یوم دفاع

جنگ ِستمبر 1965 کی حیرت انگیز یادیں

   جنگ میں مصروف جوان ملک کی بقااور عزت میں اپنی حیاتِ جاوید ڈھونڈتے تھے 
  جنگ شروع ہوئی تو آئی ایس پی آر کے لوگ دفتر ی اوقات بھول کردن رات فرض کی ادائیگی میں منہمک ہو گئے 
  کیپٹن صدیق سالک، میجرضمیرجعفری ،کیپٹن دانش ،کیپٹن سبزواری ، میجرشجاع اور فوٹوگرافرز کی قومی خدمات کو نہیں بھلا یا جا سکتا 
  جنگ ستمبر کی جو تصویریں منظر عام پر آئیں اگر ان پر فوٹوگرافرز کے نام درج ہوتے تو وہ لوگ قومی ہیروز کے طورپر یاد رکھے جاتے
 عالمی انگریزی اخبارات میں پاکستان کی جنگی کامیابی کی اس قدر تفصیل سے باتصویرخبریں چھپیں کہ بھارت ہکا بکا رہ گیا۔
  عالمی پریس کی رپورٹس دیکھ کر برطانوی وزیراعظم ولسن نے کہا'' پاکستا ن آرمی کا شعبہ تعلقات عامہ بہت اچھاہے '' 


ممتا زصحافی اور تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن زیڈ اے سلہری (مرحوم)کااصل نام ضیاء الدین احمد سلہری تھااوروہ 6جون 1913ء کو ظفروال (سیالکوٹ اب ضلع ناروال کا حصہ ہے)کے ایک گائوں میں پیدا ہوئے۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد شعبہ صحافت کے ساتھ منسلک ہوگئے۔ وہ ایک نامور صحافی اور ایڈیٹر تھے۔ جنگِ ستمبر کے موقع پر اُنہیں ڈائریکٹر آئی ایس پی آر تعینات کیاگیا وہ نومبر1965 سے اگست 1966 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ انہوں نے 65ء کی تاریخی جنگ کی رُوداد قومی و عالمی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔1974ء میں زیڈ اے سلہری نے اپنی زندگی کی دلچسپ کہانی''مدّوجزر''کے عنوان سے مجیب الرحمن شامی کے  ہفت روزہ جرائد(زندگی،اداکاراورطاہر)میں قسط وار تحریر کی ۔ جنگ ستمبرکے حوالے سے ان کی ا ہم یادداشتوں کو قارئین'ِ ہلال' کے ذوق کی نذر کیا جا رہا ہے۔ 



چھ ستمبر1965 ء کوہندوستان نے پاکستان پرحملہ کیااور توپوں کے دھماکے سنائی دینے لگے تولاہورکی فضامیں انقلابی تغیرآگیاتھا۔شاہراہ قائداعظم پرتوحسب معمول چہل پہل رہی لیکن گلبرگ سے 'جہاں میں رہتاتھا'لوگوں اور سامانوں سے لدی گاڑیاں نکلنا شروع ہوگئیں اور آناًفاناً علاقہ خالی نظر آنے لگا ۔میں نے الطاف گوہر )سیکرٹری اطلاعات/ سول بیوروکریٹ)کوٹیلی فون کیااور کہا کہ مَیں ''پاکستان ٹائمز '' میں مضمون تو لکھتاہی ہوں ؟ اس وقت اور کیاخدمت کرسکتاہوں ۔ انہوں نے کہا کہ ریڈیو پرجاکرتقریریںکرو ،چنانچہ میں نے سٹیشن ڈائریکٹرسے رابطہ قائم کیااور شام کومکمل اندھیرے میں بڑی مشکل سے سٹوڈیو پہنچاجہاں سے میں نے اپنی تقریر کی اور وہ ریڈیو پر نشر ہوئی۔ ارادہ تھا کہ اسی طرح ہرروز حالات حاضرہ پرتبصرہ کرتارہوں گالیکن آٹھ ستمبرکو جب میں مدیر''نوائے وقت'' کے دفتر میں موجود تھا اور وہاں سے کسی بات کے لیے اپنے گھر ٹیلی فون کیا تومیری بیوی نے بتایاکہ الطاف گوہرصاحب کی کال آئی تھی اور وہ آپ سے انتہائی ضروری بات کرناچاہتے تھے ۔میں نے فون بند کیا اور وہیں مجیدنظامی صاحب کے دفتر سے ہی ٹیلی فون پرراولپنڈی میں االطاف گوہر صاحب کا نمبر گھمایا۔علیک سلیک کے بعد انہوں نے پنجابی میں کہا:'فوراًآجائو وردی پوانی اے۔ ''یعنی فوراًآجائو تمہیں وردی پہنانی ہے۔ میں نے ٹیلی فو ن بندکرکے مجید نظامی صاحب کوبتایاکہ میری راولپنڈی طلبی ہورہی ہے۔ جب گھرآیااور بیوی کو الطاف صاحب کاپیغام بتایاتواُس نے کہاکہ آپ نے پوچھاہوتاکہ کام کیاہے ؟میں نے کہاکچھ کام ہی ہوگاجوبُلایاہے ۔وردی کامطلب ہے کہ کچھ فوجیوں سے تعلق رکھنا ہوگا۔ بہرحال یہ تو کام کرنے کاوقت ہے اور زیادہ پوچھ گچھ کا نہیں ۔
مَیں اس کے بعد ریل گاڑی پر نشست حاصل کرنے کی تگ و دو میں لگ گیا ۔ ریلوے سٹیشن پر پہنچ کر معلوم ہواکہ سہ پہر کی گاڑی میں کوئی جگہ نہیں۔ میں نے ریلوے بورڈ کے چیئرمین سے جومیرے دوست تھے 'رجوع کیااور انہیں اپنے پنڈی جانے کی ضرورت بتائی ۔انہوں نے مہربانی سے میرے لیے ایک ٹکٹ کاانتظام کردیا۔سٹیشن پراتنی بھیڑتھی کہ گاڑی کے ڈبے تک راستہ نہ بنتاتھا۔ چاربجے کے قریب گاڑ ی چلی لیکن ایسا سست سفرمیں نے زندگی میں پہلے کبھی نہ کیاتھا۔شام ہوئی توچاروں طرف اندھیرا گھپ تھا ۔گاڑی آہستہ آہستہ جارہی تھی اور بعض وقت ایک ایک گھنٹے تک ٹھہر جاتی تھی۔ہم بارہ بجے رات راولپنڈی پہنچے اور میں ٹیکسی لے کر سیدھا الطاف گوہر کے گھر پرپہنچا۔وہ ابھی جاگ رہے تھے اور شاید میراہی انتظار کرر ہے تھے۔ انہوں نے اپنے ڈرائیور کو کسی جگہ کا پتہ دے کر کہا کہ مجھے وہاں چھوڑ آئے۔


جب کمانڈرانچیف کسی محاذپرجوانوں سے خطاب کرتے تومیراکام تھامیں اُن کی تقریرکے نوٹس لوں اور بعد میں اُن کی بنیاد پررپورٹ لکھ کر اشاعت کے لیے بھیجوں۔ میں نے دیکھاکہ جنرل موسیٰ دشمن کے لیے سخت زبان استعمال کرتے جس کی کوئی اخبار تاب نہ لاسکتا،چنانچہ میں اس تقریرکی روح کواپنے الفاظ میں بیان کردیتا۔اس طرح رپورٹ سے محبان وطن کے حوصلے بلند ہوتے ۔جب جنرل صاحب اخبار میں اپنی تقریر کی رپورٹ دیکھتے تومجھے دیکھ کرمسکراتے اور کہتے کیوں بھئی میں نے یہی کچھ کہاتھانا؟ان کا مطلب ہوتاکہ ان کے فوجی جوش وخروش کے لیے یہ زبان قدرے نستعلیق اور فلسفیانہ تھی ۔


اب میں محض رات کے اندھیرے سے ہی ا ندھانہ تھابلکہ اپنی منزل مقصود اور لائحہ عمل کے متعلق بھی قطعی طورپر تاریکی میں تھا۔ الطاف صاحب مجھے کچھ بتانے پرآمادہ نظرنہ آتے تھے ۔ کارآدھ گھنٹے تک دوڑتی رہی اورآخرکارایک بڑے گیٹ پر رک گئی جس پرمسلح سپاہیوں کاپہرہ تھااور انہوں نے تفتیش کے بعد گاڑی کوآگے جانے دیا۔ہم ایک بڑی بلڈنگ کی طرف بڑھے ۔بڑی بلڈنگ میں نے اس لیے کہا ہے کہ صبح کے وقت وہ بڑی بلڈنگ ثابت ہوئی ورنہ اس وقت تواندھیرے میں کچھ بھی دکھائی نہ دیتا تھا۔ جب گاڑی ٹھہری توایک فوجی جوان نے میراہاتھ پکڑلیااور مجھے دبیزپردوں سے ملفوف برآمدے سے گزارکرسیڑھیوں کی طرف لے جانے لگا۔بہت سی سیڑھیاں چڑھ کربالآخرہم ایک ہال میں پہنچے جہاں روشنی تھی ۔فوجی جوان مجھے ایک کرسی پربٹھاکرخود ایک کمرے کی طرف بڑھا۔تھوڑی دیربعد مجھے اندربلایاگیااور میرابریگیڈیئرریاض سے تعارف کرایاگیا۔بریگیڈیئرریاض آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر تھے ،بریگیڈیئرصاحب نے بتایاکہ میرے صحافتی بیک گرائونڈ کو دیکھتے ہوئے مجھے انٹرسروسز پبلک ریلیشنزکے ڈائریکٹرکے فرائض سونپنے کافیصلہ کرلیاگیاہے اورکل صبح سے مجھے اپنی ڈیوٹی سنبھالنی ہے۔ بریگیڈیئرریاض مجھے ایک دوسرے چھوٹے کمرے میں لے گئے جہاں مختلف محاذوں کے نقشے لٹک رہے تھے اور انہوں نے مجھے جنگ کی صورت حال بتانا شروع کی تاکہ میں اگلی صبح قومی اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں کوحالات سے آگاہ کرنے کے لیے تیار ہوجائوں ۔سچی بات یہ ہے کہ میں قومی جذبے اور بحران کے پیش نظر'پیش کردہ فرائض کوقبول کرنے سے انکارتونہیں کرسکتاتھااور کسی نے مجھے اقرار یاانکارکاموقع بھی نہ دیالیکن میں بریگیڈیئرصاحب کے بیان کوقطعی نہ سمجھ سکاکیونکہ ملٹری سائنس ایک مخصوص علم ہے اور باقاعدہ تعلیم وتدریس وتربیت کی متقاضی ہے ۔فوجی اصلاحات لیجیے ،وہ بالکل انوکھی ہیں ،فوجی زبان لیجیے ،بظاہرانگریزی ہے لیکن اس کے اپنے ہی مخففا ت ہیں جن کے بھید کچھ عرصے کے بعد ہی کھلتے ہیں ۔اب اگر مجھے ان امورپرعبورنہ تھاتومیں جنگی صورت حال کی ماہیت کوکیونکرسمجھ سکتاتھا؟
بریگیڈیئر ریاض صاحب نے مجھے ایک گھنٹے تک لیکچردیالیکن میرے کچھ پلے نہ پڑا۔مجھ پرسخت مایوسی کاعالم طاری ہواکہ میں اس مبلغ علم سے افواج کی کیاخدمت کرسکوں گا؟لیکن میں نے اپنے اندرونی احساسات اور محرومی کو چہرے سے ظاہر نہ ہونے دیا ۔ بریگیڈئیر صاحب نے مجھے ای،ایم ،ای میس بھجوادیاجہاں میری رہائش کاانتظا م کیاگیاتھا۔کمرے میں نواڑکاپلنگ تھالیکن بسترنہ تھا،ستمبرکے موسم میں بسترکی توچنداں ضرورت نہ تھی لیکن میرے پاس تکیہ تک نہ تھا،میں تولیے کوسرہانہ بناکرلیٹ گیا،لیکن مجھے نیند نہ آئی۔ مجھ پر شدید خوف تھاکہ میں اپنے نئے فرائض کواداکرنے کااہل نہیں اور تیاری کاکوئی وقت نہیں کہ میں ملٹری سائنس اور فوجی علوم کی ابجد ہی سیکھ لوں ۔مجھے یہ اندیشہ کھائے جا رہا تھا کہ کل صبح مجھے عالمی پریس کے موذی ترین نامہ نگاروں کے سامنے تازہ جنگی حالات پرروشنی ڈالناہے اور ان کے سوالات کے جواب دینے ہیں۔اسی خوف کی حالت میں مَیں وقت معینہ سے پہلے ہی دفترپہنچ گیاتاکہ جلد سے جلد اپنے نئے ساتھیوں سے ملوں اور تبادلہ خیالات کروں کہ شاید وہ کسی طرح میری مدد کرسکیں ۔ان دنوں فوج کا شعبہ تعلقات عامہ معمولی حیثیت رکھتاتھا، ا س کا کام معمول کی محکماتی خبریں دینا تھا ۔اس کا ایک رسالہ ''ہلال''باقاعدہ شائع ہوتا تھا۔(یہ اب بھی شائع ہوتا ہے)۔ 
مجھے فل کرنل کارینک دیاگیاتھا۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ میں نے اپنے رینک اور تنخواہ وغیرہ کے معاملے کے متعلق نہ تو الطاف گوہرصاحب سے کوئی بات کی تھی اور نہ ہی بریگیڈیئر ریاض سے۔ اس وقت جب پوری قوم اپنی زندگی اور موت کی آزمائش سے دوچارتھی، میرے لیے اس قسم کے سوالات اٹھاناگناہ کی نوعیت رکھتے تھے ۔ میں فل کرنل بھی بریگیڈیئرایف آرخان کے اصرار پربنایاگیاورنہ میرے لیے پہلے لیفٹیننٹ کرنل کا رینک تجویز کیاگیاتھااور مجھے اس پربھی اعتراض نہ ہوتا۔دراصل بطور ڈائریکٹر میراانتخاب میری صحافتی سینیارٹی پرہواتھانہ کہ فوجی قابلیت پر۔بہر حال پہلی صبح ڈیڑ ھ سو سے زائد عالمی نامہ نگاروں کے ساتھ پریس کانفرنس ہوئی۔ میرے ساتھ میجر صدیقی بھی تھے۔ انہوں نے مجھے اس دن کافوجی اعلامیہ دیا ،میں نے اعلامیہ کی عبارت توپڑھ دی لیکن اصل کام اُن سوالوں کاجواب دیناتھاجواس اعلامیہ سے پیداہوتے تھے اور اس کے لیے جنگی صورت حال پرپوری علمی قدرت ناگزیرتھی۔ مغربی نامہ نگار پورے موضوع سے باخبر ہوتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ خبرنکالنے کے لیے بال کی کھال ادھیڑ دیتے ہیں ،وہ کسی کا رعب نہیں کھاتے اور دوٹوک بات کرتے ہیں خواہ وہ کسی کوبُری لگے یابھلی ۔ پھر یہ نامہ نگار کم از کم پاکستان کے خلاف پہلے سے ہی ادھار کھائے بیٹھے تھے اور ا س کے ہرعمل میں کیڑے نکالنے کے درپے تھے۔ میراچونکہ ان نامہ نگاروں سے کئی بین الاقوامی پریس کانفرنسوں میں پالا پڑاتھا اور میں ان کا اچھی طرح مزا ج جانتاتھا۔اُن سے اگر تبادلہ خیالات کالین دین اسی سکے میں کرو جووہ خوداستعمال کرتے ہیں (PAY   IN   THE   SAME COINS) تو فوراًسیدھے ہوجاتے ہیں اور انسانوں کا طرز عمل اختیار کرلیتے ہیں ۔چنانچہ جب سوالات شروع ہوئے اور میں نے ان کا ''ترکی بہ ترکی'' جواب دیاتووہ سمجھ گئے کہ ان کا کسی نئی قسم کے شخص سے واسطہ پڑاہے ۔یوں یہ میری پہلی پریس کانفرنس کامیاب رہی۔


 آہستہ آہستہ مجھے ملٹری سائنس سے واقعی دلچسپی ہوگئی اور میں نے مشہورملٹری معاملات پرلکھنے والے ،مثلاًلڈل ہارٹ (LIDDLE - HART)کی کتابیں پڑھناشروع کردیں ۔میں ابھی ای ایم  ای کے میس ہی میں مقیم تھا ۔مقیم کیا،وہاں رات گئے اپنے کمرے میںجاکرسو جاتا۔ایک ہفتے کے بعد تک میرے پاس تکیہ نہ تھااور وہی تولیہ میرے تکیہ کاکام دیتا۔اب یہ بات نہ تھی کہ بازار میں تکیے میسرنہ تھے اور میرے پاس آدمیوں کی بھی کمی نہ تھی کہ کوئی جاکرخریدلاتا،لیکن سارے دن کی لگاتار گہماگہمی میں تکیے کاخیال نہ آتا۔ہررات سوچتاکہ صبح کسی کوخریدنے کے لیے بھیجوں گااو ر ہرصبح بھول جاتا۔


 اس پریس کانفرنس کے بعد بریگیڈیئرریاض میرے دفتر آئے اور مجھے جی ایچ کیو میں کمانڈر انچیف جنرل موسیٰ کے دفتر میں لے گئے ،جنرل موسیٰ کے سامنے حاضرہونے سے پہلے اُن کے پرائیویٹ سیکرٹری کرنل اسحاق کے پاس جاناضروری تھا۔ کمانڈرانچیف کاپرائیویٹ سیکرٹری کہنے کوتوکرنل ہوتاہے لیکن اپنے کام کی اہمیت میں جرنیلوں پربھی بھاری ہوتاہے اور کرنل اسحاق (بعد میں جنرل ) کی شخصیت بھی معمولی نہ تھی ۔وہ اپنی قسم کے منفرد انسان تھے ،ان کاکمرہ صفائی سے چمکتاتھا،کوئی چیز اور کاغذ غلط جگہ نہیں رکھا،میزکے سامنے کرسیاں رکھی ہیں اورآپ کرنل صاحب کے اشارے سے اُن میں سے ایک پربیٹھ گئے ۔میز کی دوسری طرف ان کی کرسی ہے لیکن وہ کھڑے نہایت احتیاط سے فٹے کی مدد سے باریک سیدھی لائنیں کھینچ رہے ہیں۔ کرنل صاحب بیٹھ کرکام کرنے کے قائل نہیں تھے ، وہ کھڑے ہی کھڑے کام کرتے اور کرسی بھی لوہے کی رکھی تھی کہ اگرغلطی سے اس پربیٹھاجائے توزیادہ دیر تک نشست قائم نہ رہ سکے۔عجیب لوگ تھے ، اپنے پیشے کے ساتھ بے حد مخلص لوگ تھے۔
 تھوڑی دیربعد بریگیڈیئرریا ض کمانڈرانچیف کے پاس چلے گئے اور میں کرنل اسحاق کے ساتھ اکیلارہ گیا۔انہوں نے مجھے مخاطب ہوکرایک دعائیہ فقرہ کہا جومیرے دل پرنقش ہوگیا۔انہوں نے کہا میں تو اللہ تعالیٰ سے یہی دُعا کرتاہوں کہ'' خود ہمیں ہمارے گناہوں کی سزادے لیکن ہمیں ہندوئوں کے ہاتھوں ذلیل نہ کروائے''۔ان کا اشارہ جنگ کی طرف تھا۔اس ایک مختصرفقرے نے میرے لیے اپنے شجاع فوجیوں کے دلوں میں موجزن جذبات کے متعلق دریچہ کھول دیا ۔ایسے بہادروں کی خدمت' میرے لیے زندگی کا سب سے بڑااعزاز بن گئی ۔میں کچھ انہی خیالوں میں کھویاساتھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجی اور کرنل صاحب نے مجھے بتایا کہ جنرل موسیٰ مجھے دیکھنے کے منتظرہیں۔
  جب میں کمانڈڑانچیف کے سامنے حاضرہوانہوں نے مجھے سرسے پیرتک دیکھا۔ایک پرانے فوجی کے لیے ایک غیر فوجی لباس میں سویلین سے فوری قلبی رابطہ کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ جنرل موسیٰ نے میرا نام ضرورسناہواتھالیکن ہماری پہلے کبھی مڈھ بھیڑ نہ ہوئی تھی ۔وہ بڑی حیرت سے میرامطالعہ کررہے تھے ،شاید وہ ہر''غیرفوجی'' کوشک وشبہ کی نگاہ سے دیکھتے ہوں کہ یہ چالاک لوگ کس طرح ایک سادہ سپاہی کو لفظی چکر میں ڈال دیتے ہیں ۔''کردار کے غازی'' اور'' گفتار کے غازی'' کے درمیان واقعی بہت فرق ہوتاہے لیکن مجھ سے ملاقات ان کے لیے بالکل انوکھاتجربہ تھا۔کیونکہ نہ صرف میں انہیں جنگ کے دوران مل رہاتھا بلکہ اُن کے سٹاف کااہم رکن بن رہاتھا۔میں اُن کے کمرے میں آدھ گھنٹہ تک تبادلہ خیالات کرتارہا، پھر بریگیڈیئرریاض مجھے چیف آف جنرل سٹاف جنرل شیربہادرسے ملانے لے گئے۔وہاں بھی تعارف اور بات چیت میں آدھ گھنٹے کے قریب گزارا۔پھر میں اپنے دفترمیں واپس آگیا،مجھے سارا دن یہ خیال لگارہاکہ معلوم نہیں کہ میں نے ان جرنیلوں پرکیاتاثرچھوڑا ہے۔
 مَیںجی ایچ کیوکے باسیوں سے بہت متاثرہوا۔مجھے ایسامحسوس ہواکہ میں شرفاء کے مجمع میں گھرگیاہوں ۔وہ خلیق تھے اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں منہمک تھے۔دن رات کام ہوتاتھااوروہ دفتر کے معمول کے اوقات کوبھول چکے تھے ۔ آئی ایس پی آر میں میرابہت اچھے رفیقوں سے پالا پڑا۔مجھے یہ دیکھ کر مسرت آمیز حیرانی ہوئی کہ میجرضمیرجعفری میرے سٹاف میں تھے۔و ہ ان ریٹائرڈافسروں میں سے تھے جنہیں جنگ شروع ہونے پربلایا گیاتھا۔میں اُن کے نام اورکلام سے آشنا تھالیکن صورت سے آشنا نہ تھااور اس لیے جب ایک ادھیڑعمربھاری بھرکم افسرنے آکرمجھے سلیوٹ کیاتومجھے پتا نہ چلا کہ وہ کون تھا او رکس غرض سے آیاتھا۔جب اُس نے اپنا نام بتایاتومیں اُس سے مصافحہ کے لیے لپکالیکن جعفری صاحب پرانے سپاہی تھے اور جلدی میں بے تکلف ہونے والے نہ تھے ۔وہ بڑے ادب سے کڑی کمان کی طرح کرسی پرجابیٹھے اور مجھے سر،سرکرتے رہے۔


میں نے جنرل موسیٰ کوبہت اچھا انسان اور بہت پکامسلمان پایا،میں نے انہیں وطن کے سوا بہت کم موضوعات پربات کرتے سنا۔جنرل موسیٰ جنگ کے دوران دن رات دفتر میں ہی رہتے اور اپنے دفترہی میں سوتے تھے ۔گووہ میری تحریرکی اس طرح تعریف کرتے کہ ظاہرہوکہ فوجیوں کوتحریرسے کیاکام لیکن میں نے اظہارخیال پران کی پوری قدرت دیکھی ۔خاص طورپرتحریر میں وہ اپنے مافی الضمیرکوبہت سلاست اور صفائی سے بیان کرتے تھے اور الفاظ کااستعمال بہت احتیاط سے کرتے ۔


جعفری صاحب باکمال شاعرتھے بلکہ اپنے ہنراورصنف میں یکتاتھے لیکن دفتری کام کرنے کے معاملے میںاُن میں شاعرو ں والی کوئی بات نہیں تھی ۔بالکل جٹ بوٹ آدمی تھے اور سخت سے سخت کام چستی اورپھرتی سے کرتے اور قطعی طورپرحکم کے بندے تھے۔اُن کے سپاہیانہ کردار نے مجھ پر بڑااثرکیا۔جعفری صاحب نے میری بڑی مدد کی، ہمیشہ کے  لیے مجھے اپنا گرویدہ بنالیا اور میرے پرخلوص دوست بن گئے۔ پھرسب سے کمال کی بات اُن میں یہ تھی کہ شاعر اور صاحب دیوان ہونے کے باوجود وہ مجھے اپنے اشعار سنانے پرمصرنہ ہوتے تھے بلکہ میرے اصرار پربھی کوئی غزل نہ سناتے ۔یہ ضبط نفس میں نے کسی شاعر میں نہیں دیکھا،گومیں نے بعد میں اُن سے فرمائش کرکے چند جنگی نظمیں لکھوائیں ۔
 اسی طرح ایک کیپٹن دانش تھے جو آئی ایس پی آر کے شعبہ فوٹوگرافی کے انچارج تھے ،اپنے کام میں انتھک تھے ۔کسی وقت کوئی کام کہو،حاضرہیں۔ اُن کے کام کی اہمیت کااندازہ اس سے ہوسکتاہے کہ جنگ سے متعلق تمام تصویریں ان کا شعبہ تیارکرتاتھااور جتنی بھی ملک اور بیرون ملک کے اخباروں، رسالوں میں تصویریں چھپیں انہی کی تیار کی ہوئی تھیں ۔کیپٹن دانش کے ساتھ چار پانچ فوٹوگرافرز تھے ۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ انہوں نے اپنی ذمہ داریوں کوبہت محنت ،لیاقت اور حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہوکرنبھایاتھا۔اگر اُن سیکڑوں اور ہزاروں تصویروں پرجوچھپیں ،ان لوگوں کے نام درج ہوتے تو شاید وہ پوری دنیا میں مشہور ہو جاتے اور قومی ہیروز کے طور پر سامنے آتے۔اسی طرح کیپٹن صدیق سالک (بعد میں بریگیڈیئر)نے اپنا کام جوزیادہ ترمقالہ نویسی تھا'بہت خوبی اور امتیاز سے کیا۔اُن کے درجنوں جنگی رپورتاژاخباروں میں چھپے ۔ 
میری سب سے پہلی کوشش یہ ہوئی کہ فوجی مخففات پرقابو پائوں کیونکہ تمام گفتگو اور خط کتابت ان سے بھری ہوتی تھی اور انہیں جانے بغیربات چیت اور عبارت کامفہوم سمجھ نہ آسکتاتھا۔چنانچہ میں نے اپنے رفقائے کار کی مدد سے اس جنگل کاکچھ سفر طے کیا۔سب سے اہم کام جنگ کی صورت حال پر خبرنامہ تیارکرناتھا،اس کے لیے مجھ بیک وقت بریگیڈیئرریاض اوربریگیڈیئر ارشاد (جوملٹری انٹیلی جنس کے انچارج تھے ) سے رابطہ قائم رکھناتھا۔بریگیڈیئرارشادجن کادفتر جی ایچ کیو میں تھا،بہت دھیمے اور محتاط قسم کے افسر تھے ۔وہ محاذ سے آئی ہوئی خبرو ں کا بغورمطالعہ کرتے ،کون سی خبردی جائے اور کون سی خبررَد کی جائے ،ان کا کام تھا۔کہاجاتاہے جنگ میں صداقت پہلاکشتہ بنتی ہے،یعنی جنگ میں صحیح خبریں نہیں دی جاتیں لیکن میراتجربہ بالکل مختلف تھا۔ہمارے ذمہ دارحکام قطعی مبالغہ سے کام نہ لیتے تھے بلکہ کامیابی کوبڑھاچڑھا کربیان کرنے کے بجائے کسرنفسی کوکام میں لاتے ،جب نیوز بلیٹن تیار ہوجاتاتومیں اُسے نشرواشاعت کے لیے بھیج دیتا۔
ابھی مجھے جی ایچ کیو میں ایک دودن ہی ہوئے تھے کہ یہ معاملہ زیربحث آیاکہ خارجی نامہ نگاروں کو محاذوں پربھیجاجائے۔ بات یہ تھی کہ ان نامہ نگاروں کولاکھ نیوز بلیٹن پہنچائو اور سمجھائو وہ انہیں باور نہ کرتے تھے اور جنگ کی صورت حال کو خود دیکھنے کے خواہش مند تھے ۔یہ بہت نازک معاملہ تھا،بھارت نے نامہ نگاروں کودہلی سے باہرنہ نکلنے دیاتھالیکن میں نے یہی رائے دی کہ اگر ہم ان لوگوں کو محاذوں پربھیجیں تووہ جنگ کے عینی شاہد بن جائیں گے اور پھرجب وہ اس کی کیفیت لکھیں گے تو اُن کی تحریر میں اثرہوگااور پاکستان کے متعلق باہر کے ملکوں میں اچھاتاثرپیداہوگا۔جناب الطاف گوہرکی بھی یہی رائے تھی ۔کچھ ہچکچاہٹ اورتجویز کے حسن وقبح پربحث مباحثے کے بعد اسے قبول کرلیاگیا ۔اب میراکام یہ تھا کہ ملکی اور غیرملکی نامہ نگاروں کوگروپ کی شکل میں مختلف محاذوں پربھیجنے کاانتظام کروں ۔یہ بڑاکٹھن کام تھا،پہلے گروپ بنائے جائیں ،پھراُن کے لیے سواری مہیاکی جائے ۔محاذ منتخب کیاجائے کیونکہ کسی محاذکے جنرل یہ نہیں چاہتے تھے کہ اُن کے ہاں نامہ نگاروں کی بھیڑ لگ جائے اور ان کے اپنے کام میں حرج واقع ہو۔مزیدبرآں ہرگروپ کے ساتھ آئی ایس پی آرکے ایک افسر کاجانالازمی تھااور ہمارے پاس افسروں کی کمی تھی لیکن میں پھرکہوں گاکہ میجرضمیرجعفری ،کیپٹن دانش ،کیپٹن سبزواری ،کیپٹن سالک اور لاہورمیں متعین میجرشجاع نے اس مشن کی تکمیل میں شاندارقومی خدمات انجام دیں ۔یہ جسمانی مشقت کاکام تھا،سفرکے علاوہ جوصبح منہ اندھیرے شروع ہوتاتھااور رات کے اندھیرے تک جاری رہتاتھا۔محاذوں پرگردکے جوبادل اٹھتے تھے وہ ایک وقت کے لیے آنکھوں کی بصارت تک چھین لیتے تھے ۔میں خود چندگروپوں کے ساتھ گیا،گویہ سخت محنت کاکام تھااور ساتھ ہی بہت ہی نزاکت و ذمہ داری کاکہ جنگی رازوں کاسوال ہروقت درپیش تھا،لیکن اس کانتیجہ بہت اچھانکلا۔
نامہ نگاروں نے خود محاذوں پرلڑائی دیکھی اور وہاں کے متعینہ جرنیلوں اور جوانوں سے بالمشافہ باتیں کیں توان کی تحریر میں جان آگئی اورعالمی رائے عامہ کویقین ہوگیاکہ نہ صرف پاکستان اوربھارت میں سخت جنگ ہورہی ہے بلکہ پاکستان کاپلڑابھاری ہے ۔ جب عالمی انگریزی اخبارات میں پاکستان کی جنگی جدوجہد کے متعلق تفصیل سے باتصویرخبریں چھپیں توبھارتی حکمران اور فوج ہکا بکا رہ گئے۔ بھارتی حکومت نے اپنی انگریز لابی کو لتاڑاکہ وہ اخباروں کی ''یکطرفہ'' پیش کردہ تصویرکے خلاف احتجاج کرے۔چنانچہ مسٹرنوئل بیکرر  (NOEL BAKER) نے پارلیمنٹ میں سوال اٹھایا کہ انگریز اخبار بھارت کے خلاف تعصب اور جانبداری سے کام لے رہے ہیں۔وزیراعظم ولسن نے اس کے جواب میں کہا کہ اخباروں کی رپورٹس میں حکومت کا ہرگزکوئی ہاتھ نہیں لیکن اس کا کیاکیاجائے کہ پاکستا نی فوج کا تعلقات عامہ کامحکمہ بہت اچھاہے اور اس نے نامہ نگاروں کو براہ راست محاذوں پرلے جانے کا انتظام کیا ہے۔
 میری ایک ڈیوٹی تھی کہ جب کبھی اور جہاں کہیں کمانڈر انچیف جنرل موسیٰ معائنے کے لیے جائیں میں ساتھ جائوں ۔بعض اوقات میں جنرل موسیٰ ہی کے ہیلی کاپٹرمیں سفرکرتا،لیکن بعض دفعہ میں ان سے آگے اپنے چھوٹے ہیلی کاپٹر میں جاتا۔ اس چھوٹے ہیلی کاپٹرکوL-19کہاجاتاتھا۔وہ ایک قسم کاہوائی رکشا تھا۔ایک پائلٹ اور مسافر ،و ہ زیادہ اونچانہ اُڑتا۔یوں معلوم ہوتادرختوں کے اوپرجارہاہے ،مجھے ا س میں سفرکرنے کابہت مزاآتا۔اس کی اونچائی سے زمین کا نقشہ بہت واضح طور پراُبھرتا،میںنے پاکستان کی سرزمین کوجس وضاحت سے اس ہوائی رکشے سے دیکھا، پہلے کبھی نہ دیکھا ۔اس کے اُڑنے اور اُترنے میں بھی زیاد ہ تکلف نہ تھا۔وہ ایک پرندے کی بے ساختگی اور تیزی سے ہوامیں تیرجاتااور دفعتاًاسی کی طر ح کسی صاف قطعے کی منڈ یرپر اترآتا۔میں نے چھمب تک اس میں اتنی بار سفرکیاتھا کہ مجھے وہ راستہ یاد ہوگیا تھا۔ ایک دفعہ ناگی صاحب ( میجر یاکیپٹن مجھے اب یاد نہیں رہا) جو L-19ہی کے ایک حادثے میں شہید ہوئے، مجھے چھمب لے جانے پر مقر ر ہوئے، وہ چھمب پہلی بار جارہے تھے اورانہیں راستے کا علم نہ تھا،وہ ایک جگہ اتر گئے لیکن اترتے ہی ایسا محسوس ہواکہ ہم کسی اجنبی سرزمین میں پہنچ گئے ہیں ۔چنانچہ انہوں نے فوراً انجن گرم کیااور اُڈاری ماری۔ پھرمیں نے انہیں بتایاکہ ہم تو بالعموم ایک مندر کے پیچھے اترتے ہیں ،خیرکچھ دیر کے بعد وہ مندر نظرآیاتوہم بخیریت اپنے علاقے میں پہنچے۔
جب کمانڈرانچیف کسی محاذپرجوانوں سے خطاب کرتے تومیراکام تھامیں اُن کی تقریرکے نوٹس لوں اور بعد میں اُن کی بنیاد پررپورٹ لکھ کر اشاعت کے لیے بھیجوں۔ میں نے دیکھاکہ جنرل موسیٰ دشمن کے لیے سخت زبان استعمال کرتے جس کی کوئی اخبار تاب نہ لاسکتا،چنانچہ میں اس تقریرکی روح کواپنے الفاظ میں بیان کردیتا۔اس طرح رپورٹ سے محبان وطن کے حوصلے بلند ہوتے ۔جب جنرل صاحب اخبار میں اپنی تقریر کی رپورٹ دیکھتے تومجھے دیکھ کرمسکراتے اور کہتے کیوں بھئی میں نے یہی کچھ کہاتھانا؟ان کا مطلب ہوتاکہ ان کے فوجی جوش وخروش کے لیے یہ زبان قدرے نستعلیق اور فلسفیانہ تھی ۔
میں نے جنرل موسیٰ کوبہت اچھا انسان اور بہت پکامسلمان پایا،میں نے انہیں وطن کے سوا بہت کم موضوعات پربات کرتے سنا۔جنرل موسیٰ جنگ کے دوران دن رات دفتر میں ہی رہتے اور اپنے دفترہی میں سوتے تھے ۔گووہ میری تحریرکی اس طرح تعریف کرتے کہ ظاہرہوکہ فوجیوں کوتحریرسے کیاکام لیکن میں نے اظہارخیال پران کی پوری قدرت دیکھی ۔خاص طورپرتحریر میں وہ اپنے مافی الضمیرکوبہت سلاست اور صفائی سے بیان کرتے تھے اور الفاظ کااستعمال بہت احتیاط سے کرتے ۔وہ بہت خوشخط بھی تھے ،انہیں یہ اعتراف کرنے میں بھی تامل محسوس نہ ہوتاتھا کہ انہوں نے ایک سپاہی کی پوزیشن سے ترقی کی ،وہ اس ترقی کوپاکستان کے فیض سے تعبیرکرتے ۔
اگرچہ ابھی میں نے ملٹری سائنس کی ''کچی پہلی'' ہی میں حصہ لیاتھاتاہم میرے عہد ے کے فرائض نے مجھے میری استعداد سے کہیں اونچے امتحانوں سے دوچار کردیا۔ان میں سے ایک امتحان توفوراًدرپیش آیا،لاہور محاذپراچانک ہندوستانی حملے سے یہ تاثرپھیلا کہ ہم اس کے لیے تیار نہ تھے 'اس تاثرکاتدارک ضروری تھا۔ورنہ یہ خیال پیداہونے کا خطرہ تھا کہ فوج دفاع وطن کے لیے چاق چوبندنہ تھی ۔مجھے بریگیڈیئرریاض نے بلایااور پورے حالات سے آگاہی دی اور کہاکہ میں اس کے متعلق مضمون لکھوں ۔یہ خاصا مشکل کام تھا،کیونکہ تمام باتیں یوں بیان کرنی تھیں کہ عسکری پوزیشن بھی صاف ہونیزعوام کے پلے بات پڑجائے ۔میں نے حقائق کواپنے ذہن میں محفوظ کیا،مختلف نکات کی تشریحات حاصل کیں ،خود محاذ کاچکرلگایااورمضمون لکھا۔دو تین ٹیکنیکل ترمیموں کے ساتھ مضمون پاس ہوگیااور اخباروں کوبھیج دیاگیا،اس کا فوجی اور غیر فوجی حلقوں میں اچھا اثر پڑا۔
 آہستہ آہستہ مجھے ملٹری سائنس سے واقعی دلچسپی ہوگئی اور میں نے مشہورملٹری معاملات پرلکھنے والے ،مثلاًلڈل ہارٹ (LIDDLE - HART)کی کتابیں پڑھناشروع کردیں ۔میں ابھی ای ایم  ای کے میس ہی میں مقیم تھا ۔مقیم کیا،وہاں رات گئے اپنے کمرے میںجاکرسو جاتا۔ایک ہفتے کے بعد تک میرے پاس تکیہ نہ تھااور وہی تولیہ میرے تکیے کاکام دیتا۔اب یہ بات نہ تھی کہ بازار میں تکیے میسرنہ تھے اور میرے پاس آدمیوں کی بھی کمی نہ تھی کہ کوئی جاکرخریدلاتا،لیکن سارے دن کی لگاتار گہماگہمی میں تکیے کاخیال نہ آتا۔ہررات سوچتاکہ صبح کسی کوخریدنے کے لیے بھیجوں گااو ر ہرصبح بھول جاتا۔
جنگ کے دوران فوجی خدمت کے لئے بلایاجانا میرے لئے بہرحال بہت بڑی سعاد ت تھی۔اس وقت فوج کا مکمل کردار مجھ پر روشن ہوا۔عام دنوں میں افواج اپنے معمول کے کاموں میں مشغول ہوتی ہیں اور کسی کوپتہ نہیں ہوتا کہ وہ کس مشن پرلگی ہوئی ہیں لیکن لڑائی کے دنوں میں اُن کی اندرونی صلاحیتوں کامظاہرہ ہوتاہے اورایک اجنبی پران کی تمام مصروفیات کارازکھلتاہے۔میراتعلق صرف بری فوج سے نہ تھابلکہ بحری اورہوائی افواج سے بھی تھا۔میں ہرمحاذ پرگیا۔کمانڈروں ،افسروں اور جوانوں سے ملا،ان کی زندگی کا گہرامطالعہ کیا،ان کے نظم وضبط اوران کی جاںنثاری کے جذبے کودیکھا۔ یوں ایک مختصرسی مدت میں مجھے اپنے بہادر سپاہیوں سے گہرے روابط قائم کرنے کا موقع ملا۔سب سے نمایاں چیز جومجھے ان میں نظرآئی وہ ان کی اسلام سے شیفتگی اور پاکستان سے وابستگی تھی ۔انہیں واقعی اپنی جان کی پروا،نہ تھی ،وہ ملک کی بقااور عزت ہی میں زندگی جاوید ڈھونڈتے تھے ۔وہ لوگ پورے جذبہ ایمانی کے ساتھ دشمن کے آگے سینہ سپر ہو گئے تھے اورانہیں اس بات کاشدت سے احساس تھا کہ وہ اپنی قوم کے اعتماد پرپورا اُتریں اوروہ واقعی قوم کی امیدوں پر پورا بھی اترے اور ایک طاقت ور دشمن کوعبرت ناک شکست سے دوچار کیا۔ ||


مضمون نگار ایک قومی اخبار کے لئے کالم لکھتے ہیں
[email protected]
    

یہ تحریر 127مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP