قومی و بین الاقوامی ایشوز

خارجہ پالیسی کے چیلنجز اور نئے امکانات

 پاکستان کو بطورِ ریاست ایک بڑا چیلنج، ایک مضبوط اور مربوط، خارجہ پالیسی کا ہے ۔ایسی خارجہ پالیسی جو ہمیں داخلی او رخارجی دونوں محاذوں پر ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان میں تبدیل کرسکے ، یہ قومی اور ریاستی ضرورت کے زمرے میں آتا ہے ۔عمومی طور پر سیاست سے جڑے استاد یا خارجہ پالیسی کے بڑے سیاسی پنڈت یہ دلیل دیتے ہیں کہ خارجہ پالیسی کی کامیابی کی ایک بڑی کنجی داخلی سیاسی او رمعاشی استحکام سے جڑی ہوتی ہے ۔ یعنی جو بھی ریاست داخلی محاذ پر زیادہ مضبوط ہوتی ہے وہی خارجہ پالیسی میں دیگر ملکوں کے ساتھ اپنے سیاسی کارڈز بہتر طور پر کھیل سکتی ہے ۔پاکستان کا ایک مسئلہ داخلی محاذ بھی ہے ۔ بالخصوص پچھلی چند دہائیوں میں دہشت گردی ، انتہا پسندی اور معاشی بدحالی سمیت سیاسی عد م استحکا م نے ہماری داخلی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کیاہے ۔


سب سے بڑی کامیابی ہم نے سفارتی محاذپر یہ حاصل کی ہے کہ ہم نے عملی طور پردنیا میں اس بیانیے کو تقویت دی ہے کہ پاک بھارت تعلقات کی بحالی میں رکاوٹ پاکستان نہیں بلکہ بھارت کی موجودہ حکومت ہے جو کسی بھی سطح پر نہ تو مذاکرات کی حامی ہے او رنہ ہی تعلقا ت کو بحال کرنا چاہتی ہے


ایک اہم مسئلہ ہماری خارجہ پالیسی میں ہمیشہ سے سول ملٹری تعلقات کا بھی رہا ہے ۔ یہ ٹکراؤ ایک ریاستی بیانیے کی تشکیل میں مشکلات پیدا کرتا رہا ہے ۔ ہم ریاستی پالیسی کو محض ایک ادارے کی پالیسی کہہ کر خود ریاستی بیانیے کو کمزور کرتے رہے ہیں ۔حالانکہ مسئلہ حکومتی یا کسی خاص ادارے کا نہیں بلکہ ریاستی پالیسی کی تشکیل جو قومی مفادات سے جڑی ہو، وہی اہمیت رکھتی ہے ۔ اس سول ملٹری تعلقات کے ٹکراؤ کا براہ راست فائدہ ماضی میں ہمارے مخالفین یا عالمی قوتوں نے خوب اٹھایا ہے ۔ بھارت ہمیشہ سے اپنی سفارت کاری یا ڈپلومیسی کے محاذ پر اس نکتے کو بنیا د بنا کر پیش کرتا رہا ہے کہ پاکستان کی پالیسی اس کی حکومت کی نہیں بلکہ ایک ادارے کی ہے ۔
لیکن اب اچھی بات یہ ہے کہ ہم نے ماضی کے مقابلے میں اس حکومت کے دور میں اس تضاد کو ختم کیا ہے ۔ موجودہ حکومت اور اداروں کے درمیان فیصلے باہمی مشاورت سے ہورہے ہیں ۔ اس تاثر کی نفی کی جارہی ہے کہ یہاں دو فریق مختلف پیج پر ہیں ۔عالمی سطح پرہم اپنا جو بھی مؤقف پیش کررہے ہیں وہ کسی ایک فریق کا نہیں بلکہ ریاست کے بیانیے کے طو رپر پیش کیا جارہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر اگر چہ وہاں جو مسئلہ ہے وہ حل نہیں ہوسکا ۔لیکن یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ ہم نے مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کو ایک عالمی لہر دی ہے او رآج  دنیا بالخصوص وہاں کا میڈیا او ررائے عامہ کی تشکیل کرنے والے تمام ادارے بشمول خود بھارت سے یہ آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کررہا ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھارت میں یہ کہنا کہ پاکستان ہمارا دوست ہے او راس نے دہشت گردی کی جنگ میں بڑا کلیدی کردار ادا کیا ہے ، بھارت کے لئے ایک دھچکا تھا ۔ اسی طرح امریکی صدر کا پاکستان او ربھارت کے تناظر میں کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کی دعوت خود بڑا اعلان تھا ، جسے بھارت میں سخت ناپسند کیا گیا ۔
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بھارت کے مقابلے میں ہمیں کوئی کامیابی نہیں ملی وہ درست تجزیہ نہیں کرپائے۔ آج زیادہ تر ممالک براہ راست مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مخالفت کررہے ہیں ۔ انسانی حقوق سے جڑے تمام عالمی ادارے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی گواہیاں پیش کررہے ہیں ۔جومقامی قیادت کل تک مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے ساتھ تھی وہ بھی آج مودی حکومت کی مخالفت میں پیش پیش نظر آتی ہے ۔سب سے بڑی کامیابی ہم نے سفارتی محاذپر یہ حاصل کی ہے کہ ہم نے عملی طور پردنیا میں اس بیانیے کو تقویت دی ہے کہ پاک بھارت تعلقات کی بحالی میں رکاوٹ پاکستان نہیں بلکہ بھارت کی موجودہ حکومت ہے جو کسی بھی سطح پر نہ تو مذاکرات کی حامی ہے او رنہ ہی تعلقا ت کو بحال کرنا چاہتی ہے ۔وزیر اعظم عمران خان اور فوج کے سربراہ نے کرتار پور راہداری کے منصوبہ کو یقینی بنا کر گیند عملًا بھارت کی کورٹ میں ڈالی ہوئی ہے۔اس تاثر کی بھی نفی ہوئی ہے او رعالمی سطح پر بہت سے اہلِ دانش بھی یہ اعتراف کررہے ہیں کہ یہ بیانیہ کہ پاکستان کی فوج بھارت سے تعلقات بحال نہیں کرنا چاہتی ، غلط مفروضہ ہے ۔
افغانستان کے امن معاہدے میں پاکستان جو کردار ادا کررہا ہے اس کی تعریف بھی عالمی سطح پر، امریکہ سمیت ،سب کررہے ہیں ۔دنیا مان رہی ہے کہ پاکستان کے بغیر افغان حکومت ، افغان طالبان او رامریکہ کے درمیان امن ممکن نہیں تھا ۔ پاکستان کے ذمہ دارانہ کردار کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان خود جانتا ہے کہ افغان امن کا براہ راست تعلق پاکستان کی داخلی سلامتی و استحکام سے جڑ ا ہوا ہے ۔اہم بات یہ ہے کہ اس وقت تینوں اہم فریق افغان حکومت ، افغان طالبان او رامریکہ سب کا انحصار پاکستان پرنظر آتا ہے ۔اسی طرح ہم نے ایران اور سعودی عرب کے تناؤ میں کمی کے لئے بھی کردار ادا کیا ہے اور خود کو کسی ایک فریق سے جوڑ کر یہ تاثر پیدا نہیں کیا کہ ہم کسی ایک کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ وزیر اعظم او رآرمی چیف کے دورۂ ایران نے اس تاثر کو مزید تقویت دی کہ ہم دونوں ملکوں کے درمیان ایک بہتر او رمؤثرتعلق دیکھنا چاہتے ہیں۔
علاقائی سطح پر ہم اس وقت چین کے ساتھ ساتھ ایران ، سعودی عرب ، نیپال ، بنگلہ دیش، سری لنکا ، بھوٹان ، افغانستان سب کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا نیا امکان بھی پیدا ہوا ہے ۔ چین اس وقت ہماری خارجہ یا علاقائی پالیسی کا اہم جزو ہے ۔ خود  وزیر اعظم عمران خان کے بقول ہمارے پاس اب واحد آپشن یہ ہی ہے کہ ہم چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو ہر سطح پر مضبوط بنائیں او راسی بنیاد پر اپنے علاقائی تعلقات کو نئی جہت دیں اور تعلقات کو مضبوط بنائیں۔کچھ لوگوں نے سعودی عرب کے ساتھ حالیہ کچھ مسائل پر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ہم سعودی عرب سے فاصلہ پیدا کررہے ہیں ۔لیکن وزیر اعظم کی سعودی ولی عہد سے بات چیت ، فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ کے فوری دورہ سعودی عرب سے مسائل کم ہوئے ہیں اوردونوں ممالک ایک دوسرے کی سیاسی ، انتظامی اور سکیورٹی ضرورت کو سمجھنے لگے ہیں۔ اس لئے جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان فاصلے بڑھ سکیں گے، وہ غلطی پر ہیں ۔ جو مسائل ہیں وہ بات چیت او ردو طرفہ تعاون کے ساتھ ہی بہتر ہوںگے ۔
خارجہ پالیسی کے تناظر میں اہم نکتہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی بنیاد دو طرفہ مفادات کے ساتھ ہوتی ہے ۔ خارجہ پالیسی میں ملکوں کی دوستی ، سوچ یا نظریہ اپنی جگہ لیکن اصل اہمیت سیاسی او رمعاشی مفادات سے جڑی ہوتی ہے ۔ بعض اوقات ہم اپنی سوچ او ر فکر کی بنیاد پر بہت سے ممالک سے بہت سی توقعات وابستہ کرلیتے ہیں ۔ جبکہ زمینی حقائق مختلف ہوتے ہیں او رہمیں خارجہ امو رکی حکمت میں ان معاملات میں اپنی فکر کو بھی درست کرنا ہوتا ہے ۔ ہمارا مقصد کسی کو امتحان میں ڈالنا نہیں ہونا چاہئے ۔ ہماری حکمت ہی یہ ہونی چاہئے کہ اگر ہم کسی کا ساتھ چاہتے ہیں تو اپنے مفاد کے ساتھ ساتھ ان کے مفادات کے لئے بھی ماحول پیدا کریں او ران کو اس بات کا فہم دیں ۔یکطرفہ خارجہ پالیسی کسی بھی صورت میں نہیں چل سکتی ۔ خاص طور پر جب بھارت ہمارے لئے ایک مخالفانہ مہم دنیا میں چلاتا ہے او راس کا مقصد دنیا میں ایک سیاسی تنہائی پیدا کرنا ہے تو ایسے میں ہمارا فہم او رتدبر اور زیادہ اہمیت اختیار کرجاتا ہے ۔
ہمیں اپنی خارجہ پالیسی کے فریم ورک میں ایک بنیادی اصول تعلقات کو قائم کرنا اورتعلقات میں خرابی پیدا نہ کرنا ہونا چاہئے ۔دنیا کو دیکھیں تو آج کی خارجہ پالیسی کامیاب حکمت engagementکی پالیسی سے جڑی نظر آتی ہے ۔ یعنی زیادہ سے زیادہ دوست پیدا کرنا۔ ہم نے چھوٹے ملکوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے پر ہمیشہ کم زور دیا ہے ۔ زیادہ توجہ کا مرکز امریکہ ہی رہا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ ہماری خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہے ۔ جو لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ ہمیں چین کی طرف جاتے ہوئے امریکہ سے اپنے تعلقات ختم کردینے چاہئیں ، درست نہیں ۔ ہماری اولین کوشش ہی یہ ہونی چاہئے کہ ہم دونوں بڑے ممالک امریکہ اور چین کے ساتھ تعلقات میں توازن پیدا کریں او ربنیادی توجہ اپنے قومی مفادات سے جوڑیں ۔ کیونکہ اگر ہم چین کی طرف بڑھ رہے ہیں تو عملًا بھارت کا بڑا جھکاؤ امریکہ کی طرف بڑھے گا ، لیکن اس میں بھی ہمیں بڑی فکرمندی کے بجائے امریکہ کو اس بات پر لانا ہوگا کہ وہ بھارت کے ساتھ ساتھ ہمارے مفادات یا تحفظات کا بھی خیال رکھے ۔کیونکہ ہمارا ایک اہم مسئلہ رہا ہے کہ بھارت کے تناظر میں امریکہ نے ہماری بات کو کم اہمیت دی ہے۔
اسی طرح خارجہ پالیسی کسی جامد چیز کا نام نہیں ہے ۔ یہ عمل وقت او رحالات کے ساتھ اپنے اندر بہت کچھ تبدیل کرنا ہے ۔ہمیں حالات کے مطابق اپنی پالیسی میں تبدیلی بھی لانا ہوتی ہے ۔ لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے سیاسی اور سفارتی کارڈز کو زیادہ بہترطور پرکھیلیں ، آج کی دنیا میں رائے عامہ بنانے والے ادارے یا افراد سمیت تھنک ٹینک، پالیسی ساز، میڈیا کی بڑی اہمیت ہے ۔ سوشل میڈیا کے بعد ایک نئی دنیا میڈیا کی سامنے آئی ہے ۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم دنیا میں اپنے ابلاغ کی کمی کی وجہ سے اپنا مؤقف عالمی سطح پر  بہتر طور پر پیش نہیں کرسکے ۔ جو سوالا ت پاکستان کے بارے میں اٹھائے جاتے ہیں ان کے جواب ہمیں جذباتی انداز کے بجائے مدلل اور جامع انداز یا شواہد کی بنیاد پر پیش کرنے ہوں گے ۔ دہشت گردی او رانتہا پسندی کے خاتمے میں پاکستان کا کردار کلیدی رہا ہے ۔ جو کچھ پاکستان نے کیا اور جس انداز سے خود کو انتہا پسندی اور دہشت گردی سے باہر نکالا ہے، اس کا اعتراف عالمی سطح پر بھی موجود ہے ۔ہمیں اس کو سفارتی اور ڈپلومیسی کے محاذ پر زیادہ مؤثر انداز میں اجاگر کرنا ہوگا اور بھارت کے اس مؤقف کو شکست دینا ہوگی کہ پاکستان بطور ریاست دہشت گردی یا انتہا پسندی سمیت دہشت گردوں کی سرپرستی کرتا ہے ۔
اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو دو حصوں میں تقسیم کرے ۔ اول علاقائی اور دوئم عالمی سیاست ۔ ان دونوں عوامل کو بنیاد بنا کر ہمیں اپنی ضرورت کے تحت حکمت عملی کو ترتیب دینا ہوگا ۔ پاکستان میں اچھے سابق سفارت کار اور سابق وزرائے خارجہ سمیت خارجہ پالیسی کے فہم کو سمجھنے والے افراد کی کمی نہیں ۔ حکومت کو ان افراد سے فائدہ اٹھانا چاہئے او ران کو عملی تھنک ٹینک کا حصہ بنا کر ان سے تسلسل کے ساتھ مشاورت کی جانی چاہئے کہ ہم کون سے مختلف آپشن اختیار کرسکتے ہیں ۔ہمیں خارجہ پالیسی کے تناظر میں شارٹ ٹرم ، مڈٹرم او رلانگ ٹرم فکر اور سوچ یا حکمت عملی کی ضرورت ہے جو باہمی مشاورت یاتمام فریقوں کی مرضی سے طے ہونی چاہئے ۔ یہ فیصلے کسی ایک فریق نے نہیں کرنے بلکہ تمام فریقوں کی مشاورت ہی ہماری پالیسی کی ساکھ اور اہمیت کو داخلی اور خارجہ دونوں سطح پر بڑھا سکتی ہے ۔
اب وقت آگیا ہے کہ ہم دنیا میں سفارت کاری کے محاذ پر ایک بڑی سیاسی، انتظامی ، قانونی او رمالی سرمایہ کاری کریں ۔ یہ عمل روائتی اور فرسودہ سیاست سے ممکن نہیں ۔ہمیں اپنے سفارت خانوں او رسفار ت کار دونوں سطحوں پرمزید کام کی ضرورت ہے، تاکہ ہم مزید بہتر نتائج حاصل کرسکیں جو ہماری ضرورت بنتے ہیں ۔پاکستان کے لوگ عالمی سطح پر موجود رائے عامہ بنانے والے اداروں یا تھنک ٹینک سے خود کو یا اپنے بیانیے کو کیسے جوڑ سکتے ہیں اس پر زیادہ غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں اب ایک نیا بیانیہ لے کر چلنا ہے جو تضادات سے پاک ہو او رسب کو ہمارے بیانیے میں کوئی بڑا الجھاؤ نظر نہ آئے ۔ایف اے ٹی ایف میں ہم نے کافی بہتر کام کیا ہے اوراس میں کسی قسم کا کوئی الجھاؤ نہیں ہونا چاہئے کیونکہ گرے لسٹ سے نکلنا بھی ہمیں خارجہ پالیسی کے محاذ پر ایک بڑا سیاسی اور سفارتی ریلیف فراہم کرسکتا ہے۔
ایک بات ہمیں مزید سمجھنی ہوگی کہ خارجہ پالیسی میں کامیابی کے لئے بڑی کنجی داخلی استحکام ہے ۔ داخلی سطح پر سیاسی عدم استحکام ، ایک دوسرے کو قبول نہ کرنا یا بداعتمادی کی سیاست ، معاشی بدحالی کے مسائل ، سیاسی جماعتوں اوراداروں میں ٹکراؤ کی سیاست وغیرہ ہمارے اہم مسائل ہیں ۔ اس کے لئے بھی ہمیں ریاستی و حکومتی سطح پر ریاست کے قومی مفاد ات کے تحت بہت کچھ کرنا ہوگا ۔ ||


مضمون نگار ایک معروف کالم نگار اور سیاست ، جمہوریت ، مقامی حکومت سمیت دہشت گردی پر لکھی جانے والی کتابوں کے مصنف ہیں۔ وہ ملک کے کئی اہم تھنک ٹینکس کے بھی  رکن ہیں۔[email protected]
 
 

یہ تحریر 110مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP