یوم دفاع

جنگ ستمبر 1965  معرکۂ رُوح و بدن

اے وہ لوگو جواپنے دل محبوبائوں پر وارنے کے لئے اپنی ہتھیلی پر سجائے پھرتے ہو ان دلوں کو لا کر ان سپوتوں کی راہ گزر پر رکھ دو جنہیں موت کے آئینے نے رُخِ دوست دکھا کر زندگی سے بیگانہ بنا رکھا ہے۔ حق پر ہونا زندگی کی بہت بڑی نعمت ہے۔ تیروں کی بوچھاڑبھی حق پر ہی آتی ہے۔ برستے تیروں کی زدپر اپنی زندگیوں کو لا رکھنے والے یہ حق رکھتے ہیں کہ اُن کی راہوں میں دل و جان  بچھائے جائیں۔ جن فرزانوں نے اپنے چراغِ حیات کو تیز ہوائوں کے رُوبرُو لا رکھا ، اُن کے گھروں میںا ندھیرا نہ ہو اس کی ایک ہی صورت ہے کہ تم اُن کی یادوں کے چراغ بجھنے نہ دو ، اپنے مالوں اور اپنی جانوں کو وطن کی امانت جانو۔ اپنے آپ کو ان کا مالک نہ سمجھو ، محافظ جانو۔ مسلمان کا وطن، نسل اور رنگ کی بنیاد پر وجود میں نہیں آتا، اس کو وجود میں لانے اور باقی رکھنے کی ایک ہی بنیاد ہے اور وہ ہے نظریۂ ربانی جس کا ادراک ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء نے انسانوں تک پہنچایا ہے اور یہی وہ نظریہ ہے جس کی محافظت کے جنوں نے ہمارے عساکرکو اپنے گھروں کے راحت کدوں سے بے نیاز بنا رکھا ہے۔ 



جب کوئی قوم اپنی تہذیب کو فراموش کرتی ہے تو فکری سرحدات کو پامال کرتی ہے۔ اگر فکری سرحدیں مٹ جائیں تو جغرافیائی سرحدیں بھی باقی نہیں رہتیں۔ اس خیال کو علامہ اقبال نے جاوید نامہ میں شرف النساء کی مثال سے واضح کیا ہے۔ جو ہر وقت قرآن پڑھتی رہتی تھی اس حال میں کہ تلوار حمائل کئے ہوتی۔
ایں دو قوت حافظہِ یک دیگرند
کائناتِ    زندگی   را  محورند
1965 میں ، میں ایک 18/20سال کا نوجوان تھا توپوں کی گھن گرج اور جنگی ہوائی جہازوں کی شعلہ افشانیوں نے اس جوانی میں آگ بھر دی تھی۔مائیں جو اولاد کو ایک ٹھوکر لگے تو تڑپ اٹھتی ہیں اُن کے لئے اس بات میں کوئی تشویش نہ تھی کہ اُن کے جگر گوشے دن رات آتے جاتے فوجی قافلوں کے استقبال کے لئے سڑکوں پر موجود رہتے ہیں۔ میری ماں کہا کرتی تھی کہ تم میرے لئے اُن جان نثاروں سے زیادہ قیمتی نہیں ہو جن پرگولیوں کی بارش برس رہی ہے ۔ میری ماں ان دنوں مجھے کھانے پینے کی چیزیں دے کر بھیجا کرتی کہ انہیں فوجیوں کو دے کر آئوں۔ ایک دن میری ماں کہنے لگی میں نے کبھی ٹینک اور توپ نہیں دیکھی، مجھے دکھائو ۔ میں بڑی شاہراہ پر اپنی ماں کو اوٹ میں لے کر بیٹھا رہا کہ جب کوئی توپ ، کوئی ٹینک کم از کم کوئی فوجی قافلہ گزرے گا تو ماں کو دکھائوں گا۔ توپوں کی گھن گرج میں ان توپوں کی زیارت میری ماں کے دل کا شوق تھا۔ ہمارے خاندان میں دور دور تک فوجی خدمات انجام دینے والے کسی شخص کا وجود تک نہ تھا۔ اس کے باوجود ماں نے اپنے چھوٹے سے دل میں عساکر کی چھائونیاں بسا رکھی تھیں۔ گزرتی توپیں دیکھ کر ماں نے اپنے دونوں ہاتھ رب کریم کی بارگاہ میں اٹھا لئے، لبوں کی کپکپاہٹ لفظوں کو وجود دینے سے قاصر تھی آنکھوں نے وہ برسات برسائی کہ اس کی نمی میں چھمب جوڑیاں تک بھیگ گئے ہوں گے ، میں، میری ماں، اور ساری افواج پاکستان اس برسات میں شرابور ہو گئے۔ میری ماں نے نظریں اٹھا کر مجھے جس معانی خیز انداز میں دیکھا تھا آج تک اُس کا ایک ہی مطلب لیتا ہوں کہ تم میرے بیٹے تو ہو ، لیکن میری اصل اولاد تو وہ ہے جو اس وقت سرحدوں پر کٹ مر رہی ہے۔ پھول کے گرد بنی ہوئی کانٹوں کی باڑ، پھول کے حسن کی محافظ ہے۔
جنگیں انسانوں کو ہلاک کرتی ہیں مگر قوموں کی زندگی کا راز بھی ان جنگوں اور معرکوں میں ہی پنہاں ہے۔ قاتل کو معاف کرنا درست ہی سہی مگر زندگی توقصاص میں ہے۔ جن قوموں کے گھوڑے استھانوں میں بندے رہیں اور تلواریں نیاموں میں، تو ایسی قوموں کو غلام بنا لیا جاتا ہے۔ جنت دانہ تسبیح کی گردش سے بھی ملتی ہو گی مگر حقیقت تو یہ ہے کہ اُسے قدرت نے مومن کے خونِ جگر میں پنہاں کر دیا ہے۔ دوزح کے اپنے شعلے نہیں ہیں۔ جس آگ میں انسان جلے گا اُس آگ کو وہ اس دنیا سے اپنے ساتھ لے کر جاتا ہے۔ خدا کی جن عنایات نے مومن کو از خود رفتہ بنا رکھا ہے۔ ان عنایات کا استحقاق بھی اس دنیاوی زندگی میں پیدا کرتا ہے۔ جوہلاک کیا جاتا ہے دلیل روشن کے ساتھ کیاجاتا ہے اور دلیل روشن ہی کسی کو زندہ رکھتی ہے۔ 6ستمبر 1965 کی صبح ایک دلیل روشن ہے۔ جس نے افواج پاکستان کو حیات جاودانی عطا کر رکھی ہے۔ 
1965 میں نارووال کو سیالکوٹ کی ایک تحصیل کا درجہ حاصل تھا۔ جنگ کی خبریں متواتر آ رہی تھیں، دلوں میں ولولے آفاق گیری کے جنم لے رہے تھے۔ خونِ صد ہزار انجم سے جنم لینے والی 6ستمبر کی صبح کو میں صبحِ درخشاں کہوں گا۔ اس لئے کہ اُس صبح طلوع ہونے والا سورج آج تک روشن ہے۔ اس روشن سورج کا کوئی غروب نہیں ۔ اُس صبح پاکستان میں صرف مسلمان رہتے تھے کوئی اہلحدیث، بریلوی ،دیوبندی اور شیعہ نہ تھا۔ سب مسلمان اور پاکستانی تھے۔ پوری قوم ایک ہو کر افواج پاکستان کی پشت پر کھڑی تھی۔ خدا کی بارگاہ میں اٹھے کروڑوں مائوں کے دو دو ہاتھ ، اشک برساتی آنکھیں اور خیمہِ دل سے نکلنے والے دعائوں کے لشکر ، آج سب کچھ وطن اور اس وطن کے رکھوالوں کے لئے وقف تھا۔
نارووال کی کسی اُونچی عمارت پر چڑھ کر اگر مشرق کی جانب نگاہ ڈوڑائیں تو ہندوستان کا بارڈر صاف نظر آتاہے۔ دُور بین لگا کر دیکھیں تو اُن کے چلتے پھرتے فوجی بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ دشمن سے قربت کی وجہ سے سرحدی علاقوں میں رہنے والے عموماً دلیر طبیعت کے مالک انسان ہوتے ہیں۔ جنگ کے دنوں میں اُن کی یہ دلیری مرگ ِ شہادت کی تمنا میں بدل جاتی ہے۔ شہادت گہہ الفت کی جانب دوڑتی گاڑیوں سے اڑنے والے غبار کو وہ اپنے سر آنکھوں پر لیتے ہیں۔ عروس ِ زمین پاکستان کے یہ دلدادہ اُن کے ہیرو ہوتے ہیں جنہیں مائیں اپنے بیٹے اور نوجوان اپنے باپ سمجھتے ہیں۔ ابان بن سعید  صحابی رسولۖ تھے اور خالد بن ولید کی کمان میں لڑنے والے نامور جنگجو۔ ابان بن سعید  کی خوبصورت بیوی جسے تاریخ نے ابان بن سعید کی خوبصورت بیوہ کے نام سے یاد رکھا ہوا ہے، اپنے شوہر کی سپاہیانہ صفات کی امین تھیں۔ ہماری سادہ سی مائیں بہنیں جو عام حالات میں چوہے بلی سے بھی ڈر جاتی ہیں۔ جنگ کے اس ماحول میں ابان بن سعید کی بیوہ سے کم نظر نہیں آتیں۔ دشمن کے بم برساتے ہوائی جہاز جنہیں دیکھ کر پناہ گاہوں میں چلے جانا حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ان جہازوں کی جانب اپنی جوتیوں کو اُچھالتے ہوئے میں نے ان دلیر مائوں کو ان گناہگار آنکھوں سے خود دیکھا ہے۔ ان کے مونہوں سے نکلی ہوئی ایک ''ہوں''اُن کے دل کی کہانی کہہ رہی ہوتی اور اُس نفرت کا پتہ دے رہی ہوتی جو انہیں دشمنانِ اَرض پاک سے ہے۔ میں ایک ایسی ماں کو جانتا ہوں جسے اﷲ تعالیٰ نے 6ستمبر کی صبح ایک خوبصورت بیٹے سے نوازا۔ صلاح الدین ایوبی کی مداح اس ماں نے بیٹے کا نام صلاح الدین رکھا ، ایک چھوٹی سی فوجی وردی بنوا کر بیٹے کو پہنائی اور دنیا کا سب سے کم سن مجاہد کہہ کر اُسے گلے لگا لیا۔ 
چونڈہ جہاں ٹینکوں کی  ایک بڑی جنگ لڑی گئی، نارووال سے زیادہ دور نہیں۔ شکرگڑھ سے لے کر سیالکوٹ تک جنگ کا میدان پھیلا ہوا تھا توپیں آگ اگل رہی تھیں۔ ہوائی جہاز بم برسا رہے تھے۔ "وہ مارا" کی صدائے جاں فزانے جذبوں کو آتش فشاں بنا رکھا تھا اس یقین تک پہنچنے میں مسلمان کو کوئی اشکال نہیں کہ یہودو نصاریٰ ا اور ہنود اُس کے دشمن ہیں۔ ہنود کے خلاف لڑے جانے والا یہ معرکہ اُس جنگ آزادی کا تسلسل ہی تھا جو انگریزوں کے خلاف لڑی گئی۔ قوم اگر پشت پر کھڑی ہو تو فوجوں کے چلائے ہوئے تیر بڑی دور تک مار کرتے ہیں۔ پوری قوم افواج پاکستان کی پشت پر تھی لوگ اپنے محافظوں کے محافظ بن کر نیزے بھالے سنبھالے میدان میں موجود تھے جنگ کی بے رحمیوں نے نوجوانوں کو تپش اندوز بنا رکھا تھا۔ مسلمان ہونے کی بڑی شناخت نے دوسری شناختوں کو گم کر دیا تھا ۔ ایک حسن عالم سوز تھا جس کا نظارہ چشم پرُ نم کر رہی تھی ۔ میرا تصور اُن بے نام شہداء کی طرف چلا گیا ہے جو چونڈہ کے قبرستان میں د فن ہیں۔ یہ کیسے نامور ہیں جو بے نام ہیں؟ مگر اس سے فرق کیا پڑتا ہے؟ جو مجاہد کسریٰ کا تاج مال غنیمت کے ڈھیر پر اچھال کر چلا گیا تھا نام تو اُس کا بھی کسی کو معلوم نہیں ،امام شافعی کو یہ مشورہ دینے والا محسن ملت اسلامیہ کہ شعرو شاعری کو ترک کرو اور فقہ اور حدیث کی طرف آئو۔ اپنے نام کے ساتھ مسلمانوں کے حافظوں میں موجود نہیں اس سے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس لئے کہ جس خدا کی خاطر انہوں نے سب کچھ کیا وہ سب جانتا ہے۔ جن کا مطلوب اور مقصود شہادت ہوتی ہے ان کو نام سے کیا غرض؟
ماہ ستمبر کی ایک رات ، بے رحم اندھیروں میں ڈوبی ہوئی ایک رات جس کے پاس راستہ دکھانے کے لئے روشنی کی ایک کرن نہ تھی ۔ ہم چار نوجوان جن کے دل اُس رات نور ایمان سے منور تھے، دروازے پر رُکنے والی ایک فوجی جیپ کی آواز سے چونک پڑے ۔چند فوجی تھے جنہیں ہماری مدد درکار تھی۔ امانت کے طور پر دفن کئے جانے والے شہداء کی لاشوں کو انہوں نے نارووال سے کہیں اور منتقل کرنا تھا۔ اسی ضمن میں انہیں صاف شفاف روئی کی ضرورت تھی۔ جو ہماری تھوڑی سی تگ و دو سے ہی دستیاب ہو گئی۔ مر کر بھی نہ مرنے والے انسانوں کی قبر کشائی کے موقع پر ہم چاروں نوجوان موجود تھے۔ میری زندگی کا یہ پہلا موقع تھا کہ موت مجھے زندگی سے زیادہ خوبصورت لگی۔ زندگی کی قباء اوڑھے موت قبروں سے نکل رہی تھی ایک شہید کی پیشانی پر زخم کا نشان تھا جس سے اب بھی خون رس رہا تھا میں نے بے تابانہ اپنا دایاں ہاتھ اُس روشن پیشانی پر رکھ دیا میرے خون آلود ہاتھ نے مجھے رُلا کر رکھ دیا دل چاہا کہ اُداس شہر کے گلی کوچوںمیں نکل جائوں  ، مگر شہر تو ویران تھا کس کو بتاتا کہ جو ایمان پر مرتے ہیں جو وطن پر جان دیتے ہیں وہ کبھی نہیں مرتے ، مرتا تو وہ ہے جس نے دل میں جینے کی حرص پال رکھی ہو۔ اور جیتا وہی ہے جس کو مرنے سے خوف نہ آئے۔ 
مر کے جی اٹھنا فقط آزاد مردوں کا ہے کام 
گر چہ ہر ذی روح کی منزل ہے آغوش لحد
جسٹر (نارووال) سے لے کر چپراڑ تک کا پورا علاقہ جنگ کا محاذ تھا ۔ دشمن کا زیادہ تر دبائو ،بینی سلہریاں، نخ نال ، چاروا چوبارہ اور چونڈہ کے محاذوں پر تھا۔ انڈیا کی چار ڈویژن فوج کا مقابلہ کرنے کے لئے پاک فوج کا صرف ایک ڈویژن برسرِپیکار تھا چونڈہ کا محاذ براہ راست بر یگیڈ یئر عبد العلی کی کمان میں تھا۔  جذبوں کو جس چیز نے آگ لگا دی وہ جنرل ایوب خاں کا وہ بیان تھا جس میں انہوں نے قوم سے کہا تھا کہ ''لا الٰہ'' کا ورد کرتے دشمن پر ٹوٹ پڑو۔ لا الہ کا ورد کرتی ہوئی مائوں سے لوریاں لئے ہوئے جگر گوشوں نے پھر ایسا ہی کیااور اپنی جانوں پر کھیل گئے۔ قوم نے اپنا دل لا کر ان کے قدموں میں رکھ دیا ۔ مائوں اور بہنوں نے صرف دعائوں پر ہی اکتفا نہیں کیا گھروں میں تنور نصب کر دئیے گئے۔روٹیاں پکانے کی فیکٹریاں گھر گھر لگ گئیں ۔ کپڑے لتے اور دوائیوں سے لے کر ہر وہ شے جو فوجی جوانوں کے کام آ سکتی تھی دھڑا دھڑمحاذ پر پہنچنے لگی عوام کی اس والہانہ محبت سے بلا شبہ فوج کی نقل و حرکت میں ایک حد تک رکاوٹ تو پیدا ہوئی۔ مگر جذبوں کی آنچ سرد نہ ہو سکی مائیں اپنے بچوں کو گودمیں لئے ہوئے گھنٹوں اُس راہ گزر کی دھول اپنے سروں پر لیتی رہتیں جن راہ گزاروں سے فوجی کانوائے نے گزرنا ہوتا تھا۔ جب کوئی فوجی قافلہ گزرتاتو مائوں کے دو دو ہاتھوں میں اُن کے ننھے بچوں کے دو ہاتھ بھی ہوتے تھے جو لہرا کر فوجیوں کو الوداع کہہ رہے ہوتے۔ قوت گویائی سے محروم توتلی زبانوں سے جو کہہ رہے تھے انہیں سمجھنا دشوار نہ تھا۔ محبت کی جو زبان ہے اُسے محبت والے سمجھتے ہیں۔ 
یہ جہاد اﷲ کے رستے میں بے تیغ و سِپرَ
ہے جسارت آفریں شوقِ شہادت کس قدر
یہ کلی بھی اس گلستان خزاں منظر میں تھی 
ایسی چنگاری بھی یارب اپنی خاکستر میں تھی!
مجاہدوں کے ساتھ عوام الناس کے اس والہانہ شوق کو دیکھ کر میرا پنا خیال تھا کہ 
    اپنے صحرا میں بہت آہو ابھی پوشیدہ ہیں
بجلیاں برسے ہوئے بادل میں بھی خوابیدہ ہیں
علامہ اقبا ل نے یہ اشعار طرابلس کی جنگ میں مجاہدوں کو پانی پلاتے ہوئے شہید ہونے والی لڑکی فاطمہ بنت عبد اﷲ کے بارے میںکہے ہیں 1965کی جنگ میں سرحدی علاقوں میں رہنے والی ہر عورت فاطمہ بنت عبداﷲ کا روپ لے چکی تھی۔ خولہ بنت ازور کے مصداق خواتین تک سے اپنا جوش نہ سنبھلتا تھا جنگ یرموک کے جواں سال مجاہد کی طرح ہر نوجوان رخصت پیکار کا طلب گار تھا۔ 
ہندوستان کے بمبار ہوائی جہاز عموماً صبح کے وقت آیا کرتے اور آبادیوں پر ہی بم گرا کر واپس لوٹ جاتے یہ روز مرہ کا معمول تھا جس کے ہم سب عادی ہو چکے تھے امانتاً دفن شہیدوں کی پیشانی سے خون کا جو دھبہ میرے دائیں ہاتھ پر لگا تھا وہ آج تک میرے کام آ رہا ہے۔ شہداء کی قبروںکے سرہانے کھڑے ہو کر اشکوں کے جو دانے میں نے عزم و استقلال کی زمین میں بوئے تھے اُس کی فصل پک کر تیا ر ہو چکی ہے۔ پچاس سال سے اس فصل کو روز کاٹتا ہوں اگلے دن یہ اتنی ہی اور بڑھ جاتی ہے۔ ہاتھ سے خون کی سرخی تو اتر گئی مگر ہاتھ سے اُس کا لمس نہ گیا۔ میں نے زندگی میں ہزار بار عقیدت سے اپنے ہی اس ہاتھ کو صد ہزار بار چوما ۔ یہ سرخی اب میرے رگ و پے میں اتر چکی ہے۔ جوانی کی سرکشی کو بڑھاپے کی لگام دے دی گئی۔ مگر ان دو بوند خون کے قطروں کا تلاطم نہ گیا ۔ سلامتی ہو اُن جانے والوں پر جنہیں شوق شہادت نے دو عالم سے بیگانہ بنائے رکھا اﷲ اُن کی قبروں کو نور سے بھر دے مبارک ہو اُن ماں باپ کو جن کے وہ جگر گوشے تھے ضرار بن ازور اور خولہ بنت ازور خالد بن ولید کی فوج کے دو بہادر جنگ جو بہن بھائی تھے۔ انہیں خراجِ عقیدت ادا کرتے ہوئے خالد نے والہانہ انداز میں کہا تھا" ازور تجھے مبارک ہو تو نے خوب جوڑی کو جنم دیا"خالد بن ولید کی زبان میں ہی میں بھی اُن انسانوں کو سلام کرتا ہوں جو ان شہداء کے ماں اور باپ ہیں۔آج بھی عوام اورافواج پاکستان ایک ہیں۔وہ میسرہ ہیں۔ توہم اُن کا میمنہ ہیں ۔ ہمیں اپنے عظیم رہنماقائد اعظم محمد علی جناح کو یقین دلانا ہو گا کہ ہم متحد ہیں ایک ہیں جو ہمارے محافظ ہیں ہم اُن کے محافظ ہیں۔ 
 بقول داغ  :
تیور ترے اے رشک قمر دیکھ رہے ہیں
  ہم شام سے اندازِ سحر دیکھ رہے ہیں ||


مضمون نگار متعدد کتابوں کے مصنف اور مختلف اخبارات میں لکھتے ہیں، پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں۔


 

یہ تحریر 49مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP