ہمارے غازی وشہداء

داتا نگرفارم سے میران شاہ تک

(مادرِ وطن پر قربان ہونے والے ایک باپ بیٹے کی ایمان افروز داستان)

''یہ کیا پاگل پن ہے!طارق تھوڑا پیچھے ہو جا۔۔۔۔۔۔ یہ بی ڈی (Bomb Disposal) والے کا کام ہے کہ وہ آئی ای ڈی (IED)کو ناکارہ بنائے تم کانوائے کمانڈر ہو، اپنی جان کو خطرے میں کیوں ڈال رہے ہو۔''
'' لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
۔۔۔۔۔ کیوں جب آپ نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر داتا نگر فارم میں مورچہ بند دشمن پر ہلہ بولا تھا تو یہ خیال آپ کو کیوں نہیں آیا ؟؟؟ کیوں آپ بھول گئے کہ آپ کے دو کم سن بچے اور اور ان کی ماں آپ کے بغیر کیسے گزارہ کر لیں گے۔ کیوں آپ نے نہیں سوچا کہ کمپنی کی کمان بہادری اور بیباکی سے نہیں بلکہ عقلمندی سے بھی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟'' 




''۔۔۔۔۔۔ بیٹے! میں نے ان حالات میں فرسٹ فرنٹیئر فورس میں قدم رکھا جب ہم نے اپنے سے دس گنا بڑے دشمن کو لاہور، سیالکوٹ اور کھیم کرن کے محاذوں پر ناکوں چنے چبوائے تھے۔ ایک ایسی پلٹن جس میں نئے افسران کو کچھ اس انداز سے تراشا جاتا ہے کہ اپنی ہستی اور ذات بھول کر آدمی اس یونٹ ہی کا ہوجاتا ہے۔ افسری کے اوائل میں وہ ایام مجھے آج بھی یاد ہیں جب میرے بٹالین کمانڈر کہا کرتے تھے کہ اس یونٹ میں کسی کام کو حقیر مت سمجھنا، کسی جوان کو اپنی آفیسری صرف اس وقت دکھانا جب مشکل حالات کا سامنا ہو اور جوان آپ کی طرف دیکھ رہے ہوں، اور آپ کی قائدانہ صلاحیتوں کا امتحان ہو۔ اپنی اور جوانوں کی تربیت سختی اور جذبے کے ساتھ مگر عام حالات میں دوستانہ رویّہ۔ جوانوں کی ویلفیئر اپنی ویلفیئر سے مقدم اور ان کے مسائل کے حل کے لئے بھرپور کوشش کرنا۔ مگر جب وقت آئے تو اگلی صفوں میں لڑنا اور اپنے جوانوں کے لئے ایک مثال قائم کرنا۔۔۔۔ ایسے حالات میں میں کیسے پیچھے رہتا۔ کس طرح میں اپنے جوانوں کو حکم دیتا کہ جبن نگر سیکٹر میں مورچہ زن اپنے سے چار گنا بڑے دشمن پر حملہ کرو اور میں عقل اور شعور کے ساتھ پچھلی صفوں میں کمپنی کی کمان کرتا ۔۔۔۔۔ 
 جبن نگر سیکٹر میں داتا نگر فارم دریائے کوبرک کے نزدیک پانچ سے چھ مربع کلومیٹر ایک جزیرہ نما علاقہ ہے۔ مکتی باہنی والوں نے وہاں پر ایک مضبوط کمین گاہ بنائی ہوئی تھی اور وہیں سے اپنے گوریلا آپریشنز کرتے تھے۔  دریا 200 فٹ چوڑا اور وسط میں 20 فٹ گہرا تھا اور اس کا بہائو بھی بہت تیز تھا۔ یہ ایک مشکل آپریشن تھا جو کہ آرٹلری امداد کے بغیر نا ممکن تھا۔ دریا کے دوسرے کنارے پر مکتیوں نے مضبوط مورچے بنائے ہوے تھے۔ حتیٰ کہ دشمن کے 9 انفنٹری ڈویژن کے جی او سی نے بھی اس آفیسر کو خراج تحسین پیش کیا تھا جس نے اس مشکل آپریشن میں حصہ لیا تھا جس میں کمپنی کمانڈر اور تمام پلاٹون کمانڈروں سمیت پچاس کے قریب جوان کام آگئے تھے اِس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کتنی شدید لڑائی ہوئی ہوگی۔ میجر انیس (شہید)اسی آپریشن میں شہید ہوئے تھے۔ میجر انیس اس وقت مشرقی پاکستان کے محاذ پر38ایف ایف رجمنٹ میں کمپنی کمانڈر کے فرائض سرانجام دے رہے تھے ۔ جبن نگر کے اس حملے میں22 ایف ایف اور 38 ایف ایف کی ایک کمپنی نے دشمن کی دو بٹالینز پر حملہ کیا تھا جس کے بارے میں انڈین جی او سی میجر جنرل دلبیر سنگھ کے الفاظ تھے 'ہم سمجھے تھے کہ ہماری دو بٹالینز پر شاید پاکستان کی دو بٹالینز نے حملہ کیا ہوگا'۔ میجر انیس دشمن کے مورچے سے صرف چار گز کے فاصلے پر شہید ہوئے تھے۔ جنرل دلبیر سنگھ نے میجر انیس کی بہادری اور جرأتمندانہ حملے پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں مکمل اعزاز کے ساتھ دفنایا تھا۔
'' مگر طارق بیٹے وہ زمانہ اور تھا وہ وقت کا تقاضا تھا، ہماری پاک دھرتی پر دشمن نے اپنے ناپاک قدم جمائے تھے۔۔ ہمارے اپنے بھائی کچھ ہمارے حکمرانوں کی غلطیوں اور کچھ دشمن کی سازشوں کی بدولت ہماری جانوں کے درپے تھے۔ اس وقت کی کمانڈ اور ابھی کی کمانڈ میں فرق ہے۔ اس وقت بے سروسامانی کے عالم میں ہمارے پاس ایک ہی کارگر ہتھیار تھا۔ بہادری اور بے جگری۔ اس دور میں صرف ایک جذبہ ہم سب کو بے سروسامانی کے عالم میں آگے بڑھاتا تھا کہ اپنے علاقے کو ان افراد کے ہاتھوں میں جانے نہیں دینا ہے ۔ اس دوران ہم نے بڑے بڑے مقاصد کی خاطر اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشات کا گلا گھونٹا تھا۔  مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ قبرستانوں میں سجے ہر پرچم کے نیچے ماں کی ممتا، بہن کا مان، بھائی کا فخر، دلہن کے سپنوں کی مہک، اور ہاں اس کے چوبی تابوت پر لپٹے سبز ہلالی پرچم کی خوشبو بھی، محسوس کرتا کوئی نوجوان ہونٹوں پر ابدی مسکراہٹ سجائے لیٹا ہے۔ مجھے یہ مسکراہٹ اس لئے بھی اپنی تمام تر تفصیلات کے ساتھ یاد ہے کہ میں نے اور میرے ساتھیوں نے، جب بے سروسامانی کے عالم میں وطن کے دفاع کی قسم کھائی تھی، ان تمام ساتھیوں کے ہونٹوں پریہی مسکراہٹ دیکھی تھی جن کو ہم نے کبھی کسی چیتھڑے میں کبھی کسی سفید کپڑے میں اور کبھی، لیکن بہت ہی کم دفعہ، سبز ہلالی پرچم میں لپیٹ کر زمین میں اتارا تھا تو یہی مسکراہٹ ان کے ہونٹوں پر تھی، لیکن یہ مسکراہٹ صرف اس وقت نظرآتی جب ان کے سر سالم حالت میں ہمیں ملتے، کیونکہ کئی بار ایسا ہوتا کہ ہم کسی لوتھڑے کو سر سمجھ کر گردن کے ساتھ کسی نہ کسی طرح جوڑ دیتے تو اصل سر کوئی کھائی پھلانگتے وقت ہمیں نظرآتا جسے ہم نظر انداز کرتے کہ اب نہ ہم میں ہمت ہوتی اور نہ وقت کہ ایک سر کی خاطر ہم اپنے اگلے ہدف کو بھول جاتے۔ اسی طرح ہم دو کمپنیوں کی مدد سے دشمن کے جدید ہتھیاروں سے لیس دو بٹالینز پر حملہ آور ہوسکتے تھے۔ مگر آپ لوگوں کا زمانہ اور ہے آپ لوگ خوش قسمت ہیں۔ آپ کے پاس جدید ہتھیار ہیں، اپنی حفاظت کے آلات ہیں اور آپ کے زیرکمان سپاہی ہنر مند ہیں ۔ انہیں اپنا کام کرنے دو۔ اس جگہ سے پیچھے ہٹ جائو۔۔۔۔۔ 
'' بابا!آج بھی ہمارا وہی دشمن ہے جو ہماری سلامتی کے درپَے ہے۔ آپ کے زمانے کا دشمن تو مورچہ زن تھا۔ سامنے سے حملہ کرتا تھا۔ مگر آج اسی دشمن نے حکمت عملی تبدیل کر لی ہے وہ ہمارے معاشرے میں گھس کر ہماری سلامتی پر حملے کررہا ہے۔ اس دشمن نے مسجدوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ انسانوں کو ذبح کرتا ہے۔ حتیٰ کہ سکول کے معصوم پھولوں سے لڑتا ہے۔ آج بھی خنجراب سے لے کر گوادر تک گمنام مجاہدوں کی قبروں پر سبز ہلالی پرچم لہرا رہے ہیں۔ وادی ہنزہ کے ایک گائوں کے شہید کا ناتواں باپ جب اپنے جواں سال شہید بیٹے کی میت دیکھ کر کہتا ہے کہ کیا ہوا؟  کیا اس کو میری گود میں موت نہیں آنی تھی؟ میں اپنے باقی چار بیٹے بھی اس دھرتی پر لٹانے کو تیار ہوں۔ آج بھی گیاری میں شہید ہونے والے چوک سرور کے ذکا شہید کا والد اپنے بیٹے کی لاش وصول کرتے ہوے اس کے روتے ہوئے کورس میٹس کو دلاسا دیتا ہے کہ میجر صاحب ہمت سے کام لو۔ ابو آپ بھول رہے ہیں کہ میں بھی اسی یونٹ کا سپوت ہوں۔۔ یہاں آج بھی مشکل حالات میں اپنے ماتحتوں کے ساتھ رہنے کا درس دیا جاتا ہے۔ آج بھی ہماری تربیت اسی انداز میں ہوتی ہے جیسے آپ لوگوں کی ہوتی تھی۔ آج بھی اسلاف یعنی آپ لوگوں کی رقم کی ہوئی تاریخ ہمیں فخریہ انداز میں پڑھائی جاتی ہے۔ یہ پلٹن آج بھی جرنیلوں والی پلٹن کے نام سے پہچانی جاتی ہے اسے جرنیلوں کی نرسری کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ میں نے بھی اسی میں تربیت پائی ہے ۔ اور سب سے بڑی بات میری رگوں میں آپ ہی کا خون دوڑ رہا ہے ۔ میں کیسے اپنے جوانوں کو مشکل کی اس گھڑی میں چھوڑ کر پیچھے ہٹ جاؤں؟ آپ کی طرح میرے بھی دو ہی بچے ہیں وہی عمریں جو ہماری تھیں۔ آپ کی شریک حیات اور میری والدہ کی طرح مجھے اپنی شریک حیات پر اعتماد اور یقین ہے کہ وہ میرے بچے بھی ایسے ہی سنبھالے گی جس طرح میری والدہ نے ہمیں پالا ہے۔ مجھے ایسے ہی کمانڈ کرنی ہے جیسے آپ کو اور مجھے سکھایا گیا ہے۔ جان تو کہیں بھی جاسکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ ''
میجر طارق انیس میجر انیس شہید کے اکلوتے بیٹے تھے انہیں اور ان کی چھوٹی بہن کوان کی والدہ نے انتہائی ہمت اور بہادری سے پالا تھا اور اپنے شہید شوہر کی کمی کبھی محسوس نہیں ہونے دی تھی۔ میجر طارق انیس نے آرمی برن ہال کالج ایبٹ آباد سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد پاک فوج میں 85 لانگ کورس میں شمولیت اختیار کی۔ پاسنگ آؤٹ کے بعد اپنے شہید والد کی یونٹ1ایف ایف میں کمیشن حاصل کیا۔وہ شروع سے ہی ایک نڈر سپاہی تھے۔29 نومبر 2007کو ان کو میران شاہ سے بنوں تک آر او ڈی (ROD) لے جانے کا حکم ملا۔ اس وقت ملک دشمن عناصر اور دہشت گردوں کی کارروائیاں عروج پر تھیں۔ انہوںنے میران شاہ سے عیدک تک چار کے قریب خود ساختہ بموں کو ناکارہ بنایا۔ عیدک کے مقام پر انہیںجب شک ہوا کہ اس جگہ پر بھی خودساختہ بم لگایا جا سکتا ہے تو انہوں نے ایس او پی (SOP) کے مطابق بموں کی تلاش شروع کردی۔ ان کی پارٹی نے ایک بم کو ڈھونڈ نکالا اور اس کو ناکارہ بنانے کا عمل شروع کردیا۔ شعور کا تقاضا یہی تھا کہ وہ بم ڈسپوزل پارٹی سے تھوڑے دور رہتے مگر آپ دو کمپنیوں کے ساتھ دو بٹالینز پر حملہ کرنے والے انیس شہید کے بیٹے تھے۔ اپنے جوانوں سے دور ہونا گوارہ نہیں کیا۔ اسی اثنا میں ایک دہشت گرد نے قریب میں لگائے گئے ایک اور آئی ای ڈی کو ریموٹ کنٹرول سے اڑا دیا۔ نتیجے میں میجر طارق انیس شدید ذخمی ہوئے ۔ان کے ساتھ موجود نائب صوبیدار طاہر سلطان، حوالدار محمد علی، نائیک محمد شفیق، سپاہی اکرام اور لانس دفعدار افضل( 4کیولری) موقع پر ہی شہید ہوگئے۔ میجر طارق انیس کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے بنوں منتقل کیا گیا مگر وہ زخموں کی تاب نہ لاسکے اور جان جانِ آفریں کے سپرد کردی۔   
سلام ہے اس عورت پر جس نے اپنے جوان شوہر کی موت کا رنج اپنے بچوں تک نہیں پہنچنے دیا ۔ اس عظیم بیوی اور ماں پر جس نے اپنا شوہر اور اپنا لخت جگر دونوں اس پاک دھرتی پر قربان کئے ۔ اور سلام ہے اس گمنام مجاہدہ پر جو اس قوم پر اپنے شوہر کا کیا ہوا احسان جتائے بغیر اپنے دونوں بچوں کی پرورش کر رہی ہے اور بچوں کے اٹھارہ سال سے اوپر ہونے کی وجہ سے پاک فوج کی طرف سے بچوں کو دی جانے والی مالی امداد بھی واپس کردی ہے کہ اس کا حقدار اب کوئی اور ہے !!!



[email protected]

یہ تحریر 68مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP