قومی و بین الاقوامی ایشوز

جی 20 سمٹاور خطے کی بدلتی ہوئی ترجیحات

دنیا کے بیس بڑوں جی 20 کا سالانہ اجلاس گزشتہ ماہ 4-5ستمبر کو چین کے شہر ہونگ زو میں منعقد ہوا۔ جی 20 کا یہ اجلاس پچھلے سال ترکی کے ساحلی شہر انطالیہ میں منعقد ہونے والے اجلاس سے کہیں زیادہ مختلف منظر نامہ پیش کررہا تھا۔ پچھلے سال کے اجلاس میں روسی صدر پیوٹن بڑے تندوتیز لہجے میں مختلف ثبوتوں کے ساتھ امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے نظر آئے جس کا سبب امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی شام میں جاری پالیسی ہے۔ پچھلے سال کا میزبان ملک ترکی اس بار ہونگ زو کے جی 20 اجلاس میں اپنے عالمی اتحادی سے کہیں مختلف نقطۂ نظر کے ساتھ شامل نظر آیا۔ اس دوران ترکی نے اپنی سرحدوں کی مخالفت کرتے ہوئے روسی جنگی طیارہ مارگرایا تو روس ترکی مخاصمت اپنی انتہا کو پہنچ گئی۔ روسی طیارہ گرائے جانے کے بعد جب ترکی کو اس حقیقت کا اندازہ ہوا کہ وہ اپنے عالمی اتحادی امریکہ اور ناٹو کو اپنے ساتھ کھڑا نہیں پا رہا تو ترکی نے شام کے حوالے سے اپنی علاقائی پالیسی میں اچانک تبدیلی کا فیصلہ کیا اور روس کے ساتھ تعلقات کے ایک نئے دَور کا آغاز کیا۔ اپریل 2016ء سے ترکی نے بیک ڈور ڈپلومیسی سے روسی فیڈریشن کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا آغاز کیا اور یوں 9اگست کو ترک صدر جناب رجب طیب اردگان روس کے دورے پر گئے۔


شام کا تنازع عالمی سیاست میں ایک محور کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ پچھلے سال انطالیہ میں جی 20 کی سمٹ اور ہونگ زو میں منعقد ہونے والی جی 20 کی حالیہ سمٹ میں عالمی سیاست ایک نئی کروٹ لے رہی ہے۔ جی 20 گو دنیا کی بیس بڑی معیشتوں کی ایک تنظیم ہے جو دنیا میں اپنے معاشی، اقتصادی اور کاروباری معاملات کو زیربحث لانے اور مختلف اقدامات اٹھانے کے لئے منعقد ہوتی ہے۔ لیکن ایک بات عالمی سیاست میں طے ہے کہ تنازعات، عالمی تجارت، معیشت اور اقتصادیات پر فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ چین جو عالمی معیشت میں ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے، وہ پچھلی ایک دہائی میں اہم سٹریٹجک طاقت کے طور پر بھی ابھر رہا ہے، یعنی معیشت اور سٹریٹجک مفادات عالمی سطح پر باہم جڑ جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن اہم پلیٹ فارم ہے، جس میں روس اور چین، دنیا میں نیا سیاسی، معاشی، اقتصادی اور سٹریٹجک توازن قائم کرنے کے لئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن میں پاکستان ایک اہم سٹریٹجک پارٹنر کے طور پر رکنیت لینے میں کامیاب ہوا ہے۔ ہونگ زو جی 20 میٹنگ میں دنیا کے بیس بڑے ممالک اس پس منظر میں ایک نئے موقف کے ساتھ شامل ہوئے۔ چین ا ور روس کے علاوہ اب ترکی خطے میں بدلتی خارجہ پالیسی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور امریکہ کا علاقائی اور عالمی کردار شدید بحران کا شکار ہے۔ جیساکہ روسی صدر پیوٹن نے شام میں روس کی فوجی مداخلت پر کہا تھا کہ اب دنیا یونی پولر نظام سے نکل آئی ہے۔ ہونگ زو سمٹ نے اڑتالیس نکات پر ایک قرارداد پاس کی جس میں پینتالیس نکات عالمی معیشت، تجارت اور منڈیوں کے حوالے سے تھے جبکہ ایک نکتہ عالمی دہشت گردی کے حوالے سے ہے جوکہ درحقیقت پینتالیس قراردادوں کو تحفظ دینے کے زمرے میں آتا ہے کہ ہم مل کر دہشت گردی کے خطرات کا مقابلہ کریں گے۔ اس میں انہوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2253 کا حوالہ دیتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف متحدہ کارروائیوں پر غور کیا۔

 

بھارت میں جب سے نریندر مودی وزیراعظم منتخب ہوئے ہیں، اُن کی یہ کوشش رہی ہے کہ وہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرکے پاکستان کو اپنے قدموں میں گرنے پر مجبور کردیں۔ گزشتہ تین سالوں میں وہ اس حوالے سے کبھی چین اور کبھی امریکہ کے نہ صرف قریب ہونے کی سعی کررہے ہیں بلکہ وہ اس تگ ودو میں بھی ہیں کہ امریکہ اور چین یہ یقین کر لیں کہ خطے میں پاکستان سے زیادہ اہم ملک بھارت ہے۔ اگرچہ بھارت عالمی معیشت میں ایک اہم کھلاڑی ہے، اسی سبب وہ جی 20 جیسے اہم فورم کا رکن بھی ہے، لیکن وزیراعظم ہندوستان یہ نہیں جانتے کہ دنیا میں معیشت کے تحفظ کے لئے سٹریٹجک سیاست کس قدر اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے ستمبر میں ہونے والے جی 20 سمٹ میں اپنے طور پر ایک بھرپور کوشش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جو خطے میں تمام دہشت گردی کا سرپرست بھی ہے اور گڑھ بھی۔ انہوں نے نہایت طفلانہ تجزیہ پیش کرتے ہوئے پاکستان کے حوالے سے کہا کہ وہ دہشت گردی کو ریاست کی پالیسی کے طور پر اپنائے ہوئے ہے جبکہ بھارت
’Zero Tolerance to Terrorism‘ 
کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ یقیناًوہ یہ پیغام خصوصی طور پر چین اور امریکہ کو دینا چاہتے تھے۔ ان کو علم ہونا چاہئے کہ امریکہ اور چین، پاکستان کو دہشت گردی کا Victim
تصور کرتے ہیں اور پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے کسی نہ کسی طور پر اتحادی ہیں۔ بھارتی وزیراعظم کو یقیناًیہ بھی علم ہونا چاہئے کہ پاکستان خطے میں امریکہ کا اتحادی بھی ہے اور چین کے ساتھ اس کے تعلقات معیشت سے لے کر سٹریٹجک معاملات تک منسلک ہیں۔ امریکہ اس بدلتی عالمی صورتِ حال میںیقیناًپاکستان کو کسی بھی صورت کھونا نہیں چاہے گا۔ چین، پاکستان کے ساتھ سی پیک کے ذریعے صرف اقتصادی حوالے سے ہی مزید قریب نہیں ہورہا بلکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے قدرتی سٹریٹجک پارٹنر کے طور پر مزید مستحکم منصوبہ بندی کررہے ہیں۔


جی 20 گو دنیا کی بیس بڑی معیشتوں کی نمائندگی کرتا ہے لیکن دنیا کے سیاسی تجزیہ نگار اسے جی 2 قرار دیتے ہیں۔ یعنی امریکہ اور چین، دنیا کے دو بڑے، جوکہ واقعی ایک حقیقت ہے۔ چین دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشت ہے، ایک ایسی معیشت جس نے اشتراکیت کی کوکھ سے جنم لیا اور اب عالمی سرمایہ داری نظام میں مقابلے کا پارٹنر ہے۔ چین کا بڑھتا ہوا عالمی سرمایہ داری کردار ہی اس کے عالمی سٹریٹجک کردار کو جنم دے رہا ہے۔ چین عالمی سطح پر پھیلتی معیشت کو وسعت دینے کے لئے نئے بحری راستوں کو استعمال میں لانے کے لئے تیزی سے سرگرم ہے۔
South China Sea
تنازعہ، عالمی طاقتوں کی سیاست میں سرفہرست ہے۔ اس حوالے سے جاپان کے ساتھ اس کے تعلقات میں کشیدگی بڑھتی جارہی ہے۔ بھارت اس کشمکش میں جاپان کی طرف داری میں پیش پیش ہے۔ اسی لئے چین نے جاپان کے اس معاہدے کی شدید مذمت کی ہے جس میں اس نے بھارت کو
Search and Rescue Aircraft
کی فروخت کا معاہدہ کیا ہے۔ چینی دفتر خارجہ کی ترجمان ہوچُن پنگ نے 1.6 ارب ڈالر کے اس یو ایس -2 جاسوس طیاروں کی فروخت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کم قیمت پر بھارت کو طیاروں کی فروخت اس سازش کو بے نقاب کرتی ہے جس سے
South China Sea
کی نگرانی کی جانی مقصود ہے۔ بالکل اسی طرح پاکستان میں سینیٹ میں قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین جناب مشاہد حسین نے بھارت اور امریکہ کے درمیان ’’لاجسٹکس ایکسچینج‘‘ معاہدے پر کہا ہے کہ ہمیں دو خودمختار ممالک کے درمیان اس معاہدے پر کوئی اعتراض تو نہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے ملک کے فوجی اڈوں میں ہتھیاروں کی مرمت کے بہانے اترنے کا حق حاصل کرنا چاہتے ہیں جوکہ اس معاہدے کی حقیقی وجہ ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین نے اس معاہدے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت عملاً پاک چائنا راہداری سے خوف زدہ ہے جو دونوں دوست ممالک پاکستان اور چین کو مزید قریب کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ لیکن ہم کسی توسیع پسندی کے منصوبے نہیں بلکہ علاقائی تعاون کے لئے سرگرم ہیں، اسی لئے ہم (چار ملکی) ترکمانستان، پاکستان، افغانستان اور بھارت پائپ لائن بھی بنا رہے ہیں جو علاقائی اقتصادی تعاون کا ایک منصوبہ ہے۔ یہ باتیں انہوں نے گزشتہ ماہ وائس آف امریکہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہیں۔

 

اس سارے تناظر میں حالیہ جی 20 اجلاس کو دنیا بھر کے تجزیہ نگار بڑی اہمیت دے رہے ہیں کہ اس میں روسی فیڈریشن ایک نئے انداز میں عالمی معیشت اور سٹریٹجک حوالے سے اپنا کردار ادا کرتی نظر آرہی ہے۔ خصوصاً شام میں جاری تنازعے کے پس منظر میں روسی فیڈریشن کے شامی حکومت کے ساتھ کئے گئے معاہدے کے تحت جس میں روس کو شام میں فوجی مداخلت کا حق دیا ہے اور اس کے بعد روس کا عالمی کردار اجاگر ہوا ہے۔ یادرہے کہ شام کے تنازعے میں عملاً روس اور چین ایک ہی مؤقف رکھتے ہیں، اسی لئے روس کے علاوہ چین نے امریکی مؤقف کو سلامتی کونسل میں ویٹو کے ذریعے ناکام بنایا۔ شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن عملاً ایک یوروایشین تنظیم ہے جس کے بانی عوامی جمہوریہ چین، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان اور روسی فیڈریشن ہیں۔ 2001 ء میں معرضِ وجود میں آنے والا یہ اتحاد سیاسی، معاشی اور سٹریٹجک بنیادوں پر کھڑا کیا گیا۔ اس کے بانی چین اور روس نے اس کو وسعت دے کر اب اس میں پاکستان اور بھارت کو بھی شامل کرلیا ہے۔


2017ء میں بھارت اور پاکستان شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے مکمل رکن کے طور پر اس تنظیم کا حصہ بن جائیں گے۔ اس اتحاد نے عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں، خصوصاً یونی پولر طاقت کا اثر ختم کرنے میں۔ لیکن یہاں ایک نکتہ قابل غور ہے کہ اس تنظیم میں بھارت جیسی بڑی معیشت اور ریاست کی شمولیت کے ساتھ ساتھ پاکستان کی شمولیت اس بات کی غماز ہے کہ پاکستان کے بغیر علاقائی توازن برقرار نہیں رہ سکتا ۔ لہٰذا بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا یہ خواب کہ پاکستان کو عالمی اور علاقائی طور پر تنہا کردیا جائے، پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ پاکستان، خطے کے علاوہ مسلم ممالک میں بھی اپنی ایک حیثیت رکھتا ہے اور ایک ایسا ملک جو جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے سنگم پر واقع ہے، جو پاک چین راہداری سے خطے میں گیم چینجر بننے کی اہلیت رکھتا ہے۔ ایک طاقتور وار مشینری اور ایٹمی صلاحیت رکھنے والا ملک اور اس ریاست کے خلیجی اور دیگر ریاستوں کے ساتھ اس کے گہرے تعلقات اور دیگر لاتعداد وجوہات ہیں جو ریاست پاکستان کے بارے میں مودی صاحب کے خواب کے راستے کی رکاوٹ ہیں۔ اور بھارتی وزیراعظم کی یہ خواہش کہ چین کو یہ ثابت کردیں کہ خطے میں چین کے لئے بھارت اہم ہے پاکستان نہیں، اس پر یہ کہنا کافی ہے کہ جس قدر چین پاکستان کے لئے اہم ہے، اس سے کہیں زیادہ پاکستان چین کے لئے اہم ہے۔


مضمون نگار معروف صحافی ‘ کالم نگار اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 64مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP