قومی و بین الاقوامی ایشوز

خداکرے کہ میری ارض پاک پر اترے

پاکستان14اگست 1947کو ہمارے آباء واجداد کی بے شمار قربانیوں کے بعد معرضِ وجود میں آیا۔ دنیا کے نقشے پر ابھرنے والا یہ اسلامی ملک‘ دشمنوں کے دلوں میں کانٹے کی طرح کھٹکنے لگا اور ان کے دلوں میں پاکستان کو مٹانے کی آرزوئیں پیدا ہونے لگیں۔ لیکن اسلام کے نام پر بننے والا یہ ملک اﷲ تعالیٰ کی بے پناہ رحمتوں کی بدولت ترقی کے زینے طے کرتا رہا۔ ایک وہ وقت بھی تھا جب پاکستان کی دفاعی حالت خستہ اور وسائل محدود تھے۔ درحقیقت جب پاکستان بنا تو اس وقت پاکستانی انتظامی ڈھانچے کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔ جب قائداعظم نے پہلے گورنر جنرل کی حیثیت سے حلف اٹھایا‘ اس وقت پاکستانی فرنیچر‘ سٹیشنری‘ ٹائپ رائیٹر‘ چھوٹا بڑا عملہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ معاشی لحاظ سے بھی پاکستان مضبوط نہ تھا۔ ستم بالائے ستم کہ مہاجرین کی آمد کا طویل سلسلہ نومولود پاکستان کے مسائل میں اضافے کا سبب بن رہا تھا۔ نہرو نے برصغیر کی تقسیم پر افسوس کا اظہار کیا۔ نہرو کا سوانح نگار مائیکل پریچر اس ضمن میں لکھتا ہے: 
’’نہرو سمیت کانگرس کے بیشتر لیڈروں کا خیال تھا کہ پاکستان سیاسی‘ معاشی‘ جغرافیائی اور فوجی لحاظ سے قائم نہیں رہ سکتا اور جو علاقے الگ ہوئے ہیں‘ وہ زود یا بدیر حالات سے مجبور ہو کر پھر ہندوستان میں شامل ہو جائیں گے۔‘‘ 
(زاہد چوہدری‘ پاکستان کیسے بنا؟ جلد 3‘ادارہ مطالعہ تاریخ‘ لاہور 1990ص 46)
ماؤنٹ بیٹن کے بیان کے مطابق:
’’پاکستان کی نئی ریاست کے انتظامی ڈھانچے کی حیثیت ایک خیمے کی سی ہے۔‘‘ 
(زاہد چوہدری‘ پاکستان کیسے بنا؟ جلد 3‘ادارہ مطالعہ تاریخ‘ لاہور 1990ص 15)
قائداعظم محمد علی جناح نے اس موقع پر انتہائی دانشمندی کا ثبوت دیا اور صبرواستقلال کا درس دیتے ہوئے کہا:
’’ہندوستان کی تقسیم اب قطعی اور ناقابل تنسیخ ہے۔ بلاشبہ اس عظیم آزاد مسلم مملکت کی تشکیل میں ہمیں سخت ناانصافیوں سے دوچار ہونا پڑا۔ جہاں تک ممکن تھا ہمیں سکیڑ دیا گیا ہے اور جو آخری ضرب ہمیں لگائی گئی ہے وہ سرحدی کمیشن کا ثالثی فیصلہ ہے۔ یہ ثالثی فیصلہ نامنصفانہ‘ ناقابل فہم بلکہ کج رائے ہے۔۔۔۔ لیکن اس ایک اور ضرب کو بھی ہمیں استقامت‘ ہمت اور امید کے ساتھ برداشت کرنا چاہئے۔‘‘ (زاہدچوہدری‘ پاکستان کیسے بنا؟‘ ص 39)
برصغیرکے مسلمانوں کی کوششوں اور بارگاہ ربانی کی رحمت کے طفیل دنیا کے نقشے پر ابھرنے والا اسلامی ملک پاکستان اب مسلمانوں کی امیدوں کا چراغ تھا۔ درحقیقت پاکستان کی تشکیل تاریخ عالم میں ایک تجربے کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ قدرت کا ایک ایسا تحفہ ہے جو برصغیر میں رہنے والے مسلمانوں کو رمضان المبارک کے مقدس مہینے خصوصاً 27رمضان المبارک کو عطا کیا گیا۔
حصول پاکستان کے لئے قائداعظم‘لیاقت علی خان‘ چوہدری رحمت علی اور دیگر جاں نثاروں کی کوششیں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ مولانا احمد رضا بریلوی کے دست راست مولانا نعیم الدین نے پاکستان کے مطالبے پر آواز بلند کرتے ہوئے فرمایا:
’’پاکستان کے معنی یہ ہیں کہ ہندوستان کے ایک حصے میں ایسی اسلامی ریاست قائم کی جائے جو شریعت طاہرہ کے آئینی اور فقہی اصول کے مطابق ہو۔ مسلمان یہ عزم کر لیں تو دنیا کی کوئی طاقت ایسی حکومت قائم ہونے سے نہیں روک سکتی۔‘‘
(پروفیسر رحمان اﷲ چوہدری‘ مطالعہ پاکستان‘ خالد بک ڈپو لاہور 1992ص76-77)
پاکستان کے حصول کا مقصد ایک ایسا خطہ حاصل کرنا تھا جہاں اسلام کے اصولوں کے مطابق زندگی گزاری جا سکے۔ 12جنوری 1946 کو اسلامیہ کالج پشاور میں قائداعظم نے فرمایا:
’’ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لئے نہیں کیا تھا بلکہ ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا ہمارا مقصود تھا جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں۔‘‘ (پروفیسر رحمان اﷲ چوہدری‘ مطالعہ پاکستان‘ خالد بک ڈپو لاہور 1992ص61)
انگریزوں کی آمد کے بعد برصغیر کے مسلمانوں کی حالت روزبروز دگر گوں ہوتی چلی گئی۔ وہ سیاسی‘ سماجی‘ معاشرتی‘ تہذیبی اور خصوصاً معاشی طور پر پستی کا شکار ہو گئے تھے۔ جبکہ اس سے پیشتر وہ مستحکم تھے۔ ولیم ہنٹر اپنی کتاب ’’دی انڈین مسلمانز‘‘کے صفحہ 40پر لکھتا ہے:
"The truth is that when the country passed under our rule, the Musalman were the superior race, and superior not only in softness of heart and strength of arm, but in power of political organization and in the science of practical govenment, yet the Muhammadans are now shot out equally from government employment and from the higher occupation of non official life''
اعلان پاکستان کے ساتھ ہی مسلمانوں پر مظالم بڑھنے لگے۔ ایسے میں ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کو انبیاء اور خصوصاً رسول پاکﷺ کی سنت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ہجرت کے عمل سے گزرنا پڑا۔ 1947کی ہجرت اگرچہ تمام تر سیاسی‘ معاشی اور فکری عوامل کے ساتھ بارآور نتائج کی حامل دکھائی دیتی ہے لیکن اس کے باوجود ہم اس ہجرت کے پس منظر اور بعد از ہجرت کے اثرات کو فراموش نہیں کر سکتے۔ (لیری کولنس) اور (ڈومینیق لاپیئر) نے فریڈم ایٹ مڈ نائیٹ میں 1947 کی ہجرت کو ’’تاریخ انسانی کی سب سے بڑی ہجرت‘‘ قرار دیا ہے۔
27رمضان المبارک کو وجود میں آنے والا ملک پاکستان اگرچہ وقتی طور پر مسائل میں گھر گیا تھا لیکن آج یہ ملک اپنے وسائل اور دفاعی حیثیت سے پورے قد کے ساتھ کھڑا ہے۔کیونکہ پاکستان کا دفاعی نظام اور پاکستانی افواج دنیا کی صف اول میں شامل ہونے والوں میں سے پہلے نمبر پر ہے۔ اگرچہ اسلام دشمن عناصر پاکستان میں تفرقہ بازی‘ رشوت‘ سفارش‘جھوٹ‘ حسد‘ لالچ اور لادینیت کا پرچار کر رہے ہیں لیکن اس پرانتشار دور میں ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی عوام متحد ہوں اور اسلام کے دائرے میں پورے داخل ہو جائیں تاکہ فلاح پا جائیں اور ملک دہشت گردی کی لپیٹ سے آزاد ہو سکے۔ ملکی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ ہم اسلام کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائیں اور افواج پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ اور قدم کے ساتھ قدم ملا کر چلیں تاکہ خوشحال پاکستان کے خواب کی تعبیر حاصل کر سکیں۔

یہ تحریر 30مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP