قومی و بین الاقوامی ایشوز

جنگی جنون کی بھاری قیمت

پاکستان کے شہروں اور قصبوں میں سردی کی شدت سبھی محسوس کر رہے ہیں، لیکن مادرِ وطن کے کچھ سپوت ایسے بھی ہیں جو ان شہروں اور دیہاتوں کو چھوڑ کر سطح سمندر سے ساڑھے اٹھارہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع برف پوش پہاڑوں میں منفی تیس ڈگری سینٹی گریڈ میں جی رہے ہیں۔ جی ہاں! دنیا اس مقام کو سیاچن گلیشیئر کے نام سے جانتی ہے، جہاں پاکستان اور انڈیا کی فوجیں گولیوں کے بجائے موسم کی شدت سے نبرد آزما ہیں۔ افسوس ناک طور پر ١٩٨٤ء میں انڈیا کی ہٹ دھرمی سے سیاچن گلیشیئر پر شروع ہونے والا تنازعہ چوتھی دہائی میں داخل ہوچکا ہے۔ اس لاحاصل مہم جوئی کے نتیجے میں پاک آرمی کے جوانوں کو بھارتی فوجوں کے مقابلے میں ہمالیہ کی چوٹیوں پر مورچہ زن ہونا پڑا۔ اس سرد ترین مقام پر گزشتہ٣٤ برسوں میں دونوں جانب فوجیوں کا جانی نقصان گولہ بارود سے کم اور موسم کی سختیوں سے زیادہ ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ قطبین کے بعد دنیا کے ان بڑے گلیشیئرز پر زندگی کا تصوربھی نہیں پایا جاتا، لیکن پاکستان اور بھارت کے درمیان اس مقام پر صحیح معنوں میں ''سرد'' جنگ جا ری ہے۔ واضح رہے کہ ٢٠٠٣ء کے سیز فائر معاہدے کے بعد سے سیاچن میں   محاذ آرائی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، لیکن اس کے باوجود دونوں جانب فوجیوں کا جانی نقصان زیادہ ہے۔ اپریل ٢٠١٢ء میں سیاچن کے گیاری سیکٹر میں برفانی تودہ گرنے سے پاکستان کے ١٤٠ فوجی جوان شہید ہوئے تھے، جسے بڑا جانی نقصان قرار دیا گیا۔ اسی طرح فروری٢٠١٦ء میں انڈیا کے دس فوجی برفانی تودے تلے دب گئے تھے۔ فوجیوں کے جانی نقصان پر اُن دنوں بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے ایک جائزہ رپورٹ جاری کی تھی جس کے مطابق: ''بھارت اس خطے پر اپنا کنٹرول قائم رکھنے کے لئے روزانہ دس لاکھ ڈالر یعنی چھ کروڑ٨٠ لاکھ روپے خرچ کر رہا ہے۔ بالفاظ دیگر بھارت یہاں فی سیکنڈ ١٨ ہزار روپے پھونک رہا ہے۔ بھارت میں جس روٹی کی قیمت دو روپے ہے، اسے سیاچن پر بیٹھے فوجیوں تک پہنچانے کے لئے ٢٠٠ روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں''۔ اس قدر جانی و مالی نقصان کے باوجود اُن دنوں بھارت کے وزیر دفاع منوہر پاریکر کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا: ''سیاچن میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھی ضرور ہوں، لیکن فوج کو واپس بلانے کا تجزیہ درست نہیں۔ سیاچن پر فوج کے قیام کا فیصلہ قومی سلامتی کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔''




سیاچن کے تنازعے پر سرسری نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوگا کہ یہ خطہ  بلتستان میں واقع ہونے کی وجہ سے پاکستان کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ ١٩٤٩ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر لائن پر ہونے والے ''معاہدۂ کراچی'' کے تحت سیاچن گلیشیئر کی تحویل طے نہیں ہوئی تھی۔  اصولی طور پر اس خطے کو ماضی سے ہی پاکستان کا حصہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوہ پیما بھی اس خطے میں موجود چوٹیوں کو سر کرنے کے لئے پاکستان سے اجازت طلب کرتے ہیں۔ جب ١٩٧٢ء میں ''معاہدۂ شملہ'' کے تحت کشمیر میں سیز فائر لائن کو کنٹرول لائن کا درجہ دیا گیا، تب بھی سیاچن کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ معاہدے کے١٢ سال بعد ١٩٨٤ء میں بھارت نے سیاچن میں فوجی پیش قدمی شروع کی جس کے جواب میں پاکستان نے بھی مورچے سنبھال لئے۔ سیاچن میں بھارتی فوجوں کو اتارنے کے روح رواں سمجھے جانے والے کرنل نریندر کمار کا اس حوالے سے کہنا ہے: ''شمالی کشمیر میں پاکستان کو داخلے سے روکنے کے لئے سیاچن پر قابو پانا ضروری تھا۔''
اس برفانی محاذ سے سخت موسم اور بے پناہ اخراجات کے باوجود بھی فوجوں کا نہ اترنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ جنوبی ایشیائی امور کے ماہر امریکی پروفیسر سٹیفن کوہن کا اس ضمن میں کہنا ہے: ''یہ جنگ ایسے ہی ہے جیسے دو گنجے مرد آپس میں کنگھی کے لئے لڑ رہے ہوں۔'' اس قضیے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوچکے ہیں۔ جس کا نتیجہ ہر بار صفر ہی رہا۔ یہ بات واضح ہے کہ سیاچن پر پاکستان کی پوزیشن دفاعی ہے اور بھارت جارح کی حیثیت سے موجود ہے۔ انڈیا نے محض نفسیاتی دبائو کے تحت ہی سیاچن کو محاذ جنگ بنا رکھا ہے۔ ان کے نزدیک یہ برفانی پہاڑ بھارت کے تحفظ اور سلامتی کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیوں کہ جس خطے میں سیاچن واقع ہے وہ پاکستان کے علاوہ چین سے بھی منسلک ہے۔ چین سے پاکستان کو ملانے والی شاہراہ قراقرم بھی اسی علاقے سے ہوکر گزرتی ہے۔ سی پیک منصوبے کی وجہ سے اس شاہراہ کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت سیاچن میں جمے رہنے کی بھاری قیمت ادا کرنے کے باوجود بھی سیاچن سے فوج ہٹانے پر تیار نہیں۔
اصولی طور پر دیکھا جائے تو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پوری ریاست کشمیر متنازعہ حیثیت کی حامل ہے، اگر استصواب رائے کی قراردادوں پر عمل درآمد ہوجاتا تو دونوں ممالک کو اس قدر گمبھیر مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ لیکن بھارت طاقت کے نشے سے چُور ہونے کی وجہ سے ایک طرف جموں و کشمیر پر قابض رہ کر پاکستان کے لئے شدید مشکلات پیدا کرنے کا سبب بنا ہے تو دوسری جانب سیاچن کے برفانی محاذ پر لاحاصل جنگ چھیڑ کر اربوں روپے پھونک رہا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق: ''انڈین آرمی کے جنرل منوہر لال چہر جنہوں نے ١٩٨٤ء میں آپریشن میگھ دھوت کا آغاز کیا تھا ١٦ سال بعد دفاعی امور کے جریدے ڈیفنس جرنل میں پاکستانی فوج کے سابق افسر اکرام سہگل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا:'' سیاچن کا تنازعہ ایک غلطی تھی اور دنیا کے سب سے اونچے میدان جنگ پر جاری اس لڑائی کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔''
بھارت کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ کوئی بھی طاقت مستقل حیثیت میں نہیں رہتی۔ پے در پے کی غلطیاں زوال کا راستہ دکھا دیتی ہیں۔ دونوں اطراف کی فوجوں کو اس برفانی پہاڑ سے اتارنے میں ہی دونوں ممالک کی بہتری ہوگی۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ سیاچن کا برفانی طوفان حریف ملکوں کو ہی منجمد کردے۔



مضمون نگار جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ایم فل کر رہے ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 319مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP