قومی و بین الاقوامی ایشوز

خدا حافظ

(پاکستان کے معتبر صحافی اورایک منفرد شخصیت جناب مجید نظامی مرحوم کے حوالے سے ایک تحریر)

(۳اپریل۱۹۲۸ء۔۲۶ جولائی ۲۰۱۴)

کسی کی رحلت پر بہت سے لوگ بہت کچھ لکھتے ہیں۔ ان تحاریر میں بہت سے رسمی جملے بھی شامل ہوتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ مجید نظامی شعبہ صحافت کا واقعتاً ایک ایسا نام ہے جو اس شعبے کے لئے وقار‘ تمکنت اور آبرو کی علامت تھے۔انہیں جرأت مندانہ صحافت کے حوالے سے ہمیشہ یادرکھا جائے گا۔ وہ پاکستان اور پاکستانیت کی عملی تصویر تھے۔ وہ اپنے نظریے کے ساتھ جُڑے ہوئے انسان تھے۔ اُن سے کسی کو لاکھ اختلاف ہو سکتا تھا لیکن کوئی اُن کی بردباری‘تحمل مزاجی‘ متانت اور پُرکشش سنجیدگی کو رد نہیں کرسکتاتھا۔ نوائے وقت اور مجید نظامی یک جان دو قالب تھے۔ نوائے وقت ان کی پہلی محبت تھی۔ انہوں نے اپنے بڑے بھائی حمید نظامی کے ہاتھوں لگائے گئے پودے کو تنا ور درخت بنانے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ وہ شروع شروع میں انگلستان سے نوائے وقت کے لئے رپورٹنگ کرتے رہے۔1962 میں اپنے بڑے بھائی حمید نظامی کی رحلت کے بعد آپ نے نوائے وقت کے مدیر کے طور پر خدمات سنبھا لیں۔ ایک عرصہ تک مجید نظامی بھی ’’سرِراہے‘‘ لکھتے رہے۔سرِراہے میں چونکہ بہت لطیف مزاح ہوتا ہے جو وہی شخص لکھ سکتا ہے جو مزاح اور طنز کے نشتر میں فرق کو بخوبی سمجھتا ہو۔ ’’سرراہے‘‘ نوائے وقت کا ایسا مستقل کالم ہے جسے مختلف ادوار میں مختلف لوگ لکھتے رہے۔ چونکہ رائٹر کا نام ساتھ نہیں دیا جاتا اس لئے لوگ جان نہیں پاتے کہ کون لکھ رہا ہے لیکن یہ ضرور دیکھ پاتے ہیں کہ وہ کیا لکھ رہا ہے۔ اس میں ہلکے پھلکے انداز میں سنجیدہ معاملات پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔مجیدنظامی بظاہر بہت سنجیدہ دکھائی دیتے تھے لیکن جب کبھی گفتگو کے لئے ڈائس پر کھڑے ہوتے تو انتہائی سخت باتیں بھی اس انداز سے کہہ جاتے کہ محفل کشتِ زعفران بن جایا کرتی۔ جناب مجید نظامی نے جو کام بھی کیا انتہائی دلجمعی سے کیا۔ وہ اخبار کے ایڈیٹر تھے تو ’’فل ٹائم‘‘ ایڈیٹرتھے۔ وہ ادارتی امور اور اخبار کی باریک بینیوں سے بخوبی واقف تھے۔ لاہور میں قائم نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کو وہ جس انداز سے چلاتے رہے اور اُس فورم کو جس طرح انہوں نے پاکستان کی اساس اور سالمیت سے متعلق امور کے لئے استعمال کیا وہ انہیں کا خاصہ تھا۔ لاہور میں پریس انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان جو نوائے وقت گروپ کے تحت کام کرتا ہے اس میں دیگر اداروں سے وابستہ رپورٹر اور صحافی بھی مختلف ورکشاپس اور کانفرنسز میں شرکت کرکے تربیت حاصل کرتے ہیں۔اس کے قیام میں مجید نظامی نے گہری دلچسپی لی۔ میں نے خود 1992 میں پریس انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان سے کورٹ رپورٹنگ کے حوالے سے ایک ورکشاپ میں شرکت کی۔ ان دنوں جامعہ پنجاب شعبہ صحافت کے استاد پریس انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان کے ڈائریکٹر ہوا کرتے تھے۔ جناب مجید نظامی کی شخصیت کا اثر تھا یا پھر اُن کی مردم شناسی تھی کہ اُن کے اردگرد کے لوگ بھی اُنہی کی طرح کے اصول پسند‘ وضع دار اور اپنی دھن کے پکے ہوا کرتے تھے۔ وہ لوگ بھی اپنے نظریئے اور مٹی کے ساتھ جُڑے ہوئے دکھائی دیتے۔ مجید نظامی جہاں بہت سے لوگوں کے معاشی اور سماجی مسائل حل کرتے دکھائی دیتے وہاں اُن کا ایک اصول بھی تھا کہ کوئی اُن سے اگر یہ کہتا کہ میں بے روز گار ہوں اور مجھے ملازمت عطا کردیں تو اچھا محسوس نہیں کرتے تھے اگر یہ کہا جاتا کہ میں آپ کے ادارے میں کام کرنا چاہتا ہوں اور محنت کرکے آگے بڑھنا چاہتا ہوں تو یہ انداز ان کے لئے قابلِ قبول ہوتا۔ گویا اس کے پیچھے بھی ایسا جذبہ پنہاں تھا کہ وہ نوجوان نسل کی تربیت کرنا چاہتے تھے کہ رزق بھیک کے انداز میں نہیں بلکہ انتہائی وقاراور عزت کے ساتھ اسی وقت کمایا جاسکتا ہے جب آپ کسی ادارے کے معیار پر پورا اُترتے ہوں۔ گویا وہ کام کرنے والے لوگوں کو محبوب رکھتے تھے۔ نوائے وقت لاہور کے ایک بزرگ سب ایڈیٹر نجید اصغر سے میں نے ایک دفعہ کہا کہ آپ کے بہت سے ساتھی مختلف نئے اخبارات کے ایڈیٹر بن کر چلے گئے ہیں اور اچھی تنخواہیں لے رہے ہیں تو کیا آپ نے کبھی سوچا کوئی اور ادارہ جوائن کرنے کا؟ تو وہ کہنے لگے ’’مجید نظامی صاحب کے پاس تین دہائیوں سے زائد عرصہ سے کام کررہا ہوں۔ اُن کے ساتھ ایک احترام کا تعلق ہے اب میں اُنہیں جا کر یہ کہوں کہ مجھے فلاں اخبار سے10 ہزار روپے زیادہ مل رہے ہیں لہٰذا نوائے وقت چھوڑ رہا ہوں۔‘‘ نفرت اور حسد تو کوئی کسی کے ساتھ کسی بھی وجہ سے کرسکتا ہے لیکن محبت کے جذبات تب تک پیدا نہیں ہوسکتے جب دوسرا انسان آپ کے اچھے بُرے کا خیال نہ رکھے۔ مجید نظامی کا یہی وصف اُنہیں ممتاز کرتا ہے کہ وہ جن کا خیال رکھتے انہیں کسی صورت بھی مایوس نہیں کرتے تھے اور کھرے اتنے کہ جہاں بات کرنی ہوتی وہاں ڈٹ کر کھڑے ہوجاتے اور حکمرانوں کے سامنے بھی ایسی ایسی بات کہہ جاتے جو کسی مصلحت پسند یا موقع پرست کا شیوہ نہیں ہوا کرتا۔ وہ اب چلے گئے ہیں تو اربابِ صحافت کو بھی اندازہ ہوا ہے کہ کون ذی وقار چلا گیا ہے۔ اُن کاچھوڑا ہوا خلاء اتنی آسانی سے پُر نہیں ہوگا کہ اُس کے لئے ایسی شخصیت چاہئے جو ذاتی منفعت سے بالا تر ہو کر قوم اور ملک کے وسیع تر مفاد میں سوچنے والی ہواور اپنے نظریئے کے ساتھ پوری قوت سے جُڑی ہوئی ہو۔ خدا اُنہیں غریقِ رحمت کرے۔

انہیں جرأت مندانہ صحافت کے حوالے سے ہمیشہ یادرکھا جائے گا۔ وہ پاکستان اور پاکستانیت کی عملی تصویر تھے۔ وہ اپنے نظریے کے ساتھ جُڑے ہوئے انسان تھے۔ اُن سے کسی کو لاکھ اختلاف ہو سکتا تھا لیکن کوئی اُن کی بردباری‘تحمل مزاجی‘ متانت اور پُرکشش سنجیدگی کو رد نہیں کرسکتاتھا۔

مجید نظامی جہاں بہت سے لوگوں کے معاشی اور سماجی مسائل حل کرتے دکھائی دیتے وہاں اُن کا ایک اصول بھی تھا کہ کوئی اُن سے اگر یہ کہتا کہ میں بے روز گار ہوں اور مجھے ملازمت عطا کردیں تو اچھا محسوس نہیں کرتے تھے اگر یہ کہا جاتا کہ میں آپ کے ادارے میں کام کرنا چاہتا ہوں اور محنت کرکے آگے بڑھنا چاہتا ہوں تو یہ انداز ان کے لئے قابلِ قبول ہوتا۔

یہ تحریر 72مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP