صحت

جینیاتی تشخیص اور تحقیق۔ طب کا ایک اہم میدان

اللہ تعالیٰ نے اپنی کائنات میں بے شمارمخلوقات پیدا کی ہیں جن میں انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیاگیا ہے ۔ انسان کی تخلیق خون کے ایک لوتھڑے سے ہوئی ہے اور یہ پورے نو ماہ ماں کے پیٹ میں رہ کر اِس دنیا میں آتا ہے۔ انسان کی بنیاد خون پر ہے اور خون بہت سے اجزاء کا مجموعہ ہے جو انسان کی صحت کا ضامن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کئی بار فرمایا کہ ہم نے انسان کو مٹی ، قطرے اورجمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات کو تخلیق کرکے انسان کو اِس کی کھوج میں لگا دیا ہے۔ کائنات کوتسخیر کرنے کا جنون بھی اللہ تعالیٰ نے انسانی دل و دماغ میں ڈالا ہے ۔ آج انسان اللہ تعالیٰ کی اِس تخلیق کردہ کائنات کو تسخیر کرنے کی بہت سی حدیں پار کر چکا ہے۔ انسان ہر میدان میں ترقی کی منازل روزبروز طے کرتے ہوئے آسمانوں کی خلاؤں تک کو پار کر گیا ہے تو دوسری طرف وہ زمین کی تہوں تک جا پہنچا ہے۔انسان اپنے وجود کی تخلیق پر بھی بہت تحقیق کرچکا ہے۔
آج سے 1400 سال پہلے اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں جو کچھ اپنی تخلیقات پر فرمایا تھا آج سائنس اُسے حرف بہ حرف سچ تسلیم کر رہی ہے۔ وہی نطفہ، وہی خون کا قطرہ ، میڈیکل سائنس کی ہر تحقیق اُسی نطفے سے شروع ہوتی ہے ۔ اب انسان کی پیدائش سے پہلے ہی اُس کے جینز کا تعین کرنا ممکن ہو گیاہے اور اُس کی نسل ، زندگی کے محرکات کا جائزہ لینا ، اُس کی صحت کی جان کاری مشکل نہیں رہی۔ یعنی اگر یہ کہا جائے کہ انسانی زندگی کا دارومدار اگر اُس کی صحت پر ہے تو اُس کے جینز بھی اُس کی خاندانی یا اُس کے والدین میں پائے جانے والی جینیاتی خرابیوں کی پیشگی تشخیص اور اُس کے اثرات اُس تحقیق پر روشنی ڈالتے ہیں۔ یہی وہ تحقیق ہے جس کی گہرائیوں کو جاننے کے لئے انسان اپنی تمام تر توجہ اِِسی تحقیق پر مرکوز کئے ہوئے ہے اور اُنھی لوگوں میں پاکستان کے میجر جنرل ڈاکٹرصہیب احمد(ر)بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنی تحقیق سے انسانی جینز اور اُس کی خرابیوں پر ریسرچ کرکے پاکستان کو بھی اُن ممالک کی صف میں لاکھڑا کیا ہے جہاں قبل از پیدائش جینیٹک ٹیسٹنگ کی جاتی ہے۔ انسانی زندگی اور صحت اُس کے جینز پر منحصر ہے ۔اُنھوں نے اپنی زندگی کے شب و روز اِسی مقصد کے لئے  وقف کئے ہوئے ہیں۔
 میجر جنرل ڈاکٹر صُہیب احمد(ر)نے1980 میں کنگ ایڈور میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس مکمل کیا۔ایف سی پی ایس ہیماٹولوجی 1986 میں کیا اور جینیاتی سائنسز میںپی ایچ ڈی 1997 میں مکمل کی ۔ ڈاکٹر صُہیب احمد نے اپنے پی ایچ ڈی کے موضوع کے بارے میں بتایا کہ اُنھوں نے یونیورسٹی کالج لندن، برطانیہ سے ڈاکٹریٹ آف فلاسفی کے لئے تھیلیسیمیا کی Molecular Genetics   کے موضوع کو منتخب کیا ۔ تھیلیسیمیاکی ریسرچ میں انھوں نے پاکستان میں اس مرض سے متاثرہ خاندانوں میں نسلی گروہوں اور وسیع خاندان کی سکریننگ پرکام کیا۔ میجر جنرل ڈاکٹر صُہیب احمد(ر) 32 سال سے زائد عرصہ آرمڈ فورسز انسٹی ٹیویٹ آف پیتھالوجی، راولپنڈی سے منسلک رہے جس کے بارے میں ڈاکٹر صُہیب کہتے ہیں کہ پیتھالوجی کے شعبے میں یہ ادارہ میری پہلی درسگاہ ہے جسے میں اپنی مادری درسگاہ کا درجہ دیتا ہوں۔ یہاں میں نے بہت کچھ سیکھا اور جینیاتی امراض کی تشخض کی ابتداء بھی اِسی پلیٹ فارم سے کی۔ اُنھوں نے1994 میں پاکستان میں تھیلیسیمیا اور دیگر جینیاتی خرابی کے حامل امراض کی روک تھام کے تصور کو متعارف کروایا۔اس سلسلے میں انہوں نے پاکستان میں پہلی مرتبہ حمل کے دوران تھیلیسیمیا کی تشخیص کی ابتدا کی ۔اُس وقت اِس ادارے (AFIP)کے لئے یہ ایک نیا شعبہ تھا اور اِس سے متعلق ہر مرحلے اورچیزوں کو نئے سرے سے شروع کرنا تھا جو ایک مشکل کام تھا لیکن عزم پختہ ہو توہر کام آسان ہو جاتاہے اور ایسا ہی میرے ساتھ بھی ہوا، اِس کام کے آغاز سے اب تک ہم نے پاکستان بھر میں تھیلیسیمیا سے متاثرہ  20,000 سے زیادہ افراد کے دوران حمل ٹیسٹ مکمل کئے ہیں۔
ڈاکٹر صُہیب احمد تھیلیسیمیا اور دوسرے جینیاتی امراض کی تشخیص اور تحقیق کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ اُنھوں نے پاکستان میں کزن میرج کے جینیاتی اثرات کے موضوع پر بھی تحقیق کی اوراس کے نتیجے میں تھیلیسیمیا اور دوسرے جینیاتی عارضوں سے متاثرہ بچوں اور اُن کے والدین تک رسائی کی ۔انہوں نے تحقیقاتی سکریننگ کا جائزہ لیا اور پاکستان کو بھی جینیاتی امراض پر تحقیق کرنے والے ممالک میں شامل کر وا یا ۔ڈاکٹر صُہیب کہتے ہیں کہ کزن میرج ہونے کی صورت میں پیدا ہونے والے بچوں میں جینیاتی بیماریوں کے ہونے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں لیکن ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ قدیم وقتوںسے ہمارے معاشرے میں خاندانوں میں آپس کی شادیوں کا رواج عام رہا ہے ۔میڈیکل سائنس کی روشنی میں کزن میرج کے خاتمے کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں جس میں اب تک نہ تو ہم کامیاب ہوئے ہیں اور نہ ہی مستقبل قریب میں ہو نے کے امکانات ہیں۔تاہم اب جدید تشخیصی طریقہ کار دستیاب ہیں جن کی مدد سے خاندان میں شادی سے پہلے بھی ٹیسٹ کے ذریعے جینیاتی مسائل کا پتہ لگایا جا سکتا ہے جس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کزن میرج کی صورت میں پیدا ہونے والے بچے جینیاتی مسائل یا امرض کا شکار تو نہیں ہو ں گے؟ کزن میرج کے نتیجے میں ہونے والی جینیاتی بیماریوں ، پیچیدگیوں اور اُن کے تدارک میں پیش رفت اور جدید تحقیق اور اُس کی ٹیسٹنگ کے مراحل اب آسان ہو چکے ہیں ۔ڈاکٹر صہیب جینیاتی امراض پر تحقیق کے علاوہ متعدی بیماریوں ، خون کے کینسر اور فورنزک ڈی این اے ٹیسٹنگ کا بھی وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور ان کی خدمات کو بڑے پیمانے پر تسلیم بھی کیا گیا ہے ۔
میجر جنرل ڈاکٹر صُہیب احمد کے مطابق جینیاتی امراض کی تشخیص کے لئے ڈی این اے ٹیسٹنگ ایک بہترین طریقہ کار ہے لیکن کچھ امراض کی حمل کے دوران تشخیص الٹراساؤنڈ کے ذریعے بھی کی جا سکتی ہے۔ اِس کے علاوہ پاکستان میں جینیاتی امراض کی ایک طویل فہرست ہے جن کی قبل از وقت تشخیص کی جا سکتی ہے۔ یہاں ایک بات اہمیت کی حامل ہے کہ ہم نے جو تحقیقات کی ہیں اُن کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اوروقت کے ساتھ ساتھ لوگوں میں جینیاتی امراض اور اُن کی روک تھام کے لئے آگاہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر صُہیب احمد پُر یقین ہیں کہ انشاء اللہ ایک دن ہم پاکستان سے نوزائیداہ بچوں میں تھیلیسیمیاکی بیماری پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
ڈاکٹر صُہیب احمد ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انجینئر بھی ہیں۔ انہوں نے بہت سے الیکٹرو میڈیکل آلات ڈیزائن کئے اور بنائے ہیں جن کے بارے میں ڈاکٹر صُہیب نے بتایا کہ الیکٹر و میڈیکل آلات بنانا اِن کا مشغلہ رہا ہے۔ اُنھوں نے بتایاکہ میں جب  1982 میں آرمڈ فورسز انسٹی ٹیویٹ آف پیتھالوجی راولپنڈی میں شامل ہوا تب سے یہ کام کر رہا ہوں اوراپنے بنائے ہوے آلات استعمال بھی کرتا رہا ہوں ۔ تھیلیسیمیا اور DNA کے تجزیے میں بہت سے آلات ایسے استعمال ہوتے تھے جو میرے ہی ڈیزائن کئے ہوئے تھے اور آج بھی انہیں استعمال کررہا ہوں۔ 
میجر جنرل ڈاکٹر صُہیب احمد(ر)  نے اپنے کیریئر کے دوران جس تحقیق پر کام کیا وہ کام آج بھی جاری ہے۔ ڈاکٹر صُہیب احمد نے 2012  میںآرمی سے ریٹائر منٹ کے بعدراولپنڈی میں اپنا ایک ادارہGenetics Resource Centre (GRC)  کے نام سے قائم کیا ۔GRC پاکستان کا ایک ایسا منفرد ادارہ ہے جہاں ہر قسم کے جینیاتی امراض کی پیدائش سے قبل تشخیص کی جاتی ہے۔ اِس ادارے کے قیام کا مقصد قبل از پیدائش جینیاتی امراض کی ٹیسٹنگ کی راہ ہموار کرنا اور عام لوگوں میں جینیاتی خرابیوں کی آگاہی کی مہم کو عوامی سطح پر اُجاگر کرنا ہے ۔اِس مہم میں ڈاکٹر صُہیب بہت حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں ۔ اُن کے مطابق 1994 میں جب جینیاتی خرابیوں پر تحقیق اور تشخیص کا کام شروع کیا گیا تھا تب لوگوں میںاِس کی آگاہی بہت کم تھی لیکن اب موجودہ وقت میں لوگوں میں جینیاتی امراض یا خرابیوں کے بارے میں آگاہی روز بروز بڑھ رہی ہے جو کہ ہماری آنے والی نسلوں کے صحت مند ہونے میں معاون ثابت ہو گی۔ اِس بارے میں باقاعدہ سیمینارز کے انعقاد، بروشَر کی تقسیم ، لیکچرز اور میڈیا ٹاک وغیرہ کے ذریعے عام لوگوں تک پیغام پہنچانے کا اہتمام کیا جاتاہے۔ابھی تو یہ ادارہ راولپنڈی میںکام کر رہا ہے لیکن بہت جلد GRC کی دوسری شاخ لاہور میں شروع کی جا رہی ہے۔ جینیٹکس ریسورس سنٹر میں جینیاتی ماہرین کوجدیدطریقۂ تحقیق سیکھنے کے مواقع بھی فراہم کئے جاتے ہیں۔
 ڈاکٹر صُہیب احمد یہ بتاتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں کہ اِس وقت ملک بھرمیں تھیلیسیمیا کی قبل از پیدائش تشخیص کی پانچ بڑی لیبارٹریاں ہیں اور اِن کے قیام میں ڈاکٹر صاحب کی معاونت شامل رہی ہے۔ بنگلہ دیش میں تھیلیسیمیا کی قبل از پیدائش تشخیص کے لئے قائم لیب میں بھی ڈاکٹر صُہیب احمد کی مددشامل رہی ۔اِس کے علاوہ 2014 میں فاطمید تھیلیسیما سینٹر کراچی میں ایک مکمل DNA لیب قائم کی گئی ۔ اِس لیب کوڈاکٹر صاحب کے بنائے ہوئے میڈیکل آلا ت سے لیس کیا گیاہے اور اِس لیب میںہر سال بڑی تعداد میں تھیلیسیمیا کی قبل از پیدائش تشخیص کے ٹیسٹ کئے جارہے ہیں۔
میجر جنرل ڈاکٹر صُہیب احمد (ر) کواُن کی گراں قدر خدمات کے سلسلے میں چیف آف دی آرمی سٹاف کی جانب سے تعریفی سند دی گئی اور ہلالِ امتیاز (ملٹری) سے بھی نوازا گیا۔اس کے علاوہ حال ہی میں انہیں صدر پاکستان کی جانب سے تھیلیسیمیا کے لئے خدمات کا خصوصی ایوارڈبھی دیا گیا ہے۔ ||


مضمون نگار فری لانس صحافی ہیں اور مختلفاخبارات  کے لئے لکھتی ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 108مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP