متفرقات

خواب سے خواب تک

یوں توکئی 23مارچ گزری ہوں گی۔ سن یہی کچھ ہو گا 1900کے لگ بھگ۔ ہندوستان کے بہت سے پیرومرد کچھ بچپن اور جوانی کے سالوں میں اور کچھ عمرِ عزیز کے پختہ اوائل میں۔ وہ ایک جنریشن تھی جو جنگ آزادی کے بعد کے دنوں کی پیداوارتھی۔ آزادی کی جنگ کچھ متوالوں نے بہت بے جگری سے لڑی تھی۔ مگر وہ جنگ ہی کیا جیتی جا سکتی ہے جس کا روح رواں وہ کمزور بادشاہ ہو جو اپنے خیالات کو عمل کی تعبیر دینے کے بجائے حزن و ملال کی شاعری میں تسکین ڈھونڈتا ہو۔ وہ فقیر جسے دنیا بہادر شاہ ظفر کے نام سے جانتی ہے جغرافیائی خطرات سے اتنا نابلد تھا کہ انگریز فوجیں بنگال‘ سندھ‘ پنجاب‘ سرحداور بلوچستان سے ہوتی ہوئیں 1839میں کابل تک پہنچ گئی تھیں۔ مگر وہ تھا کہ دہلی اور اس کے گردونواح سے آگے دیکھنے سے قاصر تھا۔ غرض بے عملوں کے لئے شکست نے مقدر بننا تھا سوبن گئی۔ سو قصہ مختصر!ان سالوں کے بعد کی نسل نے بھی کیا دن گزارے ہوں گے۔ کیا حزن و ملال یاس و ناامیدی اور شکست و ریخت کے ڈسے‘ گہرے نیلے رنگ کے خواب دیکھے ہوں گے۔ زہر کے ڈسے ہوئے‘ مگر ہندوستان کے مسلمانوں میں غیرت و حمیت کی چنگاری اور عقل و شعور کی رمق باقی تھی‘ کہ چند لوگوں نے اپنی علیحدہ شناخت کی بات کی۔ 1906میں ایک الگ پارٹی تشکیل دے ڈالی اور اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کی ٹھان لی۔ پھر خوابوں کا ایک دور آیا۔ یہی کوئی سن 1930اور 1940کے آگے پیچھے کے سال ہوں گے۔ ہندوستان کی بانجھ سرزمین سے اور مسلمانوں کی منتشر صفوں سے دو مرد قلندر پیدا ہو چکے تھے۔ وہ دونوں یوں تو مغربی تعلیم سے آراستہ تھے مگر ان کے دل اور روح اسلام‘ ہندوستان کے مسلمانوں اور اپنی زمین سے پیوستہ تھے۔ بیرسٹر محمد علی جناح اور ڈاکٹر محمداقبال۔ یہ دو ایسی شخصیات تھیں جنہوں نے نہ صرف آزادی کے خواب دیکھے بلکہ اس کے لئے عملی جدوجہد کرنے کی جرأت پیدا کی۔ یہ خواب‘ آزادی کے خواب تھے‘ علیحدہ وطن اور علیحدہ تشخص کے خواب تھے۔ یہ اتنے طاقتور خواب تھے کہ دیکھنے والے عمل و جنون کی تصویر بن گئے۔ پاکستان بننا تھا سو بن گیا۔ جب خواب اعلیٰ و ارفع ہوں‘ دیکھنے والے عمل کی دنیا کے غازی ہوں تو تقدیریں پھر اپنی مرضی سے ہی تشکیل پاتی ہیں۔ جب انسان ذاتی اغراض کی دنیا کو فنا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اجتماعی خواب‘ خواب نہیں‘ حقیقت ہوتے ہیں۔

خواب تو آنے والے دنوں میں بھی دیکھے گئے۔ کچھ خواب حقیقت کا روپ دھار گئے اور کچھ بکھر گئے۔ ایک کمزور اور ناتواں ملک جو 1947 میں وجود میں آیا تھا‘ جہاں جدید علوم اور ماڈرن انڈسٹری کا وجود نہ ہونے کے برابر تھا۔ چند عشروں میں دنیا کی ان چند عظیم طاقتوں میں شامل ہو گیا جن کے پاس ایٹمی قوت تھی۔ یہ صلاحیت ہماری بحیثیت قوم زندہ‘ طاقتور اور باعمل ہونے کا ثبوت ہے۔ مگر ہمارے خواب ٹوٹے بھی تو ایسے کہ 1971 میں ملک ہی دولخت کرا بیٹھے۔ بعد کے سالوں میں بھی بے عملی اور ذاتی اغراض نے یوں حکمرانی کی کہ ہم نے معاشی‘ سیاسی اور سماجی بدحالی کو ہی روش بنا ڈالا۔ ہماری بے عملی اور بے حسی کو دشمنوں نے یاسیت میں بدل ڈالا۔ یوں لگا کہ خواب کیا ٹوٹے ہیں کہ خواب دیکھنے والی آنکھوں سے ہی محروم ہو گئے ہیں۔ مگرنہیں‘ ٹھہریئے! ہم نے اب صرف خواب دیکھنے نہیں بلکہ خواب بُننے بھی ہیں۔ اپنے لئے نہ سہی‘ آنے والی نسلوں کے لئے۔ زیادہ دُور نہ جائیے۔ یہی کوئی سن 2040اور 2050کو تصور میں لائیے۔ یہ ہماری موجودہ نسل کی پہلی اور دوسری پیٹرھی کے پیروجوان ہوں گے جو 2050کے پاکستان میں رہ رہے ہوں گے۔ ہمارے خواب اور عمل ان کی زندگی بن چکے ہوں گے۔ پھر اس پیٹرھی نے بھی خواب دیکھے ہوں گے۔ اپنی آئندہ نسلوں کے لئے۔ پاکستان کے آنے والے دنوں کے لئے۔ یہی کوئی 2090کے دنوں کے۔ ہمارے آج کے خواب اور عمل‘ اُن آنے والے ادوار کے بہتر خوابوں کے ضامن ہوں گے۔ وہ نسلیں تبھی وقت سے آگے بہتر خواب دیکھیں گی اگر ہم سب نے آج بہتر خواب دیکھے‘ پائیدار عمل کیا اور ایک مضبوط‘ مستحکم‘ پرامن اور خوشحال پاکستان ورثے میں چھوڑا۔ خیال رکھئے یہ وراثت کا معاملہ ہے اگر کھوٹ ثابت ہوئی تو لوگ اور آپ کی آئندہ نسلیں آپ کو کیا یاد رکھیں گی؟

یہ تحریر 57مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP