعات ایسے ہوتے ہیں جو بھلے کتنا ہی وقت گزر جائے‘ انسان نہیں بھولتا اور ماہ و سال کا ان پر اثر نہیں ہوتا۔ سانحہ پشاور کو ایک برس گزر گیا مگر اس کا زخم ابھی تک تازہ ہے۔ میرا دل رکنے لگتا ہے جب میں ان ماؤں کے بارے میں سوچتی ہوں جن کے جگر گوشے دہشت گردوں نے خون میں نہلا دیئے۔ معصوم بچوں کی لاشوں کا تصور اور ان کے عظیم اساتذہ کی قربانی جھنجھوڑ کے رکھ دیتی ہے۔ وہ بچے جو زخمی ہوئے‘ وہ بچے جن کے سامنے یہ واقعہ رونما ہوا‘ ان کے ننھے اذہان جانے کیا سوچتے ہوں گے؟ جانے ان معصوموں کے ذہن و دل پر اس خوفناک واقعے کا کیا اثرہوا ہو گا؟ مگر مجھے اتنا ضرور معلوم ہے کہ ہماری قوم کے یہ معمار عزم و ہمت کا پیکر ہیں۔ سانحے کے بعد جب تعطیلات ہوئیں اور پھر دوبارہ جب اسکول کھلے تو جس طرح بچوں نے نئے حوصلے سے تعلیمی سفر شروع کیا وہ قابل تعریف ہے اور ایسا بھلا کیوں نہ ہو۔ جب ملک عزیز کی بہادر افواج کا جری سپہ سالار خود سکول کے پہلے دن بچوں کو خوش آمدید کہنے اور انہیں اسناد دینے موجود ہو تو کیوں ان کو دشمنوں اور دہشت گردوں کا خوف ہو۔ آفرین ہے ہمارے آرمی چیف پر جنہوں نے اپنی اہلیہ کے ہمراہ اُن بچوں کے سر پر دست شفقت رکھا اور ان کی ہمت بندھائی۔


میں سوچتی ہوں جیسے آرمی پبلک سکول کا واقعہ کسک دیتا ہے ایک اور سانحہ ایسا ہے جو پاکستانیوں پر قیامت بن کے ٹوٹا۔ وہ ہے 26اکتوبر کو آنے والا زلزلہ۔ دس سال قبل بھی اکتوبر میں پاکستان میں زلزلہ آیا تھا جس سے بہت جانی او رمالی نقصان ہوا تھا۔ 2015میں آنے والے زلزلے سے خاصی تباہی ہوئی مگر خدا کا شکر ہے کہ 2005 کے مقابلے میں نقصان کم ہوا۔اس سال حج کے موقع پر ہونے والے کرین حادثے اور منٰی میں بھگدڑ کے باعث سیکڑوں عازمین حج جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ 2015میں اگرچہ بہت سی المناک باتیں ہوئیں‘ تاہم کچھ ایسے واقعات اور اقدامات ہیں جو باعث تقویت ہیں۔ مثلاً پاک چین اقتصادی راہداری کا معاہدہ‘ کراچی میں رینجرز کا آپریشن اور شہر میں امن و امان کی بحالی۔ کراچی میں گزشتہ سات برسوں سے جاری قتل و غارت گری رینجرز کی کارروائی کے باعث تھم گئی ہے اور اہلیان کراچی نے اطمینان کا سانس لیا ہے۔


کینیڈا کی بات کریں تو موجودہ سال قومی الیکشن کا سال تھا۔ یہاں کے الیکشن‘ امیدواروں کی انتخابی مہم‘ ووٹنگ اور ہار جیت پہ ردِ عمل ہمارے یہاں سے ذرا مختلف ہے۔ کینیڈا میں ہر سیاسی جماعت اپنا منشور عوام کے سامنے رکھتی ہے۔ ہر حلقے میں ایسے امیدوار الیکشن لڑتے ہیں جو اخلاق و کردار کے لحاظ سے معزز ہوں‘ ان پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکتا ہو۔ چور ڈاکو‘ ٹیکس چور یا مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد انتخابات میں نہ تو حصہ لے سکتے ہیں اور نہ انہیں کوئی پسند کرتا ہے۔ انتخابی مہم میں ہر امیدوار اپنے حلقے کے گھروں پر بذات خود جا کے ووٹ کے طلبگار ہوتے ہیں۔ووٹ مانگنے والے امیداروں کے ساتھ کوئی چمچے‘ اسلحہ بردار محافظ‘ پروٹوکول کی گاڑیاں یا دیگر خرافات نہیں ہوتیں۔ وہ بے چارا ہر دروازہ کھٹکھٹاتاہے اور نہایت ادب سے اپنے لئے ووٹ مانگتا ہے۔ دھونس دھمکی‘ رشوت یا لالچ دے کے ووٹ حاصل نہیں کیا جاتا۔


میں کئی انتخابی جلسوں میں گئی اور وہاں میں نے دیکھا کہ لوگ امیدوار کی تقریر‘ دلائل اور منشور غور سے سنتے ہیں۔ امیدوار بھی مخالفین پر کیچڑ اچھالنے‘ کردار کشی کرنے کے بجائے اپنے آپ کو بہتر بنانے پر توجہ دیتے ہیں۔ تواضع کے موقع پر کوئی افراتفری دیکھنے میں نہیں آتی۔ سب لوگ اطمینان سے قطار میں لگ کر کھانا لیتے ہیں۔ کوئی ہلڑ بازی‘ دیگیں الٹنے یا چھینا جھپٹی کا منظر دیکھنے کو نہ ملا۔


انتخابی ریلی میں شرکت کا بھی مجھے تجربہ ہوا۔ یہاں اگرچہ لوگ بسوں میں بھر کے جلسہ گاہ پہنچتے ہیں مگر ان کو فی کس نہ تو پیسوں کی ادائیگی ہوتی ہے اور نہ روٹی پانی کا آسرا‘ سب اپنے خرچے پہ رہنماؤں کی تقاریر سننے جاتے ہیں۔ ایک ریلی ونکوور کے ڈاؤن ٹاؤن میں تھی۔ وہاں میں نے دیکھا پارٹی کی مرکزی اور علاقائی قیادت عام لوگوں میں گھل مل گئی۔ کوئی ہٹو بچو نہ ہوا۔ کوئی بڑا سا اسٹیج یا پولیس پہرا نہ تھا۔ ایک سادہ سا روسٹرم تھا جس پر سب نے پہلے سے طے شدہ لکھی ہوئی مختصر ترین تقریریں کیں۔ نہ تو کسی نے جوش جذبات میں مکے مار کے مائیک گرایا نہ گریبان چاک کر کے گلا پھاڑ پھاڑ کے للکارا۔ اب میں الیکشن والے دن پولنگ اسٹیشن کا احوال بھی ذرا لکھ دوں۔ اگرچہ تمام پولنگ اسٹیشنز پر ہر پارٹی کے رضاکار موجود تھے مگر کسی کی کسی سے تلخ کلامی نہ ہوئی۔ ونکوور میں صبح سات بجے پولنگ شروع ہوئی اور شام سات بجے تک جاری رہی۔ عملہ صبح چھ بجے سے وہاں موجود تھا۔ تاکہ وقت پر پولنگ شروع ہو سکے۔پولنگ کا عمل نہایت سکون سے ہوا۔ نعرے‘ شورشرابا‘ دھکم پیل یا غل غپاڑہ کا نام و نشان تک نہ تھا۔ کہیں سے کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔


سب سے زیادہ قابل تعریف رویہ نتائج آنے کے بعد تھا جب ہارنے والوں نے دھاندلی کاالزام لگانے کے بجائے جیتنے والوں کومبارکباد دی۔ جیتنے والوں نے بھی خوشی میں ہوائی فائرنگ کے بجائے تدبر کا ثبوت دیا۔ وزیراعظم منتخب ہونے والے جسٹن ٹروڈو جیت کے اگلے دن صبح ہی صبح لوکل ٹرین اسٹیشن پہنچ گئے۔ جہاں وہ کئی گھنٹے کھڑے رہے اور ہر آنے جانے والے سے مصافحہ کر کے اس کا شکریہ ادا کرتے رہے۔ مجھے یقین ہے ان کے لئے مناسب سکیورٹی ہو گی۔ مگر محافظ آس پاس نظر نہ آئے۔ نہ ہی کوئی چیلے چماٹے‘ نہ مشیر نہ وزیر‘ نہ کارکن نہ حمائتی‘ نہ پولیس نہ غنڈے‘ غرضیکہ جمہوری عمل اور حقیقی جمہوریت مجھے نظر آئی۔


جمہوریت کا نعرہ ہمارے یہاں بھی لگتا ہے۔ مگر قارئین اپنے دل پر ہاتھ رکھ کے بتائیں کہ کیا واقعی جو کچھ ہمارے یہاں ہوتا ہے وہ جمہوریت کی تعریف پر پورا اترتا ہے؟
میری تمنا ہے کہ ہم بھی اپنے اندر اخلاق و کردارکی بلندی پیدا کریں۔ تحمل اور برداشت کا رویہ اپنائیں‘ دوسروں پر تنقید کے بجائے اپنے اندر بہتری لائیں۔ تعلیم و تربیت پر زور دیں۔ یہ سب خصوصیات اس وقت پیدا ہوں گی جب ہمارے پاس کوئی رول ماڈل ہو گا۔ وہ لوگ‘ وہ شخصیات جن سے ہم متاثر ہیں۔ ہمارے رہنما‘ جن کے لئے ہم نعرے لگاتے ہیں‘ جب وہ ہمارے آئیڈیل ہیں تو انہیں اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے اپنے آپ کو قوم کے لئے صحیح معنوں میں ہیرو بنانا ہو گا۔ ایسا نہیں کہ ہمارے پاس اقدار و روایات موجود نہیں یا ہم تہذیب یافتہ نہیں۔ بس ذرا سا ہمیں یہ احساس ہو جائے کہ قومی ذمہ داری یا قانون کی بالادستی کیا ہوتی ہے تو ہمارا شمار بھی مہذب دنیا میں ہو گا۔ خدا کرے آنے والا سال ہمارے لئے‘ ہمارے وطن کے لئے بہتری‘ ترقی اور خوشحالی کا سال ہو۔ نئے سال کی آمد ہمارے لئے باعث مسرت و شادمانی ہو۔ آمین

مصنفہ ‘ مشہور ادا کارہ‘ کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔ 

[email protected]

یہ تحریر 68مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP