متفرقات

حمیرا ارشد

لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کا خواب تو ہر آنکھ دیکھتی ہے لیکن تعبیر صرف ان لوگوں کا مقدر ہوتی ہے جو اس کے اہل ہوتے ہیں۔

ٹیلنٹ ایک خداداد صلاحیت ہے اورا گر یہ ہو تواس کو تربیت سے پالش کیا جا سکتا ہے ۔کوئی بھی کام کرنے کے لئے سیکھنا پڑتا ہے۔ حمیرا ارشد پاکستان کی خوش گلو فنکارہ سے ایک ملاقات

فوج ہمارا قیمتی سرمایہ ہے۔ہمارا ملک ہماری فوج ہی کی وجہ سے سلامت ہے،ورنہ قرائن بتاتے ہیں کہ نجانے کیا کچھ ہو چکا ہوتا۔ فوجی بھائی ہمارے لئے سر پر کفن باندھے سرحدوں کی حفاظت کے لئے کھڑے ہوتے ہیں۔وہ اپنے گھروں اور بیوی بچوں سے دور‘ مشکل حالات میں ملک کی حفاظت کے لئے کمر بستہ ہیں۔ان کا ہر عمل قابلِ ستائش ہے۔میں ان کی بہت عزت کرتی ہوں۔میری دعا ہے کہ ہماری فوج ہمیشہ قائم و دائم رہے۔خداان کی حفاظت کرے ۔ہماری فوج کا نام اور مقام خدا نے بلند رکھا ہے،اور دونوں جہاں کی کامیابی ان کا مقدر ہے ۔خدا ان کو ہمیشہ خوش رکھے۔

گانا صرف سننے کی نہیں بلکہ دیکھنے کی چیز بن گیا ہے۔ سیکھے بغیر آنے والے لوگ جتنی تیزی سے سامنے آتے ہیں‘ اسی طرح غائب بھی ہو جاتے ہیں۔

آرٹسٹ کو لوگ پبلک پراپرٹی سمجھتے ہیں‘لیکن رشتوں کے ساتھ پبلک پراپرٹی بننا بڑا مشکل ہوتا ہے۔

کامیابی ہمیشہ مشکل سے ہی ملتی ہے اور مجھے بھی مشکل سے ہی ملی۔

آج کل اچھی سیاست ہورہی ہے۔لوگوں میں آگاہی اور شعور پیدا ہو رہا ہے صحیح اور غلط کا ادراک ہو رہا ہے۔امیدہے کہ ملکی حالات بہتر ہوں گے۔

فن کسی کی میراث نہیں۔یہ وہ خداداد صلاحیت ہے جو قدرت اپنے منتخب کردہ لوگوں کو عطا کرتی ہے۔لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کا خواب تو ہر آنکھ دیکھتی ہے لیکن تعبیر صرف ان لوگوں کا مقدر ہوتی ہے جو اس کے اہل ہوتے ہیں۔حسن اور صلاحیت کا امتزاج کامیابیوں کے دروازے کھولتا ہے ۔حمیرا ارشد ایسی ہی ایک با ہمت با صلاحیت اورخوب رو گلوکارہ ہیں جو اپنے عزم و استقلال کے باعث کامیابی کی راہوں پر گامزن ہیں۔آئیے آج آپ کی ملاقات ان سے کرواتے ہیں۔

س۔اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں کچھ بتائیے؟

ج۔میرے والد ارشد حسین عالمِ دین تھے جبکہ والدہ ذاکرہ اور نوحہ خوان تھیں۔ گھر کا ماحول بہت سادہ اور مذہبی تھا۔ہم لوگ نو بہن بھائی ہیں۔بچپن بہت اچھا گزرا۔ میرا خیال ہے بچپن زندگی کا خوبصورت ترین دور ہوتا ہے۔والدین، بہن بھائی ،محبتیں ،بے فکری ،یہ سب بچپن کی نعمتیں ہیں۔

س۔موسیقی کی دنیا میں آمد کیسے ہوئی؟

ج۔میں سکول کے زمانے سے گاتی تھی۔آواز اچھی تھی تو کلاس میں دوستوں کی فرمائش پر گایا کرتی تھی۔اس کے علاوہ سکول میں ہونے والے مقابلوں میں حصہ لیتی اور جیتتی تھی۔ایک دفعہ میں اپنی امی کے ساتھ ٹی وی پر نوحہ خوانی کے لئے گئی تھی ۔وہاں پرفرخ بشیر صاحب نے میری آواز سنی تو کہا کہ بیٹا میں عید شو کر رہا ہوں ،کیا آپ اس میں گانا گائیں گی؟میں نے کہا ضرور ۔۔۔اس پروگرام میں میں نے پہلی مرتبہ ’’صدا ہوں اپنے پیار کی ‘‘گایا اور یہی میرے کیرئیر کا آغاز تھا۔

س۔گھر میںآپ کے علاوہ کسی کو موسیقی سے لگاؤ ہے؟

ج۔میرے سب بہن بھائیوں کوبہت شوق ہے اور ان کی آوازیں بھی بہت اچھی ہے۔میری دوبہنیں اور دو بھائی اسی فیلڈ میں ہیں مائرہ ارشد ،سجاد حیدر اور محسن رضا کے کام سے سبھی واقف ہیں۔

س۔کیا آپ نے موسیقی کی باقاعدہ تربیت حاصل کی ہے؟

ج۔جی ہاں،میری خوش قسمتی ہے کہ میں استاد نصرت فتح علی خان جیسے بلند پایہ سنگر کی شاگرد ہوں۔میں نے دو تین سال ان سے گانا سیکھا۔وہ جتنے بڑے گلوکار تھے اتنے ہی بڑے استاد بھی تھے۔انہوں نے میرے لئے گانا ’’پِیا رے! پِیا رے! تھارے بنا لاگے ناہیں مورا جیا رے‘‘ تیار کیا۔یہ گانا پہلے میں نے اور بعد میں انہوں نے گایا۔اس کے بعد انہوں نے غزلوں کی البم ریلیز کی اس میں بھی میں نے گایا۔وہ مجھ سے بہت خوش تھے اور میرے بارے میں ان کے ریمارکس بہت اچھے تھے۔ ،ان کا خیال تھا کہ میں ان کا نام روشن کرنے والی شاگرد ہوں۔وہ ایک بہت بڑے انسان تھے اوران کی گلو کاری کو تو دنیا مانتی ہے۔

س۔کیا تربیت سے گلوکاری سیکھی جا سکتی ہے؟

ج۔ٹیلنٹ ایک خداداد صلاحیت ہے اورا گر یہ ہو تواس کو تربیت سے پالش کیا جا سکتا ہے ۔کوئی بھی کام کرنے کے لئے سیکھنا پڑتا ہے۔

س۔ہمارے ہاں ملی نغمے بہت کم بنائے جاتے ہیں،اس کی کیا وجہ ہے؟

ج۔بالکل، ملی نغمے بہت کم بنائے جاتے ہیں اور ضرورت اس بات کی ہے کہ مزید ملی نغمے بنائے جائیں۔ایک وقت تھا کہ سہیل رعنا کی موسیقی میں ملی نغموں پر بہت کام ہوا،لیکن اس کے بعد کوئی بڑا کام دیکھنے کو نہیں ملا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جو بھی گلوکار گانا گاتا ہے،اس کاخیال یہی ہوتا ہے کہ اگر گانا ہٹ ہو گیا تو انہیں بین الاقوامی شہرت ملے گی۔کنسرٹ ملیں گے۔جب کہ ملی نغمے سے انہیں کچھ بھی نہیں ملتا۔اس وجہ سے گلوکار ملی نغمے کی طرف توجہ نہیں دیتے۔

س۔آج کل کی موسیقی کے بارے میں کیا خیال ہے؟

ج۔آج کل لوگ سیکھ کر نہیں آتے ،میڈیا بہت ایڈوانس ہوگیا ہے۔لوگ گائیکی سے زیادہ پیش کش پر توجہ دیتے ہیں۔گانا صرف سننے کی نہیں بلکہ دیکھنے کی چیز بن گیا ہے۔ سیکھے بغیر آنے والے لوگ جتنی تیزی سے سامنے آتے ہیں‘ اسی طرح غائب بھی ہو جاتے ہیں۔

س۔پرانے گیت سدا بہار ہوتے تھے،آج کل ایسا کیوں نہیں؟

ج۔پرانے وقتوں میں لوگ محنت کرتے تھے۔ گلوکاری با قاعدہ سیکھی جاتی تھی۔شاعر اور موسیقار بہت اچھے تھے۔ اتنی محنت کے بعد جو چیز سامنے آتی وہ امر ہو جاتی تھی۔اس کے علاوہ اس وقت ہمارے پاس صرف پاکستانی میوزک تھا۔اسی کو سنا جاتا تھا۔آج کل میڈیا بہت سٹرانگ ہو گیاہے۔صرف پاکستانی نہیں بلکہ دوسرے ملکوں کا میوزک بھی آگیاہے۔لوگوں کے پاس چوائس بہت زیادہ ہے۔سننے کو دیکھنے کو بہت کچھ مل جاتا ہے۔اس کے علاوہ کام بھی بہت زیادہ ہو گیا ہے۔

س۔زندگی کا وہ لمحہ جب خود پرفخر محسوس کیا ہو؟

ج۔اللہ کا شکر ہے جب بھی کہیں جاتی ہوں اور پرفارم کرتی ہوں تو بہت خوشی ہوتی ہے۔جب لوگ سنتے ہیں ،ایوارڈ ملتے ہیں، سراہتے ہیں تو حوصلہ بڑھتا ہے۔

س۔زندگی کا کوئی یاد گار واقعہ؟

ج۔جب میں میوزک چیلنج میں گئی تو میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ میں یہ مقابلہ جیت جاؤں گی۔ مجھے کچھ پتا نہیں تھا کہ گاناکس طرح گاتے ہیں اور جب فاتح کے طور پرمیرا نام پکارا گیا تو مجھے یقین ہی نہیںآیا۔پھر اس کے بعد خدا کی مہربانی سے کامیابیوں کے دروازے کھلتے چلے گئے۔

س۔شادی کیسے ہوئی اور کیا محبت اب تک قائم ہے؟

ج۔میں نے لو میرج کی۔احمد بٹ سے میری پہلی ملاقات کراچی میں لکس ایوارڈ کی تقریب میں ہوئی تھی ۔ہماری شادی کے موقع پر ان کی فلم ریلیز ہوئی تھی،جو سپر ہٹ ہوئی ۔شادی کے بعد تو محبت میں اضافہ ہوتا ہے ۔محبت قائم ہے تو شادی چل رہی ہے۔

س۔بچے کتنے ہیں؟

ج۔میرا چار سال کا ایک بیٹا ہے ۔میری زندگی کا خواب ہے کہ میرا بیٹا ’’متقین‘‘ اپنے ملک وقوم کی خدمت کرے۔وہ بہت بڑا سنگر بنے اور زندگی میں جو چاہے اس کو ملے۔

س۔ایک فنکارہ کی زندگی ایک عام عورت سے کس حد تک مختلف ہوتی ہے؟

ج۔ہماری زندگی عام خواتین کی نسبت تھوڑی مشکل ہوتی ہے۔ ہمیں اپنا خیال اورخود کو مینٹین بھی رکھنا ہوتا ہے۔ایک ہیرو کی بیوی بننا اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے کیرئیر کو بھی لے کر چلنا آسان نہیں، آرٹسٹ کو لوگ پبلک پراپرٹی سمجھتے ہیں‘لیکن رشتوں کے ساتھ پبلک پراپرٹی بننا بڑا مشکل ہوتا ہے۔کیونکہ لوگ رائی کا پہاڑ بنا دیتے ہیں۔باقی ہمارے لئے بھی فیملی، رشتے،میکے اور سسرال والے اس طرح اہمیت رکھتے ہیں جیسے گھریلو خواتین کے لئے ہوتے ہیں۔

س۔آپ کا کیا خیال ہے گھر بنانے کی ذمہ داری مرد پر عائدہوتی ہے یا عورت پر؟

ج۔ہر کسی کے اپنے نظریات ہوتے ہیں۔لیکن مجھے لگتا ہے کہ گھر مرد ہی کی وجہ سے بنتا ہے اور اس کے سسٹم کو چلانا عورت کی ذمہ داری ہے۔اگر مرد ہی گھر نہیں بنائے گا تو عورت کیا کر سکتی ہے۔

س۔موجودہ د ور کی سیاست کے بارے میں آپ کیا سوچتی ہیں؟

ج۔میرا تو سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔البتہ آج کل اچھی سیاست ہورہی ہے۔لوگوں میں آگاہی اور شعور پیدا ہو رہا ہے صحیح اور غلط کا ادراک ہو رہا ہے۔امیدہے کہ ملکی حالات بہتر ہوں گے۔

س۔اب تک کتنے ملکوں کی سیر کرچکی ہیں اور پسندیدہ ملک کون سا ہے؟

ج۔بہت زیادہ ۔۔۔۔تقریباََ آدھی دنیا گھوم چکی ہوں ۔جہاں بھی گئی ہمیشہ اچھے لوگ ملے۔لوگوں نے بہت پیار اور محبت دی ۔لیکن مجھے امریکہ بہت پسند آیا ،ٍوہاں کے سننے والے بہت اچھے لگے۔وہاں کے لوگوں میں بہت اپنائیت ہے۔

س۔ اب تک کتنے ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں؟

ج۔بہت سے ایوارڈ لے چکی ہوں۔ میں کینیڈا گئی تو انہوں نے مجھے اعزازی شہریت اور ایوارڈ دیا تھا۔ یہ میرے لئے بہت بڑی بات تھی کہ کسی دوسرے ملک نے میری صلاحیتوں کو تسلیم کیا ۔

س۔پسندیدہ شاعر؟

ج۔محسن نقوی ،قتیل شفائی پسند ہیں ،جبکہ غالب کی شاعری بے مثال ہے۔

س۔فوجی بھائیوں کے لئے پیغام؟

ج۔فوج ہمارا قیمتی سرمایہ ہے۔ہمارا ملک ہماری فوج ہی کی وجہ سے سلامت ہے،ورنہ قرائن بتاتے ہیں کہ نجانے کیا کچھ ہو چکا ہوتا۔ فوجی بھائی ہمارے لئے سر پر کفن باندھے سرحدوں کی حفاظت کے لئے کھڑے ہوتے ہیں۔وہ اپنے گھروں اور بیوی بچوں سے دور‘ مشکل حالات میں ملک کی حفاظت کے لئے کمر بستہ ہیں۔ان کا ہر عمل قابلِ ستائش ہے۔میں ان کی بہت عزت کرتی ہوں۔میری دعا ہے کہ ہماری فوج ہمیشہ قائم و دائم رہے۔خداان کی حفاظت کرے ۔ہماری فوج کا نام اور مقام خدا نے بلند رکھا ہے،اور دونوں جہاں کی کامیابی ان کا مقدر ہے ۔خدا ان کو ہمیشہ خوش رکھے۔ 


[email protected]

یہ تحریر 87مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP