انٹرویو

حسینہ معین

 

حسینہ معین پاکستان کی معروف ڈرامہ رائٹر ہیں۔ اُن کا نام سپرہٹ ڈرامے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔دل کی تاروں کو چھیڑتی محبت‘ نازک احساسات کی ترجمانی کرتے ڈائیلاگ اور اعلیٰ پائے کے مزاح کی جو کوالٹی

حسینہ نے دی آج تک کوئی ان کی ہمسری نہ کر سکا۔ماہنامہ ہلال کے لئے ان سے کی جانے والی گفتگو پیشِ خدمت ہے۔

 

س۔ ہمیں اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں کچھ بتائیے،بچپن کیسا گزرا؟

ج۔ میرابچپن عام بچوں کی طرح گزرا۔ ہم لوگ 5 بہنیں اور 3 بھائی تھے۔میں اپنے والدین کی چوتھی اولاد تھی۔میرے والد صاحب کوبیٹیوں سے بہت محبت تھی۔نانا، نانی،چچا،چچی،ماموں، خالائیں بہت پیار کرنے والے لوگ تھے۔ میرے والد آرمی میں سویلین سائیڈپر تھے۔ قیامِ پاکستان کے موقع پران کو آپشن دیا گیا تھا کہ آپ پاکستان میں رہیں گے یا انڈیا میں؟تو میرے والد نے پاکستان جانے کا فیصلہ کیا۔ ہمیں بذریعہ ٹرین بمبئی بھیجا گیا۔ گارڈز ہمارے ساتھ تھے۔ہم لوگ چھوٹے چھوٹے تھے۔ بڑا مزا آرہا تھا‘ٹرین کی چھکا چھک کے ساتھ‘ ہم بچوں کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ ہم بھاگ کر کبھی ایک سیٹ پر جا بیٹھتے کبھی دوسری پر۔ ہمارے لبوں پر ایک ہی نعرہ تھا ’’پاکستان زندہ باد‘‘ جس کو سن کر ماں کی چھلکتی آنکھوں کے ساتھ چہرے پر مسکراہٹ دوڑ جاتی۔ ماں کو اپنے عزیزوں سے بچھڑنے کا دُکھ تھا اور ہمیں اپنے آزاد وطن پاکستان جانے کی خوشی۔ میرا پہلا سفر، میری پہلی ہجرت، میری پہلی محبت، میرا پاکستان ٹھہرا۔۔۔۔۔

 

پاکستان پہنچنے کے بعد والد صاحب کی ٹرانسفر پنڈی میں ہوئی تھی۔ سارا شہر خالی تھا‘ ہمیں ایڈمنسٹریشن والوں نے کہا آپ جو مکان کہیں گے ہم کھول دیں گے۔لیکن والد صاحب رضا مند نہ ہوئے کیونکہ اس میں لوگوں کا سامان رکھا ہوا تھا‘ تو شروع میں آکر ہوٹل میں رہے۔بعد میں گھر کرائے پر لیا ۔یہاں جو پڑوسی بچے ملے ان کے ساتھ کھیل کود میں وقت اچھاگزرا۔ زندگی اس وقت بڑی خوبصورت لگتی تھی۔

 

س۔ تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

ج۔ بعدمیں میرے والد صاحب کا تبادلہ لاہور ہو گیا۔ میٹرک میں نے ماڈل ٹاؤن سکول لاہور سے کیا تھا۔اس کے بعد کراچی چلے گئے۔میرے مین سبجیکٹس اردواورانگریزی لٹریچر تھے‘ جو مجھے بہت پسند تھے۔ ماسٹرز جنرل ہسٹری میں کیا‘ اس کے ساتھ بی ایڈ بھی کیا۔ ڈاکٹر محمود حسین ہمارے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ تھے۔بہت پیارے انسان تھے اورمیرا بہت خیال کرتے تھے۔ سکول‘ کالج‘ یونیورسٹی کا دور میری زندگی کا بہترین دور تھا۔کالج میں‘ میں بہت شرارتی تھی‘ مجھے دِیول کہا جاتا تھا۔ہماری پرنسپل مسز رشید احمد بہت اچھی تھیں۔اکثر میری شکایت ہو جاتی تھی اور مجھے آفس میں بلا لیا جاتا وہ مجھے دیکھ کرکہتیں تم پھر آگئیں،لیکن کوئی سزا نہ دیتیں، وہ کہتی تھیں یہ بچی اتنی معصومیت سے شرارت کرتی ہے کہ کچھ کہنے کو جی نہیں کرتا۔

 

س۔زمانہء طالب علمی میں کیا بننا چاہتی تھیں؟

ج۔میں کچھ بھی نہیں بننا چاہتی تھی۔ میرا کوئی خواب نہیں تھا۔ (ہنستے ہوئے)۔جب میٹرک کا امتحان ہو رہا تھاتو میری والدہ پریشان حال گھومتی تھیں اور میری بڑی بہنوں سے کہتی تھیں کہ خدا کے لئے اسے کچھ پڑھا دو۔ جس طرح یہ کھیلتی پھرتی ہے یہ تو پاس تک نہیں ہو سکتی۔ہم لوگ ماڈل ٹاؤن کی سڑکوں پر کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔پڑھائی کا خیال تک نہیں تھا۔

 

س۔لکھنے کا شوق کیسے پیدا ہوا؟

ج۔اس وقت ٹی وی تو تھا نہیں اس لئے ریڈیو ہی سنا کرتے تھے ۔کالج کے زمانے میں ہی مجھے لکھنے کا موقع ملا۔ اس وقت میں سیکنڈ ائیر میں تھی۔ شان الحق حقی کی بیگم سلمیٰ آپاہماری اردو کی لیکچرر تھیں۔انہیں اندازہ تھاکہ میری اردو بہت اچھی ہے۔ جب ریڈیو پاکستان سے طلباوطا لِبات کا جشن تمثیل ہوا تو ہمارے کالج میں ایک لیٹر آیا کہ20منٹ کا ایک ڈرامہ چاہئے۔ سلمیٰ آپا نے مجھے لکھنے کو کہا۔میں نے کہاکہ ڈرامہ تو مجھے لکھنا ہی نہیں آتا۔وہ کہنے لگیں‘ جو کچھ سوچتی ہو وہ لکھ دو۔ میں نے کالج میں بیٹھ کر ہی دو تین دن میں ایک کامیڈی لکھی‘جوسلمیٰ آپا نے بھجوا دی۔آغا ناصر صاحب نے وہ ڈرامہ پڑھا‘ ان کو بہت اچھا لگا۔ انہوں نے اس کوخود پروڈیوس کیااورمیرے پہلے ڈرامے کو ہی انعام مل گیا۔یہ وہ موقع تھا جواللہ نے مجھے دیا۔ بی اے تک میں ریڈیو پاکستان کے لئے ڈرامے لکھتی رہی۔یونیورسٹی جا کر یہ سلسلہ رک گیا۔انہی دنوں جب ٹی وی آیا تو ان لوگوں نے میرا ریڈیو کاایک ڈرامہ بھول بھلیاں لیا اورمجھے کہا کہ اسے ٹی وی کے لئے لکھوں۔ ڈرامہ کامیاب ہو گیا۔یہ پہلا موقع تھا جب میں لوگوں کے سامنے آئی۔ اس کے بعد میں نے عید کا خصوصی کھیل’’عیدمبارک‘‘لکھا۔رومینٹک کامیڈی تھی، اس میں نیلوفر، علیم اور شکیل تھے۔ خوش قسمتی سے وہ بھی کامیاب ہو گیا۔اس کے بعد مجھے عظیم بیگ چغتائی کی کتاب پر ماڈرن دور کے مطابق سیریل لکھنے کو کہا گیا تو میں نے اسے ’’شہزوری‘‘کے نام سے لکھا۔اس زمانے میں یہ ڈرامہ بہت مشہوراور کامیاب ہوا۔اس میں مَیں نے اپنا ایک جملہ ’’میں بہت برا آدمی ہوں۔‘‘شامل کیا‘ یہ ڈائیلاگ بہت مقبول ہوا۔

 

س۔ کامیابی کے حصول میں کبھی کوئی مشکل پیش آئی؟

ج۔ مجھے ہمیشہ خدا نے کامیابی دی‘ میں نے اس کے لئے کبھی کوئی کوشش نہیں کی۔نہ ہی میں کبھی کسی کے پاس سکرپٹ لے کر گئی۔مواقع مجھے خود ہی ملتے چلے گئے۔خدا نے جس کو جو بنانا ہوتا ہے وہ بنا دیتا ہے۔جیسے کالج میں تھی تو ریڈیو سے پیغام آگیا۔یو نیورسٹی سے فارغ ہوئی تو ٹی وی والوں نے بلا لیا۔جب ’’شہزوری‘‘ختم ہوئی تو مجھے ایک اور ناول کی ڈرامائی تشکیل کرنے کو کہا گیا۔ میں نے کہا کہ میں ایک اور یجنل سٹوری لکھنا چاہتی ہوں۔ سکرپٹ پروڈیوسر نے کہا کہ ٹی وی پر ہفتے میں ایک ڈرامہ لکھا جاتا ہے۔وہی ریکارڈ ہوتا ہے۔ اگر آپ درمیان میں رُک گئیں تو کیا ہوگا۔ تو میں نے کہا ایسا نہیں ہو گا۔ انشاء اللہ۔ پھر میں نے ان کو ’’کرن کہانی‘‘لکھ کر دی۔جب میں نے ڈرامہ ’’پرچھائیاں‘‘ لکھا اور اس کی پہلی قسط دیکھی تو مجھے اس کی پروڈکشن اورکاسٹ پسند نہیں آئی۔ حالانکہ یہ ڈرامہ بہت بڑے پروڈیوسر نے کیا تھا۔ میں نے مزید لکھنے سے انکار کر دیا۔ لوگ حیران رہ گئے،کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے اس کاتو اعلان ہو چکا ہے۔ اس وقت کے لوگ بہت عزت اور خیال کرنے والے تھے۔ مجھے کہا گیا آپ بتائیں کہ کس سے ڈرامہ کروائیں گی۔ تومیں نے کہا کہ یہ ڈرامہ شیریں اور محسن علی ریکارڈ کریں گے۔ اسلام آباد سے ساحرہ کاظمی اور راحت کاظمی کو بلایا گیا اور انہوں نے اس ڈرامے میں کام کیا۔حالانکہ اس وقت ان کی بچی مشکل سے چار یا پانچ مہینے کی تھی۔ پرچھائیاں بہت کامیاب رہا۔ میں ان پروڈیوسرصاحب کی بڑائی کا اعتراف ضرور کروں گی کہ وہ ایک لفظ زبان پر نہیں لائے ۔

 

ہماری فوج دنیا کی بہترین فوج ہے۔میرے د ل کی نیک تمنائیں اور خواہشات ان کے ساتھ ہیں۔اللہ ان کو ہمیشہ سلامت رکھے۔اور ایک خواہش ہے کہ وہ میرے ملک کو بچا لیں کیونکہ مجھے اپنے ملک سے محبت ہے اور فوج ہمارے ملک کی محافظ۔

 

س۔ کس ڈائریکٹر اور پروڈیوسر نے آپ کے ڈرامے کو بہترین شکل دی؟

ج۔ محسن اور شیریں، شہزاد خلیل ،ساحرہ کاظمی اوررعنا شیخ۔ شروع میں محسن علی اور شیریں ڈرامہ پروڈیوس کرتے۔ انکل عرفی‘ پرچھائیاں، بندش اور دھند پروڈیوس کیا۔بد قسمتی سے شیریں بیمار پڑگئی اسے کینسر ہو گیا۔وہ لندن چلی گئی۔اس کی وفات کے بعد میں نے سال بھر کام نہیں کیا۔شعیب منصور نے مجھ سے کہا کہ آپ میرے لئے کچھ لکھیں۔ میں ان کے بارے میں کچھ تذبذب کا شکار تھی کہ یہ اتنے چھوٹے سے ہیں‘ پتہ نہیں کر بھی پائیں گے یا نہیں۔تو انہوں نے کہا کہ آپ ایک موقع دے کر تو دیکھیں۔ جس دن میں نے ہامی بھری کہ چلو تمہارے لئے کچھ لکھ دوں گی۔تو شعیب منصور نے باقاعدہ سجدہ شکر ادا کیا کہ آپ نے حامی تو بھری۔ ’’ان کہی‘‘ میں نے ان کے لئے لکھا۔اس میں محسن صاحب بھی شامل تھے۔کیونکہ شہناز شیخ نے جب سنا کہ شعیب منصورکریں گے تو اس نے کہا یہ تو بہت چھوٹے سے ہیں، یہ کیسے کریں گے تو میں نے کہا کہ نہیں محسن صاحب بھی ہیں۔ پھر میں نے شہزاد خلیل صاحب کے ساتھ ڈرامہ ’’تنہائیاں‘‘کیا۔

میرے ساتھ یہ بات بھی بہت عجب رہی کہ میرے ساتھ دو ڈائیریکٹرز کام کرتے تھے اور میں اکیلی لکھتی تھی۔اتنا اتفاق ہونا بہت کم ہوتا ہے ۔ ’’ان کہی‘‘ کو شعیب اور محسن علی نے کیا۔پھر ان لوگوں کا تبادلہ ہو گیا۔ ’’تنہائیاں‘‘ شہزاد خلیل صاحب نے کیا۔پھر ساحرہ کے ساتھ ’’دھوپ کنارے‘‘ اور ’’آہٹ‘‘ کیا۔ ’’آہٹ‘‘ پاپولیشن کے متعلق تھااور اس وقت پاپولیشن کا نام لینا ہی بہت خطرناک تھا۔ایک تنظیم کی خواتین ہمارے پاس آئیں کہ آپ نے فحش نگاری کی ہے۔میں نے کہاکہ اگر پریگننٹ عورت کو دکھانا فحش نگاری ہے تو پھر پوری دنیا ہی فحش ہے۔ اس کے بعد خواجہ نجم الحسن کے ساتھ تاریخی کھیل ’’تان سین‘‘ کیا۔جو بہت کامیاب رہا۔ ایک انڈین سنگر نے مجھ سے کہا کہ اس کے سارے گانے آپ کو فری میں کر کے دینے کو تیار ہوں۔میں نے کہا یہ انڈیا اور پاکستان کا معاملہ ہے‘ اس میں مشکل ہو جاتا ہے‘ میں پھر کبھی آپ سے کام کرواؤں گی۔

 

س۔ آپ کا ہر ڈرامہ اور ہر ہیروئن سپر ہٹ ہوتی تھی‘ اس کی کیا وجہ ہے؟

ج۔ وہ اس لئے کہ ہم نئی لڑکی ڈھونڈ کر لاتے تھے‘جو ہمیں پسند آجاتی تھی۔ اس کے گھر جاکر گھر والوں کی خوشامد کر کے ان کو رضا مند کر کے لاتے تھے۔ شہناز کو میں نے دیکھا ہوا تھا وہ میری بڑی فین تھی۔ میں اور شعیب ان کے گھر پہنچ گئے ،جب میں نے ’’ان کہی‘‘کے لئے اسے کہا تو اس نے انکار کر دیا۔ میں نے کہاکہ اگر تم یہ کریکٹر نہیں کرو گی تو ہم ’’ان کہی‘‘کریں گے ہی نہیں، اس پر اس نے کہا کہ،اچھا ڈائیریکٹر کا بتائیے تو میں نے شعیب کے ساتھ محسن علی کا نام لے لیا کہ شاید مرعوب ہو جائے۔محسن علی صاحب کا کام اتنا زیادہ تھا کہ وہ فوراً راضی ہو گئی۔اس طرح شہناز کو لائے۔ شہلا احمد کو انکل عرفی میں لائے۔ ہمارے جاننے والوں کی بچی تھی۔ ان کے والد کی بہت خوشا مد کی۔ اسی طرح نادیہ خان کی امی کو میں نے ڈرامہ ’’پل دو پل‘‘ کے لئے فون کیا۔ نادیہ کے والد فوجی افسر تھے۔ ان کی امی نے کہا کہ دیکھئے نادیہ کے والد کی اجازت کے بغیر میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔ میں نے کہا پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ریکارڈنگ میں‘ میں ساتھ ساتھ ہوتی ہوں۔ آپ ان کے والد سے پوچھ لیجئے۔ اسی شام ان کی امی کا فون آگیاکہ نادیہ کے والد کہہ رہے ہیں کہ اگر حسینہ کا ڈرامہ ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ نادیہ بہت اچھی بچی تھی۔ہماری ٹیم بہت اچھی تھی۔ہم لوگ ایک فیملی کی طرح کام کرتے تھے۔آج کل پیسے اور سفارش کے زور پر کام چل رہا ہے۔ہمارے زمانے میں نہ کسی کو پیسے کی پروا تھی نہ سفارش کی۔

 

س۔ اتنی ساری ہیروئنوں میںآپ کی پسندیدہ ہیروئن کون تھی؟

ج۔ شہناز شیخ اور شہلا احمد ۔

 

س۔ ڈرامہ سلسلے کا کیاسلسلہ تھا؟

ج۔ اس کے لئے مرینہ نے آکر مجھ سے اجازت لی کہ ہم اس کا سیکوئیل بنا رہے ہیں۔پہلے تو میں اسے منع کرتی رہی کہ ایک دفعہ جو چیز ہٹ ہو جائے اسے دوبارہ نہیں بنانا چاہئے کیونکہ وہ دوبار ہ ویسی نہیں بنتی۔لوگ اسے تنقیدی نظر سے دیکھتے ہیں۔اس کے اصرار پر میں نے مشورہ دیا کہ تم کوئی بہت اچھا ڈائریکٹر لو کیونکہ شہزادخلیل صاحب بہت اچھے ڈائریکٹر تھے، انہوں نے ڈرامے کو سنبھالا تھا۔تم اس کو سنبھال نہیں پاؤ گی۔ انہیں دنوں مجھے بیرونِ ملک جانا تھا۔میری غیر موجودگی میں ان لوگوں نے محمد احمد سے لکھوایااور خود ہی کر لیا۔ ظاہر ہے وہ خراب ہی ہونا تھا۔ میں نے مرینہ سے کہا کہ اس ڈرامے میں سے میرا نام نکال دو تو مشکل یہ پڑ گئی کہ جن لوگوں نے سپانسر کیا تھا، انہوں نے کہا کہ اگرحسینہ کا نام نہ ہوا تو ہم لیں گے نہیں۔ اس پریشانی کے عالم میں مرینہ میرے پاس آکر روئی تو میں نے کہا کہ چلو جیسا بھی ہے جانے دو مگر میں نے دیکھا نہیں۔کیونکہ میں کسی چیز کو خراب ہوتے نہیں دیکھ سکتی۔

 

س۔ آپ نے کبھی کوئی ناول یا افسانہ لکھا؟

ج۔ میں نے ایک ناول لکھا ہے ’’پل صراط کا سفر‘‘لکھنے کی بڑی چاہ ہے، دل بھی چاہتا ہے مگر ڈرامے لکھنے کی وجہ سے وقت ہی نہیں ملتا۔لیکن لکھوں گی ضرور انشاء اللہ۔

 

س۔ آپ کے ڈراموں میں دل کو چھو لینے والی محبت کی کوالٹی نظر آتی ہے تو کیا کبھی خو دبھی محبت کی ؟

ج۔جی ہاں بالکل میں نے بھی محبت کی ،یہ بڑی پرسنل سی چیزہوتی ہے۔اگرآپ کا دل سچا ہو اور آپ ہر جذبے میں سچے ہوں تو محبت بھی سچی ہوتی ہے۔نفرت بھی سچی ہوتی ہے نفرت کرنا تو خیر میں نے سیکھا ہی نہیں۔اسی لئے آپ کو شاید میرے کرداروں میں منفی کردارکبھی نہیں ملیں گے۔

 

میڈیا کا اثربہت گہرا ہوتا ہے۔آج کل کے بچوں کو آپ کیا دکھا رہے ہیں۔اگر بچوں کو الزام دیں گے تو غلط ہے۔ماں باپ،بہن بھائی سب عشق کر رہے ہیں۔ راتوں کو مل رہے ہیں گھر وں سے بھاگ رہے ہیں۔ اگر اس قسم کی چیزیں دکھائیں گے تو پھرکیا انجام ہو گا۔آج کل ایسی ایسی چیزیں دکھائی جا رہی ہیں،کہ ڈر لگتا ہے کہ اگر بچے نے اس کا مطلب ہی پوچھ لیا تو کیا جواب دیں گے؟

 

س۔ شادی؟

ج۔ امی کی خواہش تو تھی کہ میں شادی کروں۔مگر مجبور نہیں کیا ان کا خیال تھا میں خود کرلوں گی اور خود میں نے کی نہیں۔

 

س۔ آپ کے ڈراموں میں مزاح کا معیار سب سے جدا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟

ج۔ بقول شیکسپئیر کے ٹریجڈی اور کامیڈی کے درمیان ایک بہت باریک سی لکیر ہوتی ہے۔اگر آپ اس لائن کو کراس کر دیں گے تو تریجڈی کامیڈی بن جاتی ہے اور کامیڈی ٹریجڈی بن جاتی ہے۔اسی طرح مزاح اور پھکڑ پن میں بھی باریک سی لکیر ہوتی ہے۔اگر آپ اس کو کراس کر جائیں گے تو مزاح پھکڑ پن بن جائے گا۔آج کل جوکچھ دکھایا جا رہا ہے‘ معافی چاہتی ہوں‘ وہ مزاح نہیں ہے‘ کچھ اور ہے۔آپ نے مشتاق احمد یوسفی،شفیق الرحمن اور ابن انشا کا مزاح پڑھا ہو گا۔ تہذیب، تمیز اوراطوار ہم گھر سے سیکھتے ہیں۔

 

س۔ لکھتی کب ہیں؟ کیا شاعری کی طرح اس کا بھی نزول ہوتا ہے؟

ج۔ سب کچھ خدا کی طر ف سے ہوتا ہے اگر انسان چاہے تو خود سے ایک جملہ بھی نہیں لکھ سکتا۔میں ہمیشہ رات کے وقت لکھتی ہوں۔رات کو سکون ہوتا ہے۔جتنا چاہیں لکھیں۔میں فلی یوز کرتی ہوں اپنے آپکو۔جب ٹی وی کے لئے لکھتی تھی تو کمرہ ملا ہوا تھا‘خاموشی ہوتی تھی۔

 

س۔ آپ نے بہت شروع سے ڈرامہ لکھا ،پہلے اور آج کے ڈرامے میں کیا فرق محسوس کرتی ہیں؟

ج۔ میں نے سیکنڈ ائیر سے لکھنا شروع کیا۔یونیورسٹی کے بعد سے اب تک لکھ رہی ہوں ۔پہلے زمانے اور آج کی چیزوں میں جو فرق ہے وہی فرق ڈرامے میں بھی ہے۔آجکل ڈسپوزیبل چیزیں بنتی ہیں۔بے تحاشہ ڈرامے بن رہے ہیں‘ نہ کسی کو ان کا نام یاد ہوتا ہے نہ کردار۔کمرشل دور ہے ،مارکیٹنگ کے لوگ ڈرامہ خریدتے ہیں۔صرف ریٹنگ کا خیال کیا جاتا ہے۔سب سے بڑی چیز جو ہو رہی ہے،وہ یہ کہ ڈرامے میں عورتوں کو مارا پیٹا جا رہا ہے۔کبھی گھر سے نکالا جا تا ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ اس سے ریٹنگ بڑھتی ہے۔کیا گھروں میں ایساہوتا ہے اتنی بد تہذیبی آگئی ہے ۔میں نے توآج تک نہیں دیکھی۔ہر ایک میں ایک ہی کہانی چل رہی ہے۔دو لڑکیاں ایک آدمی‘ دو آدمی ایک لڑکی، سا س بہو کا جھگڑا، ماں بیٹی کا جھگڑااور اب تو خیر دوسرے معاملات اتنے کھلم کھلا دکھائے جا رہے ہیں کہ لگتا ہے ہر گھر میں ہی کچھ نہ کچھ گڑ بڑ ہے۔لڑکی سکول سے بھاگ کر لڑکے کے ساتھ بائک پر جارہی ہے۔بہنیں ایک دوسرے کو کاٹ رہی ہیں،ایک بہنوئی کے لئے لڑ رہی ہیں‘پتہ نہیں کیا ہو رہا ہے۔ اسی طرح ایک بہن کی غیر موجودگی میں دوسری کا نکاح کر کے رخصتی پہلے والے کی کر دی۔ہم حیران پریشان دیکھ رہے ہیں اگر یہ حالات ہیں تو کیا کہہ سکتے ہیں۔ میں توڈرامہ دیکھتی ہی نہیں‘ جو کبھی اتفاقاً نظر پڑی وہی بتا رہی ہوں۔

 

س۔ پاکستانی ڈرامے کا بہترین دور؟

ج۔ ٹی وی آنے سے لے کر 90 کی دہائی کے کچھ سال تک ٹھیک رہا‘ پھر اس کے بعد حالات بگڑنا شروع ہو گئے۔میں نے ضیاالحق کے دور میں پرچھائیاں لکھا تھا۔کسی نے اعتراض نہیں کیا۔کیونکہ اگر آپ ڈھکی چھپی بات سلیقے سے کریں گے ، تو وہ بری نہیں لگتی۔

 

س۔ میڈیا معاشرے پر کس حد تک اثرانداز ہوتاہے؟

ج۔ میڈیا کا اثربہت گہرا ہوتا ہے۔آج کل کے بچوں کو آپ کیا دکھا رہے ہیں۔اگر بچوں کو الزام دیں گے تو غلط ہے۔ماں باپ،بہن بھائی سب عشق کر رہے ہیں۔راتوں کو مل رہے ہیں گھر وں سے بھاگ رہے ہیں۔اگر اس قسم کی چیزیں دکھائیں گے تو پھرکیا انجام ہو گا۔آج کل ایسی ایسی چیزیں دکھائی جا رہی ہیں،کہ ڈر لگتا ہے کہ اگر بچے نے اس کا مطلب ہی پوچھ لیا تو کیا جواب دیں گے؟ اور مزاحیہ ڈراموں کا انداز بالکل پھٹیچر ہے۔ جس میں بہت غلط جملے استعمال ہوتے ہیں۔ گالیاں تک دی جاتی ہیں۔ حرکات و سکنات خراب ہیں‘اس کو مزاح نہیں کہتے۔

 

س۔ اس چیز کو کیسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے؟

ج۔ اس کو صرف چینل والے کنٹرول کر سکتے ہیں۔لیکن ا ن کو صرف پیسا بنانا ہے ان کو فکر نہیں ہے کہ یہ اخلاقی گراوٹ آگے چل کر کیا رنگ لائے گی۔ ہم بھارت کی نقل کر رہے یں۔ہماری جو شناخت تھی کہ یہ پاکستانی ڈرامہ ہے‘ وہ ختم ہو گئی ہے۔پاکستانی ڈرامہ دیکھیں تو کبھی وہ انڈین لگتا ہے کبھی ترک۔ ہر چیز کا منہ پیسے سے بند کیا جاتا ہے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو اب تک یہ سب کچھ رک چکا ہوتا۔

 

س۔ انڈین اورترک ڈرامے جو آج کل دکھائے جا رہے ہیں ان کے بارے میں کیا کہیں گی؟

ج۔ ترکی اور انڈیا کے چلے ہوئے پرانے ڈرامے ان کو سستے مل جاتے ہیں۔ وہ خرید لاتے ہیں۔ڈبنگ کرکے چلا دیتے ہیں‘ ان میں بعض اچھے بھی ہوتے ہیں۔انڈیا کا کلچر دیکھیے کہ وہ اتنی بھاری ساڑھی اور زیورپہن کر کچن میں کا م کرتی نظر آتی ہیں۔اسی کا اثر ہے کہ ہمارے ہاں فل میک اپ اورآئی شیڈ کے ساتھ لڑکی جاگتی ہے۔میں تو حیران ہوتی ہوں کہ ڈائریکٹر کدھر ہے‘ کیا وہ سو رہا ہے؟

 

س۔ نئے لکھنے والوں میں کوئی رائٹر جو آپ کو پسند ہو؟

ج۔ بھئی سچ بات بتاؤں میں نے تو اب ٹی وی دیکھنا ہی چھوڑ دیا ہے۔کبھی دیکھنے بیٹھوں تو عورتوں پر کیا جانے والا تشدد میں نہیں دیکھ سکتی۔میں نے40سال تک کوشش کی کہ عورت مضبوط ہو گی‘ اپنے پاؤں پر کھڑی ہو گی‘ اپنا مقام بنائے گی‘ اپنا حق لے گی۔وہ ساری چیزیں ایک دم سے ختم ہو گئیں ہیں،اب نہ تو اس کا کوئی حق رہا نہ مقام‘ نہ عزت۔سب کچھ ختم کر دیا گیا۔میں تو بہت مایوس ہو گئی ہوں۔

 

س۔ آپ نے آئی ایس پی آر کے لئے کام کیا؟

ج۔ میں فوجیوں سے بہت متاثر ہوں۔ انہوں نے میرا بہت خیال رکھا۔ پاسنگ آؤٹ پریڈ پر مجھے بلایا۔اعزازی طور پرکاکول میں مجھے بلایا،لکھنے کی فرمائش کی۔ اب میں ان کے لئے لکھوں گی۔خاص طور ان فوجیوں کے لئے جو اپنی جان داؤ پر لگا کر ہماری حفاظت کے لئے لڑ رہے ہیں۔

 

س۔ آپ نے خود اداکاری نہیں کی؟

ج۔ نہیں ۔مجھے شوق نہیں ہے،اور شاید میں کر بھی نہیں پاتی کیونکہ میں بہت شرمیلی ہوں۔

 

س۔ زندگی میں خود پر کب فخرمحسوس ہوا؟

ج۔ مجھے وکٹری سٹینڈ بہت پسند تھا۔میں اپنے سکول میں ہونے والی سپورٹس میں حصہ بھی لیتی تھی لیکن وکٹری سٹینڈ تک کبھی نہیں پہنچی ۔جس وقت مجھے پرائڈ آف پرفارمنس دیا گیاس اس وقت مجھے محسوس ہوا کہ میں وکٹری سٹینڈ پر کھڑی ہوں اورواقعی میں نے کچھ کیاہے۔

 

س۔ پسندیدہ رائٹر؟

ج۔ خلیل جبران اور بہت سے انگلش رائٹرز۔

 

س۔ پسندیدہ شاعرَ ؟

ج۔غالب، میر درد،سودا ،داغ، فراق ،مجاز ،احمد فراز،پروین شاکر، امجد اسلام امجداورفیض بہت زیادہ پسند ہیں۔

 

س۔ موسیقی سے لگاؤ ہے؟

ج۔ بہت زیادہ،مہدی حسن،لتا ، آشا بھوسلے میرے پسندیدہ گلو کار ہیں۔

 

س۔ اب تک کتنے ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں؟

ج۔ اللہ کا فضل ہے ہر سیریل پر ایوارڈ ملا۔ایوارڈزسے الماری بھر چکی ہے۔

 

س۔ آپ کی کامیابی کا راز کیا ہے؟

ج۔ دعائیں۔میرے ماں باپ کی ،دوستوں کی ، بھائی بہنو ں کی ان کے بچوں کی سب کی دعا ئیں میرے ساتھ ہیں۔میری ماں ہمیشہ نماز پڑھنے کی تلقین کرتی تھیں۔ انہوں نے سکھایاکہ دعا مانگنے سے سب کچھ مل جاتا ہے۔آپ یقین رکھیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے‘ وہ آپ کی بہتری کے لئے ہو رہا ہے،اور جو نہیں ہورہا اس میں بھی آپکی ہی بہتری ہے تو آپ خوش رہیں گے۔

 

س۔فوجی بھائیوں کے لئے کوئی پیغام؟

ج۔مجھے فوج بہت پسند ہے۔یہ ہماری پر سکون نیند کے لئے راتوں کو جاگتے ہیں اور ہماری حفاظت کے لئے اپنی جانیں قربان کرتے ہیں۔ہماری فوج دنیا کی بہترین فوج ہے۔میرے د ل کی نیک تمنائیں اور خواہشات ان کے ساتھ ہیں۔اللہ ان کو ہمیشہ سلامت رکھے۔اور ایک خواہش ہے کہ وہ میرے ملک کو بچا لیں کیونکہ مجھے اپنے ملک سے محبت ہے اور فوج ہمارے ملک کی محافظ ہے۔

 

[email protected]

یہ تحریر 31مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP