متفرقات

دریا کے اس پار - قیامِ پاکستان کے پس منظر میں لکھی گئی کہانی

کیا کہہ رہے ہو تارا چند ؟ ایسے کیسے ہوسکتا ہے؟ ہم پروہ کیسے حملہ کر سکتے ہیں؟  تم نے غلط سنا ہوگا۔
حافظ صاحب صدمے اوربے یقینی کے عالم میں تقریبا چلاّ ہی پڑے۔
نہیں مالک میرے کانوں نے دھوکا نہیں کھایا۔ رات کو گوردوارے کی بیٹھک میں فیصلہ ہوگیا ہے۔ آج شام سکھوں کا جتھہ آپ کی حویلی پر حملہ آور ہوگا۔
 غریب تارا چند رو پڑا۔
میں نے  برسوںآپ کے گھر کا نمک کھایا ہے۔ میں آپ کو دھوکا نہیں دے سکتا۔ بس آپ لوگ فوری نکل پڑیں۔ ان چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کی جان بچا لیں۔ وہ لوگ کچھ بھی نہیں چھوڑیں گے۔
تارا چند کا حافظ صاحب سے برسوں کا تعلق تھا اوراس سے غلط بیانی کی توقع نہیں تھی۔ 
حافظ صاحب کو کامل یقین تھا کہ مسلم آبادی کی اکثریت کی وجہ سے رام داس کا وہ علاقہ پاکستان کا حصہ بننے جا رہا ہے۔ اس لئے اپنے وطن کو اس طرح چھوڑ کر جانا کسی بھی طرح مناسب نہ تھالیکن حالات ہر گزرتے دن کے ساتھ بگڑتے جا رہے تھے۔ آس پاس کے علاقوں سے بھی اب مسلح سکھوں اور ہندوئوں کے مقامی مسلمانوں پر حملے کی خبریں موصول ہو رہی تھیں۔ علاقے کے اکثر مسلمان گھرانے ایک ایک کر کے پاکستان ہجرت کرتے جارہے تھے۔ اب صرف گنے چنے کچھ مسلمان خاندان ہی علاقے میں رہ گئے تھے۔
حافظ مظہرالدین کا خاندان رام داس، تحصیل اجنالہ کا ایک معزز اور متمول گھرانہ تھا جو نہ صرف اپنی انسان دوستی بلکہ علم و فضل کی وجہ سے بھی پورے علاقے میں جانا مانا جاتا تھا۔ حافظ صاحب کے مرحوم والد مولانا نواب الدین رامداسی ایک ممتازمذہبی شخصیت تھے جن کی بزرگی اور علمیت کی وجہ سے ان کے ہزاروں معتقدین تھے۔ تارا چند کی اس مخبری کے بعد اب کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔ حافظ صاحب نے خاندان کے تمام مردوں اور پاس پڑوس کے مسلمانوں کو حالات کی آگاہی دینے اور مشورے کے لئے فوری اکٹھا کیا۔ جہاں اکثریت نے بلاتاخیر روانگی کے حق میں فیصلہ دیا وہاں کچھ افراد ڈٹ جانے اورمقابلہ کرنے کے بھی حامی تھے۔ تاہم وقت کی نزاکت کا تقاضا یہی تھا کہ عقل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے۔ اس لئے فوری ہجرت کا ہی فیصلہ ہوا۔حافظ صاحب گھر میںداخل ہوتے ہی بیوی سے گویا ہوئے، جلدی کرو امیرالنسا !  ہم نے فوری نکلنا ہے۔ بچوں کو بھی تیار کرو۔سادہ لوح امیر النساء کا ماتھا ٹھنکا، کہاں کا ارادہ ہے حافظ صاحب؟
پاکستان۔۔۔ پاکستان جانا ہے ابھی۔ رات کو سکھ حملہ آور ہو رہے ہیں۔ بہت کم وقت بچا ہے۔ تم بس تیاری کرلو۔امیرالنسا ہکا بکا رہ گئیں۔ انہوں نے صحن میں کھڑے کھڑے اس چار منزلہ لدی پھندی حویلی پر اوپر سے نیچے تک ایک نگاہ ڈالی جس کے ہر کونے، ہر کھدرے سے ان کہ محبت، یادیں اور قلبی تعلق وابستہ تھا۔ وہ بیاہ کر یہیں آئیں تھیں اوراب یہی ان کا آشیانہ تھا۔ ان چند لمحوں میں بھلا وہ اپنی اس جنت سے کیا کچھ سمیٹ سکتی تھیں۔ ان کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ رندھی ہوئی آواز میں بس اتنا ہی بول سکیں، جی بہت بہتر،حافظ صاحب۔انہوں نے افراتفری میں چاروں بچوں کو جو بھی سامنے نظر آیا زیبِ تن کروا دیا۔ ساتھ ہی چولہے پر دو تین کچی پکی روٹیاں لگا کر ایک رومال میں لپیٹ لیں کہ راستے میں کام آئیں گی۔ کچھ جوڑے کپڑوں کے اور اپنا زیور ایک چھوٹے سے دھاتی صندوق میں ڈال کر ساتھ اٹھا لیا اور بچوں کے ساتھ باہر کی راہ پکڑی۔ نکلتے ہوئے لگا کہ گویا کچھ بھول رہی ہیں۔ دالان میں نظر دوڑائی کہ تالہ نظر آجائے تو اسے حویلی کے دروازے کو بھیڑ کر اس پر لگا دوں۔ حافظ صاحب یہ دیکھ کر بولے، رہنے دو امیرالنساء  اب اس کی ضرورت نہیں ہے۔ دونوں میاں بیوی کے دل بھر آئے۔ حافظ صاحب نے منہ دوسری طرف کر لیا کہ اپنی آنکھوں کی نمی کو بیوی سے چھپانا چاہتے تھے۔
آٹھ دس خاندانوں پرمشتمل یہ قافلہ، جس میں ہرعمر کے لوگ شامل تھے، گھوڑوں اور بیل گاڑیوں پر سوار دھیرے دھیرے پاکستان کی جانب چل پڑا۔ اس سے آگے کیا ہونا تھا، کیا مستقبل تھا، کہاں سکونت اختیار کرنی تھی اورکس طرح گزر بسر کرنی تھی، کچھ معلوم نہ تھا۔ بس اتنا علم تھا کہ ایک خوشبوئوں اور پھولوں سے لدا دیس ہوگا جس کی گود میں سر رکھ کر وہ اپنے سب غم اور تکلیفیں بھول جائیں گے۔ ان کا ارادہ تھا کہ دریائے راوی پر پہنچ کر کسی کشتی کا انتظام کریں گے اورراوی کے پارنارووال سے متصل راستے سے پاکستان میں داخل ہوجائیں گے۔ مردوں نے حفاظت کی خاطر گھروں میں جو بھی اسلحہ تھا ساتھ رکھ لیا تھا۔ متواتر دن اور رات سفر کرتے وہ بالآخر راوی کے کنارے پہنچ گئے۔ اب تک سفرمحفوظ رہا تھا۔
راوی پر پہنچے تو وہاں ایک ناقابل یقین منظر تھا۔ ہزاروں خاندان پہلے ہی نہ جانے کب سے دریا کے کنارے پڑائو ڈالے، کشتیوں کے منتظر تھے۔ بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے دریا اونچی سطح پر بہہ رہا تھا اور کشتیاں نہ صرف بہت ہی قلیل تھیں بلکہ اس سیلابی صورتحال میں انہیں سنبھالنا بھی بہت دشوار تھا۔ دریا کے کنارے کا تمام حصہ کیچڑ اور آلودگی سے بھر چکا تھا۔
حافظ صاحب بھی اس بھیڑ میں کشتی کی تلاش میں جت گئے۔ ملاحوں کے ناجائز مطالبات، زیادہ پیسے کمانے کی حرص اورمسلسل بدتہذیبی، نہ جانے کیسی کیسی کٹھنائیاں درپیش تھیں۔ جب بھی کتنے گھنٹوں کے بعد بمشکل کسی کشتی کا بندوبست کرپاتے اور کنارے تک لاتے، سینکڑوں لوگ اس پر ٹوٹ پڑتے اور قابض ہوجاتے۔ اس طرح سے ان کے لئے اپنے معصوم بچوں کے ساتھ سوار ہونا ناممکن ہوجاتا۔ اسی کشمکش میں کئی دن گزر گئے۔ رات پڑتی تو آس پاس کے کسی گائوں میں پناہ لے لیتے جو اپنے مکینوں کے ہجرت کرنے کے بعد اب ویران پڑے تھے۔ جو روکھی سوکھی ملتی وہ کھا کر گزارہ کرتے اور صبح ہوتے ہی کشتی پانے کی امید لئے پھر دریا کے کنارے آپہنچتے۔
ایک صبح جب وہ لوگ ایک بار پھر دریا کے کنارے کشتیوں کے منتظر تھے، کہ گھوڑوں کی ٹاپوں کی آوازیں سنائی دیں۔ سراسمیگی کے عالم میں مڑ کر دیکھا تو وہی ہوا جس کا کتنے دنوں سے خوف تھا۔ سکھوں کا ایک بہت بڑا جتھہ جو کب سے تاک لگائے ہوئے تھا، حملہ آور ہوگیا۔ اس گروہ نے یکایک دھاوا بولتے ہی لوٹ مار اورلوگوں کا قتل عام شروع کردیا ۔ اب سامنے سفاک دشمن اور پیچھے بپھرا ہوا دریا تھا، اس کے علاوہ کوئی راہ نہ تھی۔ مسلمان مرد جن کے پاس کچھ لگے بندھے ہتھیار تھے، انہوں نے مقابلے کی کوشش کی، پر تعداد اور اسلحے کا توازن مکمل طور پر حملہ آوروں کے حق میں تھا۔ ایک ایک کر کے مسلمان شہید ہورہے تھے۔ ایک افراتفری کا عالم تھا اور خاندان کے افراد ایک دوسرے سے بچھڑ رہے تھے۔ حافظ صاحب بھی بہادری سے مقابلہ کر رہے تھے۔ اس دوران دشمن سے لڑتے لڑتے نہ چاہتے ہوئے بھی کچھ دور نکل گئے۔اتنے میں کچھ حملہ آوروں نے امیرالنسااور بچوں کو بغیر کسی مرد کے تنہا پایا تو ناپاک ارادوں کے ساتھ ان کی طرف لپکے۔ امیرالنسا کے لئے اس بے بسی کے عالم میں کوئی چارہ نہ تھا۔ جب کچھ بھی نہ بن پڑا تو یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کو تیراکی نہیں آتی، انہوں نے بچوں سمیت دریا میں چھلانگ لگا دی۔ بہت سی دوسری عورتیں بھی دریا میں کود چکی تھیں اور بے بسی سے پانی میں ہاتھ پیر مار رہی تھیں۔ جو کچھ عورتیں اور بچیاں ہمت مجتمع نہ کر سکی تھیں اور کنارے پر رہ گئی تھیں، انہیں حملہ آور اپنے ساتھ لے جانے کے لئے کھینچ رہے تھے۔ وہ انتہائی لاچاری سے ایک لاحاصل تگ و دو کرتے ہوئے مدد کے لئے پکار رہی تھیں۔ پر وہ قیامت کی گھڑی تھی، کسی کو بھی ہوش نہ تھا، ہر شخص اپنی جان بچانے کی کوشش میں سرگرداں تھا۔
قافلے کے بہت سے افراد ایک ایک کر کے شہید ہوتے جارہے تھے۔ حافظ صاحب جوانمردی سے اپنی تلوار اور ایک عدد پستول کے ساتھ دشمن کے مقابل ڈٹے رہے۔ پھر پہلے تو تلوار ان کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور پھر پستول کی گولیاں بھی ختم ہوگئیں۔ اسی وقت اک حملہ آور تلوار سونت کر ان کے سامنے آگیا۔ اس نے حافظ صاحب کو پہچان لیا تھا اور اس کا ارادہ ان کا کام تمام کرنے کا تھا۔ حافظ صاحب کے پاس بچنے کی کوئی صورت نہیں تھی۔ تاہم جب کچھ بن نہ پڑا تو انہوں نے خالی پستول ہی حملہ آور پر تان لیا۔ حملہ آور مخمصے کا شکار ہو گیا۔ یہ نہ جانتے ہوئے کہ پستول خالی ہے، وہ گھبرا گیا اور واپس پلٹ گیا۔ کچھ خلاصی ہوئی تو حافظ صاحب نے اپنے بیوی بچوں کی تلاش میں نظر دوڑائی۔ مگر انہیں موجود نہ پایا۔ 
امیرالنسا دریا میں چھلانگ لگا کر بچوں کو کیا سنبھالتیں، کہ وہ تو خود ڈوب رہی تھیں۔ تمام بچے بکھر گئے۔ البتہ سب سے چھوٹے چند ماہ کے بیٹے کو انہوں نے کسی طرح سینے سے لگائے رکھا۔ باقی بچے بھی مسلسل پانی میں ڈبکیاں کھا رہے تھے اور مدد کے لئے چیخ وپکار کر رہے تھے۔ اسی لمحے حافظ صاحب جو انہیں انتہائی بے چینی سے ڈھونڈ رہے تھے، ان کو دریا میں کھوجنے میں کامیاب ہوگئے۔ وہ دریا میں کود پڑے اور ان کی سمت تیرتے ہوئے پہنچ گئے۔ پر اب وہ اکیلے تھے اور مشکل میں گرفتار کتنی زندگیاں تھیں۔ انتہائی ماہر تیراک ہونے کے باوجود یہ ان کے بس سے باہر تھا۔ کبھی ایک بچے کو سہارا دیتے تو کبھی دوسرے کو۔ کبھی بیوی کو پکڑتے تو کبھی تیسرے بچے کو۔ غوطے کھاتیں امیرالنساء کے پیر پھربھی کسی نہ کسی طرح زمین کو چھونے میں کامیاب ہوگئے اور وہ تھوڑے کم گہرے پانی میں آگئیں۔ اب وہ دیوانہ وار اپنے چھوٹے سے بیٹے کو ٹٹول رہی تھیں جس کی حالت بہت بگڑ گئی تھی، مسلسل پانی میں رہنے کی وجہ سے اس کا چہرہ نیلا ہورہا تھا۔ اور کچھ بن نہ پڑا تو ماں نے اسے شدت سے اپنے سینے سے بھینچ لیا۔
ادھر حافظ صاحب کی ہمت مکمل جواب دے رہی تھی۔ اس لمحے انہوں نے اس بیچارگی کی حالت میں اپنے رب سے باآوازِبلند التجا کی، اے میرے مالک، میری مدد فرما ، میں بہت لاچار ہوں اور کسی بھی قابل نہیں رہا۔ وہ شاید قبولیت کی گھڑی تھی کہ نہ جانے کہاں سے دو افراد نمودار ہوئے ۔ دونوں نے حافظ صاحب کے ایک ایک بچے کو تھاما اور کنارے کے قریب پہنچا کر نہ جانے کہاں کی راہ لی۔ حافظ صاحب نے بھی تیسرے بچے کو پکڑا اور اسے کنارے کے قریب لے آئے۔ ماں کے حوالے کرتے ہی وہ ایک لمحہ بھی انتظار کئے بغیر دوبارہ گہرے پانی میں کود پڑے کیونکہ دوسرے بہت سے لوگ متواتر مدد کے لئے پکار رہے تھے۔ سہمی ہوئی امیرالنساء صرف آوازیں دیتی رہ گئیں۔ حملہ آور جتھے کے لئے اب لوٹ مار اور قتل و غارت کے بعد مزید دلچسپی کی کوئی چیز نہیں بچی تھی، اس لئے اب وہ آہستہ آہستہ واپس لوٹ رہے تھے۔ 
حافظ صاحب اور گھر والے جتھے کے دوبارہ حملہ آور ہونے کے خدشے کے پیشِ نظر شام تک دریا میں ہی ٹھہرے رہے۔ ان کی حالت خراب ہوگئی تھی۔ سامان اور اسباب تو کب کے لٹ چکے تھے، کہ اب متواتر پانی میں رہنے اور مشقت کی وجہ سے کپڑے گل کر چیتھٹروں میں تبدیل ہوگئے تھے۔ آخر کار اندھیرا پھیلا تو پانی سے باہر آئے اور سر چھپانے کی فکر میں لگ گئے۔ کنارے پر ہر طرف لاشیں بکھری ہوئی تھیں اور فضا سوگوار تھی، جس میں لوگوں کی آہوں اور سسکیوں کی آوازیں نمایاں تھی۔ بہت سے عزیز اور ساتھی جان سے چلے گئے تھے۔ تاہم کسی نہ کسی طرح حافظ صاحب کا کنبہ مکمل رہا تھا، جو کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ چھوٹے بیٹے کو ماں سے پکڑ کر حافظ صاحب نے اس کے ننھے سے سینے پر جھک کر کان لگائے۔ بہت دور ایک بے ربط سی دل کی دھڑکن محسوس ہوئی۔
امیرالنساکی تو سر کی چادر بھی پانی میں بہ گئی تھی۔ زمین پر نظر دوڑائی تو حافظ صاحب کو کیچڑ میں لتھڑی ایک بوری نظر آئی۔ وہی اٹھائی اور بیوی کو اوڑھا دی جسے امیرالنسا نے خود پر لپیٹ لیا اوربیٹے کو بھی اس میں چھپا لیا۔ چھوٹی پانچ سالہ بیٹی پر نظر پڑی تو اس کے پائوں پر دشمن کے کسی بھالے سے پڑا ایک گھائو نظر آیا۔ اتنے شدید زخم کو وہ بھی اس افراتفری میں بھولے بیٹھی تھی۔ کوئی اور چارہ نہ بن پڑا تو اپنی بوسیدہ قمیض کی آستین پھاڑی اور بیٹی کے پیر پر کس کر لپیٹ دی۔وہ انتہائی کٹھن رات تھی کہ صرف خوف، بھوک اوربے بسی ان کی رفیق تھی۔ مزید دو دن اسی کَس مپرسی کی حالت میں گزر گئے۔ چھوٹے بیٹے کی حالت اب انتہائی بگڑ چکی تھی۔ اس کا جسم آگ کی طرح تپ رہا تھا اور مسلسل بے ہوشی کی حالت میں وہ سانس بھی بمشکل لے پا رہا تھا۔ تمام سامان لٹ چکا تھا تاہم حافظ صاحب نے کچھ رقم اپنی قمیض کی اندرونی جیب میں چھپا رکھی تھی۔ وہ اس رقم کو اتنی افراتفری اور چھینا جھپٹی کے باوجود بچانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔
پھر آخر ایک دن، حافظ صاحب ایک کشتی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ملاح نے کرائے کی مد میں ان کی وہ تمام جمع پونجی جو کل چھ سو روپے تھے، مانگ لئے۔ حافظ صاحب بغیر کسی پس و پیش کے راضی ہوگئے اور اپنے کنبے اور قافلے کے بچھے کچھے افراد کے ساتھ کشتی پر سوار ہو گئے۔ خالی ہاتھ، اپنا سب کچھ لٹائے اب وہ پاکستان کی جانب محوِ سفر تھے۔ ان متواتر آفات اور سانحات کے باوجود تمام چہرے خوشی سے تمتما رہے تھے۔کچھ دیر کے سفر کے بعد کشتی دریا پار کنارے پر لگ گئی۔ وہ اپنے نئے وطن پہنچ گئے تھے اور یہ نارووال کے قرب و جوار کا ہی علاقہ تھا۔ کشتی سے قدم زمین پر رکھتے ہی حافظ صاحب سجدے میں گر پڑے۔ صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹ گیا اوروہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیئے کتنے دنوں کی مسلسل جدوجہد اور پیش آنے والے حادثات نے ان کے اعصاب کو توڑ کر رکھ دیا تھا۔ نہ جانے کتنی دیر وہ سجدے میں پڑے اپنے رب کا شکر بجا لاتے رہے۔پھر انہوں نے اپنے بکھرے وجود کواکٹھا کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ ہی اپنے خاندان کی ہمت اور ڈھارس تھے۔ ان لوگوں کو وہاں قائم عارضی کیمپوں میں رکنے کی پیش کش کی گئی۔ مگر ان کیمپوں میں چھائے اداسیوں کے ڈیرے، جا بجا بکھری دردناک داستانیں اور فضا میں گھلی آہ و بکا بہت ہولناک تھی۔ اس موقع پر حافظ صاحب نے اپنے دیرینہ دوست محمد یوسف کے ہاں عارضی طور پر قیام کا فیصلہ کیا جو سیالکوٹ میں رہائش پزیر تھے۔ اور پھریہ مختصرسا کنبہ انتہائی لاچارگی اورعاجز حالات میں جسم پر چیتھڑے سجائے ننگے پیر کسی نہ کسی طرح سیالکوٹ پہنچ گیا۔ 
گلی میں محمد یوسف کا پتہ پوچھتے وہ ایک عالی شان گھر کے سامنے پہنچ گئے۔ حافظ صاحب نے دروازے پر دستک دی۔ کچھ دیر کے بعد ایک دس گیارہ سالہ لڑکے نے دروازہ کھولا۔ انہیں دیکھ کر بے کیف سی صورت بنا کر گویا ہوا، ارے جائیں بابا، معاف کردیں۔وہ دروازہ بند کر کے لوٹنے ہی لگا تھا کہ پیچھے سے محمد یوسف کی آواز سنائی دی۔۔کون ہے بیٹا؟اباجان کوئی فقیر ہیں۔ پورا خاندان ساتھ ہے۔
اتنی دیرمیں محمد یوسف دروازے تک پہنچ چکے تھے۔ باہر جھانکا تو تذبذب کا شکار ہوگئے اور پہچاننے کی کوشش میں لگ گئے کہ حافظ صاحب انتہائی خجالت سے رندھی ہوئی آواز میں بولے، بھائی یوسف، میں ہوں، محمد مظہر۔محمد یوسف کے گلے سے ایک چیخ برآمد ہوئی۔ وہ خانوادہ جن  سی تمکنت کی لوگ آرزو کرتے تھے، جن کی خودداری ضرب المثل تھی اورجو اپنے گھر کی حرمت کو جان سے مقدم گردانتے تھے، آج کسی دوسرے کی دہلیز پر بوسیدہ حال، ننگے سراور ننگے پیر لٹے پٹے کھڑے تھے۔ 
محمد یوسف، حافظ صاحب کے گلے لگ گئے۔ وہ روتے جاتے تھے اور ساتھ یہ کہہ رہے تھے، مجھے معاف کردو مظہر، مجھے معاف کردو۔ کچھ لمحے اسی جذباتی کیفیت میں گزر گئے۔ پھر وہ انہیں اندر لے آئے اور بیوی سے تعارف کرواتے ہوئے گویا ہوئے، یہ حافظ مظہرالدین اور ان کا خاندان ہے۔ سن لو، ان کی ظاہری حالت کی وجہ سے ان سے ناگواری کا اظہار مت کرنا۔ یہ وہ گھرانہ ہے جن کی چوکھٹ سے کبھی کوئی ضرورت مند خالی ہاتھ نہیں گیا اور جن کی حویلی میں لوگوں کی تواضع اورمہمان پروری کرتے ہوئے کبھی چولہا نہیں بجھتا تھا۔ آج میرے اللہ نے انہیں ہمارے پاس مہمان بنا کر بھیجا ہے۔ ان کا بے حد خیال رکھنا۔
 محمد یوسف کے بچے کم و بیش حافظ صاحب کے بچوں کے ہی ہم عمر تھے۔ محمد یوسف کی بیوی نے ان کے نئے کپڑے اور جوتے نکال کر بچوں کو دیئے اور اسی طرح امیرالنسا اورحافظ صاحب کے لئے بھی مناسب انتظام کیا۔ انہوں نے مہمانوں کا خیال رکھنے میں درحقیقت کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ تاہم حافظ صاحب کے چھوٹے بچے کی طبیعت بگڑتی جارہی تھی۔ طبیب نے آ کر بچے کو دیکھا اور کچھ دوائیں بھی تجویز کیں، تاہم وہ بھی ناامید ہی دکھتا تھا۔ بالآخر کچھ دن مزید موت و حیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد وہ ننھی سی جان اپنے خالق حقیقی سے جا ملی۔ اس کے چھوٹے سے جسم کو سیالکوٹ کے اس قبرستان کے حوالے کرتے ہوئے حافظ صاحب نے بہتے آنسوؤں کے ساتھ سوچا تو ہوگا کہ اس پاک وطن کے لئے ایک خراج اور سہی۔ بیٹی کے پائوں کے زخم کا بھی علاج ہوا جو کچھ دن میں مندمل تو ہوگیا پر وہاں ایک گھا ئوکا نشان ہمیشہ کے لئے ثبت ہوگیا۔
کچھ دن سیالکوٹ میں رکنے کے بعد حافظ صاحب نے ملتان جانے کا ارادہ کیا۔ محمد یوسف نے روکنے کی بہت کوشش کی اور بارہا اصرار کیا کہ وہ گھر جتنا اِن کا ہے، اِتنا ہی اِس پر حافظ صاحب کا بھی حق ہے۔ تاہم حافظ صاحب کی فطری خودداری نے انہیں کسی قریبی دوست پر بھی زیادہ دیر بوجھ بننے کی اجازت نہیں دی۔ ملتان پہنچنے کے بعد ایک بعد پھر حمیت آڑے آ گئی اور مکان کی الاٹمنٹ کے لئے کلیم فارم بھی نہ بھرا۔ کسی عزیز نے زبردستی ایک کلیم پر دستخط کروائے کہ سر چھپانے کو کوئی تو ٹھکانہ ہو۔ چند مرلے کا ایک چھوٹا سا مکان الاٹ ہوگیا۔ اس کو بھی کچھ دن بعد چھوڑ کر خالی ہاتھ راولپنڈی آگئے اور کوہستان اخبار سے منسلک ہو کر ایک نئی جد وجہد کا آغاز کر دیا۔اس نئے وطن میں تمام عمر کسی نے بھی کبھی ان کو پیچھے رہ جانے والے اثاثوں اورآسائشوں کو یاد کرتے نہیں دیکھا تھا۔ اورنہ ہی کبھی ان کی زبان سے اپنے  وطن سے کوئی بھی گلہ اور شکایت کرتے سنا گیا۔ بس کسی وقت ایک ننھے سے بچے کی روح ان کے پاس چلی آتی اور کتنی ہی دیر ان کے ارد گرد منڈلاتی، ان کی میز پر پڑی اشیا سے کھیلتی رہتی تھی، جس کو صرف وہی محسوس کرتے تھے۔ اس وقت البتہ چند لمحوں کے لئے وہ سوگوار ہوجاتے۔
زندگی کے جھمیلوں سے لڑتے پھر ایک روز امیرالنسا انتہائی خاموشی کے ساتھ یہ دنیا چھوڑ کر چلی گئیں۔ حافظ صاحب نے شاید کبھی زبان سے اقرار نہیں کیا تھا پران کا اصل حوصلہ تو شاید امیرالنسا ہی تھیں۔ وہ اس جدائی کی تاب نہ لا سکے اور پھر محض گیارہ دنوں کے بعد وہ بھی امیرالنساء کے پیچھے پیچھے اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ اس طرح عزم و ہمت کی ایک مختصر مگر ارفع داستان اختتام پذیر ہوگئی۔
جب کہانی کا اختتام ہوا تو دادی ماں کے گرد گھیرا ڈالے بچے اپنی جگہوں پر بیٹھے رہ گئے۔ انہیں محسوس ہوا کہ ان کے پیر سن ہوگئے ہیں۔ چھوٹے پانچ سالہ مصعب کی تو آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ وہ اپنے معصوم دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر بے یقینی کے ساتھ روہانسا ہو کر بولا، دادی ماں یہ سچی کہانی تو نہیں ہے نا؟ اصل میں تو ایسا نہیں ہوا ہوگا؟
 دادی ماں کچھ دیر کے لئے سوچ میں پڑ گئیں اورایک گہرا سانس لیتے ہوئے مسکرا کر بولیں،نہیں بیٹا جی، یہ سچی کہانی تو نہیں ہے۔مگر اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے پیر پر موجود برسوں پرانے ایک زخم کے نشان کو  غیرارادی طور پر ہاتھ سے چھپا لیا۔ ||


[email protected]

یہ تحریر 190مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP