قومی و بین الاقوامی ایشوز

حب الوطنی کا سب سے بڑا تقاضا

مجھے افواجِ پاکستان کے مجلے ’’ہلال‘‘ میں پہلی بار لکھنے کا اعزاز حاصل ہو رہا ہے جو افسروں اور جوانوں کی ذہنی تربیت کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ ماضی میں اِس کے فکر انگیز اداریے بعض خود ساختہ دانش وروں کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں پر گرفت کرنے اور قیامِ پاکستان کی غرض و غایت کو نہایت محکم دلائل کے ساتھ اُجاگر کرنے میں تاریخی کردار ادا کرتے رہے ہیں اور آئندہ بھی اُمید کی جاتی ہے کہ یہ جریدہ صحت مند فکری ارتقاء اور حب الوطنی کے سچے جذبوں کے فروغ میں سرگرم رہے گا۔ دراصل دفاعِ وطن فوج اور عوام کی مشترکہ ذمے داری ہے اور یہ ذمے داری قوم کے اجزائے ترکیبی کا صحیح شعور حاصل کئے بغیر ٹھیک طور پر ادا نہیں کی جا سکتی۔ پاکستان جغرافیائی طور پر 14؍اگست 1947ء کی رات جو شب قدر بھی تھی ٗ معرضِ وجود میں آیا تھا ٗ مگر اِس کا نظریاتی تشخص صدیوں پہلے قائم ہو چکا تھا۔ حضرت قائداعظم نے تاریخ کا یہ لطیف اور گہرا نکتہ اِن الفاظ میں بیان فرمایا تھا کہ ’’جس وقت ہندوستان میں کسی مقامی باشندے نے اِسلام قبول کیا ٗ اُسی وقت پاکستان کا نظریہ وجود میں آ گیا تھا‘‘۔ اِس کا واضح مطلب یہ ہے کہ پاکستان کا خمیر اسلام کے آفاقی تصورات اور پاکیزہ تعلیمات سے اُٹھا ہے اور اُنہیں ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتااور اگر کوئی کوشش مخالف سمت میں کی گئی ٗ تو وہ بگاڑ پیدا کرنے کا باعث بنے گی۔

قائداعظم روایتی معنوں میں ایک مذہبی لیڈر نہ ہوتے ہوئے بھی اسلامی نظامِ حیات کی رفعتوں اور توانائیوں کا نہایت کامل ادراک رکھتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے‘ اور اِس عظیم حقیقت کا بڑے اعتماد کے ساتھ اظہار بھی کرتے تھے کہ اسلام کے اصول اور قوانین آج بھی قابلِ اطلاق اور انسانیت کی فلاح کے لئے بیش قیمت سرمایہ ہیں۔ یہی وہ عظیم احساس تھا جس کی بدولت اُنہوں نے کئی بار اعلان کیا کہ ہم پاکستان کو اسلام کی جدید تجربے گاہ بنائیں گے جس میں عصرِ حاضر کے مسائل کے حل اسلام کے زریں اصولوں کی روشنی میں پیش کئے جائیں گے۔ وہ دراصل پاکستان کا معاشرتی اور معاشی نظام اسلام کے بنیادی تصورات پر استوار کرنا چاہتے تھے جو بڑی عزیمت کا کام تھا۔ اُن کے شوق کا یہ عالم تھا کہ وہ شدید بیماری کی حالت میں زیارت میں اقامت پذیر تھے ٗ مگر جب 1948ء کے وسط میں سٹیٹ بینک کی عمارت کے افتتاح کا وقت آیا ٗ تو وہ اِس تاریخ ساز موقع پر کراچی تشریف لائے اور اپنی افتتاحی تقریر میں فرمایا کہ’’ ہمیں نئے اقتصادی نظام پر غور کرنا چاہئے جو اسلامی اصولوں کے مطابق ہو‘‘۔ دراصل اُن کے پیش نظر مدینے کی ریاست تھی جس میں سرورِ دوعالم حضرت محمد ﷺ نے یہودیوں اور غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ معاہدہ کیا تھا جو تاریخ میں ’’میثاقِ مدینہ‘‘ کے نام سے محفوظ ہے۔ اِس معاہدے میں غیر مسلم اقلیتوں کو عبادت کی پوری آزادی اور اُن کو جان و مال کا تحفظ فراہم کیا گیا تھا۔ اُن کے شہری حقوق مکمل طور پر محفوظ تھے۔ اِسی ’’میثاقِ مدینہ‘‘ کی بنیاد پر حضرت قائد اعظم نے دستور ساز اسمبلی میں گیارہ اگست کی اپنی تقریر میں اقلیتوں کے بارے میں کہا تھا کہ وہ اپنی عبادت گاہوں میں جانے کے لئے آزاد ہیں اور مذہب کی بنیاد پر اُن سے کسی قسم کا امتیاز نہیں برتاجائے گا۔ اِس ضمانت کا اعلان اِس بنا پر ضروری ہو گیا تھا کہ پنجاب ٗ دہلی اور بنگال میں خونریز فسادات پھوٹ پڑے تھے اور اقلیتیں بری طرح خوفزدہ تھیں۔

تحریکِ پاکستان جس کی قیادت محمد علی جناح کر رہے تھے ٗ اُنہوں نے قومی نصب العین کے حصول کی خاطر آئینی ٗ قانونی اور جمہوری راستہ اختیار کیا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے تمام فیصلے کامل غور و خوض کے بعد کئے جاتے اور اجلاس میں ہر شخص کو بات کرنے کی مکمل آزادی تھی۔ اِس تحریک کا دوسرا بڑا وصف یہ تھا کہ وہ ہر نوع کی فرقہ واریت سے محفوظ تھی۔ اِس میں شیعہ بھی تھے ٗبریلوی ٗ دیوبندی اور آغا خانی بھی اور سب کے سب پاکستان کی جدوجہد میں دل و جاں سے فعال تھے۔ قائداعظم کی بلند و بالا شخصیت نے مسلمانوں کو ذاتوں ٗبرادریوں اور مسلکوں سے ماورا کر دیا تھا اور وہ ایک ایسا وطن حاصل کرنے کی جدوجہد میں سر دھڑ کی بازی لگا رہے تھے جو ہر قسم کے استحصال اور جبر سے محفوظ ہو جس میں تمام شہریوں کی جان و مال محفوظ ہوں‘ جاگیردارانہ نظام کے بجائے مساوات ٗ حریت فکر اور قانون کی بنیاد پر منصفانہ معاشرہ تشکیل پائے اور ہر فرد کے لئے آگے بڑھنے کے مواقع فراواں ہوں۔ برصغیر کے مسلمانوں نے بلند آدرشوں کی تمنا کی تھی اور انگریزوں اور ہندوؤں کی مجموعی طاقت کو سیاسی عمل کے ذریعے شکست دی تھی۔ انگریزوں کی سرتوڑ کوشش تھی کہ انڈین آرمی تقسیم نہ ہونے پائے تاکہ سویت یونین کی پیش قدمی روکی جا سکے۔ کچھ مسلمان فوجی افسروں کا ایک وفد قائداعظم سے آ کر ملا اور اُس نے یہ تجویز پیش کی کہ فوج کی تقسیم سے یہ طاقت ور ادارہ کمزور پڑ جائے گا۔ اُنہوں نے جواب میں فرمایا تھا کہ کوئی بھی ریاست فوج کے بغیر اپنی آزادی برقرار نہیں رکھ سکتی اور پاکستان کو ایک مضبوط دفاعی قوت کی اشد ضرورت ہو گی جو خارجی اور داخلی دشمنوں کو سر اُٹھانے نہیں دے گی اور اِس کی نظریاتی سرحدوں کی بھی حفاظت کرے گی۔

پاکستان کی نظریاتی سرحدیں وہی ہیں جن کا تعین قراردادِ مقاصد میں کیا گیا ہے جو 13مارچ 1949ء کو دستور ساز اسمبلی میں بہت بھاری اکثریت سے منظورہوئی تھی۔ اِس میں اعلان کی گیا ہے کہ پوری کائنات پر فقط اﷲ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ قائم ہے اور اقتدار ایک مقدس امانت ہے جسے صرف عوام کے چنے ہوئے نمائندے استعمال کرنے کے مجاز ہوں گے۔ اِس میں یہ بھی درج ہے کہ اسلام میں دیئے گئے جمہوریت ٗ آزادی ٗ مساوات ٗ رواداری اور معاشرتی انصاف کے اصولوں کی پابندی کی جائے گی اور قرآن و سنت کی تعلیمات اور تقاضوں کے مطابق ہر مسلمان کو انفرادی اور اجتماعی طور پر زندگی بسر کرنے کے قابل بنایا جائے گا۔ اِس کے ساتھ اقلیتوں کے لئے آزادی کے ساتھ اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اپنی ثقافتوں کو فروغ دینے کے لئے خصوصی انتظامات کئے جائیں گے۔اِس قراردادِ مقاصد میں بنیادی حقوق کی ضمانت بھی فراہم کی گئی ہے جس میں مساوی سماجی حیثیت ٗ ترقی کے مساوی مواقع اور قانون کے سامنے برابری ٗ معاشرتی ٗ معاشی اور سیاسی انصاف اور اظہار ٗ اجتماع ٗ عقائد اور عبادات کی آزادی شامل ہیں۔ اِس تاریخی دستاویز میں بطورِ خاص عدلیہ کی آزادی کی پختہ ضمانت فراہم کی گئی ہے۔

قراردادِ مقاصد کے مندرجات پر جس قدر غور کیا جائے ٗ اِسی قدر یہ حقیقت اُجاگر ہوتی جاتی ہے کہ اُن کو عملی جامہ پہنانے میں ہمارے جملہ مسائل کا حل مضمر ہے اور ہم ایک مثالی ریاست کی حیثیت اختیار کر سکتے ہیں۔ دراصل 1973ء میں عظیم اتفاقِ رائے سے جو دستور منظور ہوا تھا ٗ اُس میں اسلام اور جمہوریت کا نہایت حسین اور متوازن امتزاج پایا جاتا ہے جو روحِ عصر سے گہری مطابقت رکھتا ہے۔ اِس کے عمیق مطالعے سے اِس گمراہ کن پروپیگنڈے کی مکمل نفی ہو جاتی ہے کہ پاکستان کا آئین اور اِس کے تحت قائم ہونے والے تمام ادارے اسلام کے منافی ہیں۔ جہالت کی یہ باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جو تحریکِ پاکستان کی تاریخ ساز جدوجہد سے ناآشنا اور انسانی نفسیات کے جدید تقاضوں سے یکسر نابلد ہیں۔ اُن کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ طاقت کے ذریعے شریعت قائم کی جا سکتی ہے حالانکہ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ ہادئ برحق حضرت محمد ﷺ اسلامی نظام کے نفوذ سے پہلے دنیا کا سب سے بڑا اخلاقی انقلاب لائے تھے اور 23 برسوں تک ذہنی فضا تیار کرتے اور دعوت کے ذریعے دلوں کی دنیا بدلتے رہے تھے۔ ہمارے لئے اِسی اسوۂ حسنہ کی پیروی میں بھلائی اور نجات موجود ہے۔ پاکستان کی نظریاتی بنیادیں اعتدال ٗ میانہ روی ٗ عالی ظرفی اور کشادہ نظری اور خیرخواہی پر قائم ہیں اور ہم سب کو مل جل کر اِس عظیم الشان اسلامی تہذیب کے فروغ کو اپنا مشن بنانا چاہئے کہ آج حب الوطنی کا یہی سب سے بڑا تقاضا ہے۔

یہ تحریر 129مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP